I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 20

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط20

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


#نبوت_کا_ساتواں_سال


قریش نے جب دیکھا کہ باوجودتشدد و مزاحمت کے اسلام قبائل عرب میں
 پھیل رہا ہے۔ حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیسے لوگ ایمان لا چکے ہیں نجاشی نے مسلمانوں کو پناہ دی ہے اور سفارت بھی بے نیل  مرام واپس آگئی ہے تو انہوں نے بالاتفاق یہ قرار
دیا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)  کو اعلانیہ قتل کر دیا جائے۔ ابوطالب کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بنی ہاشم و بنی مطلب کو جمع کر کے کہا کہ حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کو بغرض حفاظت اپنے شعب (دره) میں لے
چلو۔ چنانچہ ایسا ہی  کیا گیا جب قریش کو معلوم ہوا کہ ہاشم و مطلب کی اولاد نے (سوائے ابولہب کے) بلا امتیاز حضرت کو اس طرح اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو انہوں نے مقام محصب میں جو کہ مکہ و منی کے درمیان ہے آپس  میں یہ عہد کیا کہ ہاشم و مطلب کی اولاد سے منا کحت اور لین دین سب موقوف
کردیا جائے یہاں تک کہ وہ تنگ آ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو  قتل کےلیے ہمارے حوالے کر دیں۔ اور تاکید
مزید کے لیے یہ معاہدہ تحریر کر کے کعبۃ اللہ کی چھت پر  لگا دیا۔ کفار قریش نے نہایت  نے نہایت سختی سے اس   معاہدہ پرعمل کیا۔ باہر سے جو غلہ مکہ  میں آتا وہ خودی خرید لیتے اور مسلمانوں تک  نہ پہنچتے دیتے۔ اگر
ان میں سے کوئی بطور صلہ رقم اپنے کسی مسلمان رشتہ دار کو اناج بھیجتا تو اس کے بھی سد راہ ہوتے۔
غرض بنو ہاشم شعب ابی طالب میں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ ابوطالب کا معمول تھا کہ جب لوگ سو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغرض حفاظت آپ کے بستر سے اٹھاتا تا کہ دوسرے بستر پر جالیٹیں اور آپ کے بستر پر اپنے کسی بیٹے یا بھائی کو لٹاتا ۔
صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے   عرض کیا کہ ابوطالب آپ کی مراعات و مدد کیا کرتا تھا۔ اور آپ کے لیے ناراض ہوا کرتا تھا۔ کیا یہ عمل اس کو فائدہ دے گا؟
آپ نے فرمایا:
نعم وجدته في غمرات من النارفأخرجته الى ضحضاح
ہاں میں نے اسے سرتا پا بڑی آگ میں پایا پس اس کو نکال کر تھوڑی آگ میں کرد 
جو اس کے ٹخنوں تک پہنچی ہے۔
 یہ توعذاب قبر میں تخفیف ہے قیامت کو بھی اس کی یہی حالت ہوگی ۔ چنانچہ ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ ابوطالب کا ذکر آیا تو رسول اللہ نے فرمایا:
لعله تنفعه شفاعتي يوم القيمة فيجعل في ضحضاح من التار يبلغ كعبيه يغلي منه دماغه.
مجھے امید ہے قیامت کو میری شفاعت اسے فائدہ دے گی۔ پس اس کو تھوڑی آگ
میں کر دیا جائے گا جوا سے کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے اس کا دماغ جوش کھائے گا۔
بعض علماء نے خلاف احادیث صحاح ابوطالب کا ایمان ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ والعلم عند اللہ!
جب تین سال اسی حالت میں گزر گئے تو اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاک  کو خبر دی کہ
اس معاہدے کو دیمک اس طرح چاٹ گئی ہے کہ اللہ کے نام کے سوا اس میں کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ نے خبر ابو طالب کو دی۔ اس نے کفار قریش کو جا کر کہا:”اے گروہ قریش! میرے بھتیجے نے مجھ کو اس  طرح خبردی ہے۔ تم اپنا معاہدہ لاؤ ۔ اگر یہ خبر صحیح نکلی تو   تم قطع رحمی سے باز آؤ۔ اور اگر غلط نکلی  تو میں اپنے بھتیجے کو  تمہارے حوالے کر دوں گا وہ اس پر راضی ہو گئے۔ جب معاہدہ دیکھا گیا تو ویسا ہی پایا گیا جیسا کہ  خبر دی گئی تھی ۔ اس وقت پانچ اشخاص ( ہشام بن عمر
، زبیر بن ابی امیہ مخزومی،  طعم بن
عدی ، ابوالبختری ، ذمہ بن  الاسود ) کچھ قیل  و قال کے بعد اس معاہدے کو چاک کرنے پر متفق ہوگئے  اور آخر کار ابوالبختری نے لے کر پھاڑ ڈالا باقی سب بجائے رو براہ ہونے کے مزید ایذاء  کے در پے ہو گئے ۔

#نبوت_کا_دسواں_سال

اسی سال ماہ رمضان میں ابو طالب نے وفات پائی۔ اور اس کے تین روز بعد خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی انتقال فرما گئیں۔ اب کفار قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء رسانی پر اور دلیر  ہوگئے ۔ ایک روز ایک نابکار نے راہ میں آپ کے سر مبارک پر خاک ڈال دی۔ آپ اس حالت میں گھر تشریف لے گئے۔ آپ کی صاحبزادی نے دیکھا۔ تو پانی لے کر 
دھونے لگیں ۔ اور روتی جاتی تھیں۔ آپ نے فرمایا:'' جان پدر! اللہ تعالی  تیرے باپ کو بچا لے گا 
  اسی سال کو عام الحزن بھی کہا جا تا ہے 
آپ صلی اللہ علیہ  نے تنگ آکر اس خیال سے کہ اگرثقیف ایمان لے آئے تو قریش کے بر خلاف میری مددکریں گے۔ طائف کا قصد کیا۔ زید بن حارثہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے وہاں  پہنچ کر اشراف ثقيف یعنی   عبد یالیل اور اس کے بھائی مسعود حبیب کو دعوت اسلام دی۔ 
مگر انہوں نے آپ کی دعوت کا بری طرح جواب دیا
۔ ایک بولا: اگر تجھے خدا نے پیغمبر بنایا ہے تو وہ کعبہ کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ دوسرے نے کہا: کیا خدا کو  پیغمبری کے لیے تیرے سوا کوئی اور نہ ملا؟‘‘ 
تیسرے نے کہا : میں ہرگز آپ سے خطاب نہیں کرنا چاہتا اگر آپ پیغمبری کے دعوے میں سچے ہیں تو آپ سے بات کرنا  خلاف ادب ہے۔ اور اگر جھوٹے ہین  تو قابل خطاب نہیں۔ جب آپ مایوس ہو کر واپس ہوئے تو
انہوں نے کمینے لوگوں اور غلام کو آپ پر ابھارا۔ جو آپ کو گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے تھے۔ اتنے میں لوگ جمع ہو گئے۔ وہ آپ کے راستہ میں دو رویہ  صف باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ درمیان سے گزرے تو قدم اٹھاتے وقت آپ کے پاؤں پر پتھر برسانے لگے۔ یہاں تک کہ نعلین شریفین  مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ کوپتھروں کا صدمہ پہنچتا  تو بیٹھ جاتے مگر وہ بازو تھام  کر کھڑا کر دیتے۔ جب پھر چلنے لگتے تو پتھر برساتے اور ساتھ ساتھ ہنستے جاتے۔ اس طرح انہوں نے عتبہ اور
شیبہ پسران ربیعہ کے باغ تک آپ کا تعاقب کیا۔ آپ نے باغ میں ایک انگور کی شاخ کے سایہ میں  پناہ لی ۔ عتبہ اور شیبہ اگر چہ آپ کے سخت دشمن تھے مگر آپ کی اس حالت پر ان کو بھی رحم آ گیا
انہوں نے اپنے نصرانی غلام عداس سے کہا کہ انگور کا ایک خوشہ تھال میں رکھ کر ان کے پاس لے جا اور کہ دیں کہ  کھالیں ۔ آپ نے بسم اللہ کہہ  کر کھایا۔ عداس متعجب ہو کر کہنے لگا کہ ان شہروں کے لوگ ایسا نہیں کہتے۔ آپ نے پوچھا کہ تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا نینویٰ سے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ 
نیک بندے یونس بن متی کا شہر ہے پھر اس نے آپ سے اس کا حال پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی میری طرح پیغمبر  تھے۔ یہ سن  کر وہ آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور اسلام لایا۔
اسی سفر میں مقام نخلہ میں جو مکہ مشرفہ سے ایک رات کا راستہ ہے  شہر نصیبین ( یہ مقام موصل سے چھ دن کا فاصلہ ہے) کے جن حاضر  ہوئے۔ آپ رات کو نماز میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے۔ وہ سن کر ایمان لائے ۔ "و اذصرفنا اليك نفرا من الجن الآیه" میں اسی  طرف اشارہ ہے۔ نخلہ میں چند روز قیام رہا۔ وہاں سے آپ حرامیں تشریف لائے۔ اور مطعم  بن عدی کو پیغام بھیجا کہ کیا تم مجھے اپنی پناه و امان میں لے سکتے ہو؟
مطعم نے قبول کیا۔ آپ رات کو مطعم کے ہاں رہے۔ جب صبح ہوئی تو مطعم  اور اس کے بیٹوں
نے ہتھیار لگائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں کہ آپ طواف کیجئے۔ اور خود تلواریں   لگائے ہوئے مطاف میں موجود رہے جب حضرت طواف سے فارغ ہوئے تواسی ہیت میں آپ کے دولت خانہ
تک آپ کے ساتھ آئے۔
اس سفر کے مدتوں بعد ایک روز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: 
یا رسول اللہ! کیا آپ پر کوئی ایسا دن آیا ہے جواحد کے دن سے سخت ہو۔ فرمایا بے شک  میں نے تیری قوم سے دیکھا جو دیکھا۔ اور جو 
میں نے ان سے دیکھا اس میں سب سے سخت عقبہ کا دن تھا۔ جب کہ میں نے اپنے آپ کوعبد یالیل بن کلال پر پیش کیا۔ اس نے دعوت اسلام کو قبول نہ کیا۔ پس میں غم کی حالت میں گردن جھکائے چلا۔
مجھے ہوش آیامگرقرن الثعالب میں سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل نے مجھے سایہ کیا ہوا ہے۔
میں نے نظر اٹھائی تو اس بادل میں حضرت جبرائل دکھائی دیئے ۔ حضرت جیل نے مجھے آواز دی اور کہا بے شک الله تعالی نے آپ کی قوم کا قول سن لیا ہے اور انہوں نے جو آپ کو جواب دیا وہ بھی سن  لیا ہے۔ آپ کی طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا گیا ہے۔ تا کہ آپ اسے حکم دیں جو کچھ آپ اپنی قوم میں
چاہتے ہیں۔ حضور کا بیان ہے کہ پھر مجھے  پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کے بعد کہا اے محمد! بے شک اللہ نے آپ کی قوم کا قول سن لیا ہے۔ میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ مجھ کو آپ کے رب
نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ تا کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اخشبین ( اخشبین دو پہاڑ ہیں۔  جن کے درمیان مکہ مشرفہ واقع ہے ان کے نام یہ ہیں: ابو قبیس، اور تعیقان) کو ان پر الٹ دوں ۔ ( توالٹ دیتا ہوں ) آپ نے جواب دیا: نہیں بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان کی پشتوں سے ایسے بندے پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔
#جاری_ہے

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو