I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

ہفتہ، 22 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 44

 

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط44


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


5-

 ہوذہ بن علی الحنفی صاحب یمامہ کی طرف یوں لکھا گیا۔


"اللہ کے نام شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے

ہوزہ بن علی کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ مجھے معلوم ہے کہ میرا

دین عنقریب اس حد تک پہنچے گا جہاں تک کہ اونٹ اور خچر جاتے ہیں تو اسلام لا

سلامت رہے گا۔ میں تیرا ملک تجھ کو دے دوں گا ۔“(محمد رسول الله)

جب حضرت سلیط بن عمرو عامریہ  نامہ مبارک ہوذہ کے پاس لے گئے تو ارکون دمشق جو امرائے نصاریٰ میں سے تھا اس وقت حاضر تھا۔ ہنوذہ نے مضمون نامہ بیان کر کے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دریافت کیا۔ ارکون نے کہا تم اس کی دعوت قبول کیوں نہیں کہتے۔ ہوذہ نے کہا:

میں اپنی قوم کا بادشاہ ہوں ۔ اگر میں اس کا پیروکار بن گیا۔ تو ملک جاتا رہے گا ۔ ارکون نے کہا: خدا کی قسم اگر تو اس کا پیروکار بن جائے تو وہ ضرور تیرا ملک تجھ کو دے دے گا۔ تیری بہبودی اس کے اتباع میں ہے۔ وہ بے شک نبی عربی ہے جس کی بشارت حضرت عیسیٰ ابن مریم نے دی ہے۔ اور یہ بشارت ہمارے پاس انجیل میں موجود ہے۔ بایں ہمہ ہوذہ ایمان نہ لایا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا۔ ہوذہ ہلاک ہو گیا اور اس کا ملک  جاتا رہا ۔ چنانچہ ایساہی ہوا جب رسول الله فتح مکہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام  حاضر خدمت ہو کر خبر دی کہ ہوذہ  مر گیا۔


6- 

قیصر روم کی طرف حارث بن ابی شمر غسانی حدود شام کا گورنر تھا غوطہ دمشق  اس کا پایہ  تخت تھا اس کو یہ نامہ مبارک بھیجا گیا۔


اللہ کے نام شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے

حارث بن ابی شمر کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ۔ اور اس پر ایمان لا یا اور تصدیق کی ۔ میں تجھے اس بات کی طرف بلاتا ہوں کہ تو اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لائے ۔ تیری حکومت قائم رہے گی ۔( محمد رسول الله )

حضرت شجاع بن وہب یہ نامہ مبارک لے کر روانہ ہوئے۔ جب یہ دمشق پہنچے  تو دیکھا۔ کہ قیصر روم حمص سے بیت المقدس کو ایرانیوں پر ان کے شکرانے کے لیے آرہا تھا اس کے استقبال کےلیے تیاریاں ہورہی ہیں ۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے حارث کے دروازے پر دو تین دن قیام کیا ۔میں نے اس کے رومی در بان سے کہا کہ میں حارث کی طرف رسول اللہ  کا قاصد ہوں ۔ اس نے کہا کہ فلاں روز بار یابی ہوگی ۔ وہ دربان جس کا نام مری تھا مجھ سے رسول اللہ اور آپ کی دعوت کا حال پوچھتا رہتا تھا۔ میں بیان کرتا تو اس پر رقت طاری ہو جاتی یہاں تک کہ رو پڑتا اور کہتا کہ میں نے انجیل میں پڑھا ہے بعینہ اسی نبی کی صفت اس میں مذکور ہے میرا خیال تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا مگر میں دیکھتا ہوں کہ وہ زمین عرب میں ظاہر ہوا ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں ۔ اور اس کی تصدیق کرتا ہوں ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ حارث مجھے قتل کر دے گا۔ آخر کار حارث ایک روز در بار میں تاج پہن کر تخت پر بیٹھا میں باریاب ہوا تو میں نے رسول الله  کا نامہ مبارک پیش کیا ۔ اس نے پڑھ کر پھینک دیا اور کہنے لگا۔ مجھے سے میرا ملک کون چھین سکتا ہے؟ وہ  خواہ  یمن  میں ہو میں اس کے پاس جاتا ہوں ۔ اور حکم دیا کہ فوج تیار ہو جائے اور گھوڑوں کی نعل بندی کی جائے۔ پھر مجھ سے کہا تم جو کچھ دیکھ رہے ہو اس کو بتا دینا۔ حارث نے میری آمد کا حال قیصر کو کہا۔ وہ عرضداشت قیصر کو بیت المقدس میں ملی ۔ وحیہ کلبی  ابھی وہاں تھے جب قیصر نے حارث کا خط پڑا تو اسے لکھا کہ اس مدعی نبوت کے پاس مت جاؤ۔ اس سے دور رہو اور مجھ سے بیت المقدس میں ملو۔ یہ جواب میرے ایام قیام میں آ گیا۔ حارث نے مجھے بلاکر دریافت کیا کہ کب جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کل۔ یہ سن  کر اس نے حکم دیا کہ مجھے سومثقال سونا دے دیا جائے ۔ حضرت مری نے نفقہ ولباس سے میری مدد کی اور کہا کہ رسول اللہ  سے بعد سلام عرض کر دینا کہ میں آپ کے دین کا پیروکار ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر حارث کا حال عرض کیا تو فرمایا کہ اس کا ملک جاتا رہا۔ اور حضرت مری کا حال عرض کیا تو فرمایا کہ وہ سچاہے۔


7- 

 آٹھ ھ میں رسول اللہ نے حضرت علا بن الحضرمی کے ہاتھ منذر بن ساوی حاکم بحرین کے نام ایک تبلیغی خط بھیجا۔ جس کے مطالعہ سے مندر کے ساتھ وہاں کے تمام عرب اور بعض عجم  ایمان لائے مگر یہود و مجوس ایمان نہ لائے۔ حضرت منذر نے بذریہ عرضداشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو  ان حالات کی اطلاع دی اور دریافت کیا کہ کیا کیا جائے ۔ اس پر حضورِ اقدس ﷺ نے منذر کو یہ خط لکھا۔


" اللہ کے نا م شروع جو بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا ۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے منذر بن ساوی کے نام سلام تجھ پر۔ میں تیرے پاس خدا کا شکر کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود  برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔ اما بعد میں تجھے یاد دلاتا ہوں الله عز وجل ( کے احکام )بے شک جو خیر خواہی کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے۔ اور جو میرے قاصدوں کی اطاعت کرے اور ان کا حکم مانے ۔ اس نے بے شہ میری اطاعت کی اور جو ان کی خیر خواہی کرے اس نے بے شک میری خیر خواہی کی میرے قاصدوں نے تمہاری تعریف کی ہے میں نے تمہاری سفارش تمہاری قوم کے بارے میں قبول کی پس مسلمانوں کے لیے چھوڑ دو وہ (مال وغیرہ) جس پر وہ مسلمان ہوئے میں نے  گنہگاروں کے( پہلے گناہوں کو) معاف کر دیا تم ان سے (اسلام)قبول کرو جب تک تم   اچھا  کام کرتے رہو گے ہم تم کو تمہارے۔ عہدے سے معزول نہ کریں گے ۔ اور جو یہودیت، یا مجوسیت پر قائم ہے اس پر جزیہ  ہے۔" (محمد رسول الله)


یہ  اصل نامہ مبارک بھی ایک فرانسیسی سیاح  نے اطراف بلاد  مصر سے ایک قطبی راہب سے خرید کر سلطان عبدالمجید خان مرحوم کی خدمت میں بطور ہدیہ (یہ خط ٹیونس میں دستیاب ہوگیا ہے اور ایک یمانی کے قبضہ میں ہے جسے نادر روز کار اور دستاویز جمع کرنے کا شوق ہے (روزنامہ نوائے وقت جولائی ۱۹۷۷ئ) میں مذکورہ گرامی نامہ کا عکس شائع ہوا ہے) پیش کیا تھا۔ اب وہ خزانہ شاہی میں  محظوظ ہے۔ اس کے اخیر میں یہ مہر ہے محمد رسول اللہ۔



۸-

 زیقعدہ ۷ ھ میں والیان عمان کے نام یہ  نامہ مبارک لکھا گیا۔ (بڑی قیمت دے کر خریدا گیا تھا)۔ (مکتوبات نبوی، از سیدمحبوب رضوی)


اللہ کے نام شروع جو بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ محمد بن عبداللہ کی طرف سے

جیفر و عبد پسران بلندی کے نام ۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ۔ اما بعد میں تم دونوں کو دعوت اسلام کی طرف بلاتا ہوں ۔ تم اسلام لاؤ سلامت رہو گے کیوں کہ میں تمام لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں تا کہ ڈراؤں اس کو جو زندہ ہو اور کافروں پر حجت ثابت ہوجائے۔ اگر تم اسلام کا اقرار کرلو تو میں تم کو تمہارا ملک دے دوں گا۔ اگرتم اقرار اسلام سے انکار کر دے تو تمہارا ملک تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اور میرے سوار تمہارے مکانات کی فضا میں اتریں گے اور میری نبوت تمہارے ملک پر غالب آئے گی۔(محمد رسول اللہ )

یہ نامہ مبارک حضرت عمرو بن العاص کے ہاتھ ارسال کیا گیا۔ جیفر وعبد دونوں ایمان لائے۔

سلسلہ خطوط ختم شد 

بحمد اللہ تعالیٰ


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو