الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط34
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
شکست قریش کی خبر مکہ میں سب سے پہلے حیسمان بن ایاس خزاعی لایا۔( کامل ابنِ کثیر غزوہِ بدر) قریش اپنے مقتولین پر نوحہ کرنے لگے۔ پھر بدیں خیال کہ مسلمان ہم پرہنسیں گے۔ نوحہ بند کر دیا۔ شکست کی خبر پہنچنے کے نو روز بعد ابولہب مرگیا۔ اسود بن عبد یعوث کے دو بیٹے زمعہ اور عقیل اور ایک پوتا حارث بن زمعہ میدان بدر میں کام آئے ۔ وہ چاہتا تھا کہ ان پر روئے۔ مگر ممانعت کے سبب خاموش تھا۔
ایک رات اس نے کسی عورت کے رونے کی آواز سنی چونکہ اس کی بینائی جاتی رہی تھی۔ اس لیے اس نے اپنے غلام سے کہا کہ جاؤ دریافت کرو کیا اب رونے کی اجازت ہوگئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو میں بھی زمعہ پرنوحہ کروں ۔ کیوں کہ میرا جگر جل گیا ہے۔ غلام نے آ کر کہا: ایک عورت کا اونٹ گم ہوگیا
ہے۔ اس کے لیے رو رہی ہے۔ یہ سن کر اسود کی زبان سے بے اختیار یہ شعر نکلے
اتبكی ان يضل لها بعير__ و يمنعها من النوم السهود
فلا تبكی على بكر ولكن ____على بدر تقاصرت الجدود
و بکی ان بكيت على عقيل ____ و بکی حارثا اسد الاسود
و بکیهم ولا سمی جمیعا ___ و ما لابی حكيمة من ندید
کیا وہ اونٹ کے گم ہونے پر روتی ہے اور بے خوابی اسے نیند نہیں آنے دیتی سو وہ
جوان اونٹ پر نہ روئے بلکہ بدر پر جہاں قسمتوں نے کوتاہی کی اگر تجھ کو رونا ہے تو عقیل پر رو اور شیروں کے شیر حارث پر رو اور ان سب پررو اور نام نہ لے اور ابوحیمکہ
(زمعہ) کا کوئی ہمسر نہیں۔
يوم بدر واقع میں یوم فرقان تھا۔ کہ کفر و اسلام میں فرق ظاہر ہو گیا ۔ اور اللہ عزوجل نے ضعف کے بعد مسلمانوں کو تقویت دی۔ چنانچہ اس نعمت کو یوں یاد دلایا ہے:
ولقد۔نصرکم اللہ بدر و انتم اذلۃ :
اور تمہاری مدد کر چکا ہے اللہ بدر کی لڑائی میں اور تم بے مقدور تھے ۔
اس دن سے اسلام کا سکہ کفار کے دل پر جم گیا۔ اور اہل مدینہ میں بہت سے لوگ ایمان لائے۔ اہل بدر کے فضائل میں اتنا ہی کہ دینا کافی ہے۔ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں فرمایا ہے۔ بے شک الله اہل بدر سے واقف ہے۔ کیوں کر اس نے فرما دیا۔ تم جو عمل کرو جو چاہو البتہ تمہارے واسطے جنت ثابت ہو چکی یا تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا۔ آخرت میں مغفور ہونے کے علاوہ دنیا میں بھی بدری ہونا خاص امتیاز کا سبب شمار کیا جاتا تھا۔ بلکہ وہ ہتھیار بھی جن سے بدر میں کام لیا گیا۔ تبرک خیال کیے جاتے تھے۔ چنانچہ حضرت زبیر نے جو برچھی عبید بن سعید بن عاص کی آنکھ میں ماری تھی ۔ وہ یادگار رہی ۔ بدیں طور کہ حضور اقدس نے حضرت زبیر سے مستعار لی ۔ پھر آپ کے چاروں خلیفوں کے پاس منتقل ہوتی رہی ۔ بعد ازاں حضرت عبد الله بن زبیر کے پاس رہی۔ یہاں تک کہ ۷۳ھ میں حجاج نے ان کو شہید کر دیا۔ اہل بدر کے توسل سے جو دعا مانگی جائے وہ بفضل الہیٰ میں مستجاب ہوتی ہے جیسا کہ مشائخ کا تجربہ ہے۔
اندلس کے مشہور سیاح محمد بن جبیر (متوفی ۲۷ شعبان ۶۱۴ھ) نے بدر کے حال میں یوں لکھا ہے (سفر نامہ محمد بن جبیر اندلسی ، اردو ترجمہ مطیع احمدی ریاست رامپور صفحہ ۱۹۲)اس موضع میں خرما کے بہت باغ ہیں۔ اور آب رواں کا ایک چشمہ ہے۔ موضع کا قلعہ بلند ٹیلے پر ہے۔ اور قلعہ کا راستہ پہاڑوں کے بیچ میں ہے، وہ قطعہ زمین نشیب میں ہے۔ جہاں اسلامی لڑائی ہوئی تھی ۔اور الله تعالی نے اسلام کو عزت اور اہل شرک کو ذلت دی۔ آج کل اس زمین میں خرما
کا باغ ہے اور اس کے بیچ میں گنج شہیداں ہے۔ اس آبادی میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف جبل الرحمتہ ہے۔ لڑائی کے دن اس پہاڑ پر فرشتے اترتے تھے۔ اس پہاڑ کے ساتھ جبل الطبول ہے۔
اس کی قطع ریت کے ٹیلے کی سی ہے۔ کہتے ہیں ہر شب جمعہ کو اس پہاڑ سے نقارے کی صدا آتی ہے۔
اس لیے اس کا نام جبل الطبول رکھا ہے ہنوز نصرت نبوی کی یہ بھی ایک کرامت باقی ہے۔
اس بستی کے ایک عرب باشندے نے بیان کیا کہ میں نے اپنے کانوں سے نقاروں کی آواز سنی ہے۔
یہ آواز ہر جمعرات اور دو شنبہ کو آیا کرتی ہے۔ اس پہاڑ کی سطح کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف رکھنے کی جگہ ہے۔ اور اس کے سامنے میدان جنگ ہے۔
اللهم اني اسئلك بحبيبك سيدنا ومولانا محمد المصطفى صلى الله عليه وسلم و باهل بدر رضى الله تعالی عنهم ان تبلغني في الدارین اقصی مرامي وتغفر لي ولوالدي ولمشائخي ولا احبائي و السائر المؤمنين والمؤمنات وان تؤيد الاسلام والمسلمين
اسی سال یوم فطر سے دو دن پہلے یا شروع شوال میں صدق فطر واجب ہوا۔ عید کے دن نمازعیدالفطر عید گاہ میں جماعت کے ساتھ پڑھی گئی ۔ اس وقت زکوۃ مال فرض ہوئی۔
غزوہ_قینقاع
نصف ماہ شوال میں غزوہ بنی قینقاع پیش آیا۔ یہود سے پہلے ماہدہ ہو چکا تھا جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا۔ مدینہ کے گرد یہود کے تین قبیلے تھے ۔ بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ۔ ان تینوں نے یکے بعد دیگرے نقض عہد کیا۔ ان میں سب سے پہلے بنوقینقاع نے جو چھ سو مرد کار زار اور یہود میں سب سے بہادر تھے۔ عہد کو تو ڑ ا اور باغی ہو کر قلعہ بند ہو گئے مگر پندرہ روز کے محاصرہ کے بعد مغلوب ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جلا وطن کر دیا۔ اور وہ از رعات
ملک شام میں پہنچادیئے گئے۔ جہاں وہ جلدی ہلاک وتباہ ہو گئے ۔
غزوہ_سویق
ماہ ذی قعدہ میں غزوہ سویق وقوع میں آیا۔ سویق عرب میں ستو کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس غزوہ میں کفار کی غذا ستو تھی۔ اس لیے اس نام سے موسوم ہوا۔ اس غزوہ کا سبب یہ تھا کہ غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان نے قسم کھائی تھی کہ جب تک میں محمد سے لڑائی نہ کر لوں جنابت سے سر نہ دھوؤں گا۔ اس لیے قسم کو پورا کرنے کےلیے دو سو سوار لے کر نکلا۔ مقام عریض میں اس نے ایک نخلستان کو جلا دیا۔ اور ایک انصاری کو قتل کر ڈالا ۔ رسول اللہ نے تعاقب فرمایا۔ ابوسفیان اور اس کے ہمراہی بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ستو کے پورے پھینک کر بھاگ گئے جنہیں مسلمانوں نے اٹھالیا۔ اور واپس چلے آئے۔
جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں