الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط 32
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
یہ سب کچھ ہر دو فوج کے اجتماعی حملہ سے پہلے وقوع پذیر میں آیا۔ پھر دونوں فوجیں مقابلہ کےلیے نزدیک ہوئیں ۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی کہ میرے حکم کے بغیر حملہ نہیں کرنا۔ اگر تمہیں دشمن آ گھیرے تو نیزوں سے اسے دور رکھو اہل اسلام نے جب جنگ سے چارہ نہ دیکھا تو اپنی تعداد کی کمی اور دشمن کی کثرت دیکھ کر خدا سے دعا کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صفیں درست کرنے کے بعد عریش مبارک میں تشریف لے آئے۔ عریش میں بجز یار غار آپ کے ساتھ کوئی نہ تھا۔ اس وقت حضور انور قبلہ رو ہو کر یوں دست بدعا ہوئے: یا اللہ آپ نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے اسے پورا فرما۔
یا اللہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ عطاء فرما۔ یا اللہ اگر توں مسلمانوں کا یہ گر وہ ہلاک کر دے گا۔ تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی حضور اقدس ﷺ نے دعا میں اتنا الحاح کیا کہ چادر شانہ مبارک سے گر پڑی۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چادر اٹھا کر شانہ مبارک پر ڈال دی۔ پھر آپ کا دست مبارک پکڑ لیا اور عرض کی۔ یا رسول اللہ آپ کو اپنے پرودگار سے اتنی ہی درخواست کافی ہے جو اس نے آپ سے وعدہ کیا ہے وہ جلدی پورا کردے گا ۔ عریش ہی میں آپ پر غنودگی طاری ہوئی۔ جب بیدار ہوئے تو فرمایا: ابو بکر! بشارت ہو ۔ اللہ کی نصرت آ پہنچی ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار باگ پکڑے آرہے ہیں اور ان کے دندان پیشین پر غبار ہے۔ اس انعام کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے.
ترجمہ:
جب تم لگے فریاد کرنے اپنے رب سے تو پہنچا تمہاری پکار کو کہ میں تمہاری مدد بھیجوں گا ہزار فرشتے لگاتار آنے والے۔ (الانفال:۹)
پہلے ہزار فرشتے آئے۔ پھر تین ہزار ہو گئے۔ بعد ازاں بصورت صبر و تقویٰ پانچ ہزار ہو گئے۔ شیطان نے جو بصورت سراقہ کفار کے ساتھ تھا۔ جب یہ آسمانی مدد دیکھی تو اپنی جان کے ڈر سے بھاگ گیا۔ حضور اقدس ﷺ نے کنکریوں کی مٹھی لے کر کفار کی طرف پھینک دی ( اسی کی نسبت قرآن کریم میں ارشاد ہے! اور توں نے نہیں پھینکی تھی مٹی خاک جس وقت پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی: الانفال)
کوئی مشرک ایسا نہ تھا جس کی آنکھ میں کنکریاں نہ ہوں اب حضور اقدس ﷺ نے اجتماعی حملہ کا حکم دیا۔ گھمسان کے معرکے کے وقت اللہ تعالیٰ نے کفار کو مسلمان اپنے سے دو چند دکھائے۔ جس سے ان پر رعب طاری ہو گیا۔ قتل کا بازار گرم تھا فرشتے نظر نہ آتے تھے ۔ مگر ان کے افعال نمایاں تھے۔ کہیں کسی مشرک کے منہ اور ناک پر کوڑے کی ضرب کا نشان پایا جاتا ہے۔ کہیں بے تلوار سر کٹتا نظر آتا کہیں آواز آتی اقدم حیزوم ( حیزوم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے یعنی اے حیزوم آگے بڑھو) آخر کار کفار مکہ کو شکت ہوئی اور وہ بھاگ نکلے خود حضور اقدس ﷺ عریش سے ننگی تلوار علم کیے یہ پکارتے ہوئے نکلے
سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ ۞
ترجمہ:
عنقریب ان کی جماعت شکست کھائے گی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے(قمر:۴۵)
حضور اقدس ﷺ نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ارشاد فرمایا تھا ( سیرت ابنِ ہشام) کہ مجھے علم ہے کہ بنو ہاشم وغیرہ میں سے چند لوگ جبروا کراہ کفار کے ساتھ شامل ہو کر آئے ہیں۔ جو ہم سے لڑنا نہیں چاہتے ۔ اگر ان میں سے کوئی تمہارے مقابل آ جائے تو تم اسے قتل نہ کرو ۔ حضور انورﷺ نے ان لوگوں کے نام بھی بتا دیے تھے۔ ازاں جملہ ابوالبختری عاص بن ہشام تھا۔ جو مکہ میں حضور اکرمﷺ کا کسی قسم کی اذیت نہ دیا کرتا تھا۔ ابوالبختری کے ساتھ جناوہ بن ملیحہ بھی اس کا ردیف تھا مجذر بن زیاد کی نظر جو ابوالبختری پر پڑی۔ تو کہتا ہےکہ۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں تیرے قتل سے منع فرمایا ہے اس لیے تجھے چھوڑتا ہوں۔ ابوالبختری نے کہا کہ میرے رفیق کو بھی ۔ مجذر نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم تیرے رفیق کو نہیں چھوڑیں گے ہمیں رسول اللہﷺ نے فقط تیرے چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ ابوالبختری نے کہا! تب اللہ کی قسم میں اور وہ دونوں جان دیں گے۔ میں مکہ کی عورتوں کا یہ طعنہ نہیں سن سکتا۔ کہ ابوالبختری نے اپنی جان بچانے کےلیے اپنے رفیق کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب مجذر نے حملہ کیا تو ابوالبختری بھی یہ رجز پڑھتا ہوا حملہ آور ہوا اور مارا گیا
لن یسلم ابن حرۃ زمیلہ حتیٰ یموت او یری سبیلہ
ترجمہ شعر :
شریف زادہ اپنے رفیق کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب تک مر نہ جائے یا اپنے رفیق کے بچاؤ کی راہ نہ دیکھ لے۔آپ ﷺ کا بڑا دشمن امیہ بن خلف بھی جنگ بدر میں شریک تھا اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ حضرت بلال پہلے اسی امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ امیہ ان کو اذیت دیا کرتا تھا۔ تاکہ اسلام چھوڑ دے ۔ مکہ کی گرم ریت پر پیٹھ کے بل لٹا کر ایک بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا کرتا تھا پھر کہا کرتا تھا۔
تمہیں یہ حالت پسند ہے یا ترک اسلام؟ حضرت بلال اس حالت میں بھی احد احد
پکارا کرتے تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کسی زمانہ میں مکہ میں امیہ سے معاہدہ کیا تھا۔ کہ وہ اگر مدینہ میں آئے گا تو یہ اس کی جان کے ضامن ہوں گے ۔ عہد کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھ کر حضرت عبد الرحمان بن عوف نے چاہا کہ وہ میدان جنگ سے بچ کر نکل جائے ۔ اس لیے اس کو اور اس کے بیٹے کو لے کر ایک پہاڑ پر چڑھے۔ اتفاق یہ کہ حضرت بلال نے دیکھ لیا۔ اور انصار کو خبر کر دی۔ لوگ دفعۃ ٹوٹ پڑے۔ حضرت عبد الرحمن نے امیہ کے بیٹے کو آگے کر دیا۔ لوگوں نے اسے قتل کر دیا لیکن اس پر بھی قناعت نہ کی ۔ اور امیہ کی طرف بڑھے۔ امیہ چونکہ جسیم و ثقیل تھا۔ اس لیے حضرت عبد الرحمن نے کہا تم زمین پر لیٹ جاؤ ۔ وہ لیٹ گیا تو آپ اس پر چھا گئے۔ تاکہ لوگ اس کو مارنے نہ پائیں ۔ مگر لوگوں نے حضرت عبد الرحمن کی ٹانگوں کے اندر سے ہاتھ ڈال کر اس کوقتل کردیا۔ حضرت عبد الرحمن کی بھی ایک ٹانگ زخمی ہوئی اور زخم کا نشان مدتوں باقی رہا ۔(صحیح بخاری:کتاب الوکالتہ
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں