
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط54
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
#زبان_مبارک
آپ افصح الخلق تھے۔ اور فصاحت میں خارق عادت حد کو پہنچے ہوئے تھے آپ کے جوامع کلم، بدائع علم ، امثال سائرہ ، درمنثورہ قضایائے محکمہ ، وصایائے مبرمہ اور مواعظ و مکاتیب و مناشیر مشہور آفاق ہیں۔ ان کی تفصیل کا یہ محل نہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فر ماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا کلام تمہارے کلام کی مانند نہ تھا کہ بوجہ عجلت سامع پر ملتبس ہو بلکہ آپ کا کلام واضح اور مبین ایاا تھا۔ کہ پاس بیٹھنے والا اسے یاد کر لیتا ( شمائل ترمذی۔ باب کیف کان کلام رسول اللہﷺ)
حضرت ام معبد نے جو آپ کا حلیہ شریف بیان کیا ہے۔ اس میں یوں ہے (آپ کا کلام شیریں حق و باطل میں فرق کرنے والا ، نہ حد سے کم نہ حد سے زیادہ ۔ گویا آپ کا کلام لڑی کے موتی ہیں جو گر رہے ہیں)
حافظ ابن حجر (متوفی ۸۵۲ھ) فرماتے ہیں ۔ کہ آپﷺ کی حیات شریف میں صحابہ
کرام میں سے کوئی اصم یعنی بہرا نہ تھا ۔ اور یہ آپ کی کرامات میں سے ہے کیوں کہ آپ ان کے لیے احکام الہی کے مبلغ تھے۔ اور بہرا پن اس کام کے سہولت کے ساتھ ہونے سے مانع ہوتا ہے۔ برعکس نابینائی کے کہ وه مانع نہیں ہوتی۔ (نسیم الریاض جلد اوّل)
#آواز_مبارک:
تمام انبیائے کرام خوبرو اور خوش آواز تھے۔ مگر آپ ﷺ سب سے زیادہ خوبرو اور خوش آواز تھے۔ آپ کی آواز میں ذرا گرانی پائی جاتی تھی۔ جو اوصاف حمیدہ میں شمار ہوتی ہے۔ خوش آواز ہونے کے علاوہ آپ بلند آواز اتنے تھے کہ جہاں تک آپ کی آواز شریف پہنچتی اور کسی کی آواز نہ پہنچی تھی۔ بالخصوص خطبوں میں آپ کی آواز شریف گھروں میں پردہ نشین عورتوں تک پہنچ جاتی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللهﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے۔ آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ خطبہ سننے کے کے لیے بیٹھ جاؤ۔ اس آواز کو حضرت عبدالله بن رواحہ نے جوشہر مدینہ میں قبیلہ بنی غنم میں تھے سن لیا۔ اور ارشاد نبوی کی تعمیل میں وہیں اپنے مکان میں دو زانو ہو بیٹھے حضرت عبدالرحمن بن معاف فرماتے ہیں کہ حضور نے منی میں خطبہ پڑھا۔ جس سے ہمارے کان کھل گئے یہاں تک کہ ہم اپنی اپنی جگہ پر آپ کا کلام مبارک سنتے تھے۔ حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ ہم آدھی رات کے وقت حضور کی قرأت سنا کرتے تھے۔ حالانکہ میں مکان کے اندر چار پائی پر ہوا کرتی تھی۔
#خنده_وگریہ_مبارک
حضور اقدس ﷺ عموماً تبسم فرمایا کرتے تھے۔ تبسم مرادی ضحک سے ہے اور ضحک کے معنی چہرہ کا انبساط ہے۔ یہاں تک کہ خوشی سے دانت ظاہر ہو جائیں ۔ اگر آواز کے ساتھ ہو۔ اور دور سے سنا جائے ۔ اسے قہقہ کہتے ہیں ۔ اگر آواز تو ہو۔ اور دور سے نہ سناجائے تو ضحک کہتے ہیں۔ اگر بالکل آواز نہ پائی جائے تو اسے تبسم بولتے ہیں پس یوں سمجھ لیجیے کہ حضور اکثر اوقات تبسم کی حد سے تجاوز نہ فرماتے ۔ شاذ و نادر ضحک کی حد تک پہنچتے ۔ کیوں کہ ضحک دل کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اور قہقہ کبھی نہ مارتے کیوں کہ مکروہ ہے۔ آپ کا گریہ شریف ضحک کی جنس سے تھا۔ کہ آواز بلند نہ ہوتی تھی ۔ مگر آنسو مبارک آنکھوں سے گر پڑتے تھے۔ آپ کے سینہ شر یف سے دیگ مسی کے جوش کی سی آواز سنی جاتی تھی۔ آپ کا گریہ مبارک صفت جلال الہی کی تجلی اور امت پر شفقت اور میت پر رحت کے باعث ہوا کرتا اور اکثر قرآن شریف کے سننے سے اور کبھی کبھی نماز شب میں بھی ہوا کرتا۔ آپ نے انگڑائی کبھی نہیں لی۔
#سر_مبارک
سر مبارک بڑا تھا۔ یہ وہی سر مبارک ہے کہ جس پرقبل بعثت بطریق ارہاص و کرامت گرمامیں بادل سایہ کیے رہتا تھا۔ چنانچہ جب آپ مائی حلیمہ کے ہاں پرورش پارہے تھے تو وہ آپ کو کسی دور جگہ نہ جانے دی تھیں۔ ایک روز وہ غافل ہو گئیں ۔ اور حضور اپنی رضائی بہن شیماء کے ساتھ دوپہر کے وقت مویشیوں میں تشریف لے گئے ۔ مائی حلیمہ تلاش میں نکلیں۔ آپ کو شیماء کے ساتھ پایا۔ کہنے لگیں۔ ایسی تپش میں؟ شیماء بولی" اماں جان! میرے بھائی نے تپش محسوس نہیں کی ۔ میں نے دیکھا۔ کہ بادل آپ پر سایہ کرتا تھا۔ جب آپ ٹھہر جاتے تو بادل بھی ٹھہر جاتا ۔ اور جب آپ چلتے تو وہ بھی چلتا ۔ یہی حال رہا یہاں تک کہ ہم اس جگہ آ پہنچے ہیں مائی حلیمہ نے پوچھا بیٹی! کیا یہ سچ ہے شیماء نے جواب دیا " ہاں خدا کی قسم( خصائص کبریٰ)
اس طرح جب آپ بارہ برس کی عمر شریف میں اپنے چچا ابو طالب اور دیگر شیوخ قریش کے ساتھ ملک شام میں تشریف لے گئے تو بحیرا راہب کے عبادت خانے کے قریب اترے۔ اس راہب نے آپ کو پہچان لیا۔ اور کھانے تیار کر کے لایا۔ اور آپ کو بلوایا۔ پس آپ تشریف لائے۔ اور آپ پر بادل سایہ کیے ہوئے تھا۔ (ترمذی شریف۔ باب ماجاء فی بدء نبوۃ النبی ﷺ)
#گردن_مبارک
گردن مبارک کیا تھی گویا بت عاج کی گردن تھی۔ چاندی کی مانند صدف
#دست_مبارک:
کف دست اور بازو مبارک پر گوشت تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے کسی ریشم یادیبا کو آپ کے کف مبارک سے زیادہ نرم نہیں پایا۔ اور نہ کسی خوشبو کو آپ کی خوشبو سے بڑھ کر پایا۔ (صحیح بخاری باب صفتہ النبیﷺ)
جس شخص سے آپ مصافحہ فرماتے وہ دن بھر اپنے ہاتھ میں خوشبو پاتا اور جس بچے کے سر پر آپ اپنا دست مبارک رکھ دیتے اور خوشبو میں دوسرے بچوں سے ممتاز ہوتا۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمره رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اقدس ﷺ کے ساتھ نماز ظہر پڑھی۔ پھر آپ اپنے اہل خانہ کی طرف نکلے میں بھی آپ کے ساتھ نکلا۔ بچے آپ کے سامنے آئے تو آپ ان میں سے ہر ایک کے رخسار کو اپنے ہاتھ مبارک سے مسح فرمانے لگے میرے رخسار کو بھی آپ نے مسح فرمایا۔ پس میں نے آپ کے دست مبارک کی ٹھنڈک یا خوشبو ایسی پائی ۔ کہ گویا آپ نے اپناہاتھ عطار کے صدوقچہ سے نکالا تھا۔ (صحیح مسلم باب طیب ریحہ ولین سہ)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے مصافحہ کرتا تھا۔ یا میرا بدن آپ کے بدن سے مس کرتا تو میں اس کا اثر بعد ازاں اپنے ہاتھ میں پاتا۔ اور میرا ہاتھ کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوتا۔ حضرت یزید بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں ۔ کہ رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میری طرف بڑھایا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برف سے ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے۔(مواہب لدنیہ)
حضور کا ہاتھ وہ مبارک ہاتھ تھا۔ کہ ایک مشت خاک کفار پر پھینک دی اور ان کو شکست ہوئی ۔ یہ وہی دست کرم تھا کہ کبھی کوئی سائل آپ کے درواز سے سے محروم نہیں پھرا۔ یہ وہی دست شفا تھا۔ کہ جس کے محض چھونے سے وہ بیماریاں جاتی رہیں کہ جن کے علاج سے اطباء عاجز ہیں ۔اسی مبارک ہاتھ میں سنگ ریزوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔( خصائص کبریٰ جلد ثانی) اسی مبارک ہاتھ کے اشارے سے فتح مکہ کے روز تین سو ساٹھ بت یکے بعد دیگرے منہ کے بل گر پڑے۔ اسی مبارک ہاتھ کی ایک انگلی کے اشارے سے چاند دو پارہ ہو گیا اسی مبارک ہاتھ کی انگلیوں سے متعدد دفعہ چشمہ کی طرح پانی جاری ہوا ۔
آپ ﷺ کے دست مبارک کی مزید برکات کی تشریح کے لیے ذیل میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں:
۱۔ حضرت ابیض بن جمال کے چہرے پر داد تھا۔ جس سے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا ایک روز آپ ﷺ نے ان کو بلایا۔ اور ان کے چہرے پر اپنا دست شفا پھیرا شام نہ ہونے پائی ۔ کہ داد کا کوئی نشان نہ رہا ۔
۲۔ حضرت شرجیل جعفی کی ہتھیلی میں ایک گلٹی سی تھی جس کے سبب سے وہ تلوار کا قبضہ اور گھوڑے کی باگ نہیں پکڑ سکتے تھے۔ انہوں نے حضورِ اقدس ﷺ سے شکایت کی۔ آپ نے اپنی ہتھیلی سے اس گلٹی کو رگڑا۔ پس اس کا نشان تک نہ رہا۔
۳- ایک عورت اپنے لڑکے کو خدمت اقدس میں لائی اور عرض کیا کہ اس کو جنون ہے حضور نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا ۔ لڑکے کو قے ہوئی ۔ اور اس میں سے ایک کالے کتے کا پلا نکلا اور فوراً آرام ہوگیا۔
۴- جنگ احد میں حضرت قتادہ کی آنکھ کو صدمہ پہنچا اور ڈیلا رخسار پر آ پڑا تجویز ہوئی کہ کاٹ دیا جائے ۔ حضور سے دریافت کیا گیا۔ تو آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو اور انہیں بلا کر اپنے دست مبارک سے ڈیلے کو اس کی جگہ پر رکھ دیا ۔ آنکھ فوراً ایسی درست ہوگئی۔ کہ کوئی یہ نہ بتا سکتا تھا کہ دونوں میں سے کسی آنکھ کو صدمہ پہنچا تھا۔
۵- حضرت عبد اللہ بن عتیک جب ابورافع یہودی کو قتل کر کے اس کے گھر سے نکلے تو زینے سے گر کر ان کی ساق ٹوٹ گئی ۔ انہوں نے اپنے عمامہ سے باندھ لی جب حضورِ اقدس ﷺ کی قدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ پاؤں پھیلاؤ حضرت عبد الله نے پاؤں پھیلایا۔ حضور نے اس پر اپنا دست شفا پھیرا۔ اسی وقت ایسی تندرست ہوگئی ۔ کہ گویا بھی وہ کبھی ٹوٹی ہی نہ تھی۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں