الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط 5
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
باب_دوم
حالات_نسب_و_ولادت_شریف_تابعثت_شریف
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب یہ ہے۔ سیدنا محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ۔ اور عدنان حضرت اسماعیل بن حضرت ابرہیم خلیل اللہ ک اولادسے ہیں۔
خاندانی_شرافت_وسیادت
رسول اللہﷺ کا خاندان عرب میں ہمیشہ ممتاز و معزز چلا آتا تھا۔ نضر ( یافہر ) کا لقب قریش تھا۔ اس وجہ سے اس کی اولاد کو قریشی اور خاندان کو قریش کہنے لگے اور اس سے اوپر والے کنانی کہلائے۔
قریش کی وجہ تسمیہ میں بہت سے مختلف اقوال ہیں جن کے ایراد کی اس مختصر میں گنجائش نہیں
صحیح بخاری میں ہے۔ کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بنی آدم کے بہترین طبقات سے بھیجا گیا۔
ایک قرن بعد دوسرے قرن کے یہاں تک کہ میں اس قرن سے ہوا جس سے کہ ہوا ۔ حدیث مسلم میں ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو برگزیدہ بنا یا ۔ اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو برگزیدہ بنایا۔ اسی طرح ترمذی شریف میں بہ سند حسن آیا ہے کہ اللہ تعالی نے خلقت کو پیدا کیا تو مجھ کو ان کے سب سے اچھے گروہ میں بنایا۔ پس میں روح و زات اور اصل کے لحاظ سے ان سب سے اچھا ہوں ۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔
لَم یَخلُقِ الرَحمٰنُ مِثلَ محمدٍ اَبدًا وَّ عِلمِی اَنَّہٗ لَا یَخلُقَ
خدا نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مثل کبھی پیدا نہیں کیا
اور مجھے علم ہے کہ وہ آپ کا مثل پیدا نہ کرے گا
نظر کے بعد فہر اپنے وقت میں رئیس عرب تھا۔ اس کا ہم عصر احسان بن عبد کلال حمیری چاہتا تھا کہ کعبہ کے پتھر اٹھا کر یمن میں لے جائے تا کہ حج کے لیے وہیں کعبہ بنا دیا جائے ۔
جب وہ اس ارادے سے حمیر وغیرہ کو ساتھ لے کر یمن سے آیا اور مکہ سے ایک منزل پر مقام نخلہ میں اتر۔ تو فہر
نے قبائل عرب کو جمع کر کے اس کا مقابلہ کیا۔ حمیر کو شکست ہوئی ۔ حسان گرفتار ہوا اور تین برس کے بعد
فدیہ دے کر رہا ہوا۔ اس واقعہ سے فہر کی ہیبت وعظمت کا سکہ عرب کے دلوں میں جم گیا
فجر کے بعد قصی بن کلاب ( قصی کے حالات کےلیے دیکھیں سیرت ابنِ ہشام اور سیرت حلبیہ) نے نہایت عزت و اقتدار حاصل کیا۔ قصی مذکور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد خامس ہیں ۔ ان کا اصلی نام زید تھا۔ کلاب کی وفات کے بعد ان کی والدہ فاطمہ نے بنو عذرہ
میں سے ایک شخص ربیعہ بن حزام سے شادی کر لی تھی۔ وہ فاطمہ کو اپنی ولایت یعنی ملک شام کو لےگیا۔ فاطمہ اپنے ساتھ زید کو بھی لے گئی ۔ چونکہ زید ابھی بچہ ہی تھے اور اپنے وطن مالوف سے دور جا رہے تھے اس لیے ان کوقصی ( تصغير اقصی بہ بعید) کہنے لگے۔ جب قصی جوان ہو گئے تو پھر مکہ میں اپنی قوم میں آ گئے۔ اور وہیں حلیل خزائی کی بیٹی سے شادی کر لی ۔ حلیل اس وقت کو کعبہ کا متولی تھا۔ اس کے مرنے پر تولیت قصی کے ہاتھ آئی۔ اس نے خزاعہ کو بیت المال سے نکال دیا۔ اور قریش کو گھاٹیوں،
پہاڑیوں اور وادیوں سے جمع کر کے مکہ کے اندر اور باہر آباد کیا ۔ اس وجہ سے قصی کو مجتمع بھی کہتے ہیں۔
قصی نے کئی کارہائے نمایاں کیے۔ چنانچہ ایک کمیٹی گھر قائم کیا جسے دار الندوہ کہتے ہیں
مہمات امور میں مشور یہاں کرتے ۔ لڑائی کے لیے جھنڈا یہیں تیار ہوتا۔ نکاح اور دیگر تقربیات کی مراسم یہیں ادا کرتے ۔ حرم کی رفادت (حاجیوں کے کھانے پینے کا انتظام کرنا) و سقایت (حاجیوں کو آب زم زم پلانا) کا منصب بھی قصی ہی نے قائم کیا۔ چنانچہ موسم حج میں قریش کو جمع کرکے یہ تقریر کی ۔”تم خداکے پڑوسی اور خدا کے گھر کے متولی ہوں۔ اور حجاج خدا کے مہمان اور خدا کے گھر کے زائرین ہیں ۔ وہ مہمانوں کی نسبت تمہاری میزبانی کے ذیادہ مستحق ہیں۔ اس لیے ایام حج میں ان کے کھانے پینے کے لیے کچھ مقرر کرو۔ اس پر قریش نے سالانہ رقم مقر رکی ۔ جس سے ہر سال ایام منی میں غریب حاجیوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا
۔ اسقایت کےلیے قصی
نے چرمی حوض بنائے جو ایام حج میں کعبہ کے صحن میں رکھے جاتے تھے۔ان حوضوں کو بھرنے کے لیے مکہ کے کنووں کا پانی مشکوں میں اونٹوں پر لایا جاتا تھا۔ ان مناصب کے علاوہ قریش کے باقی شرف بھی یعنی حجابت (کعبہ کی کلید برداری و تولیت) اور لواء(علم بندی) قیادت (امارت لشکر)
قصی کے ہاتھ میں تھے۔ اورقصی ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے مزدلفہ پر روشنی کی تاکہ لوگوں کو عرفات نظر آ جائے۔
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
درود شریف ضرور پڑھا کریں
#جاری_ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں