الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط45
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
غزوہِ_ذی_قرد
ماه محرم میں غزوہ غابہ یا غزوہ ذی قرد پیش آیا ۔ موضع غابہ میں جو مدینہ سے چار میل ملک شام کی طرف واقع ہے۔ رسول الله کی اونٹیاں چرا کرتی تھیں۔
حضرت ابوذر غفاری کا لڑکا چرایا کرتا اور شام کو ان کا دودھ دوہ کر آپ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں لایا کرتا تھا ایک رات قبیلہ غطفان کے چالیس سواروں نے برکردگی شبینہ بن حصن فزاری کے چھاپا مارا۔ وہ حضرت ابوذر کے صاحب زادے کوقتل کر کے بیس اونٹنیاں لے گئے۔ اور حضرت ابوذر کی بیوی کو بھی گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔ دوسرے روز فجر کی اذان سے پہلے حضرت سلمہ بن اکوع جو مشہور تیر انداز اور تیز رفتار صحابی تھے کمان حمائل کیے مدینہ سے غابہ کی طرف جو نکلے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے غلام نے ان کو اس ماجرا کی خبر دی۔ انہوں نے کوہ سلع یا تثنیتہ الوداع پر کھڑے ہو کر مدینہ کی طرف منہ کر کے تین بار زور سے یا صبا حاہ پکارا یہاں تک کہ وہ آواز رسول اللہ تک پہنچ گئی پھر وہ پیادہ دشمن کی طرف دوڑے اور ان کو جالیا۔ اور تیراندازی سے وہ اونٹنیاں یکے بعد دیگرے چھڑا لیں۔ اور رسول الله بھی پانچ سو کی جمعیت کے ساتھ تعاقب میں نکلے۔غطفان زو قرد کے قریب ایک تنگ درہ میں پہنچے جہاں عینیہ ان کی مد دکو آیا۔ یہاں مقابلہ ہوا۔غطفان بھاگ گئے۔ آفتاب غروب نہ ہوا تھا کہ وہ زو قرد میں پانی پینے لگے حضرت سلمہ نے دوڑ کر ان پر تیر برسانے شروع کیے۔ اور ان کو پانی نہ پینے دیا ۔ وہ بھاگ کر اپنے علاقہ میں جو زو قرد سے ملحق تھا چلے گئے رسول اللہ شام کو زو قرد میں پہنچے۔ سوار و پیاده سب آپ سے آملے ۔ حضرت سلمہ نے عرض کیا میں نے ان کو پانی پینے نہ دیا۔ اگر مجھے سو سوار مل جائیں تو میں ان کو ایک ایک گرفتار کر لاتا ہوں۔ مگر رحمت اللعالمین نے جواب دیا:
اذا ملكت فسجح( جب تو قابو پا جائے تو نرمی سے کام لے)
ذو قرد میں ایک دن رات قیام کے بعد واپس تشریف لائے۔ حضرت ابو ذر غفاری کی بیوی اس کے بعد ناقہ پر آ پہنچی۔
غزوہ_خیبر
غزوة غابہ کے تین دن بعد جنگ خیبر پیش آئی خیبر کے یہود اسلام کے سخت دشمن تھے۔ غزوہ احزاب میں اگر چہ ان کو کامیابی نہ ہوئی ۔ مگر وہ اسلام کو مٹانے کے لیے برابر سازش کررہے تھے۔ غطفان ان کو مدد دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ رسول اللہ ایک ہزار چھ سو کی جمعیت کے ساتھ نکلے جن میں سے دو سو سوار اور باقی سب پیاده تھے ۔ راس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اہل خیبرکو کہلا بھیجا کہ محمد تم سے لڑنے آرہے ہیں گرتم ان سے نہ ڈرنا تمہاری تعداد بہت ہے۔ یہ تو مٹھی بھر ہیں جن کے پاس ہتھیار تک نہیں۔ اس سفر میں جب لشکر اسلام صہباء میں پہنچا جو خیبر سے بارہ میل پر ہے تو رسول اللہ نے نماز عصر پڑھ کھانا طالب فرمایا۔ صرف ستو پیش کیے گئے جو حسب الارشاد پانی میں گھول دیئے گئے ۔ آپ اور صحابہ کرام نے وہی کھائے۔ صہباء سے روانہ ہو کر خیبر کے قریب غطفان و یہود کے درمیان وادی رجیع میں اتر ے تا کہ غطفان یہود کی مدد کو نہ جائیں۔ چنانچا ایسا ہی وقوع میں آیا۔ یہ مقام اسلامی کیمپ یا لشکر گاه مقرر ہوا۔ یہاں سے لڑائی کے لیے تیار ہو کر جایا کرتے اور زخمیوں کو علاج کے لیے یہاں لایا جاتا غرض اسباب بار برداری اور مستورات کو یہاں چھوڑ دیا گیا اور رات یہاں گزاری۔
کیوں کہ رسول اللہ کی عادت مبارک تھی کسی قوم پر رات کو حملہ نہ کیا کرتے تھے۔ صبح کونماز فجر اول وقت پڑھ کر آگے بڑھے۔ جب بستی نظر آئی تو رسول الله نے تین بار یوں پکارا۔
الله أكبر خربت خيبر انا إذا انزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرین.
الله اکبر خیر و یران ہو گیا۔ ہم جب کسی قوم کی انگنائی میں اترتے ہیں ۔ تو ڈرائے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔
الله رب السموات الشبح وما أظللن ورب الأرضين السبع۔وما اقللن ورب الشيطين وما اضللن و رب البرياح وما أذرين
فانا نسئلک خير ھذہ القرية وخير أهلها وخير ما فيها و نعوذبك من شر هو القرية و شر آهلها وشر ما فيها
اے پروردگار سات آسمانوں کے اور ان چیزوں کے جن پر آسمانوں نے سایہ ڈالا
ہے۔ اور پروردگار سات زمینوں کے اور ان چیزوں کے جن کو زمینوں نے اٹھایا ہوا
ہے۔ اور پروردگار ہواؤں کے اور ان چیزوں کے جن کو ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں ہم تجھ سے اس بستی اور بستی والوں اور بستی کی چیزوں کی خیر مانگتے ہیں۔ اور اس بستی اور بستی والوں پر اور بستی کی چیزوں کے شر سے تیری پناه مانگتے ہیں۔
آپ کا معمول تھا کہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ۔ تو یہی دعا مانگتے ۔ اس کے بعد شہر میں داخلہ ہوئے اور تمام قلعے یکے بعد دیگرے فتح ہو گئے ۔ سب سے پہلے قلعہ ناعم فتح ہوا۔ حضرت محمود بن مسلم انصاری اوسی اسی قلعہ کی دیوار تلے شہید ہوئے گرمی کی شدت تھی۔ وہ لڑتے لڑتے تھک کر دیوار کے سایہ میں آ بیٹھے۔ کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق نے اکیلے با شراکت مرحب فصیل پر سے چکی کا پاٹ ان کے سر پرگرادیا جس کے صدمے میں انہوں نے شہادت پائی۔
ناعم کے بعد قموص فتح ہوا۔ یہ بڑا مضبوط قلعہ تھا جواسی نام کی پہاڑی پر واقع تھا ابن ابی الحقیق یہودی کا خاندان اس قلعے میں رہتا تھا۔ عرب کا مشہور پہلوان مرحب اسی قلعے کا رئیس تھا۔ رسول اللہ نے پہلے حضرت ابوبکر پھر حضرت عمرکوفوج دے کر بھیجا مگر یہ قلعہ فتح ب نہ ہوا۔ جب محاصرے نے طول کھینچا تو ایک روز آپ نے فرمایا کہ میں کل علم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر خدا فتح دے گا۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے۔ اور اللہ اور اللہ کے رسول بھی اس کو دوست رکھتے ہیں۔ صحابہ کرام نے یہ رات انتظار و بے قراری میں گزاری کہ دیکھیے علم کس کو عنایت ہوتا ہے۔ صبح کو ارشاد ہوا علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ فرمایا: ان کو بلاؤ۔ جب وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا اور دعا کی ۔ فورا آرام ہو گیا۔ اور علم ان کو عنایت ہوا دشمن کی طرف سے پہلے مرحب کا بھائی حارث کا جوشجاعت میں معروف تھا۔ وہ حضرت علی مرتضیٰ کے ہاتھ سے قتل ہوا توخود مرحب بڑے طمطراق سے نکلا۔ اس کو بھی بناء بر صحیح الروایات حضرت علی مرتضیٰ نے قتل کیا مرحب کے بعد یاسر نکلا۔ اسے حضرت زبیر نے کیا۔ اس طرح یہ محکم قلعہ بھی فتح ہو گیا۔ جو سبایا ہاتھ میں وہ صحابہ کرام میں تقسیم کر دی گئیں اور صفیہ بنت حی بن اخطب جو کنانہ بن ربیع کے تحت میں تھی۔ اس کو آزاد کر کے رسول اللہ اپنے نکاح میں لائے حضرت صفیہ کا باپ رئیس خیبر تھا۔ ان کا شوہ قبیلہ نضیر کارئیس تھا۔ باپ اور شوہر دونوں قتل کیے جا چکے تھے۔ وہ کنیز ہو کر بھی رہ سکتی تھیں ۔ مگر حضور رحمت اللعالمین نے حفظ مراتب اور رفع علم کےلیے ان کو آزاد کر کے اپنے عقد میں لے لیا اور وہ امہات المونین میں شامل ہوئیں۔ اس سے بڑھ کر اور کیا حسن سلوک ہوسکتا تھا۔ قموس کے بعد باقی قلعے جلدی فتح ہو گئے ان معرکوں میں ۹۳ یہود مارے گئے اور صحابہ کرام میں سے پندرہ نے شہادت پائی۔ فتح کے بعد زمین خیبر پر قبضہ کرلیا گیا مگر یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ زمین ہمارے قبضہ میں رہے ہم پیداوار کا نصف آپ کو دے دیا کریں گے۔ آپ نے یہ درخواست منظور کی اور فرمایا ہم تمہیں برقرار رکھیں گے جب تک ہم چاہیں۔ جب غلہ کا وقت آیا توآپ نے حضرت عبداللہ بن رواح کو وہاں بھیجا۔ انہوں نے غلہ کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کر کے یہود سے کہا کہ جوحصہ چاہو لے لو۔ اس پر وہ حیران ہو کر کہنے لگے کہ زمین و آسان ایسے ہی عدل سے قائم ہیں۔
غزوہِ_وادی_القری
جنگ خیبر سے فارغ ہوکر رسول اللد وادی القری کی طرف روانہ۔ہوئے۔ وادی خیبر اور تیماء کے درمیان واقع ہے۔ اس میں دیہات کا لگاتار سلسلہ چلا گیا ہے۔ اس لیے اسے وادی القری کہتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر یہود کو دعوت اسلام دی گی۔ انہوں نے قبول نہ کی۔ بلکہ برسر پیکار ہوئے۔ مگر جلدی مغلوب ہو گئے خیبر کی طرح غنائم تقسیم کردی گئیں۔ اور زمین و باغات نصف پیداوار پر ان کے قبضہ میں چھوڑ دیئے گئے۔ تیماء کے یہودنے جب وادی القری کا حال سنا تو قاصد بھیج کر رسول الله سے جزیہ پر صلح کرلی۔ اور زمین ان ہی کے قبضہ میں رہی۔ جب رسول اللہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو آپ نے حضرت محیصہ بن مسعود کو اہل فدک کے پاس بھیجا۔ وہاں کا رئیس یوشع بن نون یہودی تھا۔ دعوت اسلام دی گئی۔ وہ خیبر کا حال سن کر پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے نصف زمین پر کرلی۔ یہود خیبر کو اگر چہ امان دیا گیا تھا۔مگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آتے تھے چنانچہ ایک دن زینب نے جو سلام بن مشکم کی زوجہ اور مرحب کی بھاوج تھی ایک بکری کا گوشت بھون کر اس میں زہرملا دی اور بطور ہدیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ نے اس میں سے بازو اٹھا لیا اور کھانے لگے۔ باقی چندصحابہ حاضرین نے تناول کیا۔ آپ نے کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ گوشت کھاؤ اور اس یہودیہ کو بلا بھیجا۔ وہ حاضر خدمت ہوئی تو فرمایاتم نے اس گوشت میں زہر ملایا ہے۔ وہ بولی آپ کو کس نے خبر دی؟ آپ نے بازو کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: کہ اس بازو نے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کہا ہاں میں نے اس میں زہر ملا دی ہے بدیں خیال کہ اگر آپ پیغمبر ہیں تو زہر اثر نہ کرے گی ۔ اور اگر آپ پیغمبر نہیں ہیں تو ہم آپ سے آرام پائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات شریف کے لیے کسی سے انتقام نہ لیتے تھے۔( مشکوٰۃ شریف: باب فی المعجزات: فصل ثانی) اس لیے معاف فرما دیا۔وہ صحابہ کرام جنہوں نے کھایا تھا۔ انتقال فرما گئے ان میں سے سب سے پہلے حضرت بشیر بن براء نے انتقال فرمایا تو ان کے قصاص میں اس یہودیہ کو قتل کر دیا گیا۔
اسی سال حضرت خالد بن ولید (فاتح شام) اور حضرت عمرو بن العاص (فاتح مصر) ایمان لائے۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں