الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط 27
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
مواخات
مہاجرین اپنے وطن سے اہل وعیال اور بھائی بندوں کو چھوڑ کر بے سر و سامان چھپ کر نکلے تھے۔ اس لیے رسول اللہ نے مسجد جامع کی تعمیر کے بعد مہاجرین و انصار میں رشتہ اخوت قائم کیا۔ تا کہ مہاجرین غربت کی وحشت اور اہل وعیال کی مفارقت محسوس نہ کریں اور ایک کو دوسرے سے مدد ملے ۔ مہاجرین کی تعداد پینتالیس با پچاس تھی آپ ہردو فریق میں سے دو دو کو بلاکر فرماتے گئے کہ یہ اورتم بھائی بھائی ہو۔ آپ کا یہ فرمانا تھا کہ وہ درحقیقت بھائی بن گئے ۔ چنانچہ جب حضور انور بابی ہووامی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف قرشی زہری اور حضرت سعد بن ربیع انصاری خزرجی میں رشتہ برادری قائم کر دیا توحضرت سعد نے حضرت عبدالرحمن
سے کہا کہ انصار میں میرے پاس سب سے زیادہ مال ہے۔ میں اپنا مال آپ کو بانٹ دیتا ہوں ۔میری دو بیویاں ہیں ۔ ان میں سے ایک کو جو آپ پسند کریں میں طلاق دے دیتا ہوں ۔ عدت گزرنے پر آپ اس سے نکاح کر لیجیے۔ حضرت عبد الرحمن نے کہا کہ آپ کے اہل اور آپ کا مال آپ کو مبارک ہو۔ کیا یہاں کوئی بازار تجارت ہے؟ انہوں نے بنو قینقاع کے بازار کا راستہ بتادیا۔
حضرت عبدالرحمن شام کونفع کا پنیر اور مکھن ساتھ لائے ۔ اسی طرح ہر روز بازار میں چلے جایا کرتے۔تھوڑے عرصہ میں وہ مالدار ہو گئے۔ ایک روز رسول اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ان کے بدن پر خوشبوکا نشان تھا۔ حضور اقدس نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ عرض کی کہ میں نے انصارکی ایک عورت سے شادی کی ہے۔ حضور اقدس نے پوچھا کہ مہر کتنادیا؟ عرض کی کہ پانچ درہم
بھرسونا۔ فرمایا کہ ولیمہ دو خواہ ایک بکری ہو۔ حضرت عبدالرحمن کی طرح کی اور مہاجرین نے بھی تجارت کا کام شروع کردیا۔
حضرت ابو ہریرہ ان کا بیان ہے کہ عقد برادری کے بعد انصار نے رسول اللہ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے نخلستان ہمارے بھائیوں اور ہم میں تقسیم فرما دیں۔ آپ نے فرمایانہیں۔ یہ سن کر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ کام ( درختوں کو پانی دینا وغیرہ) تم کیا کرو۔ ہم تمہیں پھل میں شریک کر لیں گے۔ اس پر سب نے کہا بسروچشم یہ مساقات کی صورت تھی ۔ مگر بعض نخلستان میوہ کے طور پربھی دیئے ہوئے تھے جن میں کام خودانصارکرتے تھے۔ اور مہاجرین کو پیداوار کا نصف دیتے تھے۔
یہ عقد برادری نصرت و مواسات و توارث پر تھا اس لیے جب کوئی انصاری وفات پاتا تھا تو اس کی جائداد و مال مہاجر کو ملتا تھا اور قریبی رشتہ دار محروم رہتے تھے چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَۚ ۞
ترجمہ:
اور (یہ اموال) ان لوگوں کے لئے ہیں جو دار ہجرت میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے اور وہ اپنے دلوں میں اس چیز کی کوئی طلب نہیں پاتے جو ان مہاجروں کو دی گئی ہے اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں خواہ انہیں خود شدید ضرورت ہو اور جن کو ان کے نفسوں کے بخل سے بچایا گیا سو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں(حشر: آیت ۹)
صحیح بخاری میں یہ قصہ مذکور ہے کہ ایک بھوکا سائل جب پیغمبر خدا کی خدمت میں
آیا۔ آپ نے گھر میں دریافت کیا کہ کچھ کھانے کو ہے۔ جواب آیا کہ صرف پانی۔ آپ نے فرمایا کہ کون ہے جو اس کو اپنا مہمان بنائے؟ ایک انصاری نے کہا میں حاضر ہوں ۔ چنانچہ وہ اسے اپنے گھر لے گیا۔ اور بیوی سے کہا کہ رسول اللہ کے مہمان کو کھانا کھلاؤ۔ وہ بولی کہ صرف بچوں کی خوراک موجود ہے۔ کہا کہ توں وہ کھانا تیار کر اور چراغ روشن کر کے کھانے کے وقت بچوں کو سلا دینا۔
چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا جب میاں بیوی اور مہمان کھانے پر بیٹھے تو بیوی نے بتی اکسانے کے بہانہ سے اٹھ کر چراغ گل کر دیا۔ میاں بیوی بھوکے رہے۔ اور اس طرح ہاتھ چلاتے رہے کہ گویا کھا رہے ہیں صبح کو وہ انصاری رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ رات اللہ تعالی تمہارے نیک کام سے راضی ہوا۔ اور یؤثرون على انفسهم الایه نازل فرمائی۔
جب 4ھ میں بنونضیر جلا وطن ہوئے اور ان کے اموال (اراضی ونخلستان رسول الله
کے قبضہ میں آئے تو آپ نے تمام انصار کو بلا کرفرمایا ، اگر تم چاہتے ہو تو میں بنو نضیر کے اموال تم میں اور مہاجرین میں تقسیم کر دیتا ہوں ۔ اور مہا جر ین تمہارے گھروں اور اموال میں بدستور رہیں گے ۔
اور اگر تم چاہتے ہو تو یہ اموال مہا جر ین کو بانٹ دیتا ہوں اور وہ تمہارے گھروں اور اموال سے بے دخل ہو جا ئیں گے ۔ حضرات سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ان اموال کو آپ مہاجرین میں تقسیم کر دیجیے۔ وہ ہمارے گھروں اور اموال میں بدستور رہیں گے۔ یہ سن کر انصار بولے یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی ہیں۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا: "خدایا تو انصار اور ابنائے انصار پر رحم فرما۔‘ اس طرح حضور علیہ السلام نے اموال بنی نضیر صرف مہاجرین میں تقسیم فرمادیے۔
۸ھ میں رسول اللہ نے حضرت علاء بن الحضرمی کو بغرض تبلیغ ولایت بحرین میں بھیجا۔ منذر بن ساوی حاکم بحرین اور وہاں کے تمام عرب ایمان لائے باقی اہل بحرین ( مجوس و یہود و نصارٰی) نے جزیہ پر صلح کر لی ۔ رسول اللہ نے نے انصار کو بلایا تا کہ بحرین کا جزیہ وخراج انصار کے لیے لکھ دیں مگر انصار نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم ایسانہ کیجئے۔ یہاں تک کہ حضور ہمارے قریشی بھائیوں کے لیے اتنا ہی مال لکھ دیں"۔
جب ۷ھ میں خیبر فتح ہوا تو مہاجرین کے حصہ میں اس قدر مال آیا کہ ان کو انصار کے نخلستان کی نہ حاجت رہی۔ اس لیے انہوں نے وہ نخلستان جو بطور اباحت ان کے پاس تھے انصار کو واپس کر دیئے۔
#اذان_کی_ابتداء:
جب مدینہ منورہ میں مسجد تیار ہو چکی تو رسول اللہ کو خیال آیا کہ مسلمانوں کو نماز کے لیے کس طرح جمع کیا جائے۔ آپ نے ا صحابہ کرام سے مشورہ کیا ظاہر ہے کہ ایک وقت اور ایک مکان میں اجتماع بغیر اعلام و آگاہی کے نہیں ہوسکتا اس لیے صحابہ کرام نے اعلام کے۔کئی طریقے پیش کیے بعض نے کہا کہ آگ روشن کرکے اونچی کر دی جائے مسلمان اسے دیکھ کر جمع ہو جایا کریں گے حضور بوجہ مشابہت مجوس اس طریقہ کو پسند نہ فرمایا
۔ بعض نے قانوس تجویز کیا۔ مگر بوجہ مشابہت نصاریٰ کی یہ تجویز رد کردی گئی ۔
اس طرح بوق کو بوجہ مشابہت یہودپسند نہ کیا گیا۔ حضرت عمر فاروق نے مشورہ دیا کہ ایک شخص کو نماز کے وقت بغرض اعلام بھیج دیا جائے ۔ اس پر رسول اللہ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ اٹھ کر نماز کے لیے ندا کر دے۔ چنانچہ حضرت بلال یوں ندا کر دیا کرتے اصلوة جامعہ اسی اثنا میں حضرت زید بن زید انصاری کو خواب میں ان سب سے بہتر طریقہ بتلا دیا گیا۔ اور وہ مروجہ اذان شرعی ہے حضرت عبداللہ نے اپنا خواب بارگاہِ رسالت میں عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اس سے پہلے وحی نازل ہوچکی تھی اس لیے آپ نے سن کر فرمایا کہ بے شک یہ طریقہ حق ہے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
اور حضرت عبداللہ کو حکم دیا کہ حضرت بلال کو کلماتِ اذان کی تلقین کردو۔ وہ اذان دیں گے کیوں کہ ان کی آواز تم سے بلند اور نرم شیریں ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
#یہود_سے_معاہدہ
اسی سال رسول اللہ ( جس جگہ حضور اقدس کا اسم گرامی پڑھا جائے وہاں درود شریف ضرور پڑھا کریں جزاک اللہ خیراً) نے مسلمانوں اور یہود مدینہ کے درمیان ایک معاہدہ تحریر فرمایا جس کی شرائط کی پوری تفصیل سیرت ابنِ ہشام میں ہے
ان شرائط کا خلاصہ یہ ہے
1- خون بہا اور فدیہ کا طریقہ سابقہ قائم رہے گا
2- ہر دو فریق کو مذہبی آزادی ہو گی۔ ایک دوسرے کے دین سے تعرض نا کریں گے۔
3- ہر دو فریق کو ایک دوسرے کے خیر خواہ رہیں گے۔
4-اگر ایک فریق کو کسی سے لڑائی پیش آئے تو دوسرا اس کی مدد کرے گا۔
5-اگر فریقین میں ایسا اختلاف پیدا ہو جائے کہ جس سے فساد کا اندیشہ ہوتو اس کا فیصلہ خدا اور رسول پر چھوڑ دیا جائے گا۔
6_ کوئی فریق قریش اور ان کے معاونین کو امان نہ دے گا۔
7-اگر کوئی دشمن یثرب (مدینہ) پر حملہ آور ہو۔ تو ہر فریق مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔
8-اگر ایک فریق کسی سے صلح کرے گا۔ تو اس مصالحت میں دوسرا دوسرا فریق بھی شامل ہوگا مگر مذہبی لڑائی اس سے مستثنیٰ ہوگی۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں