I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 4 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 15

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ


#قسط15

#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


بت کا نام: ہبل
مقام بت: مکہ
پوجنے والا قبیلہ: قریش:
کیفیت: کعبۃ اللہ جو خانہ خدا تھا بت خانہ بنا ہوا تھا۔ اس میں تین سو ساٹھ بت تھے جن میں ہبل بہت بڑا اور جوف کعبہ میں نصب کیا ہوا تھا۔ یہ بت بشكل انسان عمیق احمر  کا بنا اہوتھا۔ اس کا بایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔ قریش کو اسی حالت میں ملا تھا۔ انہوں نے اس کیلئے
سونے کا ہاتھ بنا دیا تھا۔ اس کے سامنے سات سیر رکھے ہوئے تھے۔ جن سے پجاری قرعہ اندازی کیا کرتا تھا۔ اساف اور نائلہ دونوں زمزم کی جگہ پر تھے۔ قریش
انکے پاس قربانیاں دیا کرتے تھے۔ قریش کا ایک بت مناف تھا۔ علاوہ ان کے
مکہ کے گھر گھر میں ایک ایک بت تھا۔ جب کوئی سفر کو جاتا تو بطور تبرک اس کو مسح کرتا۔
جب واپس آتا تو گھر میں داخل ہو کر سب سے پہلے اس کومسح کرتا۔
مندرجہ بالا بتوں کے علاوہ عرب میں اور بھی بت تھے۔ ستاروں کی بھی پوجا ہوتی تھی چنانچہ
قبیل حمیر سورج کی پرستش کرتا تھا۔ کنانہ چاند کی ۔ بنوتمیم و بران کو قیس شعری کو اسد عطارد کو اور لخطم و جذام مشتری کو پوجتے تھے
عرب میں درخت پرستی بھی پائی جاتی تھی مکہ مشرفہ کے قریب ایک بڑا سر سبز درخت تھا 
جاہلیت میں لوگ سال میں ایک دفعہ وہاں آتے اور اس درخت پر اپنے ہتھیار لٹکاتے اور اس کے پاس اپنے حیوانات ذبح کرتے۔ کہتے ہیں کہ رب جب حج  کو آتے تو اپنی چادریں اس  درخت پر لٹکاتے۔
حرم میں بغرض تعظیم بغیر چادروں کے داخل ہوتے ۔ اس لیے اس درخت کو انواط کہتے ہیں
ابن اسحاق نے حدیث وہب بن منبہ میں ذکر کیا ہے کہ جب فیمیون نصرانی این سیاحت میں نجران میں
بطور غلام فروخت ہواتواس وقت اہل نجران ایک بڑے درخت کی پوجا کیا کرتے تھے۔ اس درخت کے پاس سال میں ایک دفع بڑی عید ہوا کرتی تھی۔ وہ عید کے موقع پر اپنے اچھے سے اچھے کپڑے اور عورتوں
کے زیورات اس درخت پرڈال دیا کرتے تھے۔ پھر وہ فیمیون کی کرامت دیکھ کر عیسائی ہو گئے 
بتوں پرعموی حیوانات کوخون بہایا جاتا تھا
۔ مگر بعض دفعہ انسان کو بھی فنا کر دیتےتھے چنانچہ نیلوس  ایک قسم کی قربانی کا ذکر جو ۴۱۰ء میں دی گئی تھی بدیں الفاظ کرتا ہے:
حجاز کے وحشی عربوں کے ہاں دیوتا کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ صرف ان گھڑ پتھروں کی ایک قربا نگاہ ہوا کرتی تھی۔ اس پر وہ ستاره صبح (زہرہ) کے لیے کوئی انسان یا سفید اونٹ بڑی جلدی سے ذبح کیا کرتے تھے۔ یہ قربانی طلوع آفتاب سے پہلے بظاہر بدیں وجہ ہوا کرتی تھی کہ وہ ستارہ اس عمل میں پیش نظر ہے۔ وہ مقام تبرک کے گرد بھجن  گاتے ہوئے تین بار طواف کرتے۔ تب سردار قوم یابوڑھا پجاری اس بھینٹ پر پہلا وار کرتا اور اس کا کچھ خون پیتا۔ بعد ازاں حاضرین کود پڑتے اور اس جانور کو کچا اور صرف نیم پوست کندہ طلوع آفتاب سے پہلے کھا جاتے۔ خود نیلوس کا پیٹ زہرہ کی بھینٹ چڑھنے کو تھا کہ ایک اتفاقی امرسے گیا۔ نیلوس سے پیشتر پور فری بیان کرتا ہے کہ عرب میں دومہ کے باشندے سال میں ایک بار ایک لڑکے کی بھینٹ دیتے۔ اور اسے قربان گاہ کے نیچے دفن کر دیتے۔
اوپر کے بیان سے ظاہر ہے کہ عرب کے طول وعرض میں بت پرستی کا جال بچھا ہوا تھا اس کے علاوہ یہودیت و نصرانیت و مجوسیت بھی کہیں کہیں رائج تھی۔ چنانچہ  حمیر ، کنانہ
، بنو حارث بن کعب اور کندہ میں یہودیت تھی۔ مدینہ میں یہودیوں کا زور تھا۔ خیبر میں بھی یہودی بستے تھے۔ ربیہ، غسان اور بعض قضاء میں نصرانیت تھی ۔ مجوسیت بہت کم تھی۔ وہ بت پرستی و یہودیت و عیسائیت میں
جذب ہوتے ہوتے صرف بنو تمیم میں رہ گئی تھی ۔ جن کے منازل نجد سے یمامہ تک پائے جاتے تھے۔ حضرت حاجب بن زرارہ تمیمی  اسی قبیلہ سے تھے۔ جنہوں نے کسری کے ہاں اپنی کمان رہن رکھی تھی۔
 اور رسول اللہﷺ کے زمانہ میں تک کرا کر بطورِ ہدیہ خدمت اقدس میں بھیجی تھی۔
عرب میں ازدواج کی کثرت تھی۔ چنانچہ جب حضرت غیلان ثقفی ایمان لائے توان کے تحت  میں دس عورتیں تھیں ۔ جمع بین الاختین جائز سمجھتے تھے۔ چنانچ ضحاک بن فیروز کا بیان ہے کہ جب میرا
باپ اسلام ایاتواس کے تحت دوسگی بہنیں تھیں ۔ جب کوئی شخص مر جاتا تو اس کا سب سے بڑا بیٹا اپنی سوتیلی ماں کو میراث میں پاتا۔ چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا ۔ ورنہ اپنے کسی اور بھائی یا رشتہ دار کو شادی کے لیے دے دیتا ۔ زنا کاری کا عام رواج تھا اور اسے جائز خیال کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ جاہلیت میں نکاح چار طرح کا تھا ایک نکاح متعارف جیسا کہ آج کل ہے کہ زوج زوجہ کے ولی مہرمعین پر متفق ہو جائیں اور ایجاب و قبول ہوجائے ۔ دوسرا نکاح استبضاع بدین طور پر شوہر اپنی عورت کو حیض سے پاک ہونے کے بعد کہتا کہ تو فلاں سے استبضاع (طلب ولد)  کرلے  اور خود اس سے مقاربت نہ کرتا۔ یہاں تک کہ اس شخص سے حمل ظاہر ہوجاتا۔ اس وقت چاہتا تو وہ اپنی زوجہ سے مجامعت کرتا یا  استبضاع بغرض نجابت ولد کیا جاتا تھا۔
 تیسرا نکاح جمع۔ بدیں طور کہ دس سے کم مرد ایک عورت پر یکے بعد دیگرے داخل ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ حاملہ ہو جاتی ۔ وضع حمل کے چند روز بعد وہ  ان سب کو بلاتی اور ان سے کہتی کہ تم نے جو کیا وہ تمہیں معلوم ہے۔ میرے ہاں بچے پیدا ہوا ہے ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے کہتی کہ یہ تیرا بچے ہے۔ پس وہ اس  کا سمجھا جاتا تھا
۔ اور وہ انکار نہ کر سکتا تھا۔ 
چوتھا نکاح بغایا تھا۔ بدیں طور بہت سے مرد جمع ہوکر بغایا( زنا کار عورتیں) میں سے کسی پر بے روک ٹوک داخل ہوتے۔
یہ بغایا بطورِ علامت اپنے دروازوں پر جھنڈے نصب کرتی تھیں۔جو چاہتا ان کے پاس جاتا جب ان میں سے کوئی حاملہ ہوجاتی تو وضع حمل کے بعد وہ سب مرد اس کے ہاں جمع ہوتے اور قافہ کو بلاتے وہ اس بچے کو ( اس کے اعضاء دیکھ کر فراست سے) جس سے منسوب اسی کا بیٹا سمجھا جاتا تھا اور اس سے انکار نہ ہوسکتا تھا۔

شراب خوری اور قمار بازی بھی عرب میں کثرت سے رائج تھیں۔ مہمان نوازی کی طرح ان دونوں میں مال و دولت لٹانے پر فخر کیا کرتے تھے۔ عرب میں انگوروں یا کھجوروں وغیرہ سے جو شراب بناتے تھے وہ ان کےلیے کافی نہ تھی۔ اس لیے شراب کا  بہت بڑا  حصہ دیگر ممالک سے منگوایا جاتا تھا۔ 
وہ بہت تیز ہوتی تھی۔ پانی ملا کر استعمال کرتے تھے۔ شراب کی دکانوں پر جھنڈے لہرایا کرتے تھے۔
جب کسی دکان میں شراب کا ذخیرہ ختم ہو جاتا تو جھنڈا اتار لیا جاتا تھا اشعار عرب میں جن مقامات کی شراب کا ذکر آیا ہے ان کی تفصیل یوں ہے:

#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو