الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط57
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
#جلد_مبارک_و_بوئے_خوش
آپ کی جلد مبارک نرم تھی۔ ایک وصف ذاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ تھا کہ خوشبو لگائے بغیر آپ سے ایسی خوشبو آتی تھی کہ کوئی خوشبو اس کو نی پہنچ سکتی تھی۔ آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب آپ پیدا ہوئے تو میں نے غور سے آپ کی طرف نگاہ کی ۔ کیا دیکھتی ہوں کہ آپ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہیں ۔ اور آپ سے تیز بو کستوری کی طرح خوشبو آرہی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کستوری یا عبیر/عنیر کو بوئے رسول اللہ اسے خوش تر نہ پایا۔( صیح بخاری کتاب الصیام،)
حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله کی خدمت اقدس میں آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے میں اسے اس کے خاوند کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں ۔ میرے پاس کوئی خوشبو نہیں آپ کچھ عنایت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس موجو نہیں مگرکل صبح ایک چوڑے منہ والی شیشی اور کسی درخت کی لکڑی میرے پاس لے آنا۔
دوسرے روز و شخص شیشی اورلکڑی لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے اپنے دونوں بازوؤں سے اس میں اپنا پسینہ ڈالنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ بھرگئی ۔ پھر فرمایا کہ اسے لے جا اپنی بیٹی سے کہہ دینا اس لکڑی کو شیشی میں تر کر کے مل لیا کرے۔ پس جب وہ آپ کے پسینہ مبارک کو لگاتی تمام اہل مدینہ کو اس کی خوشبو پہنچتی۔ یہاں تک کی ان کے گھر کا نام بیت المطبین ( خوشبو والوں کا گھر) ہو گیا ( یہ ایک حدیث کا مضمون ہے جسے ابو بعلی، طبرانی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔ دیکھیں مواہب لدنیہ، اور خصائص کبریٰ)
حضور کے خادم حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا۔ حالت خواب میں آپ کو پسینہ آگیا۔ میری ماں ام سلیم نے ایک شیشی لی اور آپ کا پسینہ مبارک اس میں ڈالنے لگی ۔ آپ جاگ اٹھے اور فرمانے لگے : ام سلیم! تو کیا کرتی ہے اس نے عرض کیا: یہ آپ کا پسینہ ہے ہم اس کو اپنی خوشبو میں ڈالتے ہیں اور وہ سب خوشبوؤں سے خوشبو دار بن جاتی ہے۔( صحیح مسلم باب طیب عروہ صلی اللہ علیہ وسلم) دوسری روایت مسلم میں ہے کہ ام سلیم نے یوں عرض کیا: یا رسول الله ! ہم اپنے بچوں کے لیے آپ کے عرق مبارک کی برکت کے امیدوار ہیں۔ آپ نے فرمایا تو نے سچ کہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور کے عرق مبارک کو بچوں کے چہرے اور بدن پر مل دیا کرتے تھے اور وہ تمام بلاؤں سے محفوظ رہا کرتے تھے۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی کوچہ میں سے گزرتے تو گزرجانے کے بعد بھی آنے جانے والوں کو اس کوچہ سے خوشبو آتی اور وہ سمجھ جاتے کہ اس کوچہ میں سے آپ کا گزر ہوا ہے( اس کو بزدار اور ابو یعلیٰ نے باسناد صحیح روایت کیا ہے۔ دیکھیں مواہب لدنیہ، اور خصائص کبریٰ) باقی حال لعاب مبارک اور دست مبارک میں آچکا ہے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ اب بھی مدینہ منورہ کے در و دیوار سے خوشبوئیں آرہی ہیں۔ جنہیں محبان و عاشقان جناب رسول اکرم شامہ محبت سے محسوس کرتے ہیں ۔ ابن بطال کا قول ہے کہ جو شخص مدینہ منوره میں رہتا ہے۔ وہ اس کی خاک اور دیواروں سے خوشبو محسوس کرتا ہے۔ اور اشبیلی نے فرمایا ہے کہ خاک مدینہ میں ایک عجیب مہک ہے۔ جو کسی خوشبو میں نہیں اور یاقوت نے کہا ہے کہ من جملہ خصائص مدینہ اسی ہوا کا خوشبو دار ہونا ہے اور وہاں کی بارش میں بوئے خوش ہوتی ہے جو کسی اور جگہ کی بارش میں نہیں ہوتی ۔ ابوعبدالله عطار نے کیا خوب کہا ہے
بطيب رسول الله طاب نسیمھا____ فما المسک مالکافور ما الصندل الرطب
رسول الله کی خوشبو سے نسیم مدینہ خوشبودار ہوگئی پس کیا ہے کستوری کیا ہے اور کافور کیا ہے عطر صندل تر و تازہ
امام ابن سبع نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں شمار کیا ہے۔ کہ آپ کے کپڑوں پر مکھی نہ بیٹھتی ۔ اور آپ کو جوں ایذاء نہ دیتی یعنی آپ کے کپڑوں میں جوں نہ ہوتی کہ آپ کو ایذاء دے۔ کیوں کہ جوں عفونت اور پسینے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور حضور تو نور اور اطيب الناس تھے۔ اور آپ کا پسینہ خوشبودار ہوتا تھا۔ اسی طرح بوجہ لطافت آپ کے بدن مبارک پر کپٹرا میلا نہ ہوتا تھا۔ علامہ دمیری نے اپنی منظومہ في الفقہ میں لکھا ہے ۔ کہ جن چوپائیوں پر آپ سوار ہوئے آپ کی سواری کی حالت میں انہوں نے کبھی پیشاب نہ کیا۔ اور جس چوپایہ پر آپ سوار ہوئے ۔ وہ آپ کی حیات میں کبھی بیمار نہ ہوا۔
#موئے_مبارک
سر مبارک کے بال نہ تو بہت گھونگر والے تھے اور نہ بہت سیدھے۔ بلکہ دونوں کے بین بین( درمیانی حالت) تھے۔ ان بالوں کی درازی میں مختلف روایتیں آئی ہیں ۔ کانوں تک کانوں کے نصف تک، کانوں کی لوتک، شانہ مبارک کے نزدیک تک، شانوں تک ۔ ان سب روایتوں میں تطبیق یوں ہے۔ کہ ان کومختلف اوقات و احوال پر محمول کیا جائے یعنی جب آپ کٹوادیتے تو کان تک رہ جاتے۔ پھر بڑھ کر نصف گوش یا نرمہ گوش یا شانہ مبارک تک پہنچ جاتے ۔ اگر موئے مبارک خودبخود پرانگدہ ہو جاتے تو آپ ان کو دو حصے بطور مانگ کر لیتے ۔ اور اگر از خود نہ بکھرتے تو بحال خود رہنے دیتے۔ اور بہ تکلیف مانگ نہ نکا لتے۔
داڑھی مبارک گھنی تھی۔ اسے کنگھی کرتے اور آئینہ دیکھتے ۔ اور سونے سے پہلے آنکھوں میں تین تین بار سرمہ ڈالتے۔ مونچھ مبارک کو کٹوایا کرتے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی مخالفت کرو یعنی داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو خوب کٹواؤ۔ اخیر عمر شریف میں آپ کی ریش مبارک اور سر مبارک میں قریباً بیس بال مبارک سفید تھے۔ گلے اور ناف کے درمیان بالوں کا ایک باریک خط تھا۔ اس کے سوا شکم مبارک اور پستان مبارک پر بال نہ تھے ۔ دونوں بازوؤں اور شانوں اور سینہ مبارک کے بالائی حصے میں بال زیادہ تھے۔ موئے مبارک کا باقی حال آثار شریفہ کی تعظیم کے تحت میں آئے گا۔
#لباس
عام لباس چادر قمیص اور تہبند تھا یمن کی دھاری دار چادریں جن کو عربی میں
خیرة کہتے ہیں سب سے زیادہ پسند فرماتے تھے بعض اوقات آپ نے اونی جبہ
شامیہ استعمال فرمایا ہے جس کی آستینیں اس قدر تنگ تھیں کہ وضو کے وقت ہاتھ آستینوں سے نکالنے پڑتے تھے۔ جبی کسروانی بھی پہن لیتے تھے جس کی جیب اور دونوں چاکوں پر دیبا کی سنجاف تھی۔ ایسی اونی چادر بھی آپ نے پہنی ہے جس پر کجاوہ کی شکل بنی ہوئی تھی۔ سفید لباس پسند اور سرخ نا پسند فرماتے تھے۔ پاجامہ آپ نے کبھی نہیں پہنا۔ عمامہ کا شملہ چھوڑا کرتے اور کبھی نہ چھوڑا کرتے شملہ اکثر دونوں شاخوں کے بیچ میں اور کبھی شانہ مبارک پر پڑا رہتا بعض وقت عمامہ میں تحیک فرماتے یعنی دستار مبارک کا ایک پیج بائیں جانب سے ٹھوڑی مبارک کے نیچے سے گزار کر سر مبارک پر لپیٹ لیتے عمامہ اکثر سیاہ رنگ کا ہوتا تھا۔ عمامہ کے نیچے سرسے لپٹی ہوئی ٹوپی ہوا کرتی۔ اونچی ٹوپی آپ نے استعمال نہیں فرمائی۔ نعلین شریف چپلئ کی شکل کی تھیں۔ ہر ایک کے دو دو تسمے دہرہ تہ والے تھے ایک تسمہ انگو ٹھے اور متصل کی انگلی مبارک کے بیچ میں اور دوسرا انگشت میانہ اور بنصر کے بیچ میں ہوا کرتا۔ یہ وہی نعلین شریفین ہیں کہ شب معراج میں جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ عرش پرتشریف لے گئے۔ تو بقول صوفياء کرام باری تعالی کا ارشاد ہوا کہ نعلین سمیت عرش کو شرف بخشیے کسی نے کیا خوب کہا ہے: طور کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی کہ پاپوش اتار لیجئے اور حضرت احمد کو عرش پر پاپوش اتارنے کی اجات نہ ملی۔ ہر ایک مسلمان کی یہ آرزو ہوتی ہے اور ہونی چاہیے کہ اس دنیا میں بھی حالت خواب یا حالت بیداری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو۔ لہذا ہم ذیل میں ایک درود شریف درج کرتے ہیں۔ چوشخص اس درود شریف کو ہر روز سونے سے پہلے باوضو با ادب اور حضور قلب سے تین بار پڑھے گا۔ ان شاء الله تعالیٰ چالیس دن کے اندر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوگا۔
یہ درود شریف حرکات و سکنات کے ساتھ لکھنا بہت مشکل تھا اس لیے نہیں لکھ سکا😢
لیکن آپ اس لنک سے تصویر دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=108936440951883&id=100055065818631
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں