الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط33
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز:محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
جب میدان کار زار سرد ہو گیا۔ تو آپ نے فرمایا: ایسا کون ہے؟ جو ابو جہل کی خبر لائے ۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود گئے ۔ اور اسے اس حال میں پایا کہ عفراء کے بیٹوں معاذ اور معوذ نے اسے ضرب شمشیر سے گرایا ہوا تھا اور اس میں ابھی رمق حیات باقی تھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود اس لعین کے سینے پر بیٹھ گئے۔ اور اس کی ناپاک ڈاڑھی کو پکڑ کر کہا: کیا توں ابوجہل ہے؟ بتا آج تجھے اللہ نے رسوا کیا؟ اس لعین نے جواب دیا" رسوا کیا کیا؟ تمہارا مجھے قتل کرنا اس سے زیادہ نہیں کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ۔ کاش مجھے کسان کے سوا کوئی اور قتل کرتا“۔ اس جواب میں اس لعین کا تکبر اور انصار کی تحقیر پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ معاذ اور معوذ انصار میں تھے۔ اور انصار کھیتی باڑی کا کام کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس لعین کا کام تمام کر دیا۔ اور یہ خبر حضور اقدس ﷺ کی خدمت اقدس میں لائے۔ حضور نے یہ سن کر تین بار الله الذي لا اله الا هو پڑھا۔ چوتھی بار یوں فرمایا: الله اكبر. الحمد لله الذي صدق وعده و نصر الاحزاب وحده. پھر آپ حضرت ابن مسعود کو ساتھ لے کر اس لعین کی لاش کے پاس تشریف لے گئے اور دیکھ کر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے
آپ نے جنگ سے فارغ ہو کر حضرت زید بن حارثہ کو اس فتح کی خوشخبری دینے کےلیے مدینہ میں بھیجا۔ اور اسی غرض کےلیے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو اہل عالیہ (مدینہ کی بالائی آبادی) کی طرف بھیجا ۔ جب حضرت زید مدینہ میں پہنچے ۔ تو بقیع میں حضرت رقیہ بنت رسول الله کو دفن کر رہے تھے۔
اس جنگ میں مسلمانوں میں سے صرف چودہ شہید ہوئے جن کے اسمائے مبارک یہ ہیں۔
حضرت عبیدہ بن حارث بن مطلب بن عبد مناف، حضرت عمیر بن ابی وقاص، حضرت ذوالشمالین عمیر بن عبد عمرو بن نضلہ، حضرت عاقل بن ابی بکیر، حضرت مہجع مولی عمر بن الخطاب، حضرت صفوان بن بیضاء (یہ چھ مہاجرین میں سے ہیں) حضرت سعد بن خثیمہ، حضرت مبشر بن عبد المنذر، حضرت حارث بن سراقہ ، حضرت عوف ومعوز پسران عفرائی، حضرت عمیر بن حمام حضرت رافع بن معلی حضرت یزید بن حارث بن فسحم ( یہ آٹھ انصار میں سے ہیں)
مشرکین میں سے ستر مقتول اور ستر گرفتار ہوئے ۔ من جملہ مقتولین یہ ہیں: شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، عاص بن سعيد بن عاص، ابوجہل بن ہشام، ابوالبختری، حنظلہ بن ابی سفیان بن حرب، حارث بن عامر بن نوفل بن عبدمناف، طعیمہ بن عدی، زمعہ بن اسود بن مطلب، نوفل بن خویلد، عاص بن ہشام بن مغیرہ( جو حضرت عمر
فاروق اعظم کا ماموں تھا۔) امیہ بن خلف علی بن امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، معید بن وہب ۔
اور من جملہ اسیران یہ ہیں: نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ، عباس بن عبد المطلب عقیل بن ابی طالب، ابوالعاص بن ربیع ، عدی بن خیار، ابوعزیر بن عمیر، ولید بن ولید بن مغیرہ، عبدالله بن ابی بن خلف، ابوعزہ عمرو بن عبداللہ حجمی شاعر، وہب بن عمیر بن وہب حجمی، ابو وداعہ بن ضہیرہ سہمی، سہیل بن عمرو عامری۔
آپ کے حکم سے مشرکین مقتولین سے چوبیس رؤساء کی لاشیں ایک گڑھے میں
ڈال دی گئیں جس میں مردار پھینکا کرتے تھے۔ امیہ بن خلف جوزرہ میں پھول گیا تھا اس پر جہاں وہ پڑا تھاوہیں مٹی ڈال دی گئی ۔ اور باقی لاشوں کو اور جگہ پھینک دیا گیا۔
حضور اقدس ﷺ کی عادت شریف تھی کہ جب دشمن پر فتح پاتے تو تین دن میدان جنگ میں قیام فرماتے۔ چنانچہ بدر میں بھی تیسرے روز سوار ہو کر مقتولین کے گڑھے پرتشریف لے گئے اور ان سے یوں خطاب فرمایا: ( صحیح بخاری ،کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل) اے بیٹے فلاں کے۔ اے فلاں بیٹے فلاں کے، کیا اب تمہیں تمنا ہے۔ کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرتے۔ جو کچھ ہمارے پروردگار نے ہم سے وعدہ فرمایا
تھا۔ ہم نے اسے سچ پایا۔ کیا تم نے بھی اسے جو تمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھا۔سچ پایا؟ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ان بے روح جسموں سے خطاب فرمارہے ہیں؟ اس پر حضور اقدس نے فرمایا: قسم ہے خدا کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے( اس سے سماع موتی ثابت ہوتی ہے۔ مزید تفصیل کےلیے کتاب البرزخ مؤلفہ خاکستار دیکھیں) پھر جناب رسالت مآب لوف التحیۃ والصلواۃ مظفر و منصور اسیران جنگ اورغنائم کے ساتھ مدینہ کو واپس ہوئے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام صفراء میں پہنچے جو بدر سے ایک منزل ہے تو آپ نے غنیمت مجاہدین میں برابر برابر تقسیم فرمادی۔ اسی مقام پر حضرت عبیدہ بن حارث نے جن کا پائے مبارک کٹ گیا تھا۔ وفات پائی۔ صفراء ہی میں نضر بن حارث کوقتل کردیا گیا یہاں سے روانہ ہوکر جب
عراق النطبیہ میں پہنچے تو آپ کے حکم سے عقبہ بن معیط کو قتل کردیا گیا۔ مدینہ میں اس فتح کی اتنی خوشی تھی کہ لوگوں نے مبارک باد کہنے کے لیے حضور اقدس ﷺ کا مقام روحاء میں استقبال کیا۔ اسیرانِ
جنگ جناب سرور عالم کے ایک دن بعد مدینہ میں پہنچے ۔ آپ نے ان کو صحابہ میں تقسیم کر دیا تھا۔ اور تاکید فرما دی تھی کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔ چنانچہ ابو عزیر بن عمیر کا بیان ہے۔
کہ جب مجھے بدر سے لائے تو میں انصار کی ایک جماعت میں تھا۔ وہ صبح اور شام کا کھانا لاتے ۔ تو روٹی مجھے دیتے اور خود کھجوریں کھاتے ۔ ان میں سے جس کے ہاتھ روٹی کا ٹکڑا آتا۔ وہ میرے آگے رکھ دیتا ۔مجھے شرم آتی ۔ میں اسے واپس کرتا مگر وہ مجھ ہی کو واپس کر دیتا۔ خود ہاتھ نہ لگاتا۔(سیرت ابنِ ہشام)
جن قیدیوں کے پاس کپڑے نہ تھے ان کو کپڑ ے دلوائے گئے۔ حضرت عباس چونکہ دراز قد تھے۔ کسی کا کرتا ان کے بدن پر ٹھیک نہ اترتا تھا۔ عبدالله بن ابی( رئیس المنافقین )نے جوحضرت عباس
کا ہم قدرتھا۔ اپناکرتا منگوا کر دیا صحیح بخاری میں سفیان بن عیینہ کا قول منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالله مذکور کوقبر سے نکلوا کر جو اپنا کرتہ پہنایا تھا۔ وہ اکثر کے نزدیک اس احسان کا بدلہ تھا۔ رسول اللہﷺ نے قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! یہ آپ کی قوم اور آپ کے قبیلہ کے ہیں۔ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان
سے فدیہ لیا جائے۔ شاید الله تعالی ان کو اسلام کی تو فیق دے‘‘ حضرت فاروق اعظم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری تو وہ رائے نہیں جو ابو بکر کی ہے بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں ۔ تا کہ ہم ان کوقتل کر ڈالیں ۔ مثلاً عقیل کو حضرت علی کے حوالے کر دیں ۔ اور میرے
فلاں رشتہ دار کو میرے سپرد کر دیں۔
حضور اقدس ﷺ نے حضرت صدیق اکبر کی رائے پر عمل فرمایا۔
قیدیوں میں سے ہر ایک کا فدیہ حسب استطاعت ایک ہزار درہم سے چار ہزار درہم تک تھا جن کے پاس مال نہ تھا۔ اور وہ لکھنا جانتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا فدیہ یہ تھا کہ ۔انصار کے
دس لڑکوں کو لکھنا سکھادے۔( طبقات ابنِ سعد غزوہِ بدر) چنانچہ زید بن ثابت نے اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔ بعضوں مثلاً اوعزہ حجمی شاعر کو حضور اقدس ﷺ نے یونہی چھوڑ دیا۔ ان قیدیوں میں سے ایک سہیل بن عمرو تھا ۔ جو عام مجمعوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تقریریں کیا کرتا تھا۔ حضرت عمر ابن الخطاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں سہیل کے دندان پیشین اکھاڑ دوں اور اس کی زبان نکال دوں پھر وہ کسی جگہ آپ کے خلاف تقریر نہ کر سکے گا‘ حضور نے فرمایا میں اس کا عضو نہیں
بگاڑتا ۔ ورنہ خدا اس کی جزا میں میرے اعضا بگاڑ دے گا ۔ گو میں نبی ہوں“۔
حضرت عباس ان دس روسائے قریش میں تھے جنہوں نے لشکر قریش کی رسد کا سامان اپنے ذمہ لیا تھا۔ اس غرض کے لیے حضرت عباس کے پاس بیس اوقیہ سونا تھا ۔ چونکہ ان کی نوبت کھانا کھلانے کی نہ آئی۔ اس لیے وہ سونا انہیں کے پاس رہا۔ اورغنیمت میں شامل کرلیا گیا۔ حضرت عباس نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میں مسلمان ہوں‘‘ حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو تیرے اسلام کا خوب علم ہے۔
اگر توں سچاہے تو اللہ تجھے جزادے گا توں اپنے فدیہ کے ساتھ عقیل بن ابی طالب اورنوفل بن حارث بن عبدالمطلب اور اپنے خلیف عمرو بن حجد م کا فدیہ بھی ادا کر۔ حضرت عباس نے جواب دیا کہ ۔ میرے پاس کوئی مال نہیں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ وہ مال کہاں ہے جو توں نے اپنی بیوی اپنی بیوی ام الفضل کے پاس رکھا تھا اور اسے کہا تھا کہ اگر میں لڑائی میں مارا جاؤں۔ تو اتنا فضل کو اتنا عبد اللہ کو اور اتنا عبیداللہ کو ملے ۔ یہ سن کر حضرت عباس نے کہا: قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اس مال کا علم سوائے میرے اور ام الفضل کے کسی کو نہ تھا اور میں خوب جانتا ہوں کہ آپ اللہ عزوجل کے رسول ہیں۔ پس حضرت عباس نے اپنا اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں اور اپنے حلیف کا فدیہ ادا کردیا
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

عمدہ تحریر
جواب دیںحذف کریں