I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 20 ستمبر، 2020

سیرتِ رسول عربی ﷺ قسط 56

 الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط56


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


۲۳ - حضرت محمد بن انس بن فضالہ انصاری اوسی ذکر کرتے ہیں ۔ کہ جب رسول الله مدینے تشریف لائے تو میں دو ہفتوں کا تھا۔ مجھے حضور علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے۔ آپ نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا۔ اور دعائے برکت فرمائی ۔ اور ارشاد فر مایا کہ اس کا نام میرے نام پر رکھو مگر میری کنیت نہ رکھو ان کے صاحب زادے یونس کا قول ہے کہ میرے والد بوڑھے ہو

گئے اور ان کے تمام بال سفید ہو گئے مگر سر کے بال جن پر دست مبارک پھرا تھا سفید نہ ہوئے۔

۲۴ - حضرت عبادہ بن سعد بن عثمان زرقی کے سر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنا دست مبارک پھیرا اور دعا فرمائی ۔ انہوں نے اسی سال کی عمر میں وفات پائی اور کوئی بال سفید نہ ہوا۔

۲۵ - حضرت بشر (یا بشیر ) بن عقربہ جہنی کا بیان ہے کہ میرے والد مجھ کو رسول اللہ  کے خدمت میں لے گئے۔ حضور نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میرا بیٹا بحیر ہے۔ حضور نے مجھ سے فرمایا کہ نزدیک آؤ۔ میں آپ کے دائیں ہاتھ بیٹھ گیا۔ آپ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ اور مجھ سے پوچھا۔ کہ تمہارا کیا نام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ

میرا نام بحیر ہے۔ حضور نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارا نام بشیر ہے میری زبان میں لکنت تھی ۔ آپ نے میرے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا ۔ لکنت جاتی رہی۔ میرے منہ کے تمام بال سفید ہو گئے مگر جن بالوں پر حضور کا دست مبارک پھرا تھا وہ سیاہ ہی رہے۔

۲۶- آپ نے حضرت خزیمہ بن عاصم مکی کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ ان کے چہرے پر پیری کے آثار نمودار نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ وفات پائی۔

 ۲۷- حضرت فراش بن عمرو کنانی لیشی اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور دردسر کی شکایت کی ۔ حضور نے فراش کو اپنے سامنے بٹھایا ۔ اور ان کی آنکھوں کے درمیانی چمڑے کو پکڑ کر کھینچا۔ آپ کی مبارک انگلیوں کی جگہ بال اگ آئے اور درد جاتا رہا۔ انہوں نے حروراء کے دن خوارج کے ساتھ نکلنا چاہا۔ ان کے والد نے ان کو کوٹھڑی میں بند کر دیا ۔ وہ بال گر گئے۔ جب توبہ کی تو پھر اگ آئے۔

۲۸- حضرت عمرو بن تغلب کے چہرے اور سر پر رسول الله  نے اپنا دست مبارک پھیرا۔ انہوں نے سو برس کی عمر میں وفات پائی ۔مگر چہرے اور سر کے وہ بال جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ نے چھوا تھا سفید نہ ہوئے۔

۲۹- حضرت اسید بن ابی ایاس کنانی دئلی کے سینے پر حضور علیہ السلام نے اپنا دست مبارک رکھا۔ اور چہرے پر پھیرا ۔ وہ تارک گھر میں داخل ہوتے تو روشن ہو جاتا۔ 

۳۰۔ حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  کا نکاح حضرت زینب بنت جحش سے ہوا۔ تو میری اماں ام سلیم نے خرما اور گھی اور پنیر سے جبس تیار کیا ۔ اور اسے ایک تور ( تور پیالہ کی شکل کا ایک برتن ہوتا ہے) میں ڈال دیا۔ پھر کہا : انس! اس کو رسول اللہ  کی خدمت اقدس میں لے جا وہاں عرض کرنا کہ یہ میری ماں نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔ وہ سلام کہتی ہے اور عرض کرتی ہے کہ یا رسول الله  یہ  تھوڑا سا کھانا ہماری طرف سے آپ کےلیے ہے۔ میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ماں نے جو کچھ کہا تھا عرض کردیا حضور نے فرمایا کہ اس کو رکھ دو اور فلاں فلاں  فلاں (تین شخصوں) کو بلا لاؤ اور جو اور ملیں ان کو بھی لے آؤ میں نے تکمیل ارشاد کی ۔ واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ

گھر اہل خانہ سے بھرا ہوا ہے حضور نے اپنا دست مبارک اس جبس پر رکھا اور دعائے برکت فرمائی۔ پھر آپ حاضرین میں سے دس دس کو بلاتے رہے اور فرماتے رہے کہ اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور ہر ایک اپنے سامنے سے کھائے۔ اس طرح ایک گروہ نکلتا اور دوسرا آ جاتا۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھایا۔ حضور نے فرمایا: انس اٹھاؤ میں نے اٹھا لیا۔ میں یہ نہیں بتاسکتا کہ جب تور

رکھا گیا تو اس وقت کھانا زیادہ تھا یا جب اٹھایا گیا بقول انس حاضرین کی تعداد تین سو تھی ۔ 

۳۱- جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ہجرت فرما کر مدینہ میں رونق افروز ہوئے تو اس وقت حضرت سلمان فارسی ایک یہودی کے ہاں بطور غلام کام کرتے تھے۔ رسول اللہ  کے ارشاد سے انہوں نے یہودی سے اس امر پر مکاتبت کر لی ۔ کہ وہ اس یہودی کو چالیس اوقیہ سونا ادا کر یں ۔ اور اس کے لیے کھجوروں کے تین سو پودے لگا کر پرورش کریں۔ یہاں تک کہ وہ بار آور ہوں۔ جب حضرت سلمان نے حضور کو یہ خبر دی تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا۔ کہ سلمان کی مدد کرو۔ چنانچہ صحابہ کرام نے پودے دیئے ۔ اور حضور نے اپنے مبارک ہاتھ سے ان کو لگایا وہ سب لگ گئے۔ اور اسی سال پھل لائے ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین سو پودوں میں سے ایک کسی اور نے لگایا( ایک روایت ترمذی شریف میں ہے کہ وہ حضرت عمر فاروق تھے)  ۔ وہ پھل نہ لایا تو حضور نے اسے اکھاڑ کر اپنے دست مبارک سے پھر لگا دیا۔ وہ بھی دوسروں کے ساتھ ہی پھل لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کان سے مرغی کے انڈے کے برابر سونا آیا تھا۔ وہ آپ نے سلمان کو عطا فرمایا سلمان نے عرض کیا کہ اس کو چالیس اوقیہ کے ساتھ کیا نسبت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہی لے جاؤ۔ اللہ تعالی اس کے ساتھ تمہارا قرض ادا کر دے گا۔ چنانچہ وہ لے گئے۔ اور اس میں سے چالیس اوقیہ تول کر یہودی کو دے دیئے اس طرح حضرت سلمان فارسی آزاد ہو گئے ۔ حضور اقدس کی بغل شریف سفید تھی ۔ اور اس سے کسی قسم کی ناخوش بو نہ آتی تھی بلکہ کستوری کی مانند خوشبو آیا کرتی تھی۔


 امثلہ مذکورہ بالا میں سے نمبر ۲۱، ۲۲ معجم صغیر۔ طبرانی میں سے ہیں ۔ اور نمبر ۳۳، ۲۸، ۲۹ خصائص کبریٰ للسیوطی اور باقی

تمام اصابہ للعسقلانی میں سے ہیں۔


#سینہ_مبارک_قلب_شریف


آپ کا سینہ مبارک کشادہ تھا۔ آپ کا قلب شریف پہلا قلب شریف ہے جس میں اسرار الہٰیہ اور معارف ربانی ودیعت رکھے گئے۔ کیوں کہ آپ بوجود صورت نوری سب سے پہلے پیدا کیے گئے۔ صدر معنوی کی شرح اور قلب اقدس کی وسعت کا بیان طاقت بشری سے خارج ہے۔ چار دفعہ فرشتوں نے آپ کے صدر مبارک کوشق کیا۔ اور قلب شریف کو نکال کر دھویا۔ اور اسے ایمان وحکمت سے بھر دیا۔ اسی کی طرف اللہ تبارک و تعالی اپنے قرآن پاک میں یوں ارشادفرماتا ہے: الم نشرح لك صدرك ( کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا)۔ یہی وجہ ہے کہ جو اسرار آپ کے قلب شریف کو عطا ہوئے وہ کسی اور مخلوق کو عطا نہیں ہوئے اور نہ کسی اور مخلوق کا قلب اس کا متحمل ہوسکتا تھا حضور اقدس  اپنے قلب شریف کی نسبت یوں ارشادفرماتے ہیں کہ میری آنکھ سوجاتی ہے۔ مگر میرا دل نہیں سوتا۔ ( تتام عینی ولا ینام قلبی: صحیح بخاری)


#شکم_مبارک:


آپ  سواء البطن والصدر تھے یعنی آپ کا شکم اور سینہ مبارک ہموار و برابر تھے۔ نہ تو شکم سینہ سے اور نہ سینہ شکم سے بلند تھا۔ حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کے شکم مبارک کو دیکھا۔ گویا کہ کاغذ ہیں ایک دوسرے پر رکھے ہوئے اور تہ کیے ہوئے ۔ (خصائص کبریٰ بحوالہ ابن سعد و طبرانی) حضور اقدس کا بول و براز بلکہ تمام فضلات پاک تھے جیسا کہ احادیث کثیرہ سے ثابت ہے ( تفصیل کےلیے دیکھیں رسالہ حلیۃ النبی و مولفہج خاکسار)


#پشت_مبارک


آپ کی پشت مبارک ایسی صاف و سفید تھی کہ گویا پگھلائی ہوئی چاندی ہے( خصائص کبریٰ بحوالہ احمد و بیہقی) ہر دو شانہ کے درمیان ایک نورانی گوشت کا ٹکڑا تھا جو بدن شریف کے باقی اجزاء سے ابھرا ہوا تھا ۔ اسے مہر نبوت یا خاتم نبوت کہتے تھے ۔ کتب سابقہ میں آپ کی علامات، نبوت میں ایک یہ بھی مذکور تھی ۔ حلیہ مبارک بیان کرنے والوں نے اس کی ظاہری شکل و صورت کے بیان کرنے میں اسے کئی چیزوں (مثلا بیضہ، کبوتر تا تکمہ چھپر کھٹ یا گرہ گوشت سرخ وغیرہ) سے تشبیہ دی ہے۔ تا کہ لوگ سمجھ لیں ۔ سچ پوچھو تو یہ ایک عظیم اور نشان عجیب تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختص تھا کہ جس کی حقیقت کو رب العزت کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

نبوت راتوائی آن نامہ در پشت_____ کہ از تعظیم دارد مہری برپشت


#پائے_مبارک

ہر دو پائے مبارک سطبر و پر گوشت اور خوبصورت ایسے کہ کسی انسان  کے نہ تھے اور نرم و صاف ایسے کہ ان پر پانی ذرا بھی نہ  ٹھہرتا بلکہ فوراً گر جاتا۔ ایڑیاں کم گوشت ہر دوساق مبارک باریک و سفید و لطیف گویا شحم النخل یعنی کھجور کا گا بھاہیں ۔ جب آپ چلتے تو قدم مبارک کو قوت و تثبت اور وقار تواضع سے اٹھاتے ۔ جیسا کہ ایل ہمت وشجاعت کا قاعدہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ چلنے میں، میں  حضور علیہ السلام  سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ گویا آپ کے لیے زمین لپٹی جاتی تھی۔ ہم دوڑا کرتے اور تیز چلنے میں مشقت اٹھاتے۔ اور آپ بآسانی و بے تکلف چلتے مگر پھر بھی سب سے آگے رہتے بعض دفعہ حضور نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ چلنے کا قصد فرماتے تو اس صورت میں اصحاب آپ کے آگے ہوتے۔ اور آپ عمدا  ان کے پیچھے ہوتے ۔ اور فرماتے ہیں کہ میری پیٹھ فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دو۔ حضور کے پاؤں مبارک وہ قدم مبارک ہیں کہ جب آپ پتھر پر چلتے تو وہ نرم ہو جاتا تھا کہ آپ باآسانی اس پر گزر جائیں ۔ اور جب ریت پر چلتے تو اس میں پائے مبارک کا نشان نہ ہوتا۔ یہ وہی قدم مبارک ہیں جن کی محبت میں کوہ احد کوہ ثبیر حرکت میں آئے۔ یہ وہی قدم مبارک ہیں کہ قیام شب میں ورم کر آتے تھے۔ یہی وہی قدم مبارک ہیں کہ مکہ اور بیت المقدس کو ان سے شرف زائد حاصل ہوا۔


#قد_مبارک:

آپ نہ بہت دراز تھے نہ کوتاه قد۔ بلکہ میانہ قد مائل بہ درازی تھے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ آپ  بہت دراز قد نہ تھے اور مائل بہ درازی ہونے کے سبب اوسط قد سے زیادہ تھے۔ مگر جب لوگوں کے ساتھ ہوتے تو سب سے بلند وسرفراز ہوتے ۔ حقیقت میں یہ آپ کا معجزہ تھا کہ جب علیحد ہ ہوتے تو میانہ قد مائل بہ درازی ہوتے ۔ اور جب اوروں کے ساتھ چلتے یا بیٹھتے سب سے بلند دکھائی دیتے۔ تا کہ باطن کی طرح ظاہر و صورت میں بھی کوئی آپ سے بڑا معلوم نہ ہو۔

آپ کی قامت زیبا کا سایہ نہ تھا۔ اس کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ آپ کے اسمائے مبارک میں سے ایک اسم شريف نور ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں سورہ مائدہ میں ہے قد جاء کم من الله نور و کتب مبين ( البته تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور کتاب واضح آئی) اور ظاہر ہے کہ نور کا سایہ نہیں ہو حکیم تر مذی (متوفی ۲۵۵ھ) نے نوادر الاصول میں بروایت ذکوان (تابعی ) نقل کیا ہے۔ کہ دھوپ اور چاندنی میں رسول اللہ  کا سایہ نظر نہ آتا تھا۔ امام ابن سبع کا قول ہے کہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔ کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا۔ اور آپ نور تھے لہذا جب آپ دھوپ یا چاند کی روشنی میں چلے تو آپ کا سایہ نظر  نہ آتا تھا بعض نے کہا ہے کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے کہ جس میں مذکور ہے۔ کہ جب آپ نے یہ دعا مانگی کہ اللہ میرے تمام اعضاء اور جہات میں نور کر دے۔ تو دعا کو اس قول پرختم فرمایا: واجلعنی نورا (اور مجھے کونور بنادے)( خصائص کبریٰ جلد اول) زرقانی میں مذکور ہے کہ حدیث ذکوان مرسل ہے مگر ابن مبارک وابن جوزی نے بروایت ابن عباس نقل کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ جب آپ دھوپ میں کھٹرے ہوتے ۔ تو آپ کی روشنی سورج کی روشنی پر غالب آتی ۔ اور جب چراغ کے سامنے کھڑے ہوتے تو چراغ کی روشنی پر غالب آتی بعض کا قول ہے کہ آپ کا سایہ نہ ہونے میں حکمت تھی کہ آپ کے سایہ کو کوئی  کافر پامال نہ کرے۔

ماہ فرو اند از جمال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرو نردید  باعتدال محمد


#رنگ_مبارک


رنگ مبارک گورا اور روشن و تاباں مگر اس میں کسی قدر سرخی ملی ہوئی تھی ۔ بعض روایتوں میں جو آپ کو اسمراللون یعنی گندم گوں لکھا ہے۔اس سے بھی یہی مراد ہے۔


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو