الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط13
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
حضرت_خدیجہ(رضی اللہ عنہا)_سےنکاح
اس وقت حضرت خدیجہ بیوہ تھیں ان کی دو شادیاں ہو چکی تھیں۔ ان کی پاکدامنی کے سبب لوگ جاہلیت میں ان کو طاہرہ کہا کرتے تھے۔ ان کا سللہ نسب پانچویں پشت میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ایک خاندان سے
ملتا ہے۔ حضرت خدیجہ نے امور مذکورہ بالا کو مد نظر رکھ کر واپس آنے کے تقریباً تین مہینے بعد یعلے بن منیہ کی بہن نفیسہ کی وساطت سے آپ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے اس درخواست کی خبر اپنے چچاؤں کو دی۔ انہوں نے قبول کیا۔ پس تاریخ معین پر ابو طالب اور امیر حمزہ اور دیگر روسائے خاندان حضرت خدیجہ کے مکان پر گئے ۔ اور ان کے چچا عمرو بن اسد نے اور بقول بعض ان کے بھائی عمرو بن خویلد نے ان کا نکاح کر دیا۔ شادی کے وقت ان کی عمر چالیس سال کی تھی۔ ابوطالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور پانسو درہم مہرقرار پایا۔ یہ آپ (صلی اللہ علیہ) کی پہلی شادی تھی۔ حضرت خدیہ کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند شادیاں اور کیں ۔ تمام ازواج مطہرات کا مہر پانسو درہم ہی مقرر ہوا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہوئی صرف ایک صاحب زادے جن کا نام ابراہیم تھا حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے جو سنہ آٹھ ہجری میں پیدا ہوئے اور سنہ دس ہجری میں انتقال فرما گئے ۔
#تعمیرکعبہ
جب حضرت کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی تو قریش نے کعبہ کو از سر نو بنایا۔
علامہ ازرقی(متوفی ۲۲۳ھ) نے تاریخ مکہ میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پتھروں سے جو تعمیر کی تھی اس کا طول وعرض حسب ذیل تھا:
ارتفاع ۹۔ گز (شرعی گز 124 انگل کا ہوتا ہے)
طول ( سامنے کی طرف) حجراسود سے رکن شامی تک۔ ۲۳ گز (۲۳ ہاتھ )
عرض ( میزاب ثریف کی طرف) رکن شامی سے رکن غربی تک ۲۲ گز (۲۲ ہاتھ)
طول ( چھواڑے کی طرف) رکن غربی سے رکن یمانی تک ۳۱ گز (۳۱ ہاتھ)
عرض رکن یمانی سے حجر اسودتک ۲۰ گز (۲۰ ہاتھ )
اس عمارت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر کر رہے تھے اور حضرت اسماعیل کے کندھے پر پتھر لا کر لا رہے تھے۔ جب دیواریں اونچی ہوگئیں تو مقام پر کھڑے ہو کر کام کرتے رہے۔ جب جر
اسود کی جگہ تک پہنچ گئے تو آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ ایک پتھر لاؤ۔
میں اسے یہاں نصب کر دوں تا کہ لوگ طواف یہاں سے شروع کیا کریں حضرت اسماعیل پتھر کی تلاش میں گئے تو
حضرت جبرائیل علیہ السلام حجر اسود لے کر حاضر ہوئے۔ اس بنا میں دروازہ سطح زمین کے برابر تھا۔ مگر چوکھٹ بازونہ تھے۔ نہ کواڑ تھے نہ چھت . حضرت ابراہیم کے بعد عمالقہ، و جرہم و قصی نے اپنے اپنے وقت میں اس عمارت کی تجدید کی تھی ۔ چونکہ عمارت نشیب میں واقع ۔ وادی مکہ کی روؤں کا پانی حرم میں آجاتا تھا
۔ اس پانی کی روک کے لیے بالائی حصہ پر بندھی بنوادیا گیا تھا۔ مگر وہ ٹوٹ جاتا تھا۔
اس دفعہ ایسے زور کی رو آئی کہ کعبہ کی دیواریں پھٹ گئیں۔ اس لیے قریش نے پرانی عمارت کو ڈھا کر نئے سرے سے مضبوط ومسقف بنانے کا ارادہ کیا۔ حسن اتفاق یہ کہ ایک رومی تاجر باقوم کا جہاز ساحل جدہ پر کنارے سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔ باقوم مذکورہ معمار ونجاربھی تھا۔ قریش کو جو خبرلگی تو ولید بن مغیرہ چند اور قر یشیوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ اس نے چھت کے لیے جہاز کے تخت مول لے لیے۔اور باقوم کو ساتھ لے آیا ۔
دیواروں کے لیے قریش کے ہر ایک قبیلہ نے الگ الگ پتھر ڈھونے شروع کیے۔ مرد دو دو مل کر دور سے پتھروں کو کندھوں پر اٹھا کر لاتے تھے۔ چنانچہ اس کام میں
حضرت اپنے چچا عباس کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ اور کوہ صفا کے متصل اجیاد سے پتھر لا رہے تھے۔
جب سامان عمارت جمع ہو گیا تو ابووہب بن عمرو بن عائذ مخزوی کے مشورے سے قبائل قریش نےتعمیر کے لیے بیت الله کی چاروں طرفیں آپس میں تقسیم کر لیں ۔ ابووہب مذکور حضرت کے والد ماجد عبد الله کا ماموں تھا۔ اس نے قریش سے کہا تھا کہ کعبہ کی تعمیر میں کسب حلال کی کمائی کے سوا اور مال
صرف نہ کیا جائے ۔ جب عمارت حجر اسود کے مقام تک پہنچ گئی تو قبائل میں سخت جھگڑا پیدا ہوا۔ ہرایک قبیلہ چاہتا تھا کہ ہم ہی حجر اسود کو اٹھا کر نصب کریں گے۔ اسی کشمکش میں چار دن گزر گئے اور تلواروں تک نوبت گئی۔ بنو عبدالدار اور بنوعدی بن کعب نے تو اس پر جان دینے کی قسم کھائی اور
حسب دستور اس حلف کی تاکید کے لیے ایک پیالہ میں خون بھر کر اپنی انگلیاں اس میں ڈبو کر چاٹ لیں ۔ پانچویں دن سب مسجد حرام میں جمع ہوئے۔ ابوامیہ بن مغیرہ محزوی نے جو حضرت ام المونین
ام سلمہ کا والد اور قریش میں سب سے معمر آدمی تھا یہ رائے دی کل جوشخص اس مسجد کے باب بنی شبیہ سے حرم میں داخل ہو وہ ثالث قرار دیا جائے ۔ سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ دوسرے روز سب سے پہلے داخل ہونے والے ہمارے آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) تھے۔ دیکھتے ہی سب پکار اٹھے یہ امین ہیں ہم ان پر راضی ہیں۔ جب انہوں نے آپ سے یہ معاملہ ذکر کیا تو آپ نے ایک چادر بچھا کر اس میں حجراسود کو رکھا۔ پھر فرمایا کہ ہر طرف والے ایک ایک سردار انتخاب کر لیں اور وہ چاروں
سردار چادر کے چاروں کونے تھام لیں اور اوپر اٹھائیں۔ اس طرح جب وہ چادر مقام نصب کے برابر پہنچ گئی تو حضرت نے حجر اسود کو اپنے مبارک ہاتھ سے اٹھا کر دیوار میں نصب فرمادیا۔ اور وہ سب خوش ہو گئے۔
قریشی نے اس تعمیر میں بہ نسبت سابق کئی تبدیلیاں کردیں۔ بنائے خلیل میں ارتفاع نو گز تھا۔
اب اٹھارہ گز ار ارتفاع کر کے عمارت مسقف کر دی گئی۔ مگر سامان تعمیر کے لیے نفقہ حلال کافی نا ملا۔
اس لیے بنائے خلیل میں سے جانب غرب کا کچھ حصہ چھوڑ دیا گیا اور اس کے گرد چاردیواری کھینچ دی گئی کہ پھر موقع ملے گا تو کعبہ کے اندر لے لیں گے۔ اس حصہ کو حجر یا حطیم( قول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا حجر کو حطیم نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ نام ایام جاہلیت میں واضح ہوا ہے ۔جس کی وجہ سے یہ ایام جاہلیت میں وہاں باہم قسم کھایا کرتے تھے۔ اور عقد حلف کی یہ علامت ہوا کرتی تھی کہ معاہدین اپنا جوتا یا چابک یا کمان حجر کی طرف پھینک دیا کرتے تھے اس واسطے حجر کو حطیم کہا کرتے تھے۔(بخاری شریف) کہتے تھے بنائے خلیل میں کعبہ کا دروازہ سطح زمین کے برابر تھا مگر اب قریش نے زمین سے اونچا کردیا تاکہ جس کو چاہیں اندر جانے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں۔
مگر بدیں یہ خیال ایسا نا کیا کہ قریش نئے نئے مسلمان ہیں ۔کہیں دیوار کعبہ کے گرانے سے بدظن ہوکر دین اسلام سے پھر جا جائیں۔
#باب_دوم_ختم_شد!!
اگر کوئی عزیز یہ سلسلہ پڑھ رہا ہے تو براہ کرم کمنٹ میں اپنے رائے کا اظہار ضرور فرمائے!!
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
#جاری_ہے
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
https://www.facebook.com/Hamidrazvi27/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں