الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط 6
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
قصی کے چار لڑکے (عبدالدار،عبد مناف ،عبدرلعزی، عہد ) اور دولڑکیاں (تخمرہ ، برہ)تھیں۔
عبد الدار اگر چہ عمر میں سب سے بڑا تھا مگر شرافت و وجاہت میں اپنے بھائیوں کے ہم پایہ نہ تھا۔
اور عبد مناف تو سب سے اشرف تھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جد رابع تھے۔ ان کا اصلی نام مغیرہ تھا۔
رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے نور کی جھلک ان کی پیشانی میں ایسی تھی کہ ان کو قمرالبطحا (وادی کا چاند) کہا کرتے تھے
جب قصی بہت بوڑھے ہو گئے تو انہوں نے عبدالدار سے کہا کہ میں تجھے تیرے بھائیوں کے برابر کرتا ہوں۔
یہ کہ کر حرم شریف کے تمام مناصب اس کے سپرد کر دی قصی کی ہیبت
کے سبب سے اس وقت کسی نے اعتراض نہ کیا مگرقصی کے بعد جب عبدالدار اور عید مناف کا بھی انتقال ہو چکا توعبد مناف کے بیٹوں (ہاشم، عبد شمس ،مطلب، نوفل) نے اپنا استحقاق ظاہر کیا اور چاہا کہ حرم شریف کے وظائف عبدالدار کی اولاد سے چھین لیں۔ اس پر قریش میں اختلاف پیدا ہو گیا۔
بنو اسد بنی عزی اور بنوزہرہ بن کلاب اور بنوتیم بن مرہ اور بنو حارث بن فہر یہ سب بن عبد مناف کی
طرف اور بنومخزوم اور بنو سہم اور بنو جمح اور بنو عدی بن کعب دوسری طرف ہو گئے۔ بنوعبد مناف اوران کے احلاف نے قسمیں کھا کر معاہدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔ اور یک جہتی کے
اظہار کے لیے ایک پیالہ خوشبو سے بھر کر حرم شریف میں رکھا۔ اور سب نے اس میں اپنی انگلیاں ڈبوئیں۔ اس لیے ان پانچ قبائل کو مطیبین کہتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے فریق نے با ہم معاہدہ کیا اور ایک پیالہ خون سے بھر کر اس میں اپنی انگلیاں ڈبوکر چاٹ لیں۔ اس لیے ان پانچ قبائل کو لعقۃ
الدم (خون کے چاٹنے والے) کہتے ہیں ۔ غرض ہر دوفریق لڑائی کے لیے تیار ہو گئے مگر اس بات
پرصلح ہوگئی کہ سقایت و رقابت و قیادت بنو عبد مناف کو دی جائے۔ اور تجابت ولواء وندوه بدستور عبدالدار کے پاس رہے۔ چنانچہ ہاشم کو جو بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ سقایت اور فارت
ملی۔ ہاشم کے بعد مطلب کو اور مطلب کے بعد عبدالمطلب اور عبدالمطلب کے بعد ابوطالب کوملی ۔
اور ابو طالب نے اپنے بھائی عباس کے حوالہ کر دی۔ قیادت عبدشمس کو دی گئی عباس کے بعد اسکے بیٹے امیہ کو پھر امیہ کے بیٹے حرب کو پھر حرب کے بیٹے ابوسفیان کو عطا ہوئی ۔ اس لیے جنگ احد اور احزاب میں ابوسفیان ہی قائد تھا۔ جنگ بدر کے وقت وہ قافلہ قریش کے ساتھ تھا۔ اس لیے قبہ
بن ربیعہ بن عبد شمس امیر الجیش تھا۔ دارالندوہ عبدالدار کی اولاد میں رہا
۔ یہاں تک کہ مکرمہ بن عامربن ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار نے حضرت معاویہ(رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ انہوں نے اسے
دار الامارات بنا لیا اور آخرکارحرم میں شامل ہو گیا۔ حجابت آج تک عبدالدار کی اولاد میں ہے۔
اور وہ بنوشیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ بن عبد العزی بن عثمان بن عبد الدار ہیں ۔ لواء بھی اسی کی اولاد میں رہا ۔
چنانچہ جنگ احد میں جھنڈانہی کے ہاتھ میں تھا۔ جب ایک قتل ہو جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لیتا ۔
اس طرح ان کی ایک جماعت قتل ہوگئی ۔
ہاشم نے منصب رفادت و سقایت کو نہایت خوبی سے انجام دیا ذی الحجہ کی پہلی تاریخ کو صبح کے وقت کعبہ سے پشت لگا کر یوں خطا کرتے تھے۔ اے قریش کے گروہ تم خدا کے گھر کے پڑوسی ہو۔ خدا نے بنی اسماعیل میں سے تم کو اس کی تولیت کا شرف بخشا ہے اور تم کو اس کے پڑوس کےلیے خاص کیا ہے۔ خدا کے زائرین تمہارے پاس آرہے ہیں جو اس کے گھر کی تعظیم کرتے ہیں۔ پس
وہ اس خدا کے مہمان ہیں ۔ اور خدا کے مہمانوں کی میزبانی کا حق سب سے زیادہ تم پر ہے۔ اس لیے
تم خدا کے مہمانوں اور اس کے گھر کے زائرین کا اکرام کرو۔ جو ہر ایک شہر سے تیروں جیسی لاغر اور سبک اندام اونٹنیوں پرژولیده مو اور غبار آلوده آرہے ہیں۔ اس گھر کے رب کی قسم اگر میرے پاس
اس کام کے لیے کافی سرمایہ ہوتا تو میں تمہیں تکلیف نہ دیتا میں اپنے کسب حلال کی کمائی میں سےدے رہا ہوں۔
تم میں سے بھی جو چاہے ایسا کرے۔ میں اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر گزارش
کرتا ہوں کہ جوشخص بیت اللہ کے زائرین کو اپنے مال سے دے، وہ بجز حلال کی کمائی کہ نہ ہو۔ اس تقریر پر قریش اپنے حلال مالوں میں سے دیا کرتے اور دارالندوہ میں جمع کر دیتے۔
ہاشم کا اصلی نام عمرو تھا۔ علورتبہ کے سبب عمرو العلا کہلاتے تھے
۔ نہایت مہمان نواز تھے، ان کا دسترخوان ہر وقت بچھا رہتا تھا۔ ایک سال قریش میں سخت قحط پڑا۔ یہ ملک شام سے خشک روٹیاں
خرید کر ایام حج میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورہ کر کے اونٹوں کے گوشت کے شوربے میں ڈال کر ثرید بنایا اور لوگوں کو پیٹ بھر کر کھلایا۔ اس دن سے ان کو ہاشم (روٹیوں کا چورہ کرنے والا) کہنے لگے۔
عبد مناف کے صاحبزادوں نے قریش کی تجارت کو بہت ترقی دی اور دول خارجہ کے ساتھ تعلقات پیدا کر کے ان سے کاروان قریش کے لیے فرامین حفظ وامان حاصل کیے۔ چنانچہ ہاشم نے قیصر روم اور ملک غسان سے اور عبدشمس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی سے اور نوفل نے اکاسرہ عراق
سے اور مطلب نے یمن کے شاہ حمیر سے اسی قسم کے فرمان لکھوا لیے۔ اس کے بعد ہاشم نے قریش کے لیے سال میں دو تجارتی سفر مقرر کیے اس لیے قریش موسم سرما میں یمن و حبشہ میں اور گرما میں
عراق و شام میں جاتے اور ایشیائے کوچک کے مشہور شہر انقره (انگورہ) تک پہنچ جاتے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
درود شریف ضرور پڑھا کریں
#جاری_ہے
https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں