الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط35
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
ہجرت کا تیسرا سال
نصف محرم کو غزوہ وقرقرۃ الکدر اور ربیع الاول میں غزوہ انمار یا غطفان اور جمادی الاولی میں غزوہ بنی سلیم وقوع میں آیا۔ ان میں سے کسی میں مقابل نہیں ہوا۔ غزوہ انمار میں وعشور غطفانی اسلام لایا۔ ماہ ربیع الاول میں کعب بن اشرف یہودی شاعر جو اسلام کی ہجو کیا کرتا تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ
کے ہاتھ قتل ہوا۔ ماہ جمادی الاخری میں ابورافع اسلام بن ابی الحقیق یہودی جورسول الله کو اذیت دیا کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عتیک انصاری خزرجیں کے ہاتھ سے مارا گیا۔
غزوہِ احد
ماہ شوال میں غزوہ احد وقوع میں آیا۔ جب قریش بدر میں شکست فاش کھا کر کہ میں آئے تو ابوسفیان کے قافلے کا تمام مال دار الندوہ میں رکھا ہوا پایا۔ عبد الله بن ابی ربیعہ اور عکرمہ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ وغیرہ روسائے قریش جن کے باپ بھائی اور بیٹے جنگ بدر میں قتل ہوئے تھے۔ ابوسفیان اور دیگر شرکاء کے پاس آ کر کہنے لگے ۔ کہ اپنے مال کے نفع سے مدد کرو۔ تا کہ ہم ایک لشکر تیار کریں اور (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بدلہ لیں۔ سب نے بخوشیمنظور کیا چنانچہ تمام مال فروخت کر دیا گیا۔ اور حسب قرارداد راس المال مالکوں کو دیا گیا۔ اور نفع تجہیز لشکر میں کام آیا۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ
جو لوگ کافر ہیں خرچ کرتے ہیں اپنے مال کو تاکہ روکیں اللہ کی راہ سے سو ابھی وہ اور خرچ کریں گے پھر آخر ہوگا ان پر پچھتاؤ پھر آخر مغلوب ہوں گے ور جو کافر ہیں وہ دوزخ کو ہانکیں جائیں گے ( انفال ۳۶)
قریش نے بڑی سرگرمی سے تیاری کی ۔ اور قبائل عرب کو بھی دعوت جنگ دی۔ مردوں کے ساتھ عورتوں کی ایک جماعت بھی شامل ہوئی ۔ تا کہ ان کو مقتولین بدر کی یاد دلا کر لڑائی پر ابھارتی رہیں ۔ چنانچہ ابوسفیان کی زوجہ ہندہ بنت عتبہ مکرمہ بن ابوجہل کی زوجہ ام حکیم بنت حارث بن ہشام ۔ حارث بن ہشام بن مغیرہ کی زوجہ فاطمہ بنت ولید بن مغیرہ ۔ صفوان بن امیہ کی زوجہ برزہ بنت مسعود ثقفیہ عمرو بن عاص کی زوجہ ربط بنت شیبہ سہیمہ ۔ طلحہ حجبی کی زوجہ سلافہ بنت سعد۔ اپنے اپنے شوہروں سمیت نکلیں ۔ اسی طرح خناس بنت مالک اپنے بیٹے ابوعزیز بن عمیر کے ساتھ نکلی۔ کل جمعیت تین ہزار تھی جن میں سات سو زرہ پوش تھے۔ ان کے ساتھ دو سو گھوڑے تین ہزار اونٹ اور پندرہ عورتیں تھیں۔ جبیر بن مطعم نے اپنے حبشی غلام وحشی نام کوبھی یہ کہ کربھیج دیا کہ اگرتم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چچا حضرت حمزہ کو میرے چچا طعیمہ بن عدی کے بدلے قتل کرو تو میں تم کو آزاد کر دوں گا۔
لشکر قریش بسرکردگی ابوسفیان مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ اور مدینہ کے مقابل احد کی طرف بطن وادی میں اترا۔ حضرت عباس بن عبد المطلب نے جو اب تک کہ میں تھے بذریعہ خط آپ کو قریش کی تیاری کی خبر دی حضور نے حضرت انس و مونس پسران فضالہ بن عدی انصاری کو بطور جاسوس بھیجا۔ وہ خبر لائے اور کہنے لگے کہ مشرکین نے اپنے اونٹ اور گھوڑے عریض میں چھوڑ دیئے ہیں جنہوں نے چراگاہ میں سبزہ کا نام ونشان نہیں چھوڑا۔ پھر حضور علیہ السلام نے حضرت خباب بن نذر کو بھی بغرض تجسس بھیجا۔ وہ لشکر کی تعداد وغیرہ کی خبر لائے۔ جمعہ کی رات (۱۴ شوال ) کو حضرت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر اور سعد بن عبادہ ایک جماعت کے ساتھ مسلح ہو کر حضور اقدس ﷺ کے دولت خانے پر پہرہ دیتے رہے۔ اور شہر پربھی پہرہ لگا رہا۔ ایک رات حضور نے خواب میں دیکھا۔ کہ گویا آپ مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہیں۔ آپ کی تلوار ذوالفقار ایک طرف سے ٹوٹ گئی ہے ایک گائے پرنظر پڑی جو ذبح کی جارہی ہے۔ اور آپ کے پیچھے ایک مینڈھا سوار ہے ۔ صبح کو آپ نے یہ تعبیر بیان فرمائی کہ مضبوط ذرہ مدینہ ہے تلور شکستگی ذات شریف پر مصیبت ہے۔ گائے آپ کے وہ اصحاب ہیں جوشہید ہوں گے اور مینڈھا کبش الکتیبہ ( طلحہ ابی طلحہ کو کہتے تھے) ہے جسے الله تعالی قتل کرے گا۔ اس خواب کے سبب سے حضور انور کی رائے تھی۔ لڑائی کے لیے مدینہ سے باہر نہ نکلیں ۔ عبد الله بن ابی کی بھی یہی رائے تھے حضور نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا تو اکا برمہاجرین و انصار بھی آپ سے متفق ہو گئے مگر وہ نوجوان جو جنگ بدر میں شامل نہ تھے آپ سے درخواست کرنے لگے ۔ کہ مدینہ سے نکل کر لڑنا چاہے ان کے اصرار پر آپ نکلنے کی طرف مائل ہوئے۔ نماز جمعہ کے بعد آپ نے وعظ فرمایا۔ اہل مدینہ واہل عوالی جمع ہو گئے۔ آپ دولت خانہ میں تشریف لے گئے اور دوہری زره پہن کر نکلے۔ یہ دیکھ کر وہ نوجوان کہنے لگے کہ ہمیں زیبا نہیں کہ آپ کی رائے کے خلاف کریں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پیغمبر خدا کو شایاں نہیں ۔ کہ جب وہ زرہ پہن لے تو اسے اتار دے۔ یہاں تک کہ الله تعالی اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ کر دے۔ اب جو میں حکم دوں وہی کرو۔ اور خدا کا نام لے کر چلو۔ اگر تم صبر کرو گے تو فتح تمہاری ہوگی ۔ پھر آپ نے تین جھنڈے تیار کیے۔ اوس کا جھنڈا حضرت اسید بن حضیر کو اور خزرج کا جھنڈا حضرت خباب بن منذر کو اور مہاجرین کا جھنڈ احضرت علی ابن ابی طالب کو عطا فرمایا اس طرح آپ ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ نکلے۔ جن میں سے ایک سو نے دوہری زرہ پہنی ہوئی تھی۔ حضرت سعد بن معاز اور سعد بن عبادہ زرہ پہنے ہوئے آپ کے آگے چل رہے تھے۔ جب آپ تثنیتہ الوداع کے قریب پہنچے تو ایک فوج نظر آئی آپ کے در یافت فرمانے پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ یہود میں سے ابن ابی کے حلیف ہیں جو آپ کی مد دکو آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے کہ دو کہ لوٹ جا ئیں ۔ کیوں کہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیتے۔ جب آپ موضع شیخان میں اترے توعرض لشکر کے بعد آپ نے بعض صحابہ کرام کو بوجہ صغر سنی( کم عمر ہونے کی وجہ سے) واپس کر دیا ۔ چنانچہ اسامہ بن زید ، ابن عمر، زید بن ثابت ، برا بن عازب ، عمر و بن حزم ، اسید بن ظہیر انصاری، ابوسعید خدری ، عرابہ بن اوس ، زید بن ارقم ، سعد بن عقیب ، سعد بن حبة ،زید بن جاریہ انصاری اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم واپس ہوئے۔ حضرت سمرہ بن جندب اور رافع بن جدیج جو پندرہ پندرہ سال کے تھے پہلے روک دیئے گئے ۔ پھر عرض کیا گیا۔ کہ یا رسول الله رافع اچھا تیرا انداز ہے۔ اس لیے وہ بھی رکھ لیے گئے ۔ پھر سمرہ کی نسبت کہا گیا کہ وہ کشتی میں رافع کو پچھاڑ دیتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ دونوں کشتی لڑیں ۔ چنانچہ سمرہ نے رافع کو پچھاڑ دیا ۔ اس طرح حضرت سمره بھی رکھ لیے گئے۔ رات یہیں بسر ہوئی دوسرے روز باغ شوط میں جو مدینہ اور احد کے درمیان ہے۔ فجر کے وقت پہنچے اور نماز با جماعت ادا کی گئی۔ اس جگہ ابن ابی اپنے تین سو ساتھی لے کر شکر اسلام سے علیحدہ ہو گیا اور یہ کہ کر مدینہ کو چلا آیا کہ حضرت نے ان کا کہ مانا میرا کہا نہ مانا۔ پھر ہم کس لیے یہاں جان دیں۔ جب یہ منافقین واپس ہوئے ۔ تو صحابہ کرام کے ایک گروہ نے کہا ۔ کہ ہم ان سے قتال کرتے ہیں ۔ اور دوسرے گروہ نے کہا کہ ہم قتال نہیں کرتے۔ کیوں کہ یہ مسلمان ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی :
ترجمہ
پس کیا ہے واسطے تمہارے بیچ منافقوں کے دوفر تے ہورہے ہو ۔ اور اللہ نے الٹا کیا ان کو بسبب اس چیز کے کہ کمایا انہوں نے ۔ کیا ارادہ کرتے ہو تم یہ کہ راہ پر لاؤ جس کو گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جس کو گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہ پائے گا تو واسطے اس کے راہ (نساء:۸۸)
ابن ابی کا قول سن کر خزرج میں سے بنوسلمہ اور اوس میں سے بنو حارثہ نے دل میں لوٹنے کی ٹھہرائی مگر الله تعالی نے ان کو بچالیا ۔ چنانچ قرآن کریم میں ہے:ترجمہ:
جب قصد کیا دوفریقوں نے تم میں سے یہ کہ نامردی کریں اور دوستدار تھا ان کا اللہ اور اللہ کے پس چاہیے کہ توکل کریں ایمان والے۔“ (آل عمران : ۱۲۲)
اب حضور کے ساتھ سات سو آدمی اور دو گھوڑے رہ گئے تھے۔ آپ نے ابوخثیمہ انصاری کو بطور بدرقہ ساتھ لیا ۔ تا کہ نزدیک کے راستے سے لے چلے ۔ اس طرح حضور حرہ بنی حارثہ اور ان کے اموال کے پاس سے گزرتے ہوئے مربع بن قیظی منافق کے باغ کے پاس پہنچے وہ نابینا تھا۔ اس نے جب لشکر اسلام کی آہٹ سنی تو ان پر خاک پھینکنے لگا ۔ اور حضور سے کہنے لگا۔ کہ اگر آپ الله کے رسول ہیں۔ تو میں تجھے اپنے باغ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ سن کر صحابہ کرام اسے قتل کرنے کےلیے دوڑے۔ حضور نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو۔ یہ آنکھ کا اندھا دل کا بھی اندھا ہے۔ مگر حضور کے منع کرنے سے پہلے ہی سعد بن زید اشمہلی نے اس پر کمان ماری اور سر توڑ دیا۔ یہاں سے روانہ ہو کرلشکر اسلام نصف شوال یوم شنبہ کو کوہ احد کی شعب (درہ) میں کرانہ وادی میں پہاڑ کی طرف اترا۔ حضور نے صف آرائی کے لیے پہاڑ کو پس پشت اور کوہ عینین کو جو وادی قنات میں ہے اپنی بائیں طرفرکھا۔ کوہ عینین میں ایک شگاف یا درہ تھا۔ جس میں سے دشمن عقب سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوسکتا تھا۔ اس لیے آپ نے اس دورہ پر اپنے پچاس پیدل تیرانداز مقرر کیے۔ اور حضرت عبداللہ بن جبیر کو ان کا سردار بنایا۔ اور یوں ہدایت کی :
اگرتم دیکھو کہ پرندے ہم کوا چک لے گئے ہیں تو اپنی جگہ کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس کسی کو بھیجوں ۔ اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دی
ہے اور مارکر پامال کر دیا ہے۔ تو بھی ایسا ہی
کرنا......( صحیح البخاری کتاب الجہاد باب مایکرہ من التنازع والاختلاف فی الحرب)
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں