I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 24

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


قسط24

مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


دوسرے روز یعنی سہ شنبہ کے دن جب قدید کے قریب پہنچے تو سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی تعاقب میں نکلا۔ جس کی کیفیت وہ خود یوں بیان کرتاہے: "کفار قریش کے قاصد ہمارے پاس آئے کہنے لگے کہ جو شخص (حضرت) محمد (ﷺ) یا ابو بکر صدیق کو قتل کرے گا یا گرفتار کرکے لائے گا اسے ایک خون بہا کے برابر ( سو اونٹ) انعام دیا جائے گا میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان  میں سے ایک شخص نے آکر کہا سراقہ میں نے ابھی ساحل پر چند شخص دیکھے ہیں میرے خیال میں وہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہیں میں سمجھ گیا کہ وہی ہیں مگر میں نے کہا کہ وہ نہیں ہیں توں نے فلاں فلاں کو دیکھا ہے جو ہمارے سامنے گئے ہیں پھر تھوڑی دیر کے بعد میں مجلس سے اٹھ کر گھر آیا۔ اور اپنی لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو پشتہ کے پیچھے ( بطن وادی میں) لے جا کر ٹھہرا۔ میں نیزہ لے کر اپنے گھر کے عقب سے نکلا۔ بن نیزہ سے زمین پر خط کھینچا اور نیزے کے بالائی حصہ کو نیچا کیے ہوئے گھوڑے کے پاس پہنچا۔ میں نے سوار ہوکر گھوڑے کو دوڑایا یہاں تک کہ میں ان کے قریب جا پہنچا۔ میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی۔ میں گر پڑا اٹھ کر میں نے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس میں سے فال کے تیر نکالے کہ حملہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ مگر جواب خلاف مراد نکلا۔ میں نے تیر کی بات نہ مانی دوباره گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھا یہاں تک کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کی قرأت سنی حالانکہ آپ (میری طرف) نہ دیکھتے تھے اور ابو بکر صدیق اکثر پیچھے دیکھتے تھے تو میرے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔ 
میں نے اتر کر گھوڑے کو زجر و توبیخ کی اس نے چاہا کہ اٹھے۔ مگر مگر وہ پاؤں زمین میں سے نہ نکال سکا جب وہ بمشکل تمام سیدھا کھڑا ہوا تو نا گاہ اس کے پاؤں کے نشان سے دھوئیں کی مانند غبار آسمان کی طرف اٹھا۔ میں نے پھر تیروں سے فال لی۔ مگر خلاف مراد ہی جواب ملا۔میں نے پکارا۔ امان! امان! یہ سن کر وہ ٹھہر گئے میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچ گیا۔ مکرر تجربے سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ رسول اللہﷺ کا بول بالا ہوگا۔ میں نے آپ ﷺ سے قریش کے ارادے اور انعام کا ذکر کیا۔ اور زادو و متاع پیش کیا مگر انہوں نے کچھ نا لیا اور صرف یہی کہا کہ ہمارا حال پوشیدہ رکھنا۔ اس کے بعد میں نے آپ ﷺ سے عرض کی  کہ مجھے کتاب امن تحریر فرما دیجیے۔ آپ ﷺ کے حکم سے عامر بن فہیرہ نے چمڑے کے ٹکڑے پر فرمان امن لکھ کردیا ( صحیح بخاری باب الہجراۃ  الی المدینہ) سراقہ نے فرمان امن اپنی ترکش میں رکھ لیا اور واپس ہوا۔ راستے میں جس سے ملتا یہ کہ کر واپس کرلیتا کہ میں نے بہت ڈھونڈا آپ ﷺ  اس طرف نہیں ہیں" 
حسن اتفاق سے حضور اقدس ﷺ کو مسلمانوں کا ایک قافلہ ملا جو شام سے مال تجارت لا رہا تھا۔ اس قافلہ میں حضرت زبیر بن العوام بھی تھے جنہوں نے آپﷺ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سفید  کپڑے پہنائے۔

قدید ہی میں سہ شنبہ کو دوپہر کے وقت معبد عاتکہ بنت خالد خزعیہ کے ہاں گزر ہوا
ام معبد کی قوم قحط زدہ تھی وہ اپنے خیمہ کے صحن میں بیٹھا کرتی اور آنے جانے والوں کو پانی پلاتی اور  کھانا کھلاتی۔ آپ ﷺ نے اس گوشت اور کھجوریں خریدنے کا قصد فرمایا مگر اس کے پاس ان میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی حضورﷺ نے اس کے خیمہ کی  ایک جانب بکری دیکھی پوچھا یہ کیسی بکری ہے؟ اس نے جواب دیا کہ لاغری اور کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے پھر پوچھا کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا کیا مجھے اجازت دیتی ہیں کہ اس کو دوہ لوں اس نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں  اگر آپ اس کے نیچے دودھ دیکھتے ہیں تو دوہ لیں۔ آپﷺ نے اس کے تھن پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اور بسم اللہ پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔  بکری نے  آپﷺ کےلیے دونوں ٹانگیں چوڑی کر دیں دودھ اتار لیا اور جگالی کی 
آپﷺ نے برتن طلب کیا جو جماعت کو سیراب کردے پس آپﷺ نے اس میں خوب دوہا یہاں تک کہ اس پر جھاگ آگئی پھر ام معبد کو پلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگئی اور اپنے ساتھیوں کو پلایا یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے  سب کے بعد آپﷺ نے خود پیا۔ بعد ازاں دوسری بار دوہا۔ یہاں تک کہ برتن بھر دیا۔اور اس کو بطور نشان ام معبد کے پاس چھوڑا اور اس کو اسلام میں بیعت کیا 
پھر سب وہاں سے چل دیے ( مشکوٰۃ باب فی المعجزات فصل ثالث) تھوڑی دیر بعد ان معبد کا خاوند گھر آیا اس نے جو دودھ دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ؟ حالانکہ گھر میں تو  ایسی کوئی بکری نہیں جو دودھ کا ایک قطرہ بھی دے۔ 
ام معبد نے جواب دیا کہ ایک مبارک شخص آیا تھا جس کا حلیہ شریف ایسا ایسا تھا وہ بولا وہی تو قریش کے سردار ہیں جن کا چرچہ ہورہا ہے۔ میں نے قصد کر لیا ہے کہ ان کی صحبت میں رہوں۔
جب مدینہ کے قریب موضع لخیم میں پہنچے جو رابع و جفہ کے درمیان ہے تو بریدہ بن اسلمی بنی سہم کے ستر سوار لے کر حصول انعام کی امید پر آپ ﷺ کو گرفتار کرنے آیا۔۔
رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ توں کون ؟ اس نے جواب دیا کہ میں بریدہ ہوں۔ یہ سن کر آپ  ﷺ نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطور تفاول فرمایا: ابو بکر ہمارا کام خوش و خنک اور  درست ہو گیا۔  پھر آپ ﷺ نے بریدہ سے پوچھا کہ توں کس قبیلہ سے ہے اس نے کہا کہ بنو اسلم سے۔ آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق سے فرمایا ہمارے لیے خیر و سلامتی ہے۔
پھر پوچھا کہ کون سے بنو اسلم سے اس نے کہا کہ بنو سہم سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا توں نے اپنا حصہ ( اسلام سے) پالیا۔  بعد ازاں بریدہ نے نے آپﷺ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟
آپﷺ نے جواب دیا کہ میں اللہ کا رسول محمد بن عبداللہ ہوں۔ بریدہ نے اسم مبارک سن کر کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا
جو سوار بریدہ کے ساتھ تھے وہ بھی مشرف باسلام ہوئے۔ بریدہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ!  مدینہ میں آپ کا داخلہ جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے پس اپنا عمامہسر سے اتار کر نیزہ پر باندھ لیا اور آپ ﷺ کے آگے آگے روانہ ہوا۔ پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ ! آپ کس کے ہاں اتریں گے؟ آپ ﷺ  نے فرمایا میرا ناقہ مامور ہے  جہاں یہ بیٹھ جائے گا وہی میری منزل ہے۔ بریدہ نے کہا: الحمداللہ کہ بنو سہم بطوع رغبت مسلمان ہو گئے۔
رسول اللہﷺ کی تشریف آوری کی خبر مدینہ منورہ پہنچ چکی تھی۔ لوگ ہر روز صبح کو شہر سے نکل کر  ترہ میں جمع ہوتے ۔ انتظار کرتے جب دوپہر ہو جاتی تو واپس چلے جاتے ایک دن انتظار کر کے واپس جا چکے تھے کہ ایک یہودی نے ایک  قلعہ پر سے کسی مطلب کےلیے نظر دوڑائی۔ اسے رسول اللہ ﷺ اور آپﷺ  ہمراہی سفید لباس پہنے ہوئے نظر پڑے جو سراب کے آگے حائل تھے۔ وہ یہودی نہایت زور سے بہیے ساختہ  پکار اٹھا: اے معشر عرب! لو تمہارا مقصد ومقصود جس کا تم انتظار کر رہے تھے وہ آ گیا۔ یہ سن کر مسلمانوں نے فوراً   ہتھیار لگا کر حرہ قباء  کے عقبمیں رسول اللہﷺ کا استقبال کیا۔ اور اظہار مسرت کےلیے نعرہ تکبیر بلند کیا ۔ جس کی آواز بنی عمرو بن عوف میں پہنچی  یہ قبیلہ موضع قباء میں جو مدینہ سے جنوب کی طرف دو میل کے فاصلے پر ہے آرہا تھا۔ اس خاندان کا سردار کلثوم بن ہدم  انصاری اوسی تھا اس سے پہلے اکثر اکابر صحابہ کرام اسی کے ہاں اترے تھے حضورﷺ نے بھی اسی کو شرف نزول بخشا

#جاری_ہے

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو