I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 22

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ



قسط 22


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب

ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی

پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی

باب_چہارم


حالات_ہجرت_تاوفات_شریف

قریش کی اذیت رسانی کے سبب سے اب مکہ میں مسلمانوں کا قیام نہایت دشوار ہو گیا۔ اس لیے آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے جائیں۔ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متفرق طور پر رفتہ رفتہ چوری چھپے مدینہ پہنچ گئے اور مکہ میں حضور انور بابی ہووامی کے علاوہ حضرت ابوبکر و علی اور کچھ بیمار و عاجز رہ گئے۔ 
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی اجازت مانگی تو حضور صلی ﷺ نے فرمایا امید ہے کہ  مجھے ہجرت کی اجازت مل جائے گی عرض کیا یارسول اللہﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان یہ امید ہے فرمایا ہاں یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمراہی کی امید پر حاضر خدمت رہے۔

خبردارالندوہ:

قریش نے جب دیکھا کہ آپﷺ کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی  ہو گئے ہیں۔ اور مہاجرین مکہ کو انصار  نے اپنی حمایت میں لے لیا ہے تو وہ ڈرے کہ کہیں ایسا نا ہو کہ آپ بھی وہاں چلے جائیں۔ اور اپنے مددگاروں کو ساتھ لے کر حملہ آورہوں۔ اس لیے تمام قبائل قریش کے سردار عتبہ و شیبہ پسران ربیعہ، ابو سفیان طعیمہ بن عدی، جبیر بن مطعم،  نضر بن حارث، ابو البختری بن  ہشام، زمعہ بن اسود، ابو جہل بنیہ و منبہ پسران حجاج ور امیہ بن خلف وغیرہ دارالندوہ میں مشورہ کےلیے جمع ہوئے ابلیس لعین بھی کمبل اوڑھے اور شیخ پارسا کی صورت بنائے دروازہ پر آ موجود ہوا۔
انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ بولا میں نجدیوں میں سے ایک شیخ ہوں۔ میں نے سن لیا ہے جس امر کےلیے تم جمع ہوئے ہو اس لیے میں بھی حاضر ہوا ہوں تاکہ
سنوں کہ تم کیا کہتے ہو اور مجھے تم سے اپنی رائے اور نصیحت سے بھی دریغ نا ہوگا۔
وہ بولے بہت اچھا آئیے۔ جب آپ ﷺ کا معاملہ پیش ہوا تو ایک بولا کہ اس کے ہاتھ پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال کر ایک  کوٹھڑی میں بند کردو اور کھانے پینے کو کچھ نا دو خود ہلاک ہو جائے گا شیخ نجدی ( شیطان) نے کہا کہ یہ رائے اچھی نہیں ہے۔اللہ کی قسم! اگر تم اس کو اس طرح کوٹھڑی میں قید ہی کردو تو اس کی خبر بند دروازے میں سے اس کے اصحاب تک پہنچ جائے گی۔ اور وہ تم پر حملہ کرکے اس کو چھڑا لیں گے۔ 
دوسرا بولا کہ اس کو شہر سے نکال دو۔ جہاں چاہے چلا جائے  ہمیں اس کا خوف نہیں رہے گا۔ شیخ نجدی نے کہا۔ اللہ کی قسم! یہ رائے بھی اچھی نہیں ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس کا کلام کیسا شیریں اور دلفریب ہے اگر تم۔ ایسا کرو گے تو ممکن ہے وہ کسی قبیلہ میں چلا جائے اور اپنے کلام سے اسے اپنا تابع بنا لے۔ اور پھر انہیں ساتھ لے کر تم پر حملہ کردے۔ 
ابو جہل بولا ۔ میرے ذہن میں ایک رائے ہے۔ جو اب تک کسی کو نہیں سوجھی۔ انہوں نے نے پوچھا وہ کیا ہے؟ ابو جہل نے کہا: وہ یہ ہے کہ ہم ہر قبیلہ میں سے ایک ایک عالی قدر دلیر خاندانی جوان لیں۔ اور ہر نواجوان کے ہاتھ میں ایک تیز تلوار دے دیں۔ پھر وہ سب مل کر اس کو قتل کردیں اور طرح جرم تمام قبائل پر عائد ہوگا عبد مناف کی اولاد تمام قبائل سے نہیں لڑ سکتی اس لیے وہ خون بہا ( ایک قتل کا خون بہا سو اونٹ ہے) لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم آسانی سے خون بہا دے دیں گے۔ یہ سن کر شیخ نجدی بولا یہی بات درست ہے اس کے سوا کوئی اور رائے نہیں سب نے اس رائے پر اتفاق کیا اور مجلس برخاست ہوگئی قرآن مجید کی یہ آیہ ذیل میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے:
ترجمہ:
اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے اور تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں۔ وہ اپنا مکر کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہے اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ہے
 ( ترجمہ کنزالایمان! انفال، ع ۴)

#جاری_ہے

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو