الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط 29
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
غزوہِ_بدر_کبریٰ
غزوہِ بدر سب سے بڑا غزوہ ہے۔ اس کا سبب عمرو بن حضرمی کا قتل اور قافلہ قریش کا شام کی طرف سے آنا تھا۔ یہ وہی قافلہ تھا جس کے قصد سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالعشیرہ تک تشریف لے گئے تھے۔ امیر قافلہ ابو سفیان تھا۔ اس قافلے میں قریش کا بہت سا مال تھا۔ جب یہ قافلہ بدر کے قریب پہنچا۔ تو حضور اقدس کو خبر لگی۔ آپ نے فوراً مسلمانوں کو نکلنے کی دعوت دی۔ اس لیے جلدی سے تیاری کر کے آپ بتاریخ ۱۲ ماہ رمضان بروز ہفتہ مدینہ منورہ سے نکلے
اور مدینہ منورہ سے ایک میل کے فاصلہ پر برا بی عتبہ پر لشکر گاہ مقرر ہوا یہاں لشکر کا جائزہ لینے کے بعد آپ نے صغیر السن صحابہ ( مثلاً ابن عمر ، براء بن عازب، انس بن مالک، جابر، زید بن حارث، اور رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو واپس کر دیا اور باقی کو لے کر روانہ ہوئے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی عمیر جن کی عمر سولہ سال کی تھی حضور سے آنکھ بچا رہے تھے۔ کیوں کہ ان کو شہادت کا شوق تھا۔ مگر ڈرتے تھے کہ کہیں چھوٹی عمر کے سبب واپس نہ کر دیے جائیں۔ چنانچہ جب پیش ہوئے تو واپسی کا حکم ملا۔ اس پر آپ رونے لگے لہذا اس کو رحمت العالمین نے شمولیت کی اجازت دے دی بلکہ ان پر خود اپنی تلوار کا حملہ لگا دیا۔۔واضح رہے کہ مسلمان محض قافلہ قریش سے تعرض کےلیے نکلے تھے۔ ان کو علم نہ تھا کہ فوج قریش سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے فوری نا تمام تیاری کی گئی ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا سواری کا اونٹ موجود ہو وہ سوار ہو کر ہمارے ساتھ چلے۔ انصار آپ سے ان اونٹوں کے لانے کےلیے جو مدینہ کے بالائی حصہ میں تھے۔ اجازت مانگنے گئے۔ آپ نے فرمایا نہیں صرف وہ ساتھ چلے جس کا سواری کا اونٹ حاضر ہے۔
آپ کے پاس صرف ستر اونٹ دو گھوڑے اور تین سو ساٹھ مجاہدین تھے۔ جن میں سے مہاجرین کچھ ساٹھ سے اوپر تھے اور باقی سب انصار تھے۔ جو بوجہ عذر شامل نہ ہو سکے حضور اقدس نے ان کو بھی مال غنیمت سے برابر حصہ عطا فرمایا۔ لہذا یہ بھی اصحابِ بدر میں شمار ہوتے ہیں۔ان آٹھ میں سے تین تو مہاجرین میں سے تھے ۔ یعنی حضرت عثمان بن عفان جو اپنی اہلیہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار داری کےلیے حضور ہی کے حکم سے مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے۔ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور سعید بن زید ( ہر دو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔جن کو حضور نے روانگی سے دس روز پہلے قافلہ کی خبر لانے کےلیے بھیج دیا تھا اور وہ آپ کی روانگی کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے تھے۔ اور پانچ انصار تھے۔ یعنی ابو لبابہ بن عبدالمنذر جن کو آپ نے اپنی عدم موجودگی میں مدینہ کا حاکم بنایا تھا۔ عاصم بن عدی العجلانی جو روحا سے ضرب شدید کے سب واپس کردیے گئے۔ اور مدینہ منورہ کی بالائی آبادی (عالیہ) کے حاکم بنائے گئے۔ حارث بن حاطب العمری جن کا حضور نے روحا سے کسی خاص کام کےلیے بنو عمرو بن عوف کے پاس بھیج دیا، حارث بن الصمہ جو روحاء میں ٹانگ پر ضربِ شدید آنے کے سبب واپس کردیے گئے اور خوات بن جبیر جو اثنائے راہ میں ساق پر پتھر لگنے کے سبب مقام صفرا سے واپس کردیے گئے۔
سواری کےلیے تین تین مجاہدین کو ایک ایک اونٹ ملا ہوا تھا چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم، اور حضرت مرثد غنوی ایک اونٹ پر سوار تھے اور حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر ، و حضرت عبدالرحمن بن عوف دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء سے چل کر صفراء کے قریب پہنچے تو آپ نے حضرت بسبس بن عمر اور عدی بن ابی الزغباء کو قافلہ قریش کی خبر لانے کےلیے بھیجا وہ بدر میں پہنچے اور وہاں سے یہ خبر ان کر آئے کہ قافلہ کل یا پرسوں بدر میں پہنچے گا۔ ابو سفیان کو شام میں۔ خبر لگی تھی کہ حضرت قافلہ کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس لیے اس نے حجاز کے قریب پہنچ کر ضمضم بن عمرو کو بیس مقتال سونے کی اجرت پر مکہ میں قریش کے پاس بھیجا تاکہ ان کو قافلہ کے بچانے کی ترغیب دے
چنانچہ ضمضم اونٹ پر سوار ہو کر فوراً روانہ ہو گیامکہ پہنچ کر ضمضم نے اپنے اونٹ کے ناک اور کان کاٹ دیے تھے کجاوہ الٹ دیا تھا۔ اور اپنی قمیض پھاڑ دی تھی اس ہیئت کذائی میں وہ اپنے اونٹ پر سوار، یوں پکار پکار کر کہہ رہا تھا۔ اے گروہ قریش قافلہ تجارت! قافلہ تجارت! تمہارا مال ابو سفیان کے ساتھ ہے ۔ محمد اور اس کے اصحاب اس کے سدراہ ہو گئے ہیں۔ میں خیال نہیں کرتا کہ تم اسے بچا لو گے۔فریاد! فریاد! یہ سن کر قریش کہنے لگے۔ کیا محمد اور اس کے اصحاب گمان کرتے ہیں کہ یہ قافلہ بھی عمرو بن حضرمی کی مانند ہوگا؟ ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایسا نہیں ہے۔ غرض قریش جلدی نکلے۔ اور ان کے اشراف میں سوائے ابو لہب کے کوئی پیچھے نہ رہا۔ اور اس نے بھی اپنے عوض ابو جہل کے بھائی عاص بن الہشام کو بھیجا اور چار ہزار درہم جو بطور سود اس سے لینے تھے۔ اس صلے میں معاف کردیے۔ امیہ بن خلف نے بھی پیچھے رہ جانے کا ارادہ کیا تھا کیوں کہ اس نے حضرت سعد بن معاذ سے ہجرت کے بعد مکہ مشرفہ میں سنا تھا کہ وہ حضور اقدس اور آپ کے صحابہ کرام کے ہاتھوں قتل ہوگا
مگر ابو جہل نے کہا:توں اس وادی کا سردار ہے اگر توں پیچھے رہ گیا تو دوسرے بھی دیکھا دیکھی تیرے ساتھ رہ جائیں گے غرض پس و پیش کے بعد ابو جہل کے اصرار پر وہ بھی ساتھ ہو لیا۔
قریش جب بڑے سازوں سامان سے اس طرح چلنے کو تیار ہو گئے۔ تو انہیں بنو کنایہ کی طرف سے اندیشہ پیدا ہوا کیوں کہ بدر سے پہلے قریش و کنانہ میں لڑائی جاری تھی۔ اس لیے قریش خائف تھے۔ کہ مبادا کینہ سابق کے سبب ہمارے پیچھے ہم کو کوئی ضرر نا پہنچائیں۔ اس وقت ابلیس لعین بصورت سراقہ لشکر قریش کے ساتھ تھا۔ علاوہ ازیں اہل مکہ کے ساتھ گانے والی عورتیں اور آلات ملاہی بھی تھے۔ رسد کا انتظام یہ تھا کہ امرائے قریش عباس، عتبہ بن ربیعہ، حارث بن عامر ، نضر بن حارث، ابو جہل امیہ وغیرہ باری باری کر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے اور لوگوں کو کھلاتے عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے معزز رئیس تھا فوج کا سپہ سالار تھا۔
جب ابو سفیان مدینہ کے نواح میں پہنچا ۔ اور قریش کی کمک اس کی مدد کو نہ پہنچی تو وہ نہایت خوفزدہ ہوا کہ کہیں مسلمان کمین گاہ میں نہ ہوں۔ اسی حال میں وہ بدر جا پہنچا وہاں اس نے مجدی بن عمرو سے پوچھا: کیا توں نے محمد کے جاسوسوں میں سے کسی کو دیکھا ہے؟ مجدی بولا: اللہ کی قسم میں نے کسی اجنبی کو نہیں دیکھا ہاں اس مقام پر دو سوار آئے تھے ۔ یہ کہہ کر عدی و بسبس کے مناخ کی طرف اشارہ کیا ۔ ابو سفیان نے ان کے اونٹوں کی مینگنیوں کو لے کر توڑا تو توڑ کر کیا دیکھتا ہےکہ ان میں کجھور گٹھلیاں ہیں۔ کہنے لگا ان اونٹوں نے یثرب (مدینہ) کی کجھوریں کھائی ہیں۔ وہ تو محمد کے جاسوس تھے۔ لہذا اس نے اپنے قافلہ کے اونٹوں کے منہ پھیر دیے۔ اور بدر کو بائیں ہاتھ چھوڑ کر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ مکہ کو روانہ ہوا۔ جب قافلے کو محل خطرہ سے بچا لے گئے تو اس نے قیس بن امرئ القیس کے ہاتھ قریش کو کہلا بھیجا ۔ کہ میں نے قافلے کو بچا لیا ہے لہذا تم واپس چلے جاؤ۔ یہ قاصد جحفہ میں قریش سے ملا ۔ اور انہیں ابو سفیان کا پیغام پہنچایا۔ قریش نے واپس ہونے کا ارادہ کیا۔ مگر ابو جہل بولا کہ ہم بدر سے ہر گز واپس نہ ہوں گے۔ وہاں تین دن ٹھہریں گے اونٹ ذبح کریں گے۔ اور کھائیں کھلائیں گے شراب پئیں گے اور راگ سنیں گے اس طرح قبائل عرب کے اطراف میں ہماری عظمت و شوکت کا آوازہ پھیل جائے گا۔ اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے پس ابو جہل کی رائے پر عمل کیا گیا۔ جحفہ ہی میں اخنس بن شریق الثقفی نے اپنے حلیف بنو زہرہ کو جو ایک سو اور بقول بعض کے تین سو مرد تھے۔ مشورہ دیا کہ واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اس طرح بنو عدی بن کعب جو قریش کے ساتھ آئے تھے ۔ ثنیہ لفت سے واپس چلے گئے۔ اور واپسی میں ابو سفیان ان سے ملا اور کہنے لگا۔ اے بنو عدی تم کیوں کر لوٹ آئے۔ لافی الغیر ولا فی النقیر- ( نہ قافلے میں نہ قریش میں) وہ بولے توں نے ہی تو قریش کو لوٹ جانے کا پیغام دیا تھا۔ غرض بنو زہرہ اور بنو عدی کے سوا تمام قریش قبائل لڑائی میں شامل تھے
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
سابقہ تمام اقساط اس لنک سے پڑھیں🥰
https://www.facebook.com/108244310789857/posts/143000247314263/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں