I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 20 ستمبر، 2020

سیرتِ رسول عربی ﷺ قسط 55

 الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط55


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


۶- حضرت عائذ بن سعید جاری رسول اللہﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ! آپ میرے چہرے پر اپنا مبارک ہاتھ پھیر دیجیے اور دعائے برکت فرمائیے۔حضور انور نے ایسا ہی کیا۔ اس وقت سے حضرت عائذ کا چہرہ تروتازہ اور نورانی رہا کرتا تھا۔

۷- آپ  حضرت عبد الرحمن وعبدالله پسران عبد کےلیے دعائے برکت فرمائی۔ اور دونوں کے سروں پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا۔ وہ دونوں جب سر منڈایا کرتے تو جس جگہ رسول اللہ نے  مبارک ہاتھ رکھا تھا اس پر باقی حصے سے پہلے بال اگ آتے۔

۸- جب حضرت عبدالرحمن بن زید بن خطاب قرشی عدوی پیدا ہوئے تو نہایت ہی کوتاہ قد تھے۔ان کے نانا حضرت ابو لبابہ ان کو رسول اللہ ا کی خدمت بابرکت میں لے گئے حضور نے تحسین کے بعد ان کے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور دعائے برکت فرمائی۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ حضرت عبد الرحمٰن جب کسی قسم میں ہوتے تو قد میں سب سے بلند نظر آتے۔

۹- رسول اللہ  حضرت قتادہ بن ملحان قیسی کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ جب وہ عمر رسیدہ ہو گئے تو ان کے تمام اعضاء پرکہنگی کے آثار نمایاں تھے مگر چہرہ بدستور ترو تازہ ہوتا تھا۔

۱۰- آپﷺ نے قیس بن زید بن حباب جزامی کے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور دعائے برکت فرمائی حضرت قیس نے سو برس کی عمر میں وفات پائی۔ ان کے سر کے بال سفید ہو گئے تھے مگر رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک کی جگہ کے بال سیاہ ہی رہے۔

۱۱- جب رسول اللہ ﷺ  نے مدینے کی طرف ہجرت فرمائی تو راستے میں ایک غلام چرواہے سے آپ نے دودھ طلب کیا۔ اس نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی دودھ دینے والی بکری نہیں۔ آپ نے ایک بکری پکڑ لی اور اس کے تھن پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے اس کا دودھ جادو دوہا۔ اور دونوں نے پیا۔ غلام نے حضور سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ حضورﷺ

نے فرمایا میں خدا کا رسول ہوں ۔ یہ سن کر وہ ایمان لایا۔ اسی طرح حضور علیہ السلام نے معبد کی بکری کے تھن پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ اور اس نے دودھ دیا۔ جیسا کہ اس کتاب میں پہلے آچکا ہے۔

۱۲ ۔ حضرت مالک بن عمیر سلمی شاعر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا ۔ کہ یارسول اللہ میں شاعر ہوں۔ آپ شعر کے بارے میں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تیرے سر سینے سے کندھے تک پیپ سے بھر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ شعر سے بھرا ہوا ہو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میری خطا بطریق  مسح دور کر دیجیے۔ یہ سن کر حضور نے میرے سر اور چہرے پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا۔ پھر میرے جگر پر پھر پیٹ پر پھیرا۔ یہاں تک کہ میں حضور کے دست مبارک کے مبلغ سے شرمندہ ہوتا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت مالک بن عمیر بوڑھے ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان کی سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہو گئے مگر سر اور ڈاڑھی میں حضور علیہ السلام کے ہاتھ مبارک کی جگہ کے بال سفید نہ ہوئے۔

۱۳ - حضرت مدلوک فراری کا بیان ہے۔ کہ میرا آقا مجھے رسول الله  کی خدمت میں لے گیا۔ میں اسلام لا یا ۔ تو حضور نے مجھے دعائے برکت دی ۔ اور میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ میرے سر کا وہ حصہ جسے رسول اللہ  کے دست مبارک نے مس کیا تھا۔ سیاہ ہی رہا۔ باقی تمام تر سفید ہو گیا۔

۱۴ - حضرت معاویہ بن ثور بن عبادہ رسول اللہ  کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ان کے صاحب زادے بشر بن معاویہ ساتھ تھے حضرت معاویہ نے عرض کیا کہ یا رسول الله! بشر کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیر دیجیے۔ چنانچہ حضور انور نے بشر کے چہرے کو مسح کیا حضور کے مسح کا نشان حضرت بشر کی پیشانی میں غرہ کی مانند تھا۔ اور وہ جس بیمار پر اپنا ہاتھ پھیر دیتے اچھا ہو جاتا۔ حضرت بشر کے صاحب زادے محمد بن بشر اس بات پرفخر کیا کرتے تھے۔ کہ میرے باپ کے سر پر رسول اللہ خان نے اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔ چنانچہ یوں کہا کرتے تھے۔

و آبي الذی مسح النبی براسہ ودعا لہ بالخير والبرکات

میرا باپ وہ ہے کہ پیغمبر خدا نے ان کے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ اور ان کے لیے دعائے خیر و برکت فرمائی ‘‘

۱۵ - حضرت یزید بن قتافہ طائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وو اقرع (گنجے) تھے۔ رسول اللہ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اس وقت بال اگ آئے ۔ اسی واسطے ان کا لقب ہلب (بسیارمو ) ہو گیا ابن درید کا قول ہے کہ وہ اقرع تھے۔ رسول اللہ  ہی کی برکت سے افرع ( مردتمام مو ) ہو گئے۔

۱۶ - یسار بن ازیہر جہنی ذکر کرتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ  نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ اور مجھے دو چادریں پہنا دیں۔ اور ایک تلوار عطا فرمائی حضرت یسار کی صاحب زادی عمرہ کابیان ہے کہ میرے باپ کے سر میں سفید بال نہ آئے یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی۔

۷ا- حضرت ابو زید بن اخطب انصاری خزرجی کے سر اور چہرے پر رسول اللہ نے اپنا مبارک ہاتھ پھیرا۔ سوسال سے زائد ان کی عمر ہوگئی مگر سر اور ڈاڑھی میں کوئی سفید بال نہ تھا۔

۱۸- حضرت ابوسنان عبدی صباحی کے چہرے پر رسول الله نے اپنا دست مبارک پھیرا۔ ان کی عمرنوے برس ہوگئی مگر چہرہ بجلی کی طرح چمکتا تھا۔

۱۹- حضرت ابو غزوان حالت کفر میں رسول اللهﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ابو غزوان۔ آپ نے ان کےلیے سات بکریوں کا دودھ دوہا۔ اور وہ سب پی گئے۔ آپ نے ان کو دعوت اسلام دی ۔ وہ مسلمان ہوگئے ۔ پھر آپ نے ان کے سینے پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیا ۔ دوسرے روز صبح کے وقت ایک بکری دوہی گئی ۔ وہ اس کا بھی تمام دودھ نہ پی سکے ۔

۲۰- حضرت سہل بن رافع دو صاع کھجور میں بطور زکوٰۃ اور اپنی بیٹی عمیرہ کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے ۔ اور عرض کیا کہ آپ میرے حق میں اور میری لڑکی کے حق میں دعائے خیر فرمائیں ۔ اور اس لڑکی کے سر پر اپنا مبارک ہاتھ پھیر دیں ۔ عمیرہ کا قول ہے۔ کہ رسول اللہ نے اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر رکھا۔ میں اللہ کی قسم کھاتی ہوں کہ رسول اللہ  کے مبارک ہاتھ کی ٹھنڈک بعد میں میرے کلیجے پر رہی۔

۲۱- حضرت سائب بن یزید کا آزاد کردہ غلام عطاء بیان کرتا ہے کہ میں نے حضرت سائب کو دیکھا کہ ان کی ڈاڑھی کے بال سفید تھے۔ مگر سر کے بال سیاہ تھے۔ میں نے پوچھا آقا! آپ کے سر کے بال سفید کیوں نہیں ہوتے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک روز میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضورِ علیہ السلام نے لڑکوں کو سلام کیا۔ ان میں سے میں نے سلام کا جواب دیا۔ آپ نے مجھے بلایا اور اپنا مبارک ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا اللہ تجھ میں برکت دے، پس حضور کے دست مبارک کی جگہ پر سفید بال بھی نہ آئیں گے۔

۴۴ - حضرت عبد الله بن مسعود کا بیان ہے کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ ایک روز رسول اللہ  تشریف لائے ۔ آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ آپ نے فرمایا: اے لڑکے ! کیا تیرے پاس دودھ ہے؟ میں نے کہا۔ کہ ہاں۔ لیکن میں امین ہوں۔ آپ

نے فرمایا کیا تیرے پس کوئی ایسی بکری ہے۔ جس پرنر نہ کود ہوا؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پس میں نے ایک بکری پیش کی جس کا تھن نہ تھا۔ آپ نے ان کی جگہ پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ ناگاہ ایک دودھ بھرا تھن نمودار ہوا۔ آپ نے دودھ دوہا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مجھ کو پلایا۔

پرتھن سے ارشاد فرمایا کہ سکڑ جا۔ پس وہ ایسا ہی ہو گیا جیسا کہ پہلے تھا۔ یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعلیم دیجیے۔ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعائے برکت دے کر فرمایا کہ توں تعلیم یافتہ لڑکا ہے۔ پس میں اسلام لایا۔


#جاری_ہے

🌹صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو