I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

اتوار، 2 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 4

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


قسط4

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


باب_اول

برکات نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم


الله تعالی نے سب سے پہلے بالواسطہ اپنے حبیب  محمد کا نور پیدا کیا پھر اسی  نور کو خلق عالم کا واسط ٹھہرایا۔(مصنف عبد الرزاق (متوفی ۲۱۱ھ) کے بروایت حضرت جابر بن عبداللہ انصاری) اور عالم ارواح ہی میں اس روح سراپا نور کو وصف نبوت سے سرفراز فرمایا
چنانچہ ایک روزصحابہ کرام نے حضورعلیہ السلام  سے پوچھا کہ آپ کی نبوت کب ثابت ہوئی آپ نے فرمایا
آدم بين الروح والجسد (ترمذی شریف) یعنی میں اس وقت نبی تھا جب کہ آدم کی روح نے جسم سے تعلق نا پکڑا تھا۔
 بعد ازاں اسی عالم میں اللہ تعالی نے دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں سے وہ عہد لیا جو 
واذ اخذالله میثاق النبیین (آل عمران رکوع ۵)میں مذکور ہے۔ جس وقت ان پیغمبروں کی روحوں نے عہد مذکورہ کے مطابق حضور علم کی نبوت و امداد کا اقرار کرلیا تو نورمحمدی کے فیضان سے ان روحوں میں قابلیتیں پیدا ہو گئیں کہ دنیا میں اپنے اپنے وقت میں ان کو منصب نبوت عطا ہوا۔ اور ان سے 
معجزات ظہور میں آئے ۔ امام بوصیری علیہ الرحمہ نے خوب فرمایا:

وکل ایک اتی الرسل الکرام بہا۔ فانما اتصلت من نورہ بہم
فانہ شمس فضل ہم کوا کبہا  ۔ یظہرن انوارہا للناس فی الظلم
ترجم منظوم
معجزے  جتنے کہ لاۓ رسولان کرام ____ لڑی  کے نور سے جا ملتی ہے سب کی بہم

آفتاب فضل ہے وہ سب کواکب اس کے تھے ____ظلمتوں میں نور  پھیلایا بیش وکم

اسی  عہدے کے سبب حضرات انبیاء سابقین علیہم السلام اپنی اپنی   امتوں کو حضور نبی آخر الزمان کی آمد و بشارت اور ان کے اتباع وامداد کی تاکید فرماتے رہے ہیں ۔ اگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت دنیا میں ظاہر نا ہوتی۔ تو تمام انبیاء سابقین علیہم السلام کی نبوتیں باطل ہو جاتیں اور وہ تمام بشارتیں نا تمام رہ جاتیں۔ پس دنیا میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری نے تمام انبیائے سابقین علیہم السلام کی نبوتوں کی تصدیق فرما دی ( بلکہ لایا ہے حق کو۔ سچا کیا ہے پیغمبروں کو۔ ( الصافات رکوع ۲)
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جاء بالحق وصدق المرسلین) کا نور از بہر منبع انوار الانبیاء تھا اسی طرح آپ کے جسم اطہر کا مادہ بھی لطیف ترین اشیاء سے تھا۔ چنانچہ حضرت کعب احبار سے منقول ہے۔(کہ جب اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم   کو پیدا کرنا چاہا تو جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ سفید مٹی لا و پس جبرئیل بہشت کے فرشتوں کے ساتھ اترے اور حضرت کی قبر شریف کی جگہ سے مٹھی بھر خاک سفید
چمکتی دمکتی اٹھا لائے۔ پھر وہ مشت خاک سفید بہشت کے چشم تسنیم کے پانی سے گوندھی گئی۔ یہاں تک کہ سفید موتی کی ماند ہوگئی ۔ جس کی بڑی شعاع بعدازاں فرشتے اسے لے کر عرش و کرسی کے گرد اور  آسمانوں اور زمین میں پھرے یہاں تک کہ تمام فرشتوں نے آپ (روح انور مادہ اطہر) کو آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے پہچان لیا۔ (بل جاء بالحق وصدق المرسلین)
جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام  کو پیدا کیا تو اپنے حبیب پاک کے نور کو ان کی پشت مبارک میں بطور ودیعت رکھا۔ اس نوء کے انوار ان کی پیشانی میں یوں نمایاں تھے جیسے آفتاب آسان اور چاند اندھیری رات میں۔ اور ان سے عہد لیا گیا کہ یہ نور انوار پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوا کرے۔ اسی واسطے جب وہ حضرت حوا علیہا السلام سے مقاربت کا ارادہ کرتے تو
انہیں پاک و پاکیزہ ہونے کی تاکید فرماتے یہاں تک کہ وہ نور حضرت حوا علیہا السلام کے رقم پاک میں منتقل ہو گیا اس وقت وہ انوار جو حضرت آدم علم کی پیشانی میں تھے حضرت حواء کی پیشانی میں نمودار ہوئے۔ ایام عمل میں حضرت آدم علیہ السلام نے بپاس ادب تعظیم حضرت حواء سے مقاربت ترک کر
دی۔ یہاں تک کہ حضرت شیث علیہ وسلم پیدا ہوئے ۔ تو وہ نور  ان کی پشت میں منتقل ہو گیا۔ یہ حضور علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حضرت شیث علیہ وسلم اکیلے پیدا ہوئے۔ آپ کے بعد ایک بطن میں جوڑا ( ایک لڑکا اورایہ لڑکی) پیدا ہوتا رہا اس طرح یہ نو پاک، پاک پتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوتا ہوا حضور علیہ السلام کے والد ماجد
حضرت عبد اللہ تک پہنچا۔ اور ان سے بناء بر قول اصح ایام تشریق میں جمعہ کی رات کو آپ کی والدماجدہ حضرت آمنہ کے رحم پاک میں منتقل ہوا۔
اسی نور کے پاک و صاف رکھنے کے لیے الله تعالی حضرت کے تمام آباؤ امہات کو شرک و کفر کی نجاست اور زنا کی آلودگی سے پاک رکھا۔ اسی نور کے ذریعہ سے حضرت کے تمام آبا و اجداد نہایت حسین و مرجع خلائق تھے۔ اس نور کی برکت سے حضرت آدم نبینا علیہ السلام ملائک کے مسجود بنے اور اسی نور
کے وسیلہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام  کی کشتی طوفان میں غرق ہونے سے بچی۔ اس نور کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام  پر آتش نمرودگزار ہو گئی ۔ اور اسی نور کے طفیل سے حضرات انبیائے سابقین علی نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات پر اللہ تعالی کی عنایات بے غائب ہوئیں۔
جب آپ صلی اللہ علیہ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو حضرت عباس نے حضور
علیہ السلام  کی اجازت سے آپ کی مدح میں چند اشعارعرض کیے۔ جن میں مذکور ہے کہ کشتی کا طوفان سے بچنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آتش نمرود کا گلزار ہو جانا حضور کے نور ہی کی برکت سے تھا۔ ( خصائص کبریٰ للسیوطی بحوالہ حاکم و طبرانی)
حضرت امام الائمہ ابوحنیفه نعمان بن ثابت تابعی کوفی رضی اللہ عنہ  حضور رسول اکرم کی مدح میں یوں فرماتے ہیں:
اَنتَ الّذِی لَولَاکَ مَا خُلِقَ امرَاءُٗ ___ کَلا ولا خُلِقَ الوَریٰ لَولَاکَا۔ 

 انت الذی من نُورِکَ لِلبَدَرِ السَنَا __ وَالشَمسُ مُشرِقَۃُٗ بِنُورِ بَہَاکَا
انت الذی لما تَوَسَّل اٰدمُ__ مِن زَلَّۃٍ بِکَ فَاز و ھُوَ اَباکا

وبِکَ الخَلِیلُ دعا فعادت نارہُ __ برداً وّ قد خمدت بنور سناکا

ودعاک ایوب لضر مسہ __ فازیل عنہ الضرحین دعاکا
وبک المسیح اتی بشیر مخبرا ___ بصفات حسنک ما دحا لعلاکا
کذلک موسیٰ لم یزل متوسلا __ بک فی القیمۃ __ محتما بحماکا

والانبیاء و کل خلق فی الوری __ والرسل والاملاک تحت لواکا
آپ کی وہ مقدس ذات ہے کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہر گز کوئی آدمی پیدا نا ہوتا۔ اور نا کوئی مخلوق پیدا ہوتی۔ آپ وہ ہیں کہ آپ کے نور سے چاند کو روشنی ہے اور سورج آپ ہی کے نور سے چمک رہا ہے ۔آپ وہ ہیں کہ جب آدم نے لغزش کے سبب سے آپ
کا وسیلہ پکڑا تو وہ کامیاب ہو گئے ۔ حالانکہ وہ آپ کے باپ ہیں ۔آپ کے وسیلہ سےخلیل نے دعا مانگی تو آپ کے روشن نور سے آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی اور بجھ گئی اور
ایوب نے اپنی مصیبت میں آپ ہی کو پکارا تو اس کے پکارنے پر ان کی مصیبت دور ہو
گئی ۔ اور یہ آپ ہی کی بشارت اور آپ ہی کی صفات حسنہ کی خبر دیتے اور آپ کی
مدح کرتے ہوئے آئے ۔ اسی طرح موسیٰ آپ کا وسیلہ پکڑنے والے اور قیامت میں
آپ کے سبزہ زار میں پناہ لینے والے رہے اور انبیاء اور مخلوقات میں سے ہرمخلوق اور
پیغمبر اور فرشتے آپ کے جھنڈے تلے ہوں گے ۔

مولانا جامی یوں فرماتے ہیں:
وصلی اللہ علی نور کزو شد نور ہا پیدا__ زمین از حب او ساکن فلک در عشق او شیدا

محمد احمد و محمود دے را حالقش بستود ___  کزو شد بود ہر موجود زوشد دیدہا بینا

اگر نام محمد را نیاوردے شفیع آدم___ نہ آدم یافتے توبہ، نہ نوح از غرق نجینا

نہ ایوب از بلا راحت نہ یوسف حشمت وجاہت ___ نہ عیسیٰ آں مسیحا دم نہ موسیٰ آں ید بیضا

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
درود شریف ضرور پڑھا کریں
#جاری_ہے

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو