I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 17

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط17

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


#آغاز_دعوت

" قم فانذر" سے آپ پر انذار اور دعوت الی اللہ فرض ہوچکی تھی  مگر اعلان دعوت کا حکم نہ آیا تھا۔ اس لیے آپ نے پہلے خفیہ طور سے ان لوگوں کو دعوت اسلام دی  جن پر آپ کو اعتماد تھا اور جو آپ کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ اس دعوت پر کئی مرد و زن ایمان لائے۔ چنانچہ مردوں میں سے پہلے جو آپ پر ایمان لائے وہ حضرت ابو بکر صدیق ہیں ۔ لڑکوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی المرتضی ہیں اور
عورتوں میں حضرت خدیجۃ الکبری، آزاد کیے ہوئے غلاموں میں حضرت زید بن حارث اور غلاموں میں حضرت بلال ہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ایمان لاتے ہی دعوت اسلام شروع کر دی ۔عشره مبشرہ میں سے پانچ  یعنی  حضرت عثمان غنی ،سعد بن ابی وقاص ، طلحہ بن عبید اللہ ، عبدالرحمن بن عوف، اور زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ ہی کی ترغیب سے مشرف باسلام ہوئے ۔ ان کے بعد حضرت سعید بن  زید، ابوذر غفاری، ارقم بن ابی ارقم ، عبداللہ بن مسعود ،عثمان بن مظعون ، ابو عبیدہ بن الجراح ، عبیدہ بات
حارث، حصین والد عمران بن حصین ، عمار بن یاسر، خباب بن الارت ، خالد بن سعید بن العاص اور صہیب رومی وغیرہ ہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم سابقین اولین کے زمرہ میں شامل ہوئے۔ 
اور عورتوں میں فاطمہ بنت خطاب ہمشیرہ عمرفاروق، اسماء بنت ابی بکر، اسماء بنت سلامہ، تمیمیہ ، اسماء بنت عمیس خشعمیہ، فاطمہ بنت المجلل قرشیہ عامریہ، فکیہہ بنت یسار، رملہ بنت ابی عوف اور امینہ بنت خلف خزاعیہ،(رضی اللہ تعالیٰ عنہن) سابقات الى الاسلام میں سے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ جو ہوا پوشیدہ طور پر ہوا۔ نمازبھی شعاب مکہ میں چھپ
کر پڑھا کرتے تھے۔ ایک روز حضرت سعد بن ابی وقاص اور کچھ اصحاب مکہ کے کسی شعب  میں نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین نے دیکھ کر اس فعل کو برا کہا۔ پس باہم لڑائی ہوگئی ۔ حضرت سعد نے اونٹ کے تالو کی ہڈی ان نابکا روں میں سے ایک کے پر ماری اور سر توڑ ڈالا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب دار ارقم میں جو کوہ صفا کے نشیب میں تھا رہتے اور وہیں نماز پڑھتے۔

#تبلیغ_علی_الاعلان :

خفیہ دعوت کو جب تین سال ہو چکےتو اعلان کا حکم  اس طرح آیا :

ترجمہ:
پس  آپ  کھول کر بیان کر دیں  جو آپ کو  حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے کنارہ کریں (سورہ حجر)
نیز حکم آیا

اور ڈرائیے اپنے نزدیک کے ناطے  والوں کو ۔“ الشعراء: ۲۱۴
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر قبیلہ قریش کے بطون کو کیوں پکارا۔ 
 یا نبی فہریا  بنی عدی یہاں تک کہ وہ جمع ہو گئے ۔ جوخود نہ آ سکتا تھا۔ وہ اپنی طرف سے کسی اور کو بھیجا تاکہ کے دیکھے کہ یہ کسی پکار ہے۔ پس ابولہب اور قریش آئے۔ آپ نے فرمایا: "بتاؤ اگر میں تم سے یہ  کہوں کہ
وادی مکہ سے ایک سواروں کا لشکر تم پر تاخت و تاراج کرنا چاہتا ہے۔ تو کیا تمہیں یقین آجائے گا۔ وہ بولے: ہاں ۔ کیوں کہ ہم نے آپ  کو سخ ہی بولتے دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تو میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر سخت عذاب نازل ہوگا۔ اس پر ابو لہب بولا: تجھ پر آئندہ ہمیشہ ہلاک وزیان ہو۔ کیا اس کے لیے تو نے ہم کو جمع کیا ہے؟ تب یہ آیتیں نازل ہوئیں

ہلاک ہوں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور ہلاک ہو وہ، کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ
جو کچھ کمایا اس نے‘‘( سورہ لہب: آیات ۱,۲)

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان دعوت کیا اور بت پرستی کی اعلانیہ مذمت شروع کی تو سرداران قریش عتبہ و شیبہ پسران ربیعہ بن عبد شمس، ابوسفیان، ابوجہل ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل سہمی اور اسود بن مطلب وغیرہ ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تیرا بھتیجا ہمارے معبودوں کو
برا کہتا ہے اور ہمارے آبا و اجداد کو گمراہ بتاتا ہے اور ہمیں احمق ٹھہراتا ہے۔ تم اس کو منع کردو۔ یا بیچ میں سے ہٹ جاؤ۔ ہم اس کو  سمجھا  لیں گے۔ ابو طالب نے انہیں نرمی  سے سمجھا کر رخصت کر دیا۔
آپ نے تبلیغ کو جاری رکھا مگرقریش  بجا ئے رو براہ ہونے کے آپ سے عداوت زیادہ کرنے لگے۔
اور ایک دوسرے کوآپ سے لڑنے پر ابھارنے لگے۔ وہ  دوباره ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے: "ابوطالب: بے شک ہم میں تیری قدر و منزلت ہے ہم نے تم سے کہا تھا کہ اپنے بھتیجے کو منع کردو 
 مگر تم نے ایسا نہیں کیا ۔ خدا کی قسم! ہم اپنے معبودوں اور آباؤ اجدادکی توہین گوارا نہیں کر سکتے تم اس کو روک دو ورنہ وہ اورتم میدان میں آ جاؤ کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہو جائے۔ وہ یہ کہہ کر چلے گئے ۔ ابوطالب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو بلا کر کہا: اے میرے مہینے تیری قوم نے میرے پاس آ کر ایسا کیا ہے تو اپنے آپ پر اور مجھ پر رحم  کر ۔ اور مجھے امر مالا یطاق کی تکلیف نہ  دے۔  یہ سن کر  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدیں خیال کہ اب میرے چچا نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور میری مدد سے عاجز آ گیا ہے یوں فرمایا اے میرے چچا
! الله کی قسم اگر وہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو میرے بائیں
ہاتھ پر رکھ دیں تا کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں ۔ تب بھی میں اسی کو نہ چھوڑوں گا ۔ یہاں تک کہ اللہ
اسے غالب کردے یا میں خود اس میں ہلاک ہوجاؤں،(سیرت ابن ہشام) 
دست از طلب ندارم تا کام من بر آید____یا تن رسد بجاناں  یا جاں زتن  بر آید
پھر آپ آبدیدہ ہوئے اور رو پڑے۔ آپ واپس ہوئے تو ابو طالب نے کہا: اے میرے بھتیجے  جو کچھ آپ چاہیں کہیں میں کبھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ جب قریش نے دیکھا کہ ابو طالب اس طرح نہیں مانتا۔ تو عمارہ بن ولید بن مغیرہ کو ساتھ لے کر اس کے پاس آئے، کہنے لگے: اے ابو طالب ! یہ عمارہ قریش میں نہایت قوی اور خوبصورت نوجوان ہے۔ ہم یہ تجھے دیتے ہیں ۔ تو اس کو اپنا بیٹا بنالے۔ اور اس کے عوض میں اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالے کردے۔ ابوطالب نے کہا:
" اللہ کی  کی قسم تم  مجھے بڑی تکلیف دیتے ہو۔ کیا تم مجھے اپنا بیٹا دیتے ہو کہ میں اسے تمہارے واسطے پالوں اور اپنا بیٹا تمہیں دوں کہ اسے قتل کر ڈالو الله کی قسم ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ یہ سن کر قریش اور بھی بر افروختہ ہو گئے وہ ایک روز ولید بن مغیرہ کے پاس جمع ہوئے ۔ ولید مذکور فصاحت و بلاغت میں ان کا سردار تھا۔ ایام حج  قریب تھے ولید و قریش میں یوں گفتگو ہوئی:

#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو