سیرت رسول عریﷺ
#قسط43
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
3- اصحمہ نجاشی کو جو مبارک نامہ لکھا گیا ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔
اللہ کے نام شروع جو بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا ۔
اللہ کے رسول محمد کی طرف سے۔ نجاشی شاه حبشہ کے نام۔ تو سلامتی والا ہے۔ میں تیرے پاس خدا کا شکر کرتا ہوں ۔جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے۔ پاک ذات سلامت سب عیب سے۔
امان دینے والا نگہبان اور میں گواہی دیتا ہوں کے عیسیٰ ابن مریم روح اللہ ہیں اور اللہ کا کلمہ جسے اس نے القاء کیا مریم بتول طیبہ عفیفہ کی طرف ۔ وہ بارور ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ۔ پس خدا نے اسے پیدا کیا اپنی روح سے اور اس کے پھونکنے سے۔ جیسا کہ پیدا کیا آدم کو اپنے ہاتھ سے۔ اور میں تجھے بلاتا ہوں اللہ کی طرف جو وحده لا شریک ہے اور اس کی اطاعت پر موالات کی طرف اور یہ کہ تو میری پیروی کرے اور ایمان لائے اس چیز پر جو مجھے ملی۔ کیوں کہ میں تیری طرف اللہ کا رسول ہوں اور میں تجھ کو اور تیرے لشکروں کو اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہوں ۔ میں نے پہنچا دیا اور نصیحت کر دی تم میری نصیحت کو قبول کرو »
جب یہ نامہ مبارک حضرت عمرو بن ضمری کے ہاتھ اسمہ نجاشی کو ملا تو اس نے اسے اپنی آنکھوں پر رکھا اور تخت سے اتر کر زمین پر بیٹھ گیا۔ پھر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ اور نامہ مبارک کو ہاتھی دانت کے ڈبے میں رکھ دیا۔ اور یہ جواب لکھا:
اللہ کے نام شروع جو بہت بڑا مہربان نہایت رم والا۔ اللہ کے رسول محمد کے نام
نجاشی اصحمہ کی طرف سے یا رسول اللہ آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اللہ کی برکتیں۔جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اس نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت کی ۔ اما بعد
یا رسول اللہ ! مجھے آپ کا نامہ ملا۔ آپ نے جو حضرات عیسی کا حال بیان کیا ہے۔ سو
آسان و زمین کے رب کی قسم کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے زرہ بھی زیادہ نہیں ہیں۔ وہ بے شک ایسے ہی ہیں جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے ۔ اور ہم نے پہچان لیا جو آپ
نے ہماری طرف لکھ کر بھیجا ہے۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول صادقمصدق ہیں اور میں نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے چچیرے بھائی کی بیعت کی ۔اور اس کے ہاتھ پر الله رب العالمین کےلیے اسلام لایا اور میں آپ کی خدمت میں اپنے بیٹے کو بھیج رہا ہوں ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں خود حاضر ہو جاؤں تو تیار ہوں ۔
پس میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں حق ہے۔ والسلام علیک ورحمة الله وبرکاتہ۔ (محمد رسول اللہ)
اصحمہ کو رسول الله نے عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ ایک اور نامہ بھیجا تھا۔ کہ ام حبیبہ (امیر معاویہ کی بہن ) کو نکاح کا پیغام دو اور مہاجرین میں سے جو اب تک حبشہ میں ہیں ان کو یہاں۔ پہنچا دو ۔ ارشاد مبارک کی تعمیل کی گئی۔ حضرت امہ حبیبہ نے حضرت خالد بن سعید بن العاص کو اپنا وکیل مقرر کیا۔ اور نجاشی نے رسول اللہ کا نکاح ام حبیبہ سے کر دیا۔ اور مہر جو چارسو دینار تھا وہ بھی خود ہی ادا کر دیا ام حبیہ کا پہلا خاوند عبیدالله بن حجش اسدی تھا۔ دونوں ہجرت کر کے مدینہ میں چلے آئے تھے گر عبید الله نصرانی ہوکر مر گیا تھا۔ اس طرح ام حبیبہ بیوہ رہ گئی تھیں۔ نجاشی نے حضرت جعفر طیار اور حضرت ام حبیبہ اور دیگر مہاجرین حبشہ کو ایک جہاز میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ کیا۔ اس کے بعد دوسرے جہاز میں اپنے بیٹے کو مصاحبوں کے ساتھ رسول اللہ کی خدمت میں ایک خط دے کر بھیجا۔ جس میں اپنے ایمان لانے کا حال لکھا تھا۔ پہلا جہاز صحیح و سالم منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تشریف رکھتے تھے مگر دوسرا جہاز سمندر میں ڈوب گیا اور سوار سب ہلاک ہو گئے۔
اصحمہ نجاشی نے ۹ھ میں وفات پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنازے کی نماز غائبانہ پڑھی ۔ رسول اللہ نے دوسرے نجاشی کو بھی جو اصحمہ کے بعد بادشاہ ہوا دعوت اسلام کا خط لکھا تھا۔ اس دوسر ے نجاشی کے ایمان کا حال معلوم نہیں۔
3- مقوس والی مصر ہرقل قیصر روم کا باج گذار تھا۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے ہاتھ اس کو یہ نامہ مبارک بھیجا گیا۔
الله کے نام شروع جو بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول
محمد کی طرف سے مقوس امیر قبط کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ۔ اما بعد میں بلاتا ہوں تجھ کو دعوت اسلام کی طرف تو اسلام سلامت رہے گا۔ دے گا تجھ کو اللہ تعالیٰ ثواب دوہرا۔ اگر تو نے نہ مانا تو تجھ پر ہوگا گناہ قبطیوں کا۔ اے اہل کتاب تم آؤ طرف ایسی بات کی جو یکساں ہے ہم میں اور تم میں۔ کہ ہم عبادت نہ کریں مگر الله کی اور شریک ٹھہرائیں اس کے ساتھ کسی کو۔ اور نہ بنائے ہم سے کوئی دوسرے کو رب سوائے اللہ کے سو اگر وہ نہ مانیں تو کہو تم گواہ ہو کر ہم ہیں ماننے والے۔“(محمدرسول الله)
حسن اتفاق سے اصل نامہ مبارک ایک فرانسیسی سیاح کو اخمیم کے گرجا میں ایک راہب سے ملا۔ اس نے خرید کر سلطان عبدالمجید خاں مرحوم والی سلطنت عثمانی کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ اور اب قسطنطنیہ میں محفوظ ہے۔ اس کے دو فوٹو اس وقت ہمارے زیرنظر ہیں ہم نے اسے تبرکاً مطابق اصل لفظ بلفظ سطر وار نقل کیا ہے اس کے اخیر میں رسول اللہ کی مہر ثبت ہے۔ جس کی اوپری سطر میں اللہ دوسری میں رسول اور تیسری میں محمد ہے۔ دیگر خطوط کے آخر میں بھی ہیں مہر مبارک ثبت تھی۔ یہی نامہ مبارک مقوقس کو سکندریہ میں ملا۔ اس نے ہاتھی دانت کے ڈبے میں ر کھا لیا اور اس پر اپنی مہر لگادی۔ اور جواب میں عربی زبان میں یوں لکھوایا۔( جیساکہ خطوط مبارک شروع کرنے سے پہلے عرض کی گئی تھی کہ صرف اردو ترجمہ لکھا جائے گا ۔ اس خط کے جواب۔ بھی اردو میں لکھا گیا ہے)
اللہ کے نام شروع جو بہت بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ محمد بن عبد اللہ کے نام مقوقس امیر قبط کی طرف سے سلام آپ پر ۔ اما بعد میں نے آپ کا خط پڑھا اور سمجھ گیا جو کچھ آپ نے اس میں ذکر کیا ہے۔ اور جس کی طرف آپ بلاتے ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے۔ میرا گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا میں نے آپ کے قاصدکی عزت کی اور آپ کی طرف دو کنیزیں جن کی قبطیوں میں بڑی عزت ہے اور کپڑے بھیجتا ہوں ۔ اور آپ کی سواری کے لیے ایک خچر ہدیہ بھیجتا ہوں ۔ والسلام علیک
یہ دو کنیزیں ماریہ اور سیرین نامی سگی بہنیں تھیں ۔ رسول اللہ نے ان کو دعوت اسلام دی تو ماریہ نے فوراً اور سیرین نے کچھ توقف کے بعد کلمہ شہادت پڑھا اس واسطے حضرت ماریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حرم نبوی میں داخل کر لی گئیں۔ اور سیرین حضرت حسان بن ثابت شاعر کو عنایت ہوئی ۔ خچر کا نام دلدل تھا۔ حضرت حاطب نے قیس کا حال جو ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس خبیث کو ملک کی طمع نے اسلام سے محروم رکھا۔ حالانکہ اس کا ملک باقی نہ رہے گا۔ چنانچہ ایساہی ہوا۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
سابقہ تمام اقساط اس لنک سے پڑھیں🥰
https://www.facebook.com/108244310789857/posts/143000247314263/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں