
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط53
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
#گوش_مبارک
آپ کے ہر دو گوش مبارک کامل و تام تھے۔ قوت بصر کی طرح
اللہ تعالی نے آپ کو قوت سمع بھی بطریق خرق عادت غایت درجہ کی عطا کی تھی۔ اسی واسطے آپ صحابہ کرام سے فرماتے کہ میں جو دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھ دیکھ سکتے۔ اور میں جو سنتا ہوں تم نہیں سن سکتے میں تو آسمان کی آواز بھی سن لیتا ہوں ۔( زرقانی علی المواہب جز رابع صفحہ 91)
آواز آسمان کی طرح آپ ﷺ آسمان کے دروازے کے کھلنے کی آواز بھی سن لیتے
تھے۔ چنانچہ ایک روز حضرت جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر تھے۔ کہ ناگاہ حضور نے اپنے اوپر کی طرف سے ایک آواز سنی۔ آپ نے سر مبارک اٹھا یا تو حضرت جبرئیل نے عرض کیا۔ کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے۔ جوآج ہی کھلا ہے۔ آج سے پہلے بھی نہیں کھلا ۔ الحدیث ( خصائص کبریٰ بحوالہ ترمذی و ابنِ ماجہ وابی نعیم)
#دہان_مبارک:
منہ مبارک فراخ، رخسار مبارک ہموار، دندان ہائے پشین کشادہ اور روشن و تاباں جب آپ کلام فرماتے ۔ تو دندان ہائے پشین میں سے نورنکلتا دکھائی دیتا تھا۔ بزار( متوفی ۲۹۶ھ )و بیہقی نے بروایت ابو ہریرہ نقل کیا ہے کہ جب آپ ضحک فرماتے تو دیواریں روشن ہو جاتیں ۔ آپ کو کبھی جمائی نہیں آئی۔(خصائص کبریٰ جز اول صفحہ 74)
حضرت عمیرہ بنت مسعود انصاریہ روایت کرتی ہیں ۔ کہ میں اور میری پانچ بہنیں رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ قدید (خشک کیا ہوا گوشت) کھارہے تھے۔ آپ نے چبا کر ایک ٹکڑا ان کو دیا ۔ انہوں نے بانٹ کر کھالیا۔ مرتے دم تک ان میں سے کسی کے منہ میں بوئے نا خوش پیدا نہ ہوئی اور نہ کوئی منہ کی بیماری ہوئی ۔(اصابہ ترجمہ عمیرہ بنت مسعود)
غزوہ خیبر کے روز حضرت سلمہ بن الاکوع کی پندلی میں ایسی ضرب شدید لگی ۔ کہ لوگوں کو گمان ہوا کہ شہید ہو گئے حضور نے تین بار اس پر دم کر دیا ۔ پھر پندلی میں کبھی درد نہ ہوا۔ ایک روز ایک بد زبان عورت آپ کی خدمت میں آئی ۔ آپ قدید تناول فرمارہے تھے۔ اس نے سوال کیا کہ مجھے بھی دیجیے۔ آپ نے جو قدید سامنے پڑا ہوا تھا اس میں سے دیا ۔۔ اس نے عرض کیا کہ اپنے منہ میں سے دیجیے۔ آپ نے منہ سے نکال کر اسے دیا ۔ وہ کھاگئی اس روز سے فحش اور قبیح کلام سننے میں نہ آیا ( خصائص کبریٰ للسیوطی جز اول صفحہ 62)
مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ بے شمار پیش گوئیاں اور دعوات جو پوری اور قبول ہوئی ۔ وہ اسی دہن مبارک سے نکلی ہوئی تھیں۔
یوم حدیبیہ میں چاہ حدیبیہ کا تمام پانی لشکر اسلام نے ( جو بقول حضرت براء بن عازب چودوہ سو تھے) نکال لیا۔ اس میں ایک قطرہ بھی نہ رہا۔ آپﷺنے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ اور وضو کر کے پانی کی ایک کلی کوئیں میں ڈال دی، اور فرمایا کہ زرا ٹھہرو ۔ اس کوئیں میں اس قدر پانی جمع
ہوگیا کہ حدیبیہ میں قریباً بیس روز قیام رہا۔ تمام فوج اور ان کے اونٹ اسی سے سیراب ہوتے رہے۔ (استیعاب و اصابہ اور خصائص کبریٰ بحوالہ بیہقی و حاکم)
#لعاب_دہن_مبارک:
حضور کے منہ مبارک کا لعاب زخمی اور بیماروں کے لیے شفاء تھا چنانچہ فتح خیبر کے دن آپ نے اپنا لعاب دہن حضرت علی المرتضی کی آنکھوں میں ڈال دیا تو فوراً تندرست ہو گئے گویا دردِ چشم کبھی ہواہی نہ تھا۔
غار ثور میں حضرت صدیق اکبر کے پاؤں کو کسی چیز نے کاٹ کھا یا ۔ حضور نے اپنا لعاب دہن زخم پرلگایا اسی وقت درد جاتا رہا۔
حضرت رفاعہ بن رافع کا بیان ہے کہ بدر کے دن میری آنکھوں میں تیر لگا اور پھوٹ گئی۔رسول اللہ ﷺنے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور دعا فرمائی۔ پس مجھے ذرا بھی تکلیف نہ ہوئی اور آنکھ بالکل درست ہوگی ( زاد المعاد غزوہِ بدر)
حضرت عمر بن حاطب کے ہاتھ پر ہنڈیا گر پڑی اور وہ جل گیا۔ رسول اللہﷺ نے اپنا لعاب مبارک اس پر ڈالا اور دعا کی ۔ وہ ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔
حضرت عمرو بن معاذ بن جموح انصاری کا پاؤں کٹ گیا تھا۔ رسول اللہ نے اس پر اپنا
لعاب مبارک لگا دیا ۔ وہ اچھا ہو گیا حضرت ابو قتادہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ غزوہِ ذی قرد میں رسول الله نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے چہرے میں یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا۔ کہ ایک تیر لگا ہے۔ آپ نے فرمایا ۔ کہ نزدیک آؤ میں نزدیک ہوا تو آپ نے اس پرلعاب دہن لگادیا۔ اس روز سے مجھے کبھی تیر و تلوار نہیں لگی۔ اور نہ خون نکلا۔ (اصابہ ترجمہ ابو قتادہ انصاری)
ایک دفعہ حضور کے پاس پانی کا ڈول لایا گیا۔ آپ نے اس میں سے پیا۔ پس خوردہ کوئیں میں ڈال دیا گیا۔ پس اس میں سے کستوری کی خوشبو نکلی۔ آپ کے خادم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں ایک کنواں تھا۔ آپ نے اپنالعاب دہن اس میں ڈال دیا۔ اس کا پانی ایسا شیریں ہو گیا کہ تمام مدینہ منورہ میں اس سے بڑھ کر میٹھا کوئی کنواں نہ تھا۔
عاشورہ کے روز حضور بچوں کو بلا کر ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیتے اور ان کی ماؤں سے فرمادیتے کہ شام تک ان کو دودھ نہ دینا۔ پس وہی لعاب دہن ان کو کافی ہوتا۔ (خصائص کبریٰ بروایت ابو نعیم جز اول صفحہ 91)
حضرت عامر بن کریز قریشی عبشمی اپنے صاحب زادے عبد الله کو بچپن میں رسول اللهﷺ کی خدمت اقدس میں لائے حضور عبداللہ کے منہ میں اپنالعاب مبارک ڈالنے لگے اور وہ اسے نگلنے لگے۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ مسقی (سیراب) ہے حضرت عبداللہ جب کسی زمین (یا پتھر) میں شگاف کرتے تو پانی نکل آیا کرتا ( استیعاب و اصابہ اور خصائص کبریٰ بحوالہ بیہقی و حاکم)
عتبہ بن فرقد جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مبارک میں موصل کو فتح کیا ان کی بیوی ام عاصم بیان کرتی ہے۔ کہ عتبہ کے ہاں ہم چار عورتیں تھیں۔ ہم میں سے ہر ایک خوشبو لگانے میں کوشش کرتی تھی تاکہ دوسری سے اطیب ہو۔ اور عتبہ کوئی خوشبوئے نہ لگاتا تھا۔مگر اپنے ہاتھ سے تیل مل کر ڈاڑھی کو مل لیتا تھا۔ اور ہم سب سے زیادہ خوشبودار تھا۔ جب وہ باہر نکلتا تو لوگ کہتے کہ ہم نے عتبہ کی خوشبو سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں سونگھی۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا۔ کہ ہم استعمال خوشبو میں کوشش کرتی ہیں اور آپ ہم سے زیادہ خوشبودار ہیں ۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں میرے بدن پر آبلہ ریزے نمودار ہوئے۔ میں خدمت نبوی میں حاضر ہوا۔ آپ سے اس بیماری کی شکایت کی آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ کپڑے اتار دو۔ میں نے کپڑے اتار دیئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔۔ آپ نے اپنا لعاب مبارک اپنے دست مبارک پر ڈال کر میری پیٹھ اور پیٹ پر مل دیا۔ اس دن سے مجھ میں یہ خوشبو پیدا ہوئی ۔ اس حدیث کو طبرانی(متوفی ۳۶۰ھ) نے اوسط میں روایت کیا ہے۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں