I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 16

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط16

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


اشعار عرب میں جن مقامات کی شراب کا ذکر آیا ہے ان کی تفصیل یوں ہے۔

ملک کا نام: سیریا یعنی شام 
شراب کےلیے مشہور مقامات: جدر،حمص، بیت راس، خص، اندرین، بصری، صرخد، مآب
کیفیت: بیت راس دو شہروں کا نام ہے۔ ایک بیت المقدس میں دوسرا نواح حلب میں ہے۔ دونوں میں انگور بکثرت اور شراب کےلیے مشہور تھے۔ جدر کی شراب کو جدریہ کہتے تھے۔

ملک کا نام: فلسطین
شراب کےلیے مشہور مقامات: مقدر، عون، بیسان
کیفیت: مقدر کی شراب کو مقدری یا مقدریہ اور بیسان کی شراب کو بیسانیہ بولتے تھے۔

ملک کا نام: الجزیرہ:
شراب کےلیے مشہور مقامات: عانہ
کیفیت: عانہ کی شراب کو عانیہ کہتے تھے۔

ملک کا نام: کلدیہ یا بابلونیا
شراب کےلیے مشہور مقامات: بابل ،صریفوں، قطر بل 
کیفیت: صریفوں عکبر کے قریب اور قطر بل بغداد و عکبرا کے درمیان میں ہے۔
ان مقامات کی شراب کو بابلیہ و صریفیہ و قطر بلیہ کہتے تھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دین ابراہیم  جو عرب کا اصلی دین تھا۔ سوائے چند رسموں کے جن سے عقل سليم قطع نظر ارشاد ابنیاء علیم السلام سے انکار نہیں ہوسکتا عرب میں معدوم ہو گیا تھا۔ بجائے توحید کے عموما شرک و بت پرستی تھی۔ وہ معبودان باطل کو قادر مطلق کی طرح اپنے حاجت روا جانتے تھے۔ بعض
اجرام فلکیہ ، آفتاب ماہتاب و ستارگان کی پوجا کرتے تھے۔ بعض تشبیہ کے قائل تھے اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی پوجا کرتے اور خدا کے ہاں ان کی شفاعت کے امیدوار تھے۔ شرک وتشبیہ کا کیا ذکر بعض کو  خدا کی ہستی ہی سے انکار تھا۔ وہ شب و روز شراب خوری، قمار بازی ، زنا کاری اور
و غارت گری میں مشغول رہتے تھے۔ قساوت قلب کایہ حال تھا کہ لڑ کیوں کو پیدا ہوتے ہی زنده  دفن کر دیتے تھے۔ بتوں پر آدمیوں کی قربانی چڑھانے سے دریغ نہ کرتے ۔ لڑائیوں میں آدمیوں کو
زندہ جلا دینا۔ مستورات کا پیٹ چاک کرتا اور بچوں کو تہ تیغ کرنا عموما جائز سمجھتے تھے ان کے درمیان جو یہود و نصاری تھے ان کی حالت بھی دگر گوں تھی۔ ان کی کتابیں  محرف ہو چکی تھیں۔ یہود خدا کو مغلول الید  اور حضرت عزیرکوخدا کا بیٹا کہتے تھے۔ اور نصاری تین خدا مانتے تھے۔ اور مسئلہ کفارہ کی آڑ میں اعمال حسن کی کوئی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے۔
یہ حالت صرف عرب کے ساتھ مخصوص نہ  تھی۔ بلکہ تمام دنیا میں اسی طرح کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ چنانچہ اہل فارس آگ کے پوجنے اور ماؤں کے ساتھ وطی کرنے میں مشغول تھے۔ ترک شب و روز بستیوں کے تباہ کرنے اور بندگان خدا کو اذیت دینے میں مصروف تھے۔ ان کا دین بتوں کی پوجا اور ان کی عادت مخلوقات پر  ظلم کرنا تھا۔ ہندوستان کے لوگ بتوں کی پوجا اور خود کو آگ میں جلانے کے سوا کچھ نہ جانتے تھے۔ اور نیوگ کو جائز سمجھتے تھے۔
یہ عالمگیر  ظلمت اس امر کی متقضی تھی کہ حسب عادت الہی ملک عرب میں جہاں دنیا بھر کے ادیان باطل و عقائد قبیحہ و اخلاق ردیہ  موجود تھے۔ ایک ہادی تمام دنیا کے لیے معبوث ہو۔ چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔
عرب جیسی قوم میں جس کی حالت اوپر بیان ہوئی  سیدنا محمد مصطفیٰﷺ  کی زندگی بعثت تک ہر پہلو کے لحاظ سے بالکل بے لوث رہی۔ آپ اخلاق حمیدہ سے متصف اور صدق و امانت میں مشہور تھے ان کی قوم نے آپ کو امن کا لقب دیا ہوا تھا۔ آپ مجالس لہو و لعب میں کبھی شریک نہ ہوئے۔
وہ افعال جاہلیت جن کی آپ کی شریعت میں ممانعت وارد ہے، آپ کبھی ان کے مرتکب نہ ہوئے 
اور جو جانور بتوں پر ذبح کیے جاتے آپ ان کا گوشت نہ کھاتے ۔ فسانہ گوئی، شراب نوشی، قمار بازی، اور بت پرستی جو قوم میں عام شائع تھیں۔ آپ ان سب سے الگ رہے
سال میں ایک بار ماہ رمضان میں کوہ حرا  میں جو کہ مکہ مشرفہ سے تین میل کے فاصلہ پر منی  کو جاتے  ہوئے بائیں طرف کو ہے اعتکاف فرمایا کرتے ۔ اور وہاں ذکر وفکر میں مشغول رہتے۔ چند راتوں کا توشہ ساتھ لے جاتے ۔ وہ ختم ہو جاتا  تو گھر تشریف لاتے اور اسی قد رتوشہ لے کر حراء میں جامعتکف ہوتے۔

#ابتدا_وحی

جب آپ کی عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو الله تعالی نے آپ کو منصب نبوت سے سرفراز فرمایا۔ وحی  کی ابتدا  رویائے صادقہ سے ہوئی ۔ کچھ آپ رات کو خواب میں دیکھتے بعینہ وہی  ظہور میں آتا۔ چھ ماہ  اسی حالت میں گزر گئے کہ ایک روز آپ حسب معمول غار حرا میں مراقب تھے 
کہ فرشتہ ( حضرت جبرائیل علیہ السلام)  آپ کے پاس آئے ۔ اس نے آپ سے کہا: اقراء(پڑھو) آپ نے فرمایا: ما انا بقاری( میں پڑھا ہوا نہیں) آپ کا بیان ہے کہ اس پرفرشتہ نےمجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ وہ مجھ سے غایت وسع وطاقت کو پہنچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا
اقراء میں نے کہاما انا بقاری اس نے مجھے پکڑ کر دوسری بار بھینچا یہاں تک کہ وہ مجھ سے غایت وسع و طاقت کو پہنچا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقرا. میں نے کہا: ما أنا بقاری پھر اس نے مجھے پکڑ کر تیسری بار بھینچا یہاں تک کہ وہ مجھ سے غایت وسیع اور طاقت کو پہنچا 
۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا:
#ترجمہ 
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے۔
 پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے علم سکھایاقلم سے۔ سکھایا انسان کو وہ جو وہ نہیں جانتا تھا ( العلق: ۱تا۵)
یہ سبق پڑھ کر آپ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ سے سارا قصہ بیان کیا وہ آپ کو اپنےچچا ذاد  بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ جو عیسائی اور تورات وانجیل کا ماہر تھا
 اس نے یہ ماجرا سن کر کہا کہ یہ وہی ناموس وفرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام  پر اترا تھا( تفصیل کےلیے صحیح بخاری کتاب التفسیر دیکھیں) اس کے بعد کچھ مدت تک وحی بند رہی تاکہ آپ کا شوق و انتظار زیادہ ہو جائے پھر یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں:
ترجمہ:
اے چادر لپیٹنے والے اٹھیے اور لوگوں کو اللہ کا ڈر سنائیے اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے  اور اپنے لباس کو پاک رکھیے اور بتوں کو چھوڑے رہیے: (المدثر: ۱تا۵)
#جاری_ہے

صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو