I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 2 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربیﷺ قسط 3

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


قسط3

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


سیل عرم کے بعد جو لوگ یمن میں رہ گئے ان پر بنو قحطان بدستور حکمرانی کرتے رہے 
ان بادشاہوں میں سے ایک کا نام شمر بن افریقیس بن ابرہہ تھا کہتے ہیں کہ شمر مذکور بڑاعالی ہمت تھا۔
اس نے عراق پرلشکرکشی کی۔ اور اسے فتح کر کے چین کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں جب وہ صغد میں پہنچا تو اس نواح کے باشندے ایک مقام میں پناہ گزین ہو گئے ۔ شمر نے چاروں طرف سےمحاصرہ کر کے ان کو قتل کردیا۔ اور اس مقام کو کھدوا کر ویران کر دیا۔ اس واسطے اس مقام کوشمر کند کہنے
لگے۔ جسے عرب ،معرب کر کے سمرقند بولتے تھے۔ شمروہاں سے چین کی طرف بڑھا مگر وہ اور اس کی فوج پیاس سے ہلاک ہوگئی ۔ تبابع  یمن میں سے بتان اسعد ابوکرب تھا۔ وہ بلادمشرق کو فتح کرکے واپس آتا ہوا مدینہ میں اترا ۔
جہان وہ جاتا ہوا اپنے بیٹے کو چھوڑ گیا تھا۔  مگر اس کو کسی نےنا گہاں قتل کر دیا۔ اس لیے تبع مذکور نے مدینہ اور اہل مدینہ کو تباہ کرنا چاہا۔  مگر یہود بنوں قریظہ  سے دو
عالموں نے منع کیا ۔ اسی نے و جہ دریا فت کی ۔ تو عالموں نے کہا کہ آخر زمانہ میں قریش میں سے ایک پیغمبر پیدا ہو گا جس کی ہجرت اسی شہر مدینہ   کی طرف ہو گی ۔ وہ یہ سن کر باز آیا اور اس نے مذہب یہود اختیار کر لیا۔
تبع مذکور مدینہ سے اپنے وطن یمن کی طرف روانہ ہوا راستے میں اس نے مکہ میں چھ دن قیام کیا ۔ اور طواف کر کے کعبہ پر برد یمانی چڑھائی ۔ یہ تبع پہلا شخص ہے جس نے سب سے پہلے بیت اللہ پر پردہ چڑ ھا یا ۔ مکہ سے وہ یمن میں آیا۔ دونوں عالم اس کے ساتھ تھے۔ اس نے اپنی قوم یعنی حمیر کو یہودیت کی دعوت دی ۔ حمیر اس وقت تک بت پرست تھے۔ انہوں نے تبع کی دعوت سے
آخر کار مذہب یہودیت اختیار کرلیا۔
 تبان اسعد کے بعد اس کے بیٹے حسان کوعمرو بن تبان اسعد نے ملک کے لالچ میں قتل کردیا۔
عمرو مذکور بھی جلدی ہلاک ہو گیا۔ اور حمیر کی سلطنت کا شیرازہ پراگندہ ہو گیا ۔لخنیعہ نیوف ذوشناتر جو شاہی خاندان میں سے نہ تھا ان کا بادشاہ بن بیٹھا۔ وہ فاسق خبيث تھا۔ ابنائے ملوک سے لواطت کیا کرتا تھا۔ تا کہ وہ بادشاہ نہ بن جائیں۔ کیوں کہ اس زمانہ میں عرب کی عادت تھی کہ ایسے شہزادے کو
بادشاہ نہ بناتے تھے۔ زرعہ بن تبان اسعد اپنے بھائی حسان  کے قتل کے وقت  بچہ ہی تھا۔ وہ بہت خوبصورت تھا۔ اس کے سر کے بال پیٹھ پر پہنچے تھے۔ اس دا سے اس کا لقب ذونواس تھا۔ خوبصورتی کے سبب سے لوگ اسے یوسف کہا کرتے تھے۔ ذوشناتر   نے اسے بلا بھیجا۔ ذونواس سمجھ گیا اور ایک تیز چھری جوتے میں پاؤں تلے چھپا کر لے گیا۔ جب وہ خلوت میں پہنچا تو اسی چھری سے ذوشناتر کا
کام تمام کر دیا۔ یہ شجاعت دیکھ کر حمیر نے زونواس  کو ہی اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔
 اہل نجران اس وقت عیسائی تھے۔ زونواس لشکر سمیت نجران میں گیا۔ اور اس نے اہل نجران کو یہودیت کی دعوت دی۔
زولواس نے ایک خندق کھدوا کر آگ سے بھر دی۔ جولوگ یہودی ہونے سے انکار کرتے وہ ان کو آگ میں گرا دیتا تھا۔ قرآن کریم میں اسی  زونواس اور اس کے اصحاب کو سورہ بروج میں اصحاب الاخدود کہا گیا ہے۔ نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص کردوں ، ذوثعلبان قیصر روم جستینین (متوفي
۵۹۵ ئ) کے پاس پہنچا۔ اور اسے سب ماجرا کہہ سنایا۔ قیصر نے جواب دیا کہ تمہارا ملک ہم سے بہت دور ہے ۔ ہم شاہ حبشہ نجاشی کو جو عیسائی ہے تمہاری مدد کے لیے لکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ دوس قیصر کا نامہ نجاشی کے پاس لایا۔
نجاشی نے اپنے ایک امیر اریاط کو لشکر جرار دے کر کردوس کے ساتھ روانہ کیا۔
اس لشکر میں ابہ الثرم بھی تھا۔ ذونواس کو شکست ہوئی ۔وہ  بد یں خیال کے مبادا  دشمن کے ہاتھ گرفتار ہوجائے ۵۲۸ء میں سمندر میں ڈوب کر مر گیا۔ ار یاط ۵۲۹ ء سے ۵۴۹ء تک یمن میں ملکر حکمران رہا۔
وہ کمزوریوں پر تعدی کیا کرتا تھا۔ اس لیے بہت کی رعیت اس کے خلاف ابرہہ سے مل گئی۔
ابرہہ نے اریاط سے کہا کہ ہم دونوں سمجھ لیں۔چنانچہ دونوں لڑنے  لگے۔ ابرہہ نے پس پشت ایک مقرر کیا تھا۔ جب ار یاط نے  حربہ مارا تو ابر ہ کی پیشانی پر پڑا اور اس کی آنکھ، ناک اور ہونٹ کاٹ دیئے۔ اسی سبب سے اس کو ابر ہ اشرم کہتے ہیں ۔ یہ دیکھ کر اس غلام نے ابرہہ کی پشت کی طرف سے نکل کراریاط کو قتل کر ڈالا۔ اس طرح حبشہ اور یمن نے ابرہہ کو بادشاہ تسلیم کرلیا۔
 نجاشی یہ حال کرابرہہ پر ناراض ہوگیا ۔ مگر ابرہہ نے معافی مانگ کر اس کو راضی کر لیا۔ اسی  ابرہہ نے صنعا میں ایک گرجا بنایا تھا۔ تاکہ عرب بجائے کعبۃ اللہ کے اس کا طواف کیا کریں مگر بنو کنانہ میں سے ایک خفن
نے اس میں بول و براز کر دیا۔ اس پر ابرہہ  ہاتھی لے کر خانہ کعبہ کو ڈھانے آیا مگر وہ اور اس کی فوج تباہ ہوگئی۔ یہ قصہ اصحاب فیل قرآن مجید میں مذکور ہے۔ حضور ختم المرسلین( صلی اللہ علیہ وسلم) کا تولد شریف اس واقعہ کے پچپن دن بعد ہوا۔
ابرہہ کے بعد اس کا بیٹا بیسوم تخت یمن پر بیٹھا۔ مگر جلد ہی ہلاک ہو گیا۔ پھر یکسوم کا بھائی مسروق تخت نشین ہوا۔ اہل یمن اجنبیوں کی حکومت سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ اس لیے سیف  بن  زی یزن حمری قیصر روم کے پاس گیا اور اپنے ملک کو غیروں کی غلامی سے آزاد کرنے کے لیے اس کی
مدد مانگی۔ قیصر نے مدد  دینے سے انکار کر دیا۔ اس لیے وہ کسری نوشیرواں کے دربار میں حاضر ہوا۔
اور عرض کی کہ ہمارے ملک پر اجنبیوں کی حکومت ہے اگر آپ مدد دیں تو ہمارا ملک آپ کے زیرفرمان ہوجائے گا۔ کسری کے ایک مرزبان نے مشورہ دیا کہ بادشاہ کے قید خانہ میں آٹھ سو واجب القتل موجود ہیں ان کو بھیج دیا جائے۔ اگر وہ ہلاک ہو گئے فہو المراد۔ اور اگر فتح یاب ہو گئے تو علاقہ
مفتوح آپ کے قبضہ میں آجائے گا۔ چنانچہ  قیدیوں میں سے ایک شخص وہزر کی سرکردگی میں وہ سب مہم یمن پربھیج دیئے گئے ۔ اہل فارس کو فتخ نصیب ہوئی اور مسروق مارا گیا۔ اس طرح حبشہ کا تصرف یمن پر بہتر سال (۵۲۹ء سے ۶۰۱ء) تک رہا 
وہزر کے بعد کسری کی طرف سے مرزبان بن وہزر پر تینجان بن مرزبان نائب السلطنت
مقرر ہوا۔ تیجان کے بعد اس کا بیٹا جانشین ہوا مگر کسری نے اسے معزول کر کے پاذان کو اپنا نائب مقرر کیا۔
۔ جب حضور سید المرلین (صلی اللہ علیہ وسلم) مبعوث ہوئے تو اس وقت ہی بازان حاکم یمن تھا ۔ جب کسری ( خسرو پرویز ) کو حضور اقدس  کی بعثت کی خبر پہنچی تو اس نے بازان کو لکھا کہ تم اس مدعی نبوت کے پاس جاؤ اور اسے کہہ دو کہ اپنے دعوے سے  باز آجائے ۔ ورنہ سرقلم کر کے ہمارے پاس
بھیج دو - بازان نے وہ خط رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)  کی خدمت اقدس میں بھیج دیا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم)  نے باذان کو
جواب میں لکھا کہ کسری فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو قتل ہو جائے گا۔ جب یہ نامہ بازان کو ملا تو کہنے لگا کہ اگر وہ  نبی ہیں  تو ایسا ہی ہو گا ۔ چنانچ کسری کو اس کے بیٹے شیرویہ  نے اسی مہینے اور اسی تاریخ کو قتل کر دیا۔
 جیسا کہ رسول کریم ب(صلی اللہ علیہ وسلم) انے پیش گوئی فرمائی تھی۔ یہ دیکھ کر باذان اور دیگر اہل فارس جو یمن  میں تھے مشرف بہ اسلام ہوئے۔
حروب عرب کے جنہیں ایام عرب سے تعبیر کیا جاتا ہے اس مختصر مقدمہ میں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں ۔ عرب جاہلیت کی دینی و اخلاقی حالت کا بیان آگے آئے گا۔ ان شاء الله تعالی۔

جاری ہے



آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار #محمدحامدرضوی

 ہمارے فیسبک پیج کو بھی فالو کریں
https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو