الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت_رسول_عربی_ﷺ
1قسط
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخشش توکلی صاحب
ترتیب
وتدوین: بندہ ناچیز : #محمدحامدرضوی
پہلامقدمہ
ملک عرب کا جغرافیہ ملک عرب براعظم ایشیا کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔
چونکہ اس کو تین طرف سے سمندرنے اور چوتھی طرف سے دریائے فرات نے جزیرے کی طرح
گھیرا ہوا ہے اس لیے اسے جزیره عرب کہتے ہیں۔ اس کے شمال میں بلادشام وعراق ہیں ۔
مغرب میں بحر احمریعنی بحیرہ قلزم جنوب میں بحر ہند اور مشرق میں خلیج عمان اور
خلیج فارس ہیں۔ اس کا طول شمالاً جنوباً پندرہ سو میل کے قریب اور اوسط عرض شرقاً
غرباً آٹھ سو میل ہے۔ اس کارقہ ایک لاکھ بیس ہزار مربع میل یعنی براعظم یورپ کی ایک
تہائی کے قریب ہے۔ علمائے جغرافیہ نے بر بنائے طبیعت ارضی اس ملک کو آٹھ حصوں میں
تقسیم کیا ہے جن کا بیان بطريق اختصار نیچے لکھا ہے۔
اقلیم_حجاز:
جو مغرب میں
بحر احمر کے ساحل کے قریب واقع ہے۔ حجاز سے ملحق ساحل بحر کو جونشیب ہے تہامہ یا
غور کہتے ہیں، اور حجاز سے مشرق کو جو حصہ ملک ہے وہ نجد (زمین مرتفع) کہلاتا ہے۔
مجاز چونکہ جدو تہامہ کے درمیان حاجز وحائل ہے۔ اس لیے اسی نام سے موسوم ہے۔ حجاز
کے مشہور شہروں میں مکہ مشرفہ ہے جومشرق میں جبل ابوقبیس اور مغرب میں جبل قعیقعان
کے درمیان واقع ہے۔ اس شہر مبارک میں نوشیرواں کی تخت نشینی کے بیالیسویں سال فیل
میں ربیع الاول کی بارہویں تار کوسیدنا مولانامحمد مصطفی ( صلی اللہ علیہ وسلم)
پیدا ہوئے ۔ خانہ کعبہ ( بیت اللد شریف )اسی شہر میں ہے۔ مناسک حج کے مشہور مقامات
میں سے صفا اور مروہ تو بیت اللہ شریف کے عین قریب ہی ہیں ۔ منی تین میل مشرق کو
ہے۔ منی سے اس قدر فاصلے پر مشرق کی طرف مزدلفہ اور مزدلفہ سے مشرق کو اتنے ہی
مسافت پرعرفات ہے۔مکہ مشرفہ سے شمال کی طرف تقریبا دو سو میل کے فاصلہ پر مدینہ
منورہ ہے۔ جہاں حضور سرورِ کائنات علیہ الوف اتحیة والصلوة کا مزار مقدس واقع ہے۔
مد ینہ منورہ سے تقریبا تین سو میل شال کو جبل احد ہے ۔ جہاں حضرت امیر حمزہ (رضی
اللہ عنہ) کا مزار مبارک ہے۔ مکہ مشرفہ کی بندر گاہ جدہ ہے جو ۳۴ میل کے فاصلے پر
بھیرہ قلزم کے ساحل پر ہے۔ حجاز ریلوے لائن ۱۹۰۸ء میں دمشق سے مدینہ منورہ تک تیار
ہوگئی۔ مدینہ منورہ سے مکہ مشرفہ کی اس وقت تک تیار نہیں ہوئی ۔ اس اقلیم میں حرمین
شریفین کے علاوہ بدر، احد، خیبر، فدک، نین، طائف تبوک اور غدیر خم اسلامی تاریخ میں
بہت مشہور ہیں ۔ حضرت شعیب( علیہ السلام) کا شہر مدین تبوک کے محاز میں ساحل بحر
احمر بر واقع ہے۔ حجر میں جو وادی القری میں ہے آثارنمود اب تک پائے جاتے ہیں ۔
طائف اہل مکہ مشرفہ کا مصیف ہے یہاں کے میوے مشہور ہیں
۔ 2 اقلیم_یمن
جو حجاز کے
جنوب میں بحر احمر اور بحر ہند کے ساحل سے متصل واقع ہے اس کی یمن بر کت یا کعبة
اللہ سے جانب یمین ہونے کے سبب سے انس نام سے موسوم ہے۔ اس اقلیم میں نجران، صنعاء
اور سیاء و مارب مشہور تاریخی مقامات ہیں ۔ محنہ ، حدیده اور زبید تجاری حیثیت
رکھتے ہیں۔ صنعاء دارالسلطنت ہے جو عدن سے ۱۲۸ میل ہے۔ کنیر لپ اسی شہر میں تھا۔ اس
کا اندر گاه حدیدہ ہے۔ جہاں سے بن اور چوڑے بیرونی ممالک کو جاتے ہیں۔ صنعاء سے چار
دن کی مسافت پرسبا مآرب کے آثار پائے جاتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔
نجران ایک بڑا شہر تھا جس کے متعلق ستر گاؤں تھے۔ یہ شہر ملک عرب میں عیسائیت کا
مرکز تھا۔ یہاں ایک بڑا گرجا تھا۔ جسے بنو عبدالمدان بن الد یان حارثی نے کعبۃ اللہ
کے مقابلہ میں بنایاتھا ۔ وہ کعبته اللہ کی طرح اس کی تعظیم کرتے تھے اور اسے کعبہ
نجران کہا کرتے تھے۔ اسی گرجا کے بڑے بڑے پادری ہجرت کے بارہویں سال حضور سید
المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تھے اور حضور (صلی اللہ
علیہ وسلم) نے ان کومباہلہ کی دعوت دی تھی ۔ نجران ہی کے ایک گاؤں میں قصہ اصحاب
اخرود وقوع میں آیا تھا ۔ جس کا تذکرہ اللہ تعالی کے کلام پاک میں پایا جاتا ہے
۔ 3 اقلیم حضرموت
جویمن کے مشرق میں بحر ہند کے ساحل سے متصل واقع ہے۔ - اس کے
مشہور شہر ترمیم اور شبام دارالسلطنت ہے ان کے علاوہ مرباط، ظفار، شحر اور مسکلہ
ساحل پر واقع ہیں ۔
مسکلہ سے لو بان بیرونی ممالک کو جاتا ہے۔
۔4 اقلیم_مہرہ
جو
حضر موت کے مشرق میں واقع ہے۔ یہاں کے اونٹ مشہور ہیں جنہیں قبیلہ مہرہ کی نسبت کر
کے اہل مہریہ بولتے ہیں۔ یہاں کے باشندوں کی غذا عموماً مچھلی ہے
۔ 5 اقلیم_عمان
جو مہرہ سے ملحق ہے۔ اس کے مشہور شہروں میں سے مسقط اورصحار ہیں ۔یہاں کے باشندے
عمو باخوارج اباضیہ ہیں۔
۔ 6اقلیم_الاحساء
.جسے بحرین بھی کہتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ
بحر فارس و برعمان کے ساحل پر واقع ہے۔ اس طرف کے جزائر میں موتیوں کے مغا ص ہیں ۔
اس کے مشہور شہروں میں سے فطيف، ہفوف اور ہجر ہیں۔ یہاں کے باشندے عموما رافضی
تبرائی ہیں
۔ 7 اقلیم_نجد
جوحجاز کے مشرق اور صحرائے شام کے جنوب میں ہے۔ اسی
اقلیم کی نسبت حدیث شریف میں آیا ہے کہ یہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔ یہ پیشین
گوئی محمد بن عبدالوہاب اور فرقہ وہابیہ کے ظہور سے پوری ہوگئی ۔ اسی اقلیم کے
شمالی حصے میں حزب داحس اور حزب بسوس وقوع میں آئیں۔ جن میں سے ہر ایک چالیس سال تک
جاری رہی۔ وہابیہ کا دارالسلطنت ریاض ہے
۔ 8 اقلیم_الاحقاف
جوعمان واجساء ونجد
وحضرموت ومہرہ کے درمیان میں ایک وسیع بے آبادصحرا ہے، اس کا حال معلوم نہیں ۔ حضرت
ہود (علیہ السلام) کی قبر مبارک حضرموت کے متصل احقاف ہمیں ہے۔
پیداوار:
یمن
وغیرہ میں پیڑ اور صمغ عربی کے درخت (اقاقیا) ہوتے ہیں حضرموت میں میں نباتات عطر
یہ اور مشمومات اور عود قاقلی ہوتا ہے۔ کھجور،کپاس ، مکئی اور چاول یمن میں خصوصیت
سے ہوتے ہیں ۔ سناجنوبی حجاز اور تہامہ میں ہوتی ہے۔ بلستان مکہ مشرفہ کے قریب اور
حنا مغربی ساحل پر پائی جاتی ہے۔ نجد کے گھوڑے اور مہرہ کے اونٹ مشہور ہیں۔ گدھے،
دنبے ،بکریاں اور مویشی کثرت سے ہیں۔ عرب میں وحوش میں سے شترمرغ، چیتا، پلنگ سیاه
گوش اورکفتار ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں