I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

بدھ، 5 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 28

  • الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

قسط 28


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب

ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی

پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی

ہجرت_کا_دوسرا_سال


تحویل_قبلہ: 

نماز اسلام کا ایک رکن ہے۔ اور نماز کی روح خشوع ہے۔ خشوع کے لیے باطنی یکجہتی کے ساتھ ظاہری یکجہتی بھی درکار ہے۔ کیوں کہ ظاہر کا اثر باطن پر ضرور پڑتا ہے اور مقصود اصلی کو تقویت پہنچتی ہے۔ نماز جماعت و جمعہ میں اتحاد جہت کا اثر  جو دوسرے نمازیوں پر پڑتا ہے محتاج بیان نہیں۔ اس لیے نماز میں ایک جہت کا تعین ضروری ہے۔ مگر اس تعین
میں انسانی عقل کو دخل نہیں۔ بلکہ جو ذات پاک سزاوار عبادت ہے یہ تعین اسی کاحق ہے۔
رسول اللہ  پہلے مکہ میں کعبہ کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے ہجرت کے بعد بحکمِ الٰہی بنا بر حکمت و مصلحت وقت بیت المقدس آپ کا قبلہ مقرر ہوا۔ چنانچہ آپ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی ۔ یہود آپ پر طعن کیا کرتے تھے۔ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مخالفت کرتے ہیں مگر قبلہ میں ہمارے تابع ہیں ۔ اس لیے آپ کی آرزو رہی کہ ملت ابراہیمی کی طرح میرا قبلہ بھی ابراہیمی ہو ۔ مدت مذکورہ کے بعد اللہ تعالٰی نے آپ کی یہ آرزو پوری کردی
ترجمہ:
ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرلو اور بیشک وہ لوگ جنہیں کتاب عطا کی گئی ہے وہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ تبدیلی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں۔(البقرہ ۱۴۴)

اس تحویل کی کیفیت یہ ہے کہ نصف رجب یوم دوشنبہ یا نصف شعبان یوم سہ شنبہ کوحضور انور مسجڈ بنی سلمہ میں نماز ظہر پڑھارہے تھے۔ تیسری رکعت کے رکوع میں تھے کہ وحی الہی سے آپ نے نماز ہی میں کعبہ کی طرف رخ کرلیا۔ اور مقتدیوں نے بھی آپ کا اتباع کیا۔ اس مسجد کو قبلتین( دو قبلوں والی)  کہتے ہیں ۔ ایک نمازی جو شامل جماعت تھا عصر کے وقت مسجد بنی حارثہ میں گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں انصار نماز عصر بیت المقدس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس نے تحویل قبلہ کی خبر دی۔ وہ لوگ نماز ہی میں کعبہ رخ ہو گئے۔ دوسرے روز قباء میں عین اس وقت خبر پہنچی جب کہ لوگ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بھی اس حال میں اپنا رخ بدل کر کعبہ کی طرف کر لیا۔
تحویل قبلہ یہودیوں پر سخت ناگوار گزرا۔ وہ اس پر اعتراض کرنے لگے۔ ان کا اعتراض اور اس کا جواب قرآن کریم میں یوں مذکور ہے:
ترجمہ:
اب بیوقوف لوگ کہیں گے ،اِن مسلمانوں کو اِن کے اُس قبلے سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ پہلے تھے ؟تم فرمادو: مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (البقرہ:۱۴۲)
تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور بیشک وہ لوگ جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی
ان کے علاوہ (لوگوں پر)  یہ بہت بھاری تھی (البقرہ: ۱۴۳)

پہلی آیت میں ان کا اعتراض نقل کر کے یوں جواب دیا گیا کہ شرق و غرب بلکہ جہات ستہ سب  خدا کی ہیں اس کو کسی خاص جہت سے خصوصیت نہیں ۔ کیوں کہ وہ مکان و جہت سے پاک ہے۔ وہ جس جہت کو چاہے قبلہ مقرر  گر دے ۔ ہمارا کام اطاعت ہے ۔ دوسری آیت میں مذکور ہے کہ۔تحویل قبلہ اس واسطے ہوا کہ ثابت و متزلزل  میں تمیز ہو جائے۔

غزوات_و _سرایا کا_آغاز

اسی  سال سلسلہ غزوات و سرایا  شروع ہوتا ہے۔ محدثین و اہل  سیرت کی اصطلاح میں غزوو وہ  لشکر  ہے جس میں رسول الله  بذات اقدس شامل ہوں ۔ اور اگر حضور  بذات شریف شامل نہ ہوں ۔ بلکہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو دشمن کے مقابلہ میں بھیج دیں تو وہ  لشکر سریہ  کہلاتا ہے۔ غزوات
تعداد میں ستائیس ہیں۔ جن میں سے نو میں قتال وقوع میں آیا ہے۔ اور وہ یہ ہیں : بدر، احد، مریسیع،  خندق، قریظہ،خیبر،حنین، طائف ۔ سرایا کی تعداد سنیتا لیس(47) ہے۔ نظر بر اختصار ہم  سرایا کو پس  انداز کر کے غزوات و بعض ، دیگر وقائع کا حال سنہ وار پیش کرتے ہیں۔
ہجرت کے بعد بھی کفار قریش مسلمانوں کے مذہبی فرائض کی بجا آوری میں مزاحم ہوتے تھے اور اسلام کے مٹانے کی کوشش کرتے تھے۔ بلکہ دیگر قبائل کو بھی مسلمانوں کی مخالفت پر برانگیختہ  کرتے تھے۔ اس لیے حضور اقدس  نے مختلف اغراض کیلئے اپنے اصحاب کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں (سرایا ) اطراف مدینہ میں بھیجنی شروع کیں بلکہ بعض دفع خود بھی شرکت فرمائی۔  کہیں دشمن کی نقل و حرکت کی خبر لانے کےلیے۔    کہیں بعض قبیلوں سے معاہدہ قائم کرنے کےلیے۔  اور کہیں محض مدافعت کےلیے ایسا کیا گیا۔  وہاں ایک غرض یہ بھی تھی کہ قریش کی شامی تجارت کا راستہ بند کردیا جائے۔ اور یہ  وہی بات ہے جس کی دھمکی حضرت سعد بن معاذ  نے ہجرت کے بعد ابوجہل کو خاص خانہ کعبہ میں  یوں دی  تھی۔ کہ اگر تم نے ہم کو طواف کعبہ سے روکا تو ہم تمہارا مدینہ  کا راستہ بند کر دیں گے  ۔ چونکہ قریش بالعموم مسلمانوں کو حج و عمرہ سے روکتے تھے۔ اس لیے مجبوراً مسلمانوں کو ان کے تجارتی قافلوں سے تعرض کرنا پڑا۔ تا کہ مذہبی  مداخلت سے باز آجائیں ۔
'غروہ ابواء' اسی سال کے ماہ صفر میں 'غزوہ بواط' وغیر و بدر اولی ماه ریع الاول میں اور
غزوہ ذوالعشیر ہ  ماه جمادی الاخری میں ہوا۔ بدر اولی کرز بن جابر فہری کی گوشمالی کے لیے تھا جو مدینہ منور کے اونٹ ہانک لے گیا تھا۔ باقی تینوں ، قا فلہ قریش سے تعرض کے لیے تھے مگر ان میں سے کسی میں بھی مقابل نہیں ہوا۔
غزوہ ذوا العشیرہ کے بعد ماہ رجب میں آپ  نے اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن جحش  کو آٹھ یا بقول بعض بارہ مہاجرین کی جمعیت کے ساتھ نخل طرف روانہ کیا۔ وہ نخلہ میں پہنچ کر قافلہ قریش کے منتظر رہے۔ ناگاہ قریش کے اونٹوں کا قافلہ جن پر وہ شراب
منقی  اور چمڑا وغیر ہ مال تجارت طائف سے لا رہے تھے ان کے قریب اترا۔ اس قافلے میں عمرو بن حضرمی ، عثمان بن عبد الله بن مغیرہ اور اس کا بھائی نوفل بن عبداللہ اور ابو جہل کے باپ ہشام بن مغیرہ کا آزاد کردہ غلام حکم بن کیسان تھے فریقین میں مقابلہ ہوا۔ اس میں حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی 
نے ایک تیر سے عمرو بن حضرمی کا کام تمام کر دیا۔ عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان گرفتار ہوئے اور باقی بھاگ گئے ۔ حضرت عبداللہ بن جحش  دونوں اسیروں اور مال غنیمت کو لے کر حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور نے غنیمت تقسیم فرما دی۔ حضرت حکم بن کیسان اسلام لائے
عثمان بن عبداللہ کو چھوڑ دیا گیا۔ وہ مکہ میں چلا گیا اور کفر پر مرا۔
اسی سال کے ماہ شعبان میں ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے اور ماہ رمضان میں غزوہ بدر ثانیہ وقوع میں آیا۔

#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو