الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط26
مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
تعمیرمسجدنبوی
آپ ﷺ کا ناقہ جہاں بیٹھا تھا۔ وہ جگہ دو نجاری یتیموں (سہیل و سہل) کی تھی ۔ جن کے ولی حضرت اسعد بن زرارہ نجاری
خزرجی تھے۔ وہ اس زمین میں کھجوریں خشک کرنے کے لیے پھیلا دیا کرتے تھے۔ اس کے ایک حصہ میں حضرت اسعد نے نماز کے لیے ایک مختصرجگہ بنائی ہوئی تھی ۔ جس پر چھت تھی۔ یہاں وہ نماز جمعہ پڑھا کرتے تھے۔ باقی زمین میں کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں اور گڑھے تھے۔
حضورﷺ نے یہاں مسجد جامع بنانے کا ارادہ کیا۔ آپ نے ان یتیم بچوں کو بلا بھیجا اور ان سے قیمت پرز مین طلب کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلا قیمت آپ کی نذر کر تے ہیں۔ آپ نے قبول نہ فرمایا اور قیمت دے کر خرید لی تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔ قبریں اکھڑوا کر ہڈیاں کسی دوسری جگہ دبا دی گئیں۔ درخت کاٹ دیے گئے۔ اور گڑھے ہموار کر دیئے گئے ۔ حضور سرورِ دو عالم خود بھی کام کررہے
تھے۔ آپ اپنی چادر میں اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے اور یوں فرمارہے تھے۔
هذا لحمال و احمال خیبر.. ھذا ابر ربنا و اطھر
اے ہمارے پروردگار! را یہ اینٹیں خیبر کے تروز بیب سے زیادہ ثواب والی اور پاکیزہ ہیں
اور نیز فرمارہے تھے:
اللھم ان الاجر اجر الاخرة
فارحم الانصار والمهاجرة
خدایا! بے شک اجر صرف آخرت کا اجر ہے پس تو انصار و مہا جرین پر رح م فرما ۔
یہ مسجد نہایت سادہ تھی۔ بنیادیں تین ہاتھ تک پتھر کی تھیں ۔ دیواریں کچی اینٹوں کی چھت برگ خربا کی قد آدم سے کچھ اونچی اورستون کھجور کے تھے
۔ قبلہ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا۔ تین
دروازے تھے۔ ایک جانب کعبہ اور دو دائیں بائیں ۔ جب قبلہ بدل کر کعبہ کی طرف ہو گیا تو جانب کعبہ کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اور اس کے مقابل شمالی جانب میں نیا دروازہ بنادیا گیا۔ چونکہ چھت پر مٹی کم تھی اور فرش خام تھا۔ اسی لیے بارش میں کیچڑ ہو جایا کرتی تھی۔ ایک دفعہ رات کو بارش بہت
ہوئی۔ جونمازی آتا کپڑے میں کنکریاں ساتھ لاتا اور اپنی جگہ پر بچھالیتا۔ جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ خوب ہے۔ اور کنکریوں کا فرش بنا دیا
اصحاب_صفہ
پایان مسجد میں ایک سائبان تھا جو صفہ کہلا تا تھا اور ان فقراء و مساکین صحابہ
کے لیے تھا۔ جو مال و منال اور اہل وعیال نہ رکھتے تھے۔ ان ہی کی شان میں
آیت نازل ہوئی:
ترجمہ:
”اور روک رکھ جان اپنی ساتھ ان لوگوں کے کہ پکارتے ہیں پروردگار اپنے کو اور
شام کو چاہتے ہیں رضامندی اس کی ۔‘‘(سورة الکہف:۲۸)
ان کی تعداد میں موت یا سفر یا تزوج کے سبب سے کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔ بعض وقت ان کی تعداد سترتک پہنچ جاتی تھی ۔ باہر سے مدینہ میں اگر کوئی آتا اور شہر میں
اس کا کوئی شریف جان نہ ہوتا تو وہ بھی صفہ میں اترا کرتا تھا۔ حافظ ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں سوسے کچھ اوپر اہل صفہ کے نام
گنائے ہیں۔ جن میں حضرات ابوذرغفاری، عمار بن یاسر، سلمان فارسی ، صہیب رومی، بلال حبشی ، ابوہریرہ ، خباب بن الارت حذیفہ بن الیمان، ابوسعید خدری، بشیر بن الخصاصیہ، ابومویہبہ (مولی رسول الله ﷺ) وغیرہ ہم مشاہیر میں سے تھے ۔رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔(مرقات شرح مشکوة، جز خامس صفحہ 486۔ عینی شرح صحیح بخاری، جز ثانی صفحہ 613)
اہل صفہ پر آپﷺ کی بڑی نظر عنایت تھی۔ ایک دفعہ غنیمت میں کنیز یں آئی ہوئی
تھیں ۔ اس موقع کو غنیمت سمجھ کر آپ کی صاحب زادی حضرت بی بی فاطمہ اور حضرت علی المرتضی دونوں خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ اور ایک خادمہ کے لیے درخواست کی ۔ آپ نے یوں
جواب دیا: اللہ کی قسم! یہ نہیں ہوگا کہ تم کو خادمہ دوں اور اہل صفہ بھوکے مریں۔ ان کے خرچ کے لیے میرے پاس کچھ نہیں۔ میں ان اسیران جنگ کو بیچ کر ان کی قیمت اہل صفہ پرخرچ کروں گا۔ (مشکوٰۃ بحوالہ ترمذی شریف)
#ازواج_مطہرات_کے_حجروں_کی_تعمیر
ازواج مطہرات میں اس وقت صرف حضرت سودہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اقدس کے عقد میں آ چکی تھیں ان کے لیے مسجد سے متصل دو مکان بنا دیئے گئے ۔ بعد ازاں دیگر ازواج کے آنے پر اور مکانات بنتے گئے ۔ ان مکانات میں سے پانچ کھجور کی شاخوں بنے تھے جن پر کہگل کی ہوئی تھی ان کے ساتھ کوئی حجرہ نہ تھا۔
دروازوں پر کمبل کر پردہ رہتا تھا باقی چار مکان کچی اینٹوں کے تھے جن کی چھت پرکجھور کی شاخوں کی کہگل کی ہوئی تھی۔( جب آنحضرت نے غزوہ دومته لجندل کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کی غیر حاضری میں حضرت ام سلمہ نے اپنا حجرہ بھی
کچی اینٹوں کا بنالیا۔ آپ نے واپسی پر دریافت فرمایا کہ یہ عمارت کیسی ہے؟ ام سلمہ نے جواب دیا۔ یارسول الله میں نے ہی اس لئے
بنایا یا کہ لوگوں کی نظر نہ پڑے آپ نے فرمایا۔ ام سلمہ مسلمان کے مال کا برا مصرف عمارت ہے۔ وفاء الوفاء جز اول صفحہ ۳۲۷)
ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ایک حجرہ کی شاخوں کا تھا۔ جس کے دروازے پر کمبل کا پردہ تھا۔
بقول داود بن قیس حجرہ کے دروازے سے اندرونی کمرہ کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ کا فاصلہ تھا۔
اور اندرونی کمرہ دس ہاتھ کا تھا اور ارتفاع ساتھ آٹھ ہاتھ کے درمیان تھا۔ حضرت امام حسن بصری کا بیان ہے کہ میں عہد عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مراہق تھا مکانات کی چھت کو میں ہاتھ سے چھولیتا تھا
یہ مکانات جانب غربی کے سوا مسجد کے اردگرد تھے۔ ان کے دروازے مسجد ہی کی طرف تھے۔ اور مسجد سے اس قدر متصل تھے کہ حضور اقدس نے حالت اعتکاف میں مسجد سے سر مبارک نکال دیتے اور ازواج مطہرات گھر میں بیٹھی آپ کے بال مبارک دھو دیا کرتی تھیں ۔
حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دولت خانہ جانب مشرق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرہ سے
متصل اس جگہ تھا جہاں اب آپ کی قبر شریف کی صورت بنی ہوئی ہے۔ جب آپ سفرسے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں دوگانہ ادا کرتے۔ بعدازاں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کا حال دریافت فرماتے ۔ پھر ازواج مطہرات کے گھروں میں قدم رنجہ فرماتے۔
#مہاجرین_کے_مکانات _کی تعمیر:
مہاجرین کی سکونت کے لیے مسجد کے قریب
مکانات کا انتظام کیا گیا۔ چنانچہ آقائے نامدار
نے بنوزہرہ کو مسجد کی ایک جانب میں ایک خطہ عنایت فرمایا جس میں حضرت عبدالرحمن
بن عوف قرشی زہری کے حصہ میں ایک خرماستان آیا جو ان کے نام سے مشہور و معروف تھا۔ حضرت عبد الله و عتبہ پسران مسعود ہذلی جو بنوزہرہ کے حلیف تھے۔ ان کے لیے مسجد کے پاس ایک خطہ معین
کیا گیا جو ان کے نام سے مشہور تھا۔ حضرت زبیر بن عوام قرشی اسد کو ایک وسیع قطعہ ملا۔ جس میں مختلف اقسام کے درختوں کی جڑیں تھیں ۔ وہ بقیع ازبیر کہلاتا تھا۔ حضرت طلحہ بن عبید الله قرشی یلمی کو ان کے گھروں کی جگہ لی۔ حضرت ابو بکر صدیق کو بھی مسجد کے قریب زمین دی گئی۔ اسی طرح
حضرت عثمان بن عفان قرشی اموی، خالد بن ولید قرشی مخذومی ، مقداد بن اسود کندی اورطفیل بن حارث قرشی مطبلی وغیرہ ہم کو زمیں دی گئیں۔ ان قطعات میں سے جو زمینیں بے آباد غیرمملوکہ تھیں وہ رسول اللہ نے بطور خود تقسیم فرما دیں۔ اور جن قطعات میں انصار کے منازل و مکانات تھے۔
وہ انہوں نے رسول اللہ کو ہبہ کر دیئے۔ اور حضور انور نے مہاجرین کو عطا فرما دیئے۔
چنانچہ سب سے پہلے حضرات حارثہ بن نعمان نے اپنے مکانات بطور ہدیہ پیش کیے(معجم البلدان للحموی تحت مدینہ یثرب - زیادتفصیل وفاء الوفاء میں ہے۔)
بقول واقدی منازل حارثہ کی جگہ ہی حضرات امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھن کے حجرے بنے۔
#مسجد_نبوی_میں_چراغ_کی_ابتداء:
مسجد نبوی اور حجرات میں راتوں کو چراغ نہیں جلتے تھے۔ حضرت تمیم دارمی کے غلام سراج کا بیان ہے کہ رسول اللہ کی مسجد میں کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے روشنی کی جاتی تھی۔ ہم قنادیل روغن زیتوں اور رسیاں لائے۔ اور میں نے (قندیلوں کو ستونوں پر لٹکا کر) مسجد میں روشنی کی
رسول اللہ نے یہ دیکھ کر پوچھا: کہ ہماری مسجدکو کس نے روشن کیا ہے۔ تمیم نے کہا: میرے اس غلام نے۔ آپ نے پوچھا۔ اس کا کیا نام ہے؟ تمیم نے کہا: فتح۔ پیغمبر خدا نے فرمایا: بلکہ اس کا نام سراج ہے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام سراج رکھا۔(استیعاب و اصابہ ترجمہ سراج التمیمی)
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں