الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
قسط25
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
ہجرت_کا_پہلا_سال
تعمیر_مسجد_قباء
قباء میں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی
یہی تاریخ اسلام کی ابتداء ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جو آپ ﷺ کی روانگی کے تین دن بعد مکہ سے چلے تھے یہاں آ ملے او یہیں رسول اللہﷺ نے اس مسجد کی بناء رکھی جس کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی:
ترجمہ:
البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے زیادہ لائق ہے کہ توں اس میں کھڑا ہو ۔ اس میں وہ مرد ہیں جو پاک رہنے کو دوست رکھتے ہیں اور اللہ پاک رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔(التوبہ: ۱۰۸)
کلثوم بن ہدم کی ایک افتادہ زمین تھی جہان کجھوریں خشک ہونے کےلیے پھیلا دی جاتی تھیں
آپﷺ نے اس سے یہ زمین لے کر مسجد مذکور کی بنیاد رکھی۔ اس مسجد کی تعمیر میں دیگر اصحاب کے ساتھ حضورﷺ بھی خود بغرض تشویق و ترغیب کام کرتے تھے۔ شموس بنت نعمان انصاریہ مدنیہ کا بیان ہے کہ میں دیکھ رہی تھی کہ رسول اللہﷺ اتنا بھاری پتھر اٹھاتے کہ جسم اطہر خم ہوجاتا اور بطن شریف پر مجھے مٹی کی سفیدی نظر آجاتی! آپ ﷺ کے اصحاب میں سے اگر کوئی عقیدت مند آ کر عرض کرتا: یا رسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! چھوڑ دیجیے، میں اٹھاتا ہوں تو آپ ﷺ فرماتے: نہیں تم ایسا اور پھتر اٹھا لو۔ اور خود اسی کو عمارت میں لگاتے ۔ اس تعمیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ کو سمت قبلہ بتا رہے تھے اسی واسطے کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کا قبلہ اعدل و اقوم ہے(الصابہ للحافظ ابن حجر، ترجمہ شموس بنت نعمان، نیز وفاء الوفاء)
حضرت عبداللہ بن رواحہ خزرجی شاعر بھی تعمیر مسجد میں شامل تھے اور کام کرتے ہوئے یوں کہتے جاتےتھے:
افلح من یعالج المساجدا___ و یقرء القرآن قائما و قاعدا
ولا یبیت الیل عنہ راقدا
وہ کامیاب ہے جو مسجدیں تعمیر کرتا ہے اور اٹھتے بیٹھتے قرآن کریم پڑھتا ہے اور رات کو جاگتا ہے ( عبادت کرتا ہے)
آپ ﷺ بھی ہر کافیہ کے ساتھ آواز ملاتے جاتے تھے (وفاء الوفاء جلد اول صفحہ ۱۸۶)
مدینہ_میں_نزول_رحمت
قباء میں چار (بعض کے مطابق 14 یا 20) روز قیام رہا یہاں سے جمعہ کے دن باطن مدینہ کو روانہ ہوئے مہاجرین و انصار ساتھ تھے۔ انصار کے جس قبیلہ پر سے گزر ہوتا اس کے سربراہ اور عقیدت مند عرض کرتے: یارسول اللہﷺ ہماری نصرت و حمایت میں اتریے۔ آپ اظہار مذمت و دعائے خیر فرماتے کہ میرا ناقہ مامور ہے
اس کا راستہ چھوڑ دو راستے میں بنو سالم خزرجی کے محلہ میں جمعہ کا وقت آگیا آپ ﷺ نے وادی ذی صلب کی مسجد میں نماز جمعہ مع خطبہ ادا فرمائی۔ یہ آپﷺ کا پہلا جمعہ اور پہلا خطبہ مبارک تھا اس طرح بنی بیاضہ، بنی ساعدہ اور بنی حارث بن خزرج سے گزرتے ہوئے بنی عدی نجار میں پہنچے جو آپﷺ کے دادا حضرت عبد المطلب کے ننہال تھے۔ سلیط بن قیس خزرجی وغیرہ نے ننہالی رشتہ کو یاد دلا کر اقامت کےلیے عرض کیا مگر ان کو بھی وہی جواب ملا بعد ازاں آپ ﷺ کا ناقہ محلہ مالک بن نجار میں اس جگہ بیٹھ گیا جہاں اب مسجد نبوی شریف ہے پھر اٹھر کر قدرے آگے بڑھا اور مڑ پہلی جگہ بیٹھ گیا آپﷺ نے ارشاد فرمایا ان شاءاللہ عزوجل یہی منزل ہے حضرت ایوب انصاری نجاری خزرجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کی اجازت سے آپ کا سامان مبارک اٹھا کر اپنے گھر لے گئے۔ اور آپﷺ یہ فرما کر المرء مع رحلہ وہیں تشریف فرما ہوئے(زاد المعاد وفاء الوفاء)
مبارک منزلے کاں خانہ راما ہے ہے چنیں باشد___ ہمایوں کشورے کاں عرصہ راشا ہے چنیں باشد
حضور اقدس ﷺ کی تشریف آوری سے جو خوشی مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو ہوئی اس کا بیان نہیں ہو سکتا۔ حضور اقدس ﷺ کی سواری نزدیک پہنچی تو مسرت کا یہ عالم تھا کہ پردہ نشیں عورتیں چھتوں پر نکل کر آئیں اور یوں گانے لگیں ( مرقات شرح مشکوٰۃ جزء خامس صفحہ ۴۸۶، عینی شرح بخاری جزء ثانی صفحہ ۶۱۳)
طلع البدر علینا____ من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا____ ما دعا للہ داع
ہم پر چاند نکل آیا.... وداع کی گھاٹیوں سے ...
ہم پر خدا کا شکر واجب ہے... جب تک دعا مانگنے والا دعا مانگے۔
آپﷺ کے ناقہ کا بیٹھنا تھا کہ بنو نجار کی لڑکیاں دف بجاتی نکلیں اور یوں گانے لگیں
نحن جوار من بنی النجار... یا حبذا محمد من جار
ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں... اے نجاریو! دیکھو محمدﷺ کیسا اچھا ہمسایہ ہے
آپﷺ یہ سن کر ان لڑکیوں سے پوچھا: کیا تم مجھ کو دوست رکتھی ہو؟ وہ بولیں: جی
آپﷺ نے فرمایا میں بھی تم کو دوست رکھتا ہوں۔
اسی خوشی میں زن و مرد چھوٹے بڑے گلی کوچوں میں پکار رہے تھے
جاء رسول اللہﷺ .. جاء النبی اللہﷺ
حبشی غلام آپﷺ کے قدم و میمنت لزوم کی خوشی میں ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے۔
انسانوں پر کیا موقوف دحوش بھی اپنی حرکات و سکنات سے خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔
جب مدینہ منورہ میں آپﷺ کء قیام کا انتظام ہو چکا تھا تو آپﷺ نے نوید بن حارثہ اور اپنے غلام ابو رافع کو پانسو درہم اور دو اونٹ دے کر مکہ مکرمہ بھیجا کہ آپ ﷺ کے عیال کو مدینہ منورہ لے آئیں
اسی وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن اریقط دئلی ( جو کہ مکہ کو واپس جارہا تھا) کے ہاتھ اپنے صاحبزادے عبدالله ںکو رقعہ دے دیا کہ میرے عیال کو مدینہ لے آؤ ۔
آپﷺ کی صاحبزادیوں میں سے حضرت زینب کو ان کے خاوند ابوالعاص نے نہ آنے دیا۔ حضرت رقیہ حبشہ میں تھیں۔
اس لیے زید و ابو رافع حضورﷺ کی صاحبزادیوں حضرت ام کلثوم و فاطمہ اور زوجہ محترمہ حضرت سودہ کو اور ام ایمن زوجہ زید اور اسامہ بن زید کو لے آئے۔
اور ان کے ساتھ عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت عائشہ صدیقہ اور ان کی والدہ ام رومان اور حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کو لائے ۔یہ سب حارثہ بن نعمان کے ہاں اترے۔
حضور اقدس ﷺ کی اقامت سات ماہ تک حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں رہی۔ جب مسجد نبوی کے ساتھ حجرے تیار ہو گئے تو نقل مکان فرمایا ۔ اس عرصہ میں بنو نجار نے مہمانی کا حق کما حقہ ادا کیا
حضرت ایوب انصاری نجاری،سعد بن عبادہ، اور سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خصوصیات سے اس میں حصّہ لیا۔ جزاھم اللہ تعالیٰ خیر الجزا۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں