I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 23

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


قسط23

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


قصئہ_ہجرت

جب قریش قتل پر اتفاق کر کے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو حضرت جبرائیل، الله تعالی کی طرف سے آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور قریش کے ارادہ کی آپ کو اطلاع دی اور عرض کیا کہ آج رات آپ اپنے بستر پرنہ
سو ئیں ۔ عین دوپہر کے وقت حضور علیہ السلام حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے ۔ دروازے پر
دستک دی۔ اجازت کے بعد اندر داخل ہوئے اور حضرت ابو بکر  سے فرمایا جو تمہارے پاس
ہیں ان کو نکال دو۔  حضرت صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا باپ آپ پر قربان، آپ کے اہل کے سوا کوئی اور نہیں، آپ نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت ہوگئی ہے‘حضرت صدیق نے
عرض کیا یارسول اللہ میرا باپ آپ پر قربان! میں آپ کی ہمراہی چاہتا ہوں‘‘ رسول اللہ  ﷺ نے منظور فرمایا۔ حضرت صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا باپ آپ پر قربان آپ ان دو اونٹنیوں میں سے ایک پسندفرما   لیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں قیمت  سے لوں گا چنانچہ ایسا  ہی ہوا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو شادی کے بعد سے اس وقت تک اپنے والد بزرگوار کے گھر میں تھیں۔ بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے سفر کی ضروریات کو جلدی تیار کر دیا۔ اور دونوں کے لیے کچھ کھانا توش دان میں رکھ دیا۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر نے اپنے نظاق ( پٹکے ) کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے توشہ دان کا منہ اور دوسرے سے مشکیزہ کا منہ باندھا۔ جس کی وجہ سے ان کوذات النطاقین
کہا جاتا ہے ایک کافر عبد الله بن اریقط دئلی  جو راستہ سے خوب واقف تھا رہنمائی کے لیے اجرت پر نوکر رکھ لیا گیا اور دونوں اونٹیاں اس کے سپرد کر دی گئیں تا کہ تین راتوں کے بعد غار پر حاضر کر دے۔ اس انتظام کے بعد رسول اللہ اپنے دولت خانہ کو تشریف لے گئے۔
ایک تہائی رات گزری تھی کہ قریش نے حسب قرار داد دولت خانہ کا محاصرہ کر لیا۔ اور اس انتظار میں رہے کہ آپ سو جائیں تو حملہ آور ہوں ۔ اس وقت آپ کے پاس صرف حضرت علی المرتضی تھے۔
قریش کو اگر چہ رسول الله سے سخت عداوت تھی مگر آپ کی امانت و دیانت پر انہیں اس
قد راعتادتھا کہ جس کے پاس کچھ مال واسباب ایسا ہوتا کہ اسے خود اپنے پاس رکھنے میں جو کھم نظر آتی آپ ہی کے پاس امانت رکھتا۔ چنانچہ اب بھی آپ کے پاس ان کی امانتیں تھیں ۔ 
اس لیے آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ تم میری سبز چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو          رہو تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی۔
اور حکم دیا کہ یہ انہیں واپس کر کے چلے آنا۔ اور خود خاک کی ایک مٹھی لی اور سورہ یسین شریف کے شروع کی آیات( فهم لا يبصرون) تک پڑھتے ہوئے کفار پر پھینک دی اور اس مجمع میں سے صاف نکل گئے ۔ کسی نے آپ کو نہ پہچانا ایک مخبر نے جو اس مجمع میں ن تھا ان کو خبر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  تو یہاں سے نکل گئے اور تمہارے سروں پر خاک ڈال گئے ہیں انہوں نے اپنے سروں پر جو ہاتھ پھیرا
تو واقعی میں خاک پائی مگر حضرت علی کو سبز چادر اوڑھے ہوئے سوتے دیکھ کر خیال کیا کہ رسول الله ہورہے ہیں جب صبح کو حضرت علی بیدار ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ اس مخبر نے سچ کہا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا پنے دولت خانہ سے نکل کر حضرت ابوبکر صدیق کے گھر تشریف لے گئے۔
راستے میں بازار حزورہ  میں جو بعد میں مسجد حرام میں شامل کر لیا گیا ٹھہر کر یوں خطاب فرمایا
بطحائے  مکہ تو پاکیز ہ شہر ہے اور میرے نزدیک کیسا عزیز ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکا لتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا اسی رات آپ حضرت ابوبکر کو ساتھ لے کر گھر کے
عقب میں ایک دریچہ سے  نکلے اور کوہ ثور  کے غار پر پہنچے ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  نے چاہا کہ غار میں داخل
ہوں مگر صدیق اکبر نے عرض کیا کہ آپ داخل نہ ہوں ۔ جب تک کہ میں پہلے داخل نہ ہولوں تا کہ اگر اس میں کوئی سانپ بچھو وغیرہ ہو تو وہ مجھ کوکاٹے آپ کو نہ کاٹے۔ اس لیے حضرت صدیق اکبر  پہلے داخل ہوئے ۔ غار میں جھاڑو دی۔ اس کے ایک طرف میں کچھ سوراخ پائے ۔ اپنا شلوار پھاڑ کر ان کو بند کردیا مگر دو سوراخ رہ گئے ان میں اپنے پاؤں ڈال دیے۔ پھر عرض کیا یارسول اللہ اب  تشریف لائیے ۔ آپ داخل ہوئے اور سر مبارک حضرت صدیق اکبر کی گود میں رکھ کر سو گئے ایک  سوراخ سے کسی چیز نے صدیق اکبر کو کاٹا۔ مگر وہ اپنی جگہ سے نا ہلے کہ  مبادا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔جاگ اٹھیں ۔ حضرت صدیق کے آنسو جو آپ کے چہرہ مبارک پرگرے تو فرمایا ابوبکر تجھے کیا ہوا
عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا مجھے کسی چیز  نے کاٹ کھایا آپ نے زخم پراپنالعاب دہن لگا دیا۔ فوراً درد جاتا رہا اس غار میں دونوں تین راتیں رہے۔ حضرت ابوبکر کے بیٹے عبداللہ جونوخیز جوان تھے رات کو غار میں ساتھ سوتے  صبح منہ اندھیرے شہر چلے جاتے اورقریش جو
مشورہ کرتے یا کہتے شام کو غار میں آ کر اس کی اطلاع دیتے۔ حضرت ابوبکر کا غلام عامربن فہیرہ  دن کو بکریاں چراتا۔ اور رات کو دو بکریاں غار پر لے جاتا۔ ان کا دودھ حضور اقدس اور صدیق اکبر کے کام آتا۔ عامر منہ اندھیرے بکریوں کو عبداللہ کے نقش  پر ہانک لے جاتا تاکہ نقش 
مٹ جائیں 
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  رات کو اپنے دولت خان سے نکل آئے تو صبح  کو کفار نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے  پوچھا کہ تیرا یار کہاں گیا؟ آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں اس لیے پائے مبارک کے نشان کے ذریعے سے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا تعاقب کیا۔ جب وہ کور ثور کے پاس پہنچے تو پائے مبارک کانشان ان 
پرمشتبہ ہوگیا۔ وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اور غار کے دہانے پر گئے مگر غار پر اس وقت خدائی پہرہ لگا ہوا تھا  دہانہ پر مکڑی نے جالا تنا  ہوا تھا۔ اور کنارے پر کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہوتے تو مکڑی جالا نہ تنتی اور کبوتری انڈے نہ دیتی۔ اس حال میں آہٹ پاکر حضرت ابو بکر نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !  اگر ان میں سے کسی کی نظر اپنے قدم پر پڑ جائے تو ہمیں دیکھ لے گا 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، غم نہ کر خدا ہمارے ساتھ ہے۔
قصہ کوتاہ غار میں تین راتیں گزار کر شب دوشنبہ یکم ربیع الاول کو اونٹنیوں پر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے عامر بن فہیرہ کو حضرت ابو بکر نے بغرض خدمت اپنے ساتھ سوار کر لیا تھا۔ بدرقہ آگے آگے راستہ بناتا جاتا تھا۔ راستے میں اگر کوئی حضرت صدیق سے  رسول اللہ  کی نسبت پوچھتا تھا کہ یہ  کون ہیں  تو جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی طریق ہیں۔
حضرت ابوبکر کا بیان ہے کہ ( دوشنبہ کی) رات کو روانہ ہو کر ہم برابر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی اور راستہ میں آمد و رفت بند ہوگئی ہمیں ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ ہم اس کے نزدیک اتر  پڑے، میں نے اس کے سایہ میں اپنے ہاتھوں سے جگہ  ہموار کی ۔ اس پر پو ستین بچھا دی اور عرض کی
یا رسول اللہ! آپ سو جائیں میں  آپ کے اردگرد پاسبانی کرتا ہوں آپ سو گئے۔
میں نکلا کہ دیکھوں اردگر کوئی دشمن تو نہیں آرہا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں ایک پتھر کی طرف سایہ 
میں آرام پانے کے لیے لا رہا ہے۔ میں نے پوچھا: تو کس کا غلام  ہے؟ اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا تو میں نے اسے پہچان  لیا ، اور پوچھا کہ تیری بکریوں میں دودھ دینے والی ہیں ؟ وہ بولا کہ
ہاں، میں نے کہا کیا تو دوہ کر دے سکتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں پس اس نے ایک بکری پکڑ لی میں نے کہا اس کا تھن گردوغبار سے صاف کرلے  پھر  کہا کرتواپناہاتھ بھی صاف کرلے ۔ اس نے ایک
پیالہ  چوبین میں دودھ دوہا میں رسول اللہ کے لیے ایک مطہرہ ساتھ لے گیا تھا جس سے آپ وضوکرتے۔ میں نے ٹھنڈا کرنے کےلیے دودھ میں تھوڑا سا پانی ملا کر خدمت اقدس میں پیش کیا۔
آپ نے خوب پیا۔ جس سے  میری طبیعت خوش ہوئی پھر  فرمایا کیا چلنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض 
کیا کہ جی ہاں، دن ڈھل چکا تھا کہ ہم وہاں سے چلے۔
#جاری_ہے۔

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو