الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط21
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
نبوت_کا_۱۱_تا_تیرہواں_سال
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریف تھی کہ ہر سال موسم حج میں تمام قبائل عرب کو جو مکہ اورنواح مکہ میں موجود ہوتے دعوت اسلام دیا کرتے تھے۔
اسی غرض سے ان کے میلوں میں بھی تشریف لے جایا کر۔تھے۔ ان میلوں میں سے عکاظ و مجنہ و ذوالمجاز کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔ عکاظ جوان سب سے بڑا تھا نخلہ و طائف کے درمیان طائف سے دس میل کے فاصلہ پر لگا کرتا تھا۔ یہ عرب کی تجارت کی بڑی منڈی اور شعرا کا دنگل تھا۔ ذیقعدہ کی
پہلی تاریخ سے بیس تک رہا کرتا تھا۔ پھر مجنہ جومرالظہران کے متصل مکہ سے چند میل پر تھا۔ اخیر ذیقعده تک لگتا۔ اور ذوالمجاز جوعرفہ کے متصل تھا ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے آٹھویں تک قائم رہتا۔
بعد ازاں لوگ حج کو نکلتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ڈیروں پر جا کر تبلیغ فرماتے۔
مگر کوئی آپ کی نصرت کا دم نہ بھرتا تھا۔ عرب کے قبائل جن کے پاس حضرت بغرض تبلیغ تشریف لے گئے یہ ہیں :
بنو عامر، محارب ، فزارہ، غسان، مره، حنیفہ، سلیم، عبس، بنونضر ، کندہ، کلب، حارث بن کعب، عذرہ، حضارمہ، ان سب کو آپ نے دعوت اسلام دی۔ مگر کوئی ایمان نہ لایا ابولہب لعین ہر جگہ ساتھ جا تا۔ جب
آپ کہیں تقریرفرماتے تو وہ برابر سے کہتا'' اس کا کہنا نہ مانو ۔ یہ بڑا دروغ گو دین سے پھرا ہوا ہے۔
اللہ تعالی کو اپنے دین اور اپنے رسول کا اعزاز منظور تھا
۔ اس لیے نبوت کے گیارہویں سال ماه
رجب میں جب آپ نے حسب عادت منی میں عقبہ کے نزدیک جہاں اب مسجد عقبہ ہے قبیلہ خزرج کے چھ آدمیوں کو اسلام کی دعوت دی تو وہ ایمان لے آئے۔
واضح رہے کہ مدینہ کا اصلی نام یثرب تھا۔ بہت قدیم زمانہ میں یہاں قوم عمالقہ کے لوگ آباد تھے۔ ان کے بعد شام سے یہود آ بسے اور انہوں نے یثرب اور اس کے نواح میں اپنی سکونت کےلیے آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قلعے بنائے۔ جب مارب واقع یمن میں سیل عم آیا تو وہاں کے لوگ یمن سے نکل کر مختلف جگہوں میں چلے گئے۔ چنانچہ قبیلہ ازد بن غوث قحطانی کے دو بھائی اوس و
خزرج یثرب میں آ بسے۔ تمام انصاران یہود کے خاندان سے ہیں۔ جیسا کہ پہلے آچکا ہے۔ یہود کا چونکہ بڑا اقتدار و زور تھا اس لیے قبیلہ اوس و خزرج آخر کار ان کے حلیف بن گئے۔ یہوداہل کتاب اور صاحب علم تھے۔ اوس وخزرج نے جو بت پرست تھے ان سے سنا ہوا تھا کہ ایک اور تکفیر عنقریب معبوث ہونے والا ہے۔ اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب معمول دعوت اسلام دی
تو خزرج کے چھ اشخاص نے آپ کے حالات پر غور کر کے ایک دوسرے سے کہا کہ
واللہ! یہ تو وہی ہیں جن کا ذکر ہم نے یہود مدینہ سے سنا ہوا ہے۔
کہیں یہود ہم سے سبقت نہ لے جائیں اس لیے وہ سب آپ پر ایمان لائے ۔ انہوں نے مدینہ میں پہنچ کر اپنے بھائی بندوں کو اسلام کی دعوت دی ۔
آئندہ سال بارہ مرد ایام حج میں مکہ میں آئے۔ اور انہوں نے عقبہ کے متصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر عورتوں کی طرح بیت کی ۔ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ چوری نہ کریں
گئے۔ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے زنا نہ کریں گے بہتان نہ لگائیں گے کسی امر معروف میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گے۔ چونکہ عورتوں سے ان ہی باتوں پر بیعت ہوئی تھی۔ اس لیے بیت مذکورہ کوعورتوں کی کی بیت کہا گیا۔ اس کو بیعت عقبہ اولی یعنی عقبہ میں اول مرتبہ بیعت بولتے ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بارہ کے ساتھ مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف کو بدیں غرض بھیجا کہ ان کوتعلیم اسلام دیں۔ حضرت مصعب نے سعد بن زرارہ کے مکان پر قیام کیا۔ پھران کو ساتھ لے کر
بن عبدالاشہل اوسی میں آئے۔ اس قبیلہ کے سردار سعد بن معاز اور اسید بن حضیر آپ کے سمجھانے سے ایمان لائے ۔ اور ان کے ایمان لانے سے سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔ بقول مشہور اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں جسد شریف کے ساتھ معراج
شریف ہوا اور پانچ نمازیں فرض ہوئیں ۔
نبوت کے تیرہویں سال میں ایام حج میں انصار کے ساتھ ان کی قوم کے بہت سے مشرک بھی
بغرض حج مکہ میں آئے۔ جب حج سے فارغ ہوئے تو ان میں سے تہتر مرد اور دو عورتیں اپنی قوم سے چھپ کرایام تشریق میں رات کے وقت عقبہ منی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
اس وقت حضرت عباس بن عبد المطلب جو اب تک اسلام نہ لائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سب سے پہلے وہی بولے اے گروہ خزرج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں معزز ہیں ۔ اور اپنے شہر
میں مددگاروں کی ایک جماعت ساتھ رکھتے ہیں۔ ہم نے ان کو دشمنوں سے بچایا ہے اگر تم اپنے عہد کو پورا کر سکو اور ان کے ساتھ دے سکو تو بہتر۔ ورنہ ابھی سے ان کا ساتھ چھوڑ دو۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم مجھ سے وہ
چیز باز رکھو گے جواپنے اہل وعیال سے باز رکھتے ہو۔ یہ سن کر سب سے پہلے براء بن معرور انصاری خزرجئ نے آپ کا دست مبارک پکڑ کر کہا ”ہمیں منظور ہے یا رسول اللہ ہمیں بیعت کر لیجئے۔
واللہ ہم اہل حرب اور اہل سلاح ہیں ۔ یہی چیزیں باپ دادا سے میں ورثہ میں ملی ہیں ابوالہیثم بن تیہان انصاری اوسی نے قطع کلام کر کے عرض کیا یا رسول اللہ! یہود سے جو ہمارے تعلقات ہیں وہ بیعت سے ٹوٹ جائیں گے ۔ ایسا نہ ہو کہ جب اللہ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم میں
چلے جائیں۔ آپ نے مسکرا کر فرمایا: نہیں۔ تمہارا خون میرا خون ہے میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ
ہے میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو تمہارا دشمن میرا دشمن اور تمہارا دوست میرا دوست ہے اس طرح جب وہ بیت کے لیے آمادہ ہو گئے تو عباس بن عبادہ بن نصلہ انصاری خزرجی نے ان سے کہا
یہ بھی خبر ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو۔ یہ عرب و عجم سے جنگ پر بیعت ہے۔ اگر تمہارا خیال ہے کہ جب تمہارے مال تاراج ہوں اور تمہارے اشراف قتل ہوں۔ تم ان کا
ساتھ چھوڑ دو گے تو ابھی سے چھوڑ دو۔ اور اگر ایسی مصیبت پر بھی ساتھ دے سکو تو بیعت کرلو سب بولے ہم اسی بات پر بیعت کرتے ہیں مگر یارسول اللہ صلی اللہ علیہ ہم اس عہد پرثابت رہیں تو میں کیا ملے گا؟
حضور نلم نے فرمایا بہشت۔ یہ سن کر سب نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی ۔ اسے عقبہ کی بیعت ثانیہ کہتے ہیں بیعت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے بارہ اشخاص کونقیب مقرر کیا جن کے نام خود انصار نے پیش کیے اور ان سے یوں خطاب فرمایا تم اپنی اپنی قوم کے حالات کے کفیل
ہو
۔ جیسا کہ حواری حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے تھے۔ اور میں اپنی قوم کاکفیل ہوں
وہ ہوئے کہ ہاں منظور ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے اپنے ڈیروں پر چلے گئے۔
صبح کو قریش ان سے کہنے لگے ہم نے سنا ہے کہ تم نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے پر بیعت کی ہے۔ ان کے مشرک ساتھیوں
نے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں ہوئی یہ سن کر قریش واپس چلے گئے مگر تفتیش کے بعد حقیقت حال جو ان کو معلوم ہوئی تو انہوں نے انصار کا تعاقب کیا۔ صرف سعد بن عبادہ ان کے ہاتھ آئے۔ ظالموں نے ان ہی کے اونٹ کے تنگ سے ان کے ہاتھ گردن سے جکڑ لیے۔ اور مارتے پیٹتے اور سر کے
بالوں سے گھسیٹتے ہوئے ان کو مکہ میں لے آئے ۔ وہاں جبیر بن مطعم بن عدی اور حارث بن حرب بن امیہ نے ان کو چھڑایا۔
باب سوم ختم شد
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں