I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

پیر، 10 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 30

 الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربی ﷺ

قسط30


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


بنو عدی کے نزدیک وادی ذفران میں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ لائے پس آپ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مشورہ کیا۔ اور پوچھا کہ تم چاہتے ہو عیر (قافلہ) بانفیرہ (گروہ قریش) مسلمان محض قافلہ کے قصد سے نکلے تھے تعداد بھی کم تھی ۔ اور سامان جنگ بھی کافی نہ تھا

 اس لیے ایک فریق اس حالت میں لڑائی سے ہچکچاتا تھا۔ وہ بولے : عیر ۔ یہ سن کر حضور اقدس نا خوش ہوئے لہذا ابو بکر صدیق نے کھڑے ہو کر تقریر کی۔

اور خوب کہا ۔ پھر حضرت عمر نے تقریر کی اور اچھی کی ۔ پھر حضرت مقداد بن عمرو کھڑے ہوئے

اور بولے کہ یا رسول الله! الله تعالی نے جو آپ کو بتایا ہے وہ کیجیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔  اللہ کی قسم! ہم نہیں  کہتے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  کی قوم نے کہا تھا۔ فاذهب انت و ربك فقاتلا(جائیں آپ اور آپ کا رب دونوں لڑیں)

بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ یہ سن کر حضور اقدس پر خوش ہوئے اور حضرت مقداد کے حق میں دعائے خیر فرمائی ۔ پھر آپ نے انصار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: کہ مجھے

مشورو و انصار کی طرف اشارہ کی وجہ یہ  تھی کہ انہوں نے بیت عقبہ  کے وقت کہا تھا : یا رسول الله! ہم آپ کے زمام یعنی  عہدے سے بری ہیں۔ یہاں تک کہ آپ ہمارے دیار میں پہنچ جائیں   جب آپ ہمارے دیار میں پہنچیں گین  تو ہمارے امان و عہد میں ہوں گے۔ اور ہم آپ کی حمایت کریں گے۔ ہر ایسے امر سے کہ اس سے ہم اپنی اولاد اور عورتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ چونکہ اس عبارت سے ایک طرح کا وہم ہوتا تھا۔ کہ انصار پر صرف مدینے میں ہی حضور کی حمایت واجب تھی۔ لہذا آپ نے اس مقام پر ان کے مال سے استکشاف و استمزاج کے لیے ایسا کیا۔ انصار نے جب حضور کا ارشاد سنا تو حضرت سعد بن معاز نے جو اکابر انصار میں سے تھے۔ یوں جواب دیا ہم آپ پر

ایمان لائے ہیں ۔ اور شاہد ہیں اس امر پر کہ جو کچھ آپ لائے ہیں وہی حق ہے اور اس تصدیق پرہم نے آپ کو اپنی اطاعت کے عہد و مواثیق دیئے ہوئے ہیں ۔ یا رسول الله! آپ جہاں چاہیں چلیں۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ اس

سمندر کو عبور کرنا چاہیں اور اس میں کود پڑیں تو بے شک ہم بھی آپ کے ساتھ اس میں کود پڑیں گے۔اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں یہ نا گوار نہیں کہ کل آپ کو ہمیں ساتھ لے کر دشمن کا مقابلہ کریں ۔ ہم لڑائی میں صابر اور دشمن کے مقابلے کے وقت صادق ہیں۔ شاید الله تعالی مقابلے میں ہمارے ہاتھ سے آپ کو وہ دکھائے کہ جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ لہذا آپ ہم کو اللہ عزوجل کی برکت سے لے چلیں۔ حضور اقدس حضرت سعد کے اس قول سے خوش ہوئے اور فرمایا کہ "الله" کی برکت سے چلو۔ الله تعالی نے مجھ سے دو باتوں ( قافلہ اور فوج قریش) میں سے ایک کا وعدہ کیا ہوا ہے اللہ کی قسم! گویا میں قریش کی موت کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں۔ یہاں حضور نے اپنے جھنڈے تیار کیے۔سب سے بڑا جھنڈا مہاجرین کا تھا۔ جوحضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ میں تھا۔

اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت خباب بن المنذر کے پاس تھا۔ اور قبیلہ اوس کا جھنڈرحضرت سعد بن معاز نے اٹھایا ہوا تھا مشرکین کے ساتھ بھی تین جھنڈے تھے۔ ایک ابو عزیز بن عمیر  ، دوسرا نضر بن

حارث اور تیسرطلحہ بن ابی طلحہ  کے ہاتھ میں تھا۔ حضور اقدس بتاریخ ۱۷ ماه رمضان جمعہ  کی رات کو بدر میں قریب کے میدان میں اترے اور قریش دوسری طرف اترے۔ حضور انور نے 

حضرات علی وزبیر وسعد بن ابی وقاص کو مشرکین کا حال دریافت کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ قریش کے دو غلام پکڑ  لائے ۔ اس وقت حضور اقدس  نماز پڑھ رہے تھے۔ صحابہ کرام نے ان غلاموں سے پوچھا: کیا تم ابوسفیان کے ساتھی ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو قریش کے سقے  ہیں۔ قریش نے ہمیں پانی پلانے کے لیے بھیجا ہے۔ اس پر صحابہ کرام نے انہیں مارا۔ جب وہ  درد سے بے چین 

ہو گئے تو کہنے لگے  کہ ہم ابو  سفیان کے ساتھی ہیں۔ اتنے میں حضور بھی  نماز سے فارغ  ہوئے ، آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: جب تم سے سچ  بولے تم نے ان کو مارا۔ اور جب تم سے جھوٹ بولے۔ تو ان کو چھوڑ دیا ۔ اللہ  کی قسم ! انہوں نے سچ  کہا۔ وہ قریش کے ساتھ ہیں۔ پھر  حضور اقدس

 نے ان غلاموں سے قریش کا حال دریافت کیا۔ انہوں نے جواب دیا۔ اللہ کی قسم! یہ 

ریگ  جو نظر آ رہا ہے۔ اس کے پیچھے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ قریش تعداد میں کتنے ہیں وہ بولے کہ ہمیں معلوم نہیں ۔ پھر آپ نے پوچھا کہ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح  کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن دس اور ایک دن نو آپ نے فرمایا کہ وہ ہزار اور نو سو کے درمیان ہیں (واقع میں وہ ساڑھے نوسو تھے۔ اور ان کے پاس سو گھوڑے نے) پھر آپ نے پوچھا: سرداران قریش میں سے کون کون آئے ہیں؟ وہ بولے عتبہ بن ربیہ، شیبہ بن ربیعہ ابوجہل بن ہشام ، ابوالبختری بن ہشام حکیم بن حزام نوفل بن خویلد، حارث بن عامر بن نوفل ، طعیمہ بن عدی ابن نوفل ، نضر بن حارث ، زمعہ بن اسود، امیہ بن خلف بنیہ و منبہ  پسران حجاج، سہل بن عمرو، عمرو بن عدود ۔ یہ سن  کر حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا: " لو! مکہ نے اپنے جگر پارے تمہاری طرف بھیج  دیئے ہیں۔ پس حضور اقدس  جلدی کوچ کر کے کنوؤں کی طرف آئے۔ اور جو کنواں بدر کے سب سے قریب تھا اس پر اترے۔ حضرت خباب بن منذرنے عرض کیا: یا رسول الله ! جہاں آپ ہیں وہ اچھی جگہ نہیں ہے۔

آپ ہمیں اس کنوؤں پر لے چلیں جو قریش کے سب سے نزدیک ہو میں بدر سے اور اس کے کنوؤں سے واقف ہوں ۔ وہاں ایک میٹھے پانی کا کنواں ہے جس کا پانی ختم نہیں ہوتا۔ ہم اس پر ایک حوض  بنا لیں گے ۔ اس میں سے پئیں گے۔ اور جنگ کریں گے ۔ اور باقی کنوؤں کو بند کر دیں گے۔ تا کہ کفار کو پانی نہ ملے ‘‘۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام  حضور اقدس ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حباب کی رائے درست ہے ۔ علاوہ ازیں جہاں مسلمان اترے ہوئے تھے وہ نرم ریتلی زمین تھی جس میں آدمیوں کے پاؤں اور چوپایوں کے کھر اور سم دھنستے تھے۔ اور جہاں کفار ٹھہرے ہوئے

تھے انہوں نے وہاں کوئیں کھود لیے تھے اور پانی جمع کر لیا تھا۔ مسلمانوں میں سے بعض کو 

 غسل جنابت اور بعض کو وضو کی حاجت تھی ۔ اور پیاسے  تھے۔ پانی نہ ملتا تھا۔ پس شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ تمہارا گمان ہے کہ ہم حق پر ہیں۔ پیغمبر ہمارے درمیان ہیں۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کے پیارے ہیں۔ حالانکہ مشرکین پانی پر قابض ہیں۔ اور تم جنب اور محدث ہونے کی حالت میں نمازیں پڑھتے ہو۔ پھر تمہیں کس طرح امید ہو سکتی ہے کہ تم ان پر غالب آ جاؤ گے۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری فرما دی ۔ جس سے ان کا رنج و تعب دور ہوگیا۔ اور مینہ برسا دیا ۔ جس سے انہوں نے غسل کیا، پیا، اور اپنے چوپایوں کو پلایا۔ اور مشکیں بھر لیں۔ ریت سخت ہوگئی جس پر چلنا آسان ہو گیا ۔ اور کفار کی زمین کیچڑ ہوگئی جس پر چلنا دشوار ہو گیا اس طرح وسوسہ شیطانی جاتا رہا اور اطمینان حاصل ہوگیا۔ 

غرض حضور اقدس ﷺ اور آپ کے اصحاب وہاں سے چل کر کفار سے پہلے آب بدر پر پہنچ گئے۔ اور قریش کے سب سے قریب کنویں پر اترے۔ اور اس پر حوض بنا کر پانی سے بھر لیا۔ اور دوسرے کنوؤں کو بند کر دیا۔ پھر حضور اقدس کےلیے اونچی جگہ پر ایک عریش ( کجھور کی شاخوں کا سائبان) بنایا گیا اور حضور اقدس ﷺ بذاتِ خود معرکہ کی جگہ تشریف لے گئے اور دست مبارک کے اشارے سے فرماتے تھے کہ یہ فلاں کافر کے مارے جانے کی جگہ ہے اور یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے۔ جیسا کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا تھا ۔ لڑائی میں ویسا ہی وقوع میں آیا ۔ جیساکہ حضور نے فرمایا تھا۔ یہ سب کچھ جمعہ کی رات بتاریخ 1۷ماہ رمضان المبارک میں واقع ہوا ۔

کفار کیچڑ کے سبب اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ حضور اقدس ﷺ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ علیہ کے ساتھ عریش میں داخل ہوئے۔ یار غار یہاں بھی عریش کے اندر اپنے آقائے نامدار کی حفاظت کےلیے شمشیر برہنہ علم کیے ہوئے تھے۔ اور دروازے پر حضرت سعد بن معاذ تلوار لٹکائے پہرہ دے رہے تھے۔ 

حضور اقدس ﷺ تمام رات بیدار اور  مصروف دعا رہے صبح ہوئی تو لوگوں کو نماز کےلیے آواز دی۔ اور نماز سے فارغ ہو کر جہاد کےلیے وعظ فرمایا ( منتخب کنزالاعمال بر روایت ابن عساکر) پھر صف آرائی میں مشغول ہوئے۔ 

آپ کے دست مبارک میں ایک تیر کی لکڑی تھی جس سے کسی کو آپ اشارہ فرماتے کہ آگے ہو جاؤ اور کسی سے ارشاد فرماتے پیچھے ہو جاؤ۔ چنانچہ حضرت سواد بن غزیہ انصاری جو صف سے آگے نکلے ہوئے تھے حضور اقدس ﷺ نے اس لکڑی سے ان کے پیٹ کو ٹھوکا دیا اور فرمایا استو یا سواد( اے سواد برابر ہو جاؤ) ( بحوالہ : سیرت ابنِ ہشام غزوہِ بدر بر روایت ابن اسحاق) حضرت سواد نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! آپ نے مجھے ضرب شدید لگائی ہے حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حق و انصاف کے ساتھ بھیجا ہے آپ مجھے قصاص دیں ۔یہ سن کر حضور نے اپنے شکم مبارک سے کپڑا ہٹایا۔ اور فرمایا اپنا قصاص لے لو۔ اس پر حضرت سواد حضور اقدس ﷺ کے گلے لپٹ گئے۔ اور آپ کے شکم مبارک کو بوسہ دیا حضور اقدس ﷺ نے پوچھا: اے سواد! توں نے ایسا کیوں کیا ؟ حضرت سواد نے عرض کی یارسول اللہ موت حاضر ہے میں نے چاہا کہ میں اور میرا بدن آپ کے بدن اطہر سے مس کر جائے یہ سن کر آپ نے اس کےلیے دعا فرمائی اور ان نے معاف کر دیا۔ اسی اثناء میں

مشرکین بھی نمودار ہوئے ۔ حضور اقدس ﷺ نے ان کی کثیر تعداد کو دیکھ کر یوں دعا فرمائی:

یا اللہ! یہ قریش فخر و تکبر کرتے آ پہنچے ہیں اور چاہتے ہیں۔ کہ تیرے ساتھ جنگ کریں اور تیرے رسول کو جھٹلائیں۔ اے خدا میں اس نصرت کا منتظر ہوں ۔ جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہوا ہے۔


#جاری_ہے


🌹صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

🌹درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو