الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط14
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
باب سوم
#حالات_بعثت_شریف_تاہجرت
اس عنوان پرقلم اٹھانے سے پہلے مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عرب اور باقی دنیا کی دینی اور اخلاقی اور روحانی حالت جو تھی اس کا مجمل بیان پیش کیا جائے جس سے حضور نبی آخرالزمان( ﷺ) کی بعثت کی ضرورت و اہمیت ثابت ہوجائے۔
#دنیا_کی_حالت:
عرب پہلے دین ابراہیم علیہ السلام پر تھے۔ حضرت اسماعیل بیان کے بعد ان کے
صاحب زادے حضرت نابت کعبہ کے متولی ہوئے ۔ ان کے بعد قبیلہ جرہم
متولی ہوا۔ اس قبیلے کو عمرو بن لحمی نے جو قبیل نزاع کا مورث اعلی تھا۔ بیت اللہ شریف سے نکال دیا اور خود متولی بن گیا۔ اس کا اصل نام عمرو بن ربیعہ بن حارثہ بن عمرو بن عامر ازدی تھا عرب میں بہت
پرستی کا بانی یہی شخص تھا۔ اس نے سائبہ وصیلہ، بحیرہ، حامیہ کی رسم ایجاد کی تھی۔ ایک دفعہ یہ سختت بیمارہو گیا۔ کسی نے کہا کہ بلقاء واقع شام میں ایک گرم پانی کا چشمہ ہے، اگر تم اس میں غسل کرو تو تندرست ہو جاؤ گے۔ اس لیے یہ بلقا ء میں پہنچا اور اس چشمہ میں غسل کرنے سے اچھا ہو گیا۔ وہاں
اس نے لوگوں کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا۔ پوچھا کہ یہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا ہم ان کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے ہیں ۔ اور ان ہی کے وسیلہ سے دشمن پر فتح پاتے ہیں۔
یہ سن کراس نے درخواست کی کہ ان میں سے کچھ مجھے بھی عنایت کیجئے ۔ غرض اس نے وہ بت لا کر کعبہ کے گردنصب کر دیئے اور عرب کو ان کی پوجا کی دعوت دی۔ اسی طرح عرب میں بت پرستی شائع ہوئی جس کا اجمالی خاکہ ( یہ خاکہ ابوالمنذر ہشام کی (متوفی ۲۰۴ھ) کی تصنیف کتاب الاصنام سے ماخوذ ہے جو مصر میں ۱۳۴۳ میں چھپ چکی ہے۔) ذیل میں درج کیا جاتا ہے:
بت کا نام: ود۔
مقام بت: دومۃ الجندل جو دمشق ومد ینہ کے وسط میں ہے۔
پوچنے والا قبیلہ: کلب۔
کیفیت: یہ بت بشکل انسان بزرگ جثہ تھا جس پر دوحلہ منقوش تھے ایک حلہ بطور آزار دوسرا بطور چادر۔
تلوار لٹکائے ہوئے اور کمانے شانے پر سامنے ایک تھیلے میں نیزہ اور جھنڈا تھا اور ترکش بھی جس میں تیر تھے حارثہ اجداری اپنے بیٹے مالک کو دودھ دیکر اس بت کے پاس بھیجا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ اپنے معبود کو پلاؤ
بت کا نام: سواع
مقام بت: رباط
پوجنے والا قبیلہ: ہذیل
کیفیت: بنو لحیان اس کے خادم یا پجاری تھے!
بت کا نام: یغوث
مقام بت: مذحج
پوجنے والا قبیلہ: مذہج و اہل جرش
کیفیت: مذہج یمن میں ایک ٹیلہ کا نام ہے
بت کا نام: یعوق
مقام بت: خیوان
پوجنے والا قبیلہ: ہمدان اور اس کے نواح کے لوگ یمن میں
کیفیت: خیوان صنعاء یمن سے مکہ کی طرف دو دن کا راستہ ہے!
بت کا نام: نسر
مقام بت: بلخع
پوجنے والا قبیلہ: حمیر
کیفیت: بلخع سرزمین یمن میں ہے اور حمیر نسر کو پوجتے رہے یہاں تک کہ ودنواس نے ان کو یہودی بنا لیا۔ اس طرح حمیر کےلیے تبدیل مذہب سے پہلے صنعاء یمن میں ایک مندر ٹام تھا جس پر وہ قربانیاں چڑھاتے تھے
بت کا نام: فلس( بشکل انسان)
مقام بت: اجا
پوجنے والا قبیلہ! طئی
کیفیت: قبیلہ طئی کے دو پہاڑ اجا و سلمی مدینہ منورہ سے جانب شمال تین مرحلہ کے فاصلہ پر ہیں۔اس بت پر قربانی چڑھاتے تھے اگر کوئی جانور بھاگ کر اس کی پناہ میں آتا تو وہ اسی کا ہوجاتا۔ ایک روز اس کا پجاری صیفی نام ایک عورت کی اونٹنی بھگالایا اور اس بت کے پاس باندھ دی ۔ عورت نے اپنے ہمسایہ سے شکایت کی۔ وہ اونٹنی کو کھول کر لے گیا۔ پجاری نے بت سے فریاد کی مگر کچھ نا بنا ۔ عدی بن حاتم نے یہ دیکھ کر بت پرستی چھوڑی اور عیسائی ہوگئے ۔
پھر ۹ہجری میں مشرف با اسلام ہوئے
بت کا نام: منات
مقام بت: قدید کے قریب ساحل بحر پر کوہ مشقل کے نواح میں
پوجنے والا قبیلہ: اوس و خزرج ہذیل و خزاعہ
کیفیت: قریش اور باقی تمام عرب اس کی عبادت کرتے تھے اور اس پر قربانیاں چڑھاتے تھے۔ اوس و خزرج جب مدینہ سے حج کرنے آئے تو ارکان حج ادا کرکے اپنے سر اس بت کے پاس منڈواتے تھے اور اس کے بغیر حج کو نا تمام سمجھتے تھے۔
بت کا نام: لات
مقام بت: ثقیف:
کیفیت: مربع پتھر تھا ۔ تمام عرب اس کی تعظیم کرتے تھے۔
بت کا نام: عزی
مقام بت: وادی حراض واقع نخلہ شامیہ ( مکہ سے جانب شمال دو دن کا راستہ ہے)
پوجنے والا قبیلہ: قریش
کیفیت: یہ ایک شیطانہ تھی جس کا تھان ببول کے تین درختوں میں تھا ۔ فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان درختوں کو کاٹ دیا اور عزی کو قتل کر دیا قریش دیگر اصنام کی نسبت اس کی زیادہ تعظیم کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے حرم کعبہ کی طرح وادی حراض میں ایک درہ کو اس کا حرم قرار دیا تھا
اس درہ کا نام سقا تھا ۔ اور قربانیوں کےلیے ایک مذبح بنایا تھا جسے غبغب کہتے تھے۔
عرب لات و منات و عزیٰ کو خدا کی بیٹیاں (نعوذ باللہ) کہتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ ہماری شفاعت کریں گی
بت کا نام: ذوالخلصہ
مقام بت: تبالہ
پوجنے والا قبیلہ: خشعم۔ بجیلہ از دسراۃ
کیفیت: تبالہ مکہ و یمن کے درمیان مکہ سے سات یا آٹھ دن کی راہ ہے ۔ یہ بت سفید پتھر پر منقوش تھا جس پر تاج کی مثل کوئی شے تھی
بت کا نام : سعد
پوجنے والا قبیلہ: مالک و ملکان پسران کنانہ
کیفیت : طویل پتھر تھا۔ جس پر خون بہایا جاتا تھا ۔ مالک و ملکان پسران کنانہ ساحل جدہ
بت کا نام: ذوالکفلین
مقام بت: ارض دوس واقع یمن
پوجنے والا قبیلہ: دوس
کیفیت : فتح مکہ کے بعد حضرت طفیل بن عمرو دوسی نے اس بت کو بحکم رسول اللہ ﷺ آگ سے جلا دیا تھا۔
بت کا نام :ذولشری
مقام بت: ذولشری
پوجنے والا قبیلہ: بنو حارث بن یشکر ازدی
کیفیت: ذولشری مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے
بت کا نام: اقصیر
مقام بت: مشارف شام
پوجنے والا قبیلہ: قضاعہ، تحم، جذام، عاملہ، غطفان
کیفیت: اس کا حج کرتے۔ قربانی دیتے اور اس کے پاس اپنا سر منڈایا کرتے سر منڈوانے والا ہر بال پر گیہوں کے آٹے کی ایک مٹھی پھینکا کرتا تھا۔
بت کا نام: نہم
پوجنے والا قبیلہ: مزینہ
کیفیت: اس کا پجاری خزاعی بن عبد نہم مزنی تھا۔ اس نے جب رسول اللہﷺ کا سنا تو اس بت کو توڑ کر حاضر خدمت ہوا اور ایمان لے آیا۔
بت کا نام: رائن رضاء یا رضی
پوجنے والا قبیلہ: اذدسرات، بنو ربیعہ بن کعب بن سعد تمیمی
کیفیت: اس بات کا ذکر صنعاء کے پرانے کتبوں میں بھی پایا جاتا ہے اس کو مستوغر یعنی عمرو بن ربیعہ تمیمی نے زمانہ اسلام میں منہدم کردیا تھا۔
بت کا نام: سعیر
پوجنے والا قبیلہ: غزہ
کیفیت: اس پر قربانیاں چڑھاتے تھے۔
بت کا نام: عمیانس
مقام بت: موضع خولان واقع یمن
پوجنے والا قبیلہ: خولان
کیفیت: مویشی اور کھیتوں کو اس بت اور خدا کے درمیان تقسیم کیا کرتے تھے بقول ہشام بن کلبی ( وجعلو لله مما ذرا من الحرث ولانعام) یہ آیت مبارکہ خولان ہی کے بارے نازل ہوئی تھی۔
بت کا نام : ہبل
مقام بت : مکہ
پوجنے والا قبیلہ: قریش
کیفیت:
اگلی قسط میں پڑھیں گے ان شاءاللہ عزوجل
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
#جاری_ہے
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں