I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 2 اگست، 2020

سیرت رسول عربی ﷺ قسط 8

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


قسط8

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


جب عبد المطلب اونٹوں کی قربانی سے فارغ ہوئے تو عبدالله کی شادی کی فکر ہوئی
عبداللہ نور محمدی کے سبب کمال حسن و جمال رکھتے تھے  قضیہ ذبح سے  اور مشہور ہو گئے۔ قریش کی عورتیں ان کی  طرف مائل تھیں ۔ مگر اللہ تعالی نے ان کو پردہ عفت و عصمت میں محفوظ رکھا۔ 
عبدالمطب  ان کےلیے ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو شرف نسب وحسب وعفت میں ممتاز ہو
۔ اس لیے وہ ان کو بنو ذہرہ کے سرداروہب بن عبد مناف بن ذہرہ بن کلاب بن مرہ کے ہاں لے گئے ۔ 
وہب کی بیٹی آمنہ ذہریہ  قرشیہ نسب و شرف میں قریش کی تمام عورتوں سے افضل تھیں عبد المطلب نے وہب کو عبد الله کی شادی
کا پیغا م دیا۔ اور وہیں عقد ہو گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ آمنہ اپنے چچا  وہب کے پاس رہتی تھیں
عبد المطلب نے وہب کو پیغام دیا اور نکاح ہو گیا اور اسی مجلس  میں خود عبد المطلب نے وہب کی  صاحبزادی ہالہ سے شادی کی۔
عبدالمطلب کے ہاں بقول ابن ہشام پانچ بیویوں سے دس  لڑکے اور چھ  لڑکیاں پیدا ہوئیں
جن کی تفصیل یوں ہے:
1: سمراء بنت جندب ہوازنیہ
اولاد: حارث
2: لبنی بنت ہاجرہ خزاعیہ 
اولاد: ابو لہب (اصلی نام عبدالعزی) 

3: فاطمہ بنت عمرو مخزمیہ
اولاد : ابو طالب (صلی نام عبد مناف )زبیر۔ عبدالله ( والد رسول اللہ)۔ 
بیضاء ، عاتکہ ، برہ ،امیمہ، اروی

4: ہالہ بنت وہب زہریہ 
اولاد: حمزہ ، مقوم ، حجل ، صفیہ، 

5: نتیلہ بنت خباب خزرجیہ 
اولاد: عباس، ضرار
.
جب نو ر محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم)؛ حضرت آمنہ کے رحم  مبارک میں منتقل ہو گیا تو۔
 کئی عجائبات ظہور میں آئے۔
اس سال قریش میں سخت قحط سالی تھی۔ اس نور کی برکت سے زمین پر جا بجا روئیدگی کی مخملیی چادر نظر آنےلگی ۔ درختوں نے اپنے پھل جھکا دیے۔
 اور مکہ میں اس قدر فراخ سالی ہوئی کہ اس سال کو  سنت الفتح والابتهاج کہنے لگے۔ 
قریش کا ہر ایک چار پائیہ فصیح عربی زبان میں حضرت آمنہ کے حمل 
کی خبر دینے لگا۔ بادشاہ کے تخت اور بت اوندھے گر پڑے۔ مشرق ومغرب کے وحشی چرند پرند اور دریائی جانوروں نے ایک دوسرے کو خوشخبری دی ۔ جن پکار اٹھے کہ حضرت کا زمانہ قریب آ گیا۔
کہانت کی آبرو جاتی رہی اور رہبانیت پر خوف طاری ہوا۔ حضرت کی والدہ ماجدہ نے خواب میں سنا کہ کوئی کر رہا ہے تیرے پیٹ میں جہان کا سردار ہے۔ جب وہ پیدا ہوں تو ان کا نام محمد (صلی اللہ علیہ) رکھنا

حضرت_عبداللہ_کی_وفات

جب قول مشہور کے موافق حمل شریف کو دو مہینے پورے ہو گئے تو حضرت کے دادا عبد المطلب نے آپ کے والد حضرت عبداللہ کو مدینہ میں کھجوریں لانے کے لیے بھیجا۔ حضرت عبد الله وہاں اپنے
والد کے ننہال بنو عدی بن نجار میں ایک ماہ بیمار رہ کر انتقال فرما گئے۔ اور وہیں دار نابغہ  میں دفن  ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت عبد المطلب نے حضرت عبداللہ کو تجارت کے لیے ملک شام بھیجا تھا۔
 وہ واپس آتے ہوئے مدینہ میں بنو عدی میں ٹھہرے اور بیمار ہو کر یہیں رہ گئے ۔ 
حضرت عبد الله کا ترکہ ایک لونڈی ام ایمن برکہ حبشیہ،   پانچ اونٹ اور کچھ بکریاں تھیں۔

واقعہ_اصحاب_فیل


تولد شریف سے ۵۵ دن پہلے ایک واقعہ پیش آیا جو اصحاب فیل کا واقعہ کر کے مشہور ہے۔ اس واقعہ کی کیفیت بطریق 
اختصار یوں ہے کہ اس وقت شاہ حبشہ کی طرف سے ابرہہ  یمن کا گورنر تھا۔ اس نے شہر صنعاء میں ایک
کلیسا بنایا اور شاہ حبشہ کو لکھا کہ میں نے آپ کے لیے ایک بے نظری کلیسا بنوایا ہے۔
 میں کوشش کر رہا ہوں کہ عرب کے لوگ آئندہ خانہ کعبہ  کو چھوڑ کر یہیں حج و طواف کیا کریں۔ جب یہ  خبر عرب میں مشہور
ہوگئی تو بنی کنانہ میں سے ایک شخص نے غصہ میں آ کر اس کلیسا میں بول و براز کر دیا۔ یہ دیکھ کر ابرہہ
آگ بگولا ہوگیا اور اس نے قسم کھائی کہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ نہ بجا دوں تو میرا نام ابرہہ نہیں
۔ اسی وقت فوج  و ہاتھی لے کر کعبہ پر چڑھائی کی ۔ یہاں تک کہ مقام مخمس  میں جو مکہ مشرفہ سے دومیل ہے جا اترا۔ اور ایک سردار کو حکم دیا کہ اہل مکہ سے چھیڑ چھاڑ شروع کرے۔ چنانچہ وہ سردارقریش کے اونٹ اور بھیڑ بکریاں ہانک لایا جن میں دو سو اونٹ عبد المطلب بن ہاشم کے بھی تھے۔ بعد ازاں ابرہہ کی طرف سے حناطہ حمیری گیا اور عبدالمطلب کو ابرہہ کے پاس لے آیا
ابرہہ نے عبدالمطلب کا بڑا اکرام کیا اور دونوں میں بذریعہ ترجمان یہ گفتگو ہوئی:

ابرہہ: تم کیا چاہتے ہو
عبدالمطب: میرے اونٹ واپس کر دو۔
ابرہہ: (متعجب ہوکر) تمہیں اونٹوں کا تو خیال ہے ۔ مگر خانہ کعبہ جو تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا دین ہے جسے میں ڈھانے آیا ہوں اس کا نام تک نہیں لیتے۔
عبدالمطب: میں اونٹوں کا مالک ہوں۔ خانہ کعبہ کا مالک اور ہے وہ اپنے گھر کو بچائے گا
ابرہہ: خانہ کعبہ مجھ سے نہیں بچ سکتا۔
عبدالمطب: پھر تم جانو اور وہ۔

اس گفتگو کے بعد عبدالمطلب اپنے اونٹ لے کر مکہ میں واپس آگیا اور قریش سے کہنے لگا کہ شہر مکہ سے نکل جاؤ اور پہاڑوں کے دروں میں پناہ لو۔
یہ کہ کر خود چند آدمیوں کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گیا اور دروازے کا حلقہ پکڑ کر یوں دعا کی۔
لاھم ان العبد یمنع رحلہ فامنع دارک ___ لا یغلبن صلیبھم و محالھم غدوا محالک
ان کنت تارکھم و قبلتنا فأمر ما بدالک

اے اللہ بندہ اپنے گھر کو بچایا کرتا ہے تو بھی اپنا گھر بچا۔
ایسا نا ہوکہ کل کو ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر غالب آ جائے
اگر تو ہمارے قبلہ کو ان پر چھوڑنے لگا ہے تو حکم کر جو تو چاہتا ہے۔
ادھر عبدالمطلب یہ دعا کرکے اپنے ساتھیوں سمیت پہاڑوں کے دروں میں پناہ گزیں ہوا۔
ادھر صبح کو ابرہہ خانہ کعبہ کو ڈھانے کےلیے فوج اور ہاتھی لے کر تیار ہوا۔
جب اس نے ہاتھی کا منہ مکہ کی طرف کیا تو ایک بیٹھ گیا۔
بہتیرے آنکس مارے مگر وہ نا اٹھا۔
آخر مکہ کی طرف سے اس کا منہ موڑ کر اٹھایا تو اٹھا اور تیز بھاگنے لگا ۔
غرض جب مکہ کی طرف اس کا منہ کرتے تو بیٹھ جاتا۔
اور کسی دوسری کرتے تو اٹھ کر بھاگتا۔
اسی حال میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کی طرف ابابیلوں کے غول غول بھیجے۔
جن کے پاس کنکریاں تھیں
ایک ایک چونچ میں اور دو دو پنجوں میں انہوں نے کنکریوں کا مینہ برسانا شروع کیا
جس پر کنکری گرتی وہ ہلاک ہوجاتا۔
یہ دیکھ کر ابرہہ کا لشکر بھاگ نکلا۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر دشمن سے بچا لیا۔
قرآن مجید سورہ فیل میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔
قصہ اصحاب فیل میں دو طرح سے حضرت کی کرامت ظاہر ہے۔
ایک تو یہ کہ اصحاب فیل اگر غالب آتے تو وہ حضرت کی قوم کو قید کرلیتے اور غلام بنا لیتے۔
اس لیے اللہ تعالٰی نے اصحاب فیل کو ہلاک کر دیا۔
تاکہ اس کے حبیب پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) پر حمل و طفولیت کی حالت میں اسیری و غلامی کا دھبہ نہ لگے۔
دوسرے یہ کہ اصحاب فیل نصاریٰ اہل کتاب تھے جن کا دین قریش کے دین سے جو بت پرست تھے یقیناً بہتر تھا۔۔
مگر یہ کہ حضرت کے وجود باوجود کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی حرمت قائم رکھنے کےلیے قریش کو باوجود بت پرست ہونے کے اہل کتاب پر فتح دی۔
یہ واقعہ حضرت کی نبوت کا پیش خیمہ تھا۔
کیونکہ آپ کے دین میں اسی بیت اللہ کی تعظیم اسی کے حج اور اس کی طرف نماز کا حکم ہوا

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
درود شریف ضرور پڑھا کریں

#جاری_ہے


https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو