I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 2 اگست، 2020

سیرت رسول عربی ﷺ قسط 7

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

قسط 7

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


ہاشم کی پیشانی میں نورمحمدی چمک رہا تھا۔ احبار میں سے جو آپ کو دیکھتا آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتا۔ قبائل عرب و احبار میں سے آپ کو شادی کے پیام آتے مگر آپ انکار کر دیتے۔ ایک دفعہ بغرض تجارت آپ ملک شام کو گئے۔ راستے میں مدینہ بنوعدی بن نجار میں سے ایک شخص عمرو بن زید بن
لبید خزرجی کے ہاں ٹھہرے۔ اس کی صاحبزادی سلمیٰ حسن و صورت و شرافت میں اپنی قوم کی تمام عورتوں میں ممتاز تھی ۔ آپ نے اس سے شادی کر لی ۔ مگر عمرو نے ہاشم سے یہ عہد لیا کہ سلمی( سلمی ہاشمی سے پہلے احیحہ بن جلاح کے تحت میں تھی۔ جس عمرو  بن احیحہ پیدا ہوا) جواولاد
جنے گی وہ اپنے میکے میں جنے گی ۔ شادی کے بعد ہاشم شام کو چلے گئے۔ جب واپس آئے تو سلمی کو اپنے ساتھ مکہ میں لے آئے حمل کے آثار بخوبی محسوس ہوئے تو سلمی کو مدینہ میں چھوڑ کر آپ شام کو چلے گئے۔ اور وہیں غزہ(یہ شہر مصر کی طرف اقصائے شام میں واقع ہے۔ مطلب نے رومان میں عبد شمس نے مکہ میں اور نوفل نے۔ سلمات میں وفات پائی جو عراق سے مکہ کے راستے میں ایک قطعہ آب ہے) میں 25 سال کی عمر میں انتقال کیا۔ اور غزہ ہی میں دفن ہوئے ۔ سلمی کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کے سر میں کچھ سفید بال تھے۔ اس لیے اس کا نام شیبہ رکھا گیا۔ اور شيبۃ الحمد بھی کہتے تھے۔ حمد کی نسبت اس کی طرف اس امید پر کی گئی کہ اس سے افعال نیک سر زد ہوں گے ۔ جس کے سبب سے لوگ اس کی تعریف کیا کریں گے شیبہ سات یا آٹھ سال مدینہ ہی میں رہے۔ پھر مطلب کو خبر لگی تو بھتیجے کو لینے کے لیے مدینہ میں پہنچے۔ جب مدینہ سے واپس آئے تو شیبہ کو اپنے پیچھے اونٹ پر سوار کرلیا۔ شیبہ کے کپڑے پھٹے پرانے تھے۔ جب چاشت کے وقت مکہ میں
داخل ہوئے تو لوگوں نے مطلب سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ مطلب نے کہا یہ میرا عبد(غلام) ہے۔ اس وجہ سے شیبہ کوعبدالمطلب کہنے لگے۔ وج تسمیہ میں بعضوں نے اور قول بھی نقل کیے ہیں۔
مطلب کے بعد اہل مکہ کی ریاست عبد المطلب کوملی (ان کے حالات کےلیے دیکھیں سیرت ہشامیہ اور سیرت بنویہ للسید احمد زینی المشہور بدحلان) اور رفادت و سقایت ان کے حوالہ ہوئی ۔ رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم)  کا نور ان کی پیشانی میں چمک رہا تھا۔ ان سے کستوری کی سی خوشبو آتی تھی۔
جب قریش کو کوئی حادثہ پیش آتا تو عبدالمطلب کو کوہ شیبہ پر لے جاتے اور ان کے وسیلہ سے بارگاه
رب العزت میں دعامانگتے ۔ اور ایام قحط میں ان کے واسطے سے طلب باراں کرتے اور وہ دعاقبول ہوتی ۔ عبد المطلب پہلے شخص ہیں جو تحنث کیا کرتے تھے یعنی ہر سال ماہ رمضان میں کوہ حرا  میں جا کر
خدا کے گیان دھیان میں کوششیں رہا کرتے ۔ وہ موحد تھے ۔ شراب و زنا کوحرام جانتے تھے۔ نکاح محارم سے اور بحالت برہنگی طواف کعبہ سے منع کرتے اور لڑکیوں کے قتل سے روکتے۔
چور کا ہاتھ کاٹ دیتے۔

۔بڑے مستجاب الدعوات اور فیاض تھے اپنے دستر خوان سے پہاڑیوں کی چوٹیوں پر پرند چرندکو کھلایا کرتے تھے۔ اس لیے انہیں مطعم الطیر ( پرندوں کو کھلانے والے)کہتے تھے
 یہ  سب کچھ نور محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم)  کی برکت سے  تھا۔
عبد المطلب نے چاہ زمزم  کو نئے سرے سے کھدوا کر درست کیا۔ اس کا قصہ یوں ہے کہ
حضرت اسماعیل ( علیہ السلام)  کے بعد کعبہ کی تولیت نابت بن اسمعیل کے سپرد ہوئی جابت کے بعد نابت کا نانا مضاض بن عمرو جرہمی متولی ہوا۔ جب بنو جرہم  حرم شریف کی بے حرمتی کرتے اور کعبہ کے
مال اپنے خرچ میں لانے لگے تو بنوبکر بن عبد مناف بن کنانہ اور غبشان خزاعی نے ان کو مکہ سے یمن
کی طرف نکال  دیا۔ اس وقت سے خزاعہ متولی ہوئے ۔ خزاعہ میں سے اخیر متولی حلیل بن جشیہ  تھا۔ جس کے بعد تولیت قصی کے ہاتھ آئی جیسا کہ کہ پہلے مذکور ہوا۔ عمرو بن حارث بن مضاض جرہمی نے جاتے وقت کعبہ کے ہر دو غزال طلائی اور حجر رکن کو زمزم میں ڈال کر اسے ایسا بند کر دیا تھا کہ مدت گزرنےپر کسی کو اس کا نشان تک معلوم نا رہا ہے۔ آخر کار عبد المطلب کو خواب میں اس کے کودنے کا اشارہ ہوا۔
عبدالمطلب کے ہاں اس وقت صرف ایک صاحبزادہ حارث تھا۔ اسی کو ساتھ لے کر کھودنے گئے۔
جب کوئیں کا بالائی حصہ نظر آیا  تو خوشی میں تکبیر کہی۔ کھودتے کھودتے  ہردوغزال اور کچھ تلواریں   اور زرہیں برآمد ہوئیں ۔ یہ دیکھ کر قریش  نے کہا کہ اس میں ہمارا بھی حق ہے۔ عبدالمطلب نے بجائے
مقابلہ کے اس معاملہ کو قر اندازی پر چھوڑا چنانچہ  ہردوغزال کا  قرعہ کعب پر اور تلواروں اور زرہیں کا قرعہ عبدالمطلب
پر پڑا اور قریش کے نام کچھ نا نکلا۔ اسی طرح عبد المطلب نے زمزم کو کھدوا کر درست
کیا۔ اس وقت سے زمزم کا  پانی حاجیوں کے کام آنے لگا۔ اور مکہ کے کنوؤں کے پانی کی ضرورت نہ رہی۔
زمزم کے کھودنے میں عبد المطلب نے اپنے معاونین کی قلت محسوس کر کے یہ منت مانی تھی کہ اگر میں اپنے سامنے دس بیٹوں کو جوان دیکھ لوں ۔ تو ان میں سے ایک کو خدا کی راہ میں قربان کروں گا۔ جب مراد بر آئی تو ایفائے نذر کے لیے دسوں بیٹوں کو لے کر کعبہ  میں آئے۔ اور پجاری سے اپنی
نذرں کا حال بیان کیا اور کہا کہ ان دوسوں ہر قرعہ ڈالو دیکھو کس کا نام نکلتا ہے۔ چنانچہ ہر ایک نے اپنے اپنے نام کا قرعہ دیا۔ ایک طرف پجاری قرعہ نکال رہا تھا۔ دوسری طرف عبدا لمطلب یوں دعا کررہے
تھے۔ یا اللہ میں نے ان میں سے ایک کی قربانی کی منت مانی تھی اب میں ان پر قرعہ اندازی کرتا  ہوں تو جسے چاہتا ہے اس کا نام نکال ۔ اتفاق سے عبدالله کا نام نکلا۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے والد اور
عبدالمطلب کوسب بیٹوں میں پیارے  تھے۔ عبدالمطلب چھری ہاتھ میں لے کر ان کو قربان گاہ کی طرف لے چلے
مگر قریش اور  عبدالله کے بھائی مانع ہوئے 
آخر کار عبدالله اور دس اونٹوں پر قرعہ ڈالا گیا اتفاق یہ کہ عبدالله ہی کے نام پر قرعہ نکلا۔
پھر عبدالله اور بیس اونٹوں پر قرعہ ڈالا گیا مگر نتیجہ وہی نکلا۔ 
بڑھاتے بڑھاتے سو اونٹوں پر نوبت پہنچی تو اونٹوں قرعہ اونٹوں کا نکلا۔

چنانچہ عبدالمطلب نے سو اونٹ ذبح کیے، اور عبدالله بچ گئے ۔
اسی واسطے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انا ابن الذبیحین یعنی میں دو ذبیح ( حضرت اسماعیل علیہ السلام، اور حضرت عبداللہ ) کا بیٹا ہوں۔

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
درود شریف ضرور پڑھا کریں

#جاری_ہے


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار: #محمدحامدرضوی

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو