I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 25 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 52

 
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط52


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


#حلیہ_شریف


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ شریف کے بیان میں عرض مدعا سے پہلے قارئین کرام کی آگاہی کےلیے امور ذیل کا بتا دینا ضروری ہے


ہمارا عقیدہ ہے کہ کمال خلق کی طرح کمال خلقت میں بھی اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو حضور اقدس ﷺ کا مثل پیدا نہیں فرمایا اور نہ پیدا فرمائے گا۔

لم یخلق الرحمٰن مثل محمد۔      ابدا و علمی انه لا یخلق

نہیں پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے مثل محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ پیدا نہ کرے گا۔

جن بزرگوں نے حضور اقدس ﷺ کا حلیہ  مبارک بیان کیا ہے۔ انہوں نے اگرچہ حضور اقدس ﷺ کے اوصاف کے بیان میں حسبِ طاقت  بشری ابلغ انواع و اکمل قوامین فصاحت سے کام لیا ہے ۔ مگر غایت جسے وہ پہنچے  ہیں یہی ہے کہ انہوں نے حضور کی صفات کی ایک جھلک کا ادراک کیا ہے۔ اور حقیقت وصف  کے ادراک سے یا عاجز رہ گئے خلاصہ یہ ہے کہ وہ  صورت وصف کو پیش کر سکتے ہیں نہ حقیقت وصف  کو

کیوں حقیقت وصف حضور کو خالق  کے سوا کوئی نہیں جاتا۔ چنانچہ امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ قصیدہ ہمزیہ میں فرماتے ہیں۔

انما مثلوا صفاتک للناس    کما  مثل النجوم الماء

انہوں نے صرف صورت دکھائی ہے تیری صفات کی لوگوں کو جیسا پانی صورت دکھا

دیتا ہے تاروں کیا۔( مواہب لدنیہ، کتاب شمائل النبویہ)

امام قرطبی (متوفی ۲۷۱ھ) نے کتاب الصلوۃ  میں کسی عارف کا کیا اچھا قول  نقل کیا ہے

کہ رسول اللہ  کا کامل حسن ہمارے لیے ظاہر  نہیں  ہوا۔ کیوں کہ اگر ظاہر ہو جاتا تو ہماری آنکھیں آپ کے دیدار کی تاب نہ لا سکتیں۔


۔ حضور کے اوصاف کے بیان میں جو تشبیہارت وارد ہوئی ہیں ۔ وہ صرف لوگوں کے سمجھانے کےلیے حسب وعرف و عادات شعراء استعمال ہوئی ہیں ۔ کیوں کہ حقیقت میں مخلوقات میں

سے کوئی شے آپ کی صفات خلقیہ و خلقیہ کے مماثل و معاول ہیں۔


- اعضا شریف میں توسط و اعتدال جو حسن و جمال کا مدار اورفضل و کمال کا مبنی ہے۔ بطور کلیہ ہر جگہ  ملحوط ہے۔

اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد و على آل سيدنا محمد و اصحاب سيدنا محمد بقدر حسنہ و جماله و كماله کلما ذكرك و ذكره الذاكرون وغفل عن ذكرك وذكره الغافلون


#روئے_مبارک

حضور اقدس ﷺ  کے  روئے مبارک جو جمال الہیٰ  کا آئینہ اور انوار تجلی  کا مظہر تھا۔ پر گوشت اور کسی قدر گول تھا۔ ایک روئے مبارک کو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ  دیکھتے ہی پکاراٹھے تھے۔


وجہه ليس بوجہ الکذاب۔ ان کا چہرہ دروغ گوہ کا چہرہ نہیں۔

اور ایمان لائے تھے ( صحیح بخاری، باب صفتہ النبیﷺ)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ  لوگوں سے بڑھ کر خوبرو اور خوش خو  تھے حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( یہ حضور اقدس ﷺ کے ربیب تھے۔ کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   حضور سے پہلے ابو ہالہ کے نکاح میں تھیں۔ جس سے ہند مذکور پیدا ہوئے یہ ایمان لائے اور ہجرت کی اور ۳۶ھ میں یوم جمل میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے)  بیان فرماتے ہیں ۔ کہ آپ کا چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی مانند چمکتا تھا ۔ حضرت جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ  کو چاندنی رات میں دیکھا۔ آپ سرخ دھاری دار حلہ( حلہ دو کپڑوں کو کہتے ہیں۔ یعنی چادر اور شلوار) پہنے ہوئے تھے میں کبھی چاندکی طرف دیکھتا اور کبھی آپ کی طرف بے شک میرے نزدیک آپ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے ۔(شمائل ترمذی)


ابن عساکر (متوفی ۵۷۱ھ) نے حضرت عائشہ صدیقہ  کی روایت سے نقل کیا ہے کہ میں سحر کے وقت سی رہی تھی۔ مجھ سے سوئی گر پڑی میں نے ہر چند تلاش کی مگر نہ ملی۔ اتنے میں رسول اللہ  تشریف لائے۔ آپ کے روئے مبارک کے نور کی شعاع میں وہ سوئی نظر آئی۔ میں نے یہ ماجراء آپ سے عرض کیا۔ آپ نے فرمایا: اے حمیرا( یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا لقب تھا) سختی  وعذاب ہے (تین دفعہ فرمایا ) اس شخص کے لیے جو میرے چہرے کی طرف دیکھنے سے محروم کیا گیا، (خصائص کبریٰ)

حافظ ابونعیم (متوفی ۴۳۰ھ) نے بروایت عبادہ بن عبد الصمد نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ۔ کہ ہم حضرت انس بن مالک کے ہاں آئے۔ آپ نے کنیز سے کہا ۔ کہ دستر خوان لا - تا کہ ہم چاشت کا کھانا کھائیں ۔ وہ لے آئی۔ آپ نے فرمایا کہ رومال لا۔ وہ ایک میلا رومال لائی۔ آپ نے فرمایا۔ کہ تنور گرم کر۔ اس نے تنور گرم کیا۔ پھر آپ کے حکم سے رو مال اس میں ڈال دیا گیا۔ وہ ایسا سفید نکلا گویا کہ دودھ ہے۔ ہم نے حضرت انس سے پوچھا۔ کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کہ یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ  اپنے روئے مبارک کو مسح فرمایا کرتے تھے جب یہ میلا ہو جاتا ہے تو اسے ہم یوں صاف کر لیتے ہیں ۔ کیوں کہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیا علیہم الصلوۃالسلام کے روئے مبارک سے گزری ہو(خصائص کبریٰ)  کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:.ہر چہ اسباب جمال است خوب ترا۔  ہمہ بروجہ کمال است کمالات یخفی


#چشم_مبارک

آپ کی مبارک آنکھیں بڑی اور قدرت الٰہی سے سرمگیں اور پلکیں دراز تھیں۔ آنکھوں کی سفیدی میں باریک سرخ ڈورے تھے۔ کتب سابقہ میں بھی یہ آپ کی علامت نبوت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب آپ نے 25 سال کی عمر شریف میں خدیجتہ الکبری کی طرف سے ان کے غلام میسرہ کے ساتھ تجارت کےلیے ملک شام کا سفر کیا۔ اور بصر میں نسطور راہب کے عبادت خانہ کے قریب ایک درخت کے نیچے اترے تو راہب مذکور نے میسرہ سے حضور اقدس ﷺ کی نسبت یہ سوال کیا۔ کیا ان دونوں آنکھوں میں سرخی ہے؟ میسرہ نے جواب دیا ۔ ہاں اور وہ سرخی آپ سے کبھی جدا نہیں ہوتی ( خصائص کبریٰ، جز اول صفحہ 91) 

اللہ تعالیٰ نے آپ کے بصر شریف کو وصف قرآن پاک میں یوں مذکور فرمایا ہے:


مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَمَا طَغٰى ۞ 


ترجمہ:

( آپ کی) نظر نہ حد سے بڑھی اور نہ بہکی(النجم ۱۷)

یعنی شب معراج میں آپ کی آنکھ مبارک نے ان آیات کو دیکھنے سے عدول و تجاوز نہ فرمایا۔ کہ جن کے دیکھنے کےلیے آپ مامور تھے ۔ اس سے یہ پایا جاتا ہے کہ آپ کو ایسی غایت درجہ کی قوت بصارت عطا ہوئی تھی ۔ کہ آپ جس شئے کو دیکھتے ۔ خواہ وہ غایت درجہ خفا میں ہو اسے یوں ادارک فرماتے تھے کہ جس طرح وہ واقع اور نفس الامر میں ہوا کرتی ( زرقانی علی المواہب جز رابع ، صفحہ۸۲) 

امام بیہقی نے بروایت ابن عباس نقل کیا ہے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیری رات میں روشن دن کی طرح دیکھتے تھے۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے تمہارا رکوع اور خشوع پوشیدہ نہیں ہے  میں تم کو اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں ( صحیح بخاری) امام مجاہد نے

الَّذِىۡ يَرٰٮكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ‏ ۞ 

وَتَقَلُّبَكَ فِى السّٰجِدِيۡنَ ۞


ترجمہ:

جو آپ کو آپ کے قیام کے وقت دیکھتا ہے.

اور سجدہ کرنے والوں میں آپ کے پلٹنے کو

(شعراء آیت: ۲۱۸ ، ۲۱۹) کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ رسول اللہ  نماز میں پچھلی صفوں کو یوں دیکھتے تھے۔ جیسا کہ سامنے والوں کو۔( اس حدیث کو امام حمیدی نے اپنی مسند میں اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں اور امام بیہقی نے روایت کیا ہے؛ دیکھیں مواہب لدنیہ جز اول، اور خصائص کبریٰ جز اول)

 احادیث مبارک بالا میں رویت  سے مراد رویت عینی ہے، جو اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاک کو بطور خرق عادت عطا فرمائی تھی۔ جس طرح باری تعالیٰ نے  آپ کے قلب شر یف کو معقولات کے ادراک میں احاطہ اور وسعت بخشی تھی۔ اسی طرح آپ حواس لطیف کومحسوسات کے احساس میں توسیع عنایت فرمائی تھی ۔ آپ کا فرشتوں اور شیاطین کو  دیکھنا اور شب معراج کی صبح کو مکہ مشرفہ میں قریش کے آگے بیت المقدس کو دیکھ کر اس کا حال بیان کرنا اور  مسجد نبوی کے بننے کے وقت آپ کا مدینہ منورہ سے کعبہ مشرفہ کو دیکھنا زمین کے مشارق و مغارب کو دیکھ لینا اور حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد بہشت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھنا۔ یہ تمام امور آپ کی قوت بینائی پر دلالت کرتے ہیں۔ 

غزوہ احزاب میں خندق کھودتے وقت ایک سخت پتھر حائل ہو گیا تھا جسے حضور نے کدال کی تین ضربوں سے اڑادیا۔ پہلی ضرب پر فرمایا کہ میں یہاں سے شام کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ۔ دوسری ضرب پر فرمایا کہ میں یہاں سے کسری کا سفیدمحل دیکھ رہا ہوں تیسری ضرب پر فرمایا کہ اس وقت میں یہاں سے ابواب صنعاء کو دیکھ رہا ہوں اسی طرح جب غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارث و جعفر بن ابی طالب وعبد اللہ بن رواحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہم   یکے بعد دیگرے بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تو حضور اقدس ﷺ  مدینہ منورہ میں ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور بیان فرمارہے تھے۔


#ابروئے_مبارک


آپ کی بھویں دراز و باریک تھیں۔ اور درمیان میں دونوں اس قدر  متصل تھیں۔ کہ  دور سے ملی ہوئی معلوم ہوئی تھیں ۔ ان دونوں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت حرکت میں آ جاتی اور خون سے بھر جاتی ۔


#بینی_مبارک


 آپ  کی ناک مبارک خوبصورت اور دراز تھی  اور درمیان میں ابھراؤ  اور بن بینی (عرنین) پرایک نور درخشاں تھا جوشخص بغور

تامل نہ کر اسے معلوم ہوتا کہ  بلند ہے۔ حالانکہ  بلند نہ  تھی۔ بلند تو وہ نور  تھا جو اسے گھیرے ہوئے تھا۔


#پیشانی_مبارک

 آپ کی پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ اور چراغ کی مانند چمکتی تھی۔

چنانچ حضرت حسان بن ثابت مانے فر مایا:


متی یبد فی اللیل البھیم جبینہ  مصباح الدجیٰ المتوقد

جب اندھیری رات میں آپ کی پیشانی مبارک ظاہر ہوتی تو تاریخ کے روشن چراغ کی مثل چمکتی (زرقانی علی المواہب جز رابع صفحہ 91)


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو