الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط36
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
مشرکین نے بھی جو عینین میں وادی قنات کے مدینہ کی طرف کے کنارے پر شورستان میں اترے ہوئے تھے صفیں آراستہ کیں ۔ چنانچہ انہوں نے سواروں کے میمنہ پر خالد بن ولید کو میسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل کو۔ پیدلوں پر صفوان بن امیہ کو۔ اور تیراندازوں پر جوتعداد میں ایک سو تھے۔ عبداللہ بن ابی ربیعہ کو مقرر کیا۔ اور جھنڈا طلحہ بن ابی طلحہ کو دیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مشرکین کا جھنڈا بنو عبدالدار کے پاس ہے۔ تو آپ نے لشکر اسلام کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبدمناف بن عبد الدار کو دیا۔ اور میمنہ پر حضرت زبیر بن عوام اور میسرہ پرحضرت منذر بن عامر کومقررفرمایا۔
مشرکین میں سب سے پہلے جو لڑائی کے لیے نکلا۔ وہ ابوعامر انصاری اوسی تھا۔ اس کو راہب کہا کرتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام فاسق رکھا۔ زمانہ جاہلیت میں وہ قبیلہ اوس کا سردار تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر یثرب (مدینہ) تشریف لے گئے۔ تو وہ آپ کی مخالفت کرنے لگا۔ اور مدینہ سے نکل مکہ میں چلا آیا۔ اس نے قریش کو آپ سے لڑنے پر آمادہ کیا۔ اور کہا کہ میری قوم جب مجھے دیکھے گی تو میرے ساتھ ہو جائے گی۔ اس لیے اس نے پکار کر کہا: اے گروہ اوس! میں ابو عامر ہوں‘‘۔ اوس نے جواب دیا: اے فاسق! تیری مراد پوری نہ ہو۔ فاسق کا نام سن کر کہنے لگا: کہ میری قوم میرے بعد بگڑ گئی ہے ۔ اس کے ساتھ غلامان قریش کی ایک جماعت تھی ۔ وہ مسلمانوں پر تیر پھینکنے
لگے۔ مسلمان بھی ان پر سنگ باری کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ابو عامر اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔
مشرکین کا علم بردار طلحہ صف سے نکل کر پکارا: ”مسلمانو! تم سمجھتے ہو کہ ہم میں سے جو تمہارے ہاتھوں مر جاتا ہے۔ وہ جلد دوزخ میں جاتا ہے۔ اور تم میں جو ہمارے ہاتھوں مر جاتا ہے۔ وہ جلد بہشت میں جاتا ہے۔ کیا تم میں کوئی ہے جس کو میں جلد بہشت میں پہنچا دوں؟ یا وہ مجھے جلد دوزخ میں پہنچا دے۔ حضرت علی ابن ابی طالب نکلے اور طلحہ کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ کھوپڑی پھاڑ دی اور وہ گر پڑا۔ حضور اقدس کبش الکتیبہ کے مارے جانے پرخوش ہوئے آپ نے تکبیر کہی ۔مسلمانوں نے بھی آپ کی اقتداء کی طلحہ کے بعد اس کے بھائی عثمان بن ابی طلحہ نے جھنڈا ہاتھ میں لیا۔ اس کے پیچھے عورتیں اشعار پڑھتی آتی تھیں ۔ اور ان کے آگے یہ رجز پڑھتاتھا
:
ان على أهل اللواء حقا أن تغضب الصعدۃ او تندقا
بے شک علم برداروں پر واجب ہے کہ نیز وخون سے سرخ ہو جائے یاٹوٹ جائے ‘‘
حضرت حمزہ بن عبد المطلب مقابلے کے لیے نکلے۔ اور عثمان کے دو شانوں کے درمیان اس زور سے تلوار ماری کہ ایک بازو اورشانے کو کاٹ کر سرین تک جا پہنچی ۔ حضرت حمزہ واپس آئے اور زبان پر یہ الفاظ تھے:
انا ابن ساق الحجيج
میں ساقی حجاج (عبد المطلب ) کا بیٹا ہوں ۔
اب میدان کارزار گرم ہوا۔ آپ کے دست مبارک میں ایک تلوارتھی ۔ آپ نے
فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے؟ یہ سن کر کئی شخص آپ کی طرف بڑھے مگر آپ نے وہ تلوار کسی کو نہ دی۔ ابودجانہ ( سماک بن خرشد انصاری)نے اٹھ کر عرض کیا: یا رسول الله!
اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کہ اس کا یہ ہے کہ تو اسی کو دشمن پر مارے، یہاں تک کہ ٹیڑھی ہو جائے ۔ ابودجانہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کو اس کے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ حضور نے
ابودجانہ کو عنایت فرمائی۔ ابودجانہ مشہور پہلوان تھے۔ اور لڑائی میں اکڑ کر چلا کرتے تھے۔ جب سرخ رومال سر پر باندھ لیتے تو لوگ سمجھ جاتے تھے کہ لڑیں گے۔ انہوں نے تلوار لے کر حسب عادت سر پر سرخ رومال باندھا اور اکڑتے تنتے نکلے۔ یہ دیکھ کر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ یہ چال خدا کو ناپسند ہے۔ حضرت ابو دجانہ صفوں کو چیرتے اور لاشوں پر لاشے گراتے دامن کوہ میں مشرکین کی عورتوں تک جا پہنچے ۔ جو بغرض ترغیب دف پر اشعار ذیل گا رہی تھیں:
نحن بنات الطارق___ نمشي على النمارق
ان تقبلوا نعانق ___ او تدبروا نفارق
ہم ( علووشرف میں ) پروین ستارے ہیں ہم قالینوں پر چلنے والیاں ہیں اگرتم آئے
بڑھو گے تو ہم تم سے گلے ملیں گی پیچھے ہٹو گے تم ہم تم سے جدا ہو جائیں گی ۔‘‘
حضرت ابودجانہ نے تلوار اٹھائی کہ ہند بنت عتبہ کے سر پر ماریں ۔ پھر بدیں خیال رک گئے ۔کہ یہ سزاوار نہیں ۔ کہ رسول اللہ کی تلوار ایک عورت پر ماری جائے ۔
حضرت ابودجانہ کی طرح حضرت حمزہ و حضرت علی وغیرہ بھی دشمنوں میں جا گھسے اور صفوں کی صفیں صاف کر دیں ۔ حضرت امیر حمزہ و آخر کار وحشی نے جو بعد میں ایمان لائے ۔ شہید کر دیا۔ دحشی اپنا قصہ یوں بیان کرتے ہیں: حمزہ نے طعیمہ بن عدی بن الخیار کو بدر میں قتل کر دیا تھا۔ اس لیے میرے آقا جبیر بن مطعم نے کہا: اگر تو حمزہ کو میرے چچا کے بدلے قتل کر دے تو آزاد ہو جائے گا۔
جب سال عینین میں (عینین احد کے مقابلے ایک پہاڑ ہے۔ اور دونوں کے درمیان ایک وادی ہے ) لوگ نکلے ۔ تو میں لوگوں کے ساتھ لڑائی کے لیے نکلا۔ جب لڑائی کے لیے صف بستہ ہوئے تو
سباع (بن عبدالعزی) نکلا اور کہا: کیا کوئی مبارز ہے؟ یہ سن کر حمزہ بن عبد المطلب اس کی طرف نکلے اور یوں خطاب کیا: اے سباع!اے عورتوں کے ختنہ کرنے والی ام نمار کے بیٹے ! کیا تو خدا اور رسول کے ساتھ جنگ کرتا ہے؟ یہ کہہ کر حمزہ نے اس پر حملہ کیا۔ پس وہ گل گز شتہ کی طرح ہو گیا۔ میں ایک
پتھر کے نیچے حضرت حمزہ کی تاک میں تھا۔ جب حمزہ مجھ سے نزدیک ہوا۔ میں نے اپنا حربہ اس پر مارا اور اس کی ناف و عانہ کے درمیان لگا۔ یہاں تک کہ اس کی دو رانوں میں سے نکل گیا۔ اورایہ اس کا
آخر امر تھا۔ جب لوگ واپس آئے میں ان کے ساتھ واپس آیا ۔ اور مکہ میں ٹھہرا یہاں تک کہ اس میں اسلام پھیل گیا۔ پھر ( فتح کے بعد ) طائف کی طرف بھاگ گیا۔ جب اہل طاف نے رسول الله کی طرف اپنے قاصد بھیجے تو مجھ سے کہا گیا۔ کہ حضرت قاصدوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اس لیے
میں قاصدوں کے ساتھ نکلا۔ اور رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو
پوچھا کیا تو وحشی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا : کیا تو نے حضرت حمزہ کو قتل کیا؟ میں نے کہا ایسا ہی وقوع میں آیا ہے جیسا کہ آپ کو یہ خبر پہنچی ہے۔ آپ نے فرمایا تو میرے سامنے نہ آیا کر۔ اور میں
چلا گیا۔ جب رسول اللہ کا وصال ہوا تو مسیلمہ کذاب ظاہر ہوا۔ میں نے کہا: کہ میں مسیلمہ کی طرف ضرور نکلوں گا ۔ شاید میں اسے مار ڈالوں۔ اس طرح قتل حمزہ کی مکافات کر دوں۔ اس لیے میں لوگوں کے ساتھ نکلا۔ مسیلمہ کا حال ہوا جو ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک شخص ہے دیوار کے درمیان کھڑا ہوا۔ گویا کہ وہ ایک ژولیدہ موخا کستری اونٹ ہے ۔ میں نے اپنا حربہ ( یہ وہی حربہ تھا جس سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا۔ حضرت وحشی کہا کرتے تھے " قتلت فی کفری خیرالناس و فی اسلامی شرالناس" یعنی میں نے اپنی کفر کی حالت میں خیرالناس کو شہید کیا تھا۔ اور مسلمان ہونے کی حالت میں شرالناس کو قتل کیا۔ مارا جو اس کے پستان کے درمیان لگا۔ یہاں تک کہ اس کے دونوں شانوں کے درمیان سے پار ہو گیا۔ انصار میں سے ایک شخص اس کی طرف کودا اور اس کے سر پر تلوار ماری۔ پس ایک لونڈی نے گھر کی چھت پر ( نوحہ کرتے ہوئے) کہا وائے امیر المؤمنین ( مسیلمہ کذاب کو امیر المومنین اس لیے کہا کہ اس پر ایمان لانے والوں کے امور کا مرجع وہی تھا ۔ اس سے تلقیب مقصود نہ تھی) اسے ایک حبشی غلام وحشی نے قتل کردیا ( صحیح بخاری: باب قتل:سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں