الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط2
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
دوسرا_مقدمہ
عرب کی تاریخ قدیم پر طائرانہ نظر
زمانہ قدیم میں طوفان نوح کے بعد جزیریئہ عرب میں سام بن نوح کی نسل کے لوگ آبادتھے۔ چنانچہ بنو يعرب بن قحطان بن عامر بن شالخ بن ارفخشد بن سام یمن میں بستے تھے۔ بنو جرہم بن قحطان اور بنو عملیق بن لوز بن سام حجاز میں رہتے تھے۔ بنوطسم بن لوز اور بنو جدیس بن عامر بن آرم بن سام یمامہ میں بحرین تک پھیلے ہوئے تھے ۔ قوم عاد بن عوض بن آرم شحروعمان وحضرموت
کے مابین احقاف میں آباد تھی ۔ اس قوم کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ہود(علیہ السلام) علی کو بھیجا تھا۔ قوم ثمود بن جاثر آرم حجاز و شام کے درمیان حجر میں آباد تھی۔ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) بھیجے گئے تھے۔
ایک زمانہ گزرنے پر عاد و ثمود جدیس و عمالیق و جرہم فنا ہو گئے ۔ اس واسطے ان کو عرب بائدہ بولتے ہیں ۔ ان میں سے جو باقی رہے وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام)کی اولاد میں مل جل گئے۔
حضرت اسمعیل ع کی شادی قبیلہ جرہم میں ہوئی تھی اس واسطے ان کی اولاد کوعرب مستعربہ کہتے ہیں ۔ اور بنو قحطان کوعرب عاربہ یعنی اصلی عرب بولتے ہیں۔ القصہ مذکورہ بالا تباہی و اختلاط کے بعد عرب میں دو
بڑے قبیلے رہ گئے۔
بنو قحطان اور بنو عدنان (بنواسمعیل) ان دونوں کی بہت سی شاخیں تھیں اب عرب کا بڑا حصہ خاندان اسمعیل سے ہے۔ اور خودحضور سید المرسلین( صلی اللہ علیہ وسلم) بھی اسی خاندان (بنو اسماعیل علیہ السلام) سے ہیں
قدیم الایام سے عربوں کی تجارت مصر و شام کے ساتھ تھی ۔ چنانچہ جب بھائیوں نے حضرت يوسف ا کو کوئیں میں گرا دیا تو انہوں نے دیکھا کہ گلعاد سے اسماعیلیوں کا قافلہ آ رہا ہے۔ جن کے اونٹوں پر ادویہ و بلسان ومرلدے ہوئے ہیں اور وہ مصرکو جارہے ہیں۔ یہ چیزیں لاشوں کے معطر بنانے میں مصریوں کے کام آیا کرتی تھیں۔ اس کے مدتوں بعد وہ آہائی صور کے ساتھ مویشیوں
اور ادویہ اور بیش بہا پتھروں اور سونے کی تجارت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ قرون ماضیہ میں عربوں پر بہت سے حملے ہوئے مگر وہ کسی کے ماتحت نا رہے۔
چنانچہ مصری فاتح شیشک ان کو زیر نہ کر سکا۔ قیروش فارسی (متوفی ۵۲۹قبل مسیح ) نے عرب کے شمالی حصے کے بعض عربوں کو
مغلوب کیا۔ مگر مورخ ہیرودوتس (متوفی ۴۲۴قبل مسیح ) ہمیں یقین دلاتا ہے کہ دار ہشتلب (جس نے سلطنت فارس کی توسیع کی تھی ) کے عہد میں عرب خراج سے بری تھے۔ بخت نصر بابلی نے ان پر حملہ کیے۔ اور ان کے بہت سے شہر فتح کیے۔ مگر غنیمت لے کر اپنے وطن کو چلا آیا۔ سکندر اعظم کا
جانشین انطیغونس (متوفی ۳۰۱قبل مسیح) ان پر حملہ آور ہوا
مگر اسے ان کے ساتھ ان ہی کی شرائط پر
صلح کرنی پڑی۔ رومی فاتح پومپے ( مولود ۱۰۶ قبل مسیح) نے ملک عرب کے ایک حصے کو تاخت وتاراج کیا۔ مگر اس کی فوج پسپا ہوئی تو عربوں نے شدت سے تعاقب کیا۔ اور وہ کچھ عرصے تک شام میں رومیوں کو تنگ کرتے رہے۔ ولادت مسیح سے تقریباً ۲۳ سال پہلے رومی سپہ سالار الیوس گالس
بحیرہ قلزم تک آیا۔ اس نے چاہا کہ عرب کو فتح کر لے مگر ناکام رہا۔ طراجان روی نے ۱۲۰ء کےقریب ان پر حملہ کیا اور شہر حجر ہ کا محاصرہ کر لیا مگر رعدوژالہ و گرد باد اور مکھیوں کے جھنڈ کے سبب سےاس کا شکر کامیاب نہ ہوا۔ جب وہ حملہ کرتے تو یہی آفتیں پیش آتیں۔ ۲۰۰ء کے قریب سیواروس رومی نے لشکر کثیر اور سامان حرب کے ساتھ شہر حجر کا دوبارہ محاصرہ کر لیا مگر لشکر و شاہ کے درمیان ایک بے وجدتنازع نے شاہ کو محاصرہ اٹھا لینے پر مجبور کر دیا۔ شاه فارس شاپورذ و والاکتاف نے عرب پر حملہ کیا۔ تو بحرین و حجر و یمامہ میں کشت و خون کرتا ہوا مد ینہ تک پہنچ گیا۔ سرداران عرب جو گرفتار ہو کر آتے تھے۔ وہ ان کے مونڈھے نکال دیتا تھا۔ اس لیے اسے ذوالاکتاف کہتے تھے۔ مگر اسی بادشاہ نے ۳۶۰ءکے قریب تکریت پر جو خودمختار عربوں کا ایک مضبوا قلعہ تھا حملہ کیا تو نا کام رہا۔
دسویں صدی قبل مسیح میں یمن میں ملوک حمیربن سبا میں سے ایک فاسق خبيث بادشاہ مالک نام تھا۔ وہ باکرہ عورتوں کو بلا کر ان کی آبروریزی کرتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی چچا زاد بہن بلقیس سے بھی یہی ارادہ ظاہر کیا۔ بلقیس نے کہا کہ میرے محل میں آجانا ۔ اور اس کے قتل کرنے کے لیے اپنے اقربا میں
سے دو آدمی مقرر کیے۔ جب وہ محل میں داخل ہوا تو ان آدمیوں نے اسے مل کر قتل کر ڈالا۔
اہل یمن نے اسی سبب سے بلقیس کو اپنا حکمران بنایا ۔ ورنہ وہ عورت کی حکومت کو پسند نہ کرتے تھے۔
یہ وہی بلقیس ہے جس کا قصہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔
بلقیس کے بعد خاندان حمیر کے بہت سے بادشاہ یکے بعد دیگرےتخت یمن متمکن ہوئے
جب اہل یمن نے خدا تعالی کی نافرمانی کی ۔ تو ان پر سیل عرم بھیجا گیا۔ جس سے ان کے باغات وغیرہ برباد ہو گئے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں وارد ہے وہ رزق و معاش کی تلاش میں مختلف اطراف کو ہجرت کر کے چلے گئے ۔ چنانچہ بنولخم بن عدی کی ایک جماعت خراسان کی طرف نکلی ۔
انہوں نے دریائے فرات کے قریب شہر حیرہ کی بناڈالی۔ جو بعد میں اسی خاندان کا دارالسلطنت رہا۔
مملوک لخمیہ و مناذره ۲۳۴ ء تک ا کاسرہ کی طرف سے عراق پر گورنر ہوتے رہے۔ اس کے بعد اسلام کا تسلط ہوگیا۔
بنو لخم کی طرح بنو قحطان کی ایک جماعت ہجرت کر کے دمشق کے متصل ایک چشمہ پر جسے غسان کہتے تھے جا اتری۔ وہ آخر کار شام کے حکمران بن گئے ۔ ملوک غسان جنہیں مؤرخین عرب ،عرب متنصرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ قیاصرہ روم کی طرف سے قریباً ۲۰۰ء سے ۲۳۶ء تک ملک شام میں حکمرانی کرتے رہے۔ اس خاندان کا آخری بادشاہ جبلہ بن ایہم تھا۔ جو بھاگ کر قیصر کے ہاں چلا گیا
تھا۔ اس کے بعد یہ ملک حضرت عمر فاروق(رضی اللہ عنہ) کے عہد میں سے مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔
بنو قحطان میں سے قبلہ ازد کے دو بھائی اوس وخزرج مدینہ میں آ بسے۔ انصار ان ہی کی اولادمیں سے ہیں ۔ قحطانیوں میں سے بعض اندرون جزیرہ عرب میں چلے گئے ۔ چنانچہ ملکوک کندہ نےنجد میں اپنی سلطنت قائم کی ۔ ان کے علاوہ عرب میں اور متفرق ملوک تھے جن کے ذکر کی یہاں چنداں ضرورت نہیں۔
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
#جاری_ہے
https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں