I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

پیر، 24 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 50

 
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط50


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


ہجرت_کانواں_سال


اس سال کے اوائل میں واقعہ ایلاء پیش آیا۔ ازواج مطہرات نے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے  مقدار سے زیادہ نفقہ وکسوت طلب کیا۔ اس پر آپ نے ایلاء کیا۔ یعنی قسم کھائی کہ ایک ماہ تک ان کے ساتھ مخالطت نہ کروں گا۔ جب ۲۹ دن گزرنے پر مہینہ پورا ہوا۔ تو آیہ تخییر (سوره احزاب) نازل ہوئی ۔ مگر سب نے زینت دنیا پر الله اور رسول کو اختیار کیا۔

غزوہ طائف اور غزوہ تبوک کے درمیانی زمانہ میں حضرت کعب بن زہیر رسول اللہ 

کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر ایمان لائے اور انہوں نے اپنا مشہور قصیدہ پڑھا۔


غزوہ_تبوک

 یہ غزوہ ماہ رجب میں پیش آیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ رومیوں اور عیسائی عربوں نے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے بڑی فوج تیار کر لی ہے اس لیے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ اور قبائل عرب سے جانی و مالی امداد طلب کی۔ اس وقت سخت قحط  تھا اور شدت کی گرمی تھی۔ اسی وجہ سے اس غزوہ کوغزوة العسرہ بھی کہتے ہیں ۔ سورہ توبہ میں ہے: الذين اتبعوه في ساعة العسرة جو لشکر اس غزوہ کے لیے تیار کیا گیا اسے جیش العسرہ  کہتے ہیں ۔ اس جیش کی تیاری میں حضرت عثمان غنی نے خصوصیت سے حصہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق وعمر فاروق خان نے بھی بڑے ایثار کا ثبوت دیا۔ غرض رسول اللہ  تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں جب سرزمین ثمود میں اترے۔ تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ یہاں کے کنوؤں کا پانی نہ لینا۔ اور نہ وہ پانی پینا انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے پانی لیا ہے اور اس سے آٹا گوندھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پانی گرا دو اور آٹا اونٹوں کو کھلا دو جب آپ حجر یعنی  ثمود کے مکانات میں سے گزرے جو پہاڑوں کو تراش کر بنائے ہوئے تھے تو فرمایا کہ ان معذبین کے مکانات سے روتے ہوئے گزرنا چاہیے۔ کہ مبادا ہم پربھی وہی عذاب آئے۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب نزول النبی الحجر) پھر آپ  نے اپنی چادر سے منہ چھپالیا اور اس وادی سے جلدی گزر گئے ۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر سے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک جبکہ آپ کا ناقہ گم ہوگیا۔ زید بن بصیت قینقاعی منافق کہنے لگا:”محمد نبوت کا دعوی کرتا ہے۔ اور تم کو آسمان کی خبر دیتا ہے۔ حالانکہ وہ اتنا  بھی جانتا کہ اس کا ناقہ کہاں ہے؟رسول اللہ کو باطلاع الٰہی یہ معلوم ہوگیا۔ آپ نےفرمایا: ایک منافق ایسا ایسا کہتا ہے۔ خدا کی قسم میں وہی جانتا ہوں جو اللہ نے مجھے بتا دیا۔ چنانچہ خدا نے مجھے نا قہ کا حال بتادیا ہے۔ وہ فلاں دورہ میں ہے۔ اس کی نکیل ایک درخت میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس سبب سے وہ رکا ہوا ہے۔ تم جا کر لے آؤ، بتعمیل ارشاد مبارک  اس درہ میں سے لایا گیا۔ حضور کے ارشاد مبارک کے وقت حضرت عمارہ موجود تھے۔ منافق مذکور حضرت عمارہ ہی کے ڈیرے میں تھا۔ حضرت عمارہ اپنے ڈیرے میں واپس آ کر کہنے لگے کہ رسول اللہ نے ابھی ہم سے باطلاع الٰہی عجیب ماجرا بیان فرمایا کہ ایک شخص ایسا ایسا  کہتا ہے۔ عمارہ کے بھائی عمرو بن حزم نے کہا کہ تمہارے آنے سے پہلے زید یان بن بصیت نے ایسا کہا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمار نے زید کی گردن لکڑی سے ٹھکا دی اور کہا:" او دشمن خدا میرے ڈیرے سے نکل جا۔ میرے ساتھ نہ رہ۔ کہا گیا ہے کہ زید مذکور بعد میں تائب ہوگیا تھا۔(زرقانی علی المواہب بحوالہ ابنِ اسحاق دوا قدمی وغیرہ غزوہِ تبوک)

حجر سے تبوک  چار منزل ہے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی ۔ تبوک میں بیس روز  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا قیام رہا۔ اہل تبوک نے جزیہ پر آپ سے صلح کر لی ۔ ایلہ کا نصرانی سردار یوحنہ بن روبہ حاضر

قدمت اقدس ﷺ ہوا۔ اس نے تین سو دینار سالانہ جزیہ پرآپ سے صلح  کر لی ۔ اور ایک سفید خچر پیش کیا۔ آپ نے ایک چادر اسے عنایت فرمائی ۔ جربا از روح کے یہودیوں نے بھی جز یہ پر صلح کر لی۔

تبوک ہی  سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو چار سو سواروں کا دستہ دے کر اکیدر بن عبدا ملک کندنی نصرانی سردار دومتہ الجندل کے زیر کرنے کے لیے بھیجا ۔ اور فرمایا کہ تم اکیدر کو نیل گائے کا شکار کرتے پاؤ گے۔ اکیدر دومتہ الجندل کے قلعے میں رہا کرتا تھا۔ جب حضرت خالد قلعہ کے پاک پہنچے تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ چاندنی رات تھی کہ ایک نیل گائے جنگل سے آ کر قلعہ کے دروازے پر سینگ مارنے لگی۔ اکیدر اس کے شکار کے لیے قلعہ سے اتر آیا۔ اثنائے شکار میں حضرت خالد کے دستہ نے اس پر حملہ کیا اور گرفتار کر کے مدینہ میں لے آئے۔ اس نے بھی جزیہ پر صلح کر لی۔


مسجد_ضرار

منافق ہمیشہ اس امر کے در پے تھے۔ کہ کسی طرح مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دیں۔ اس غرض سے انہوں نے اپنی علیحدہ مسجد بنانے کا ارادہ کیا۔ ابوعامر فاسق جو انصار میں سے تھا عیسائی ہو گیا تھا۔ وہ غزوہ خندق تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑتا رہا۔ جب ہوازن بھاگ گئے تو وہ شام میں چلا گیا تھا۔ اس نے وہاں سے ان منافقین کو کہلا بھیجا کہ تم مسجد قباء کے متصل اپنی مسجد بنالو۔ اور سامان حرب تیار کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جاتا ہوں اور رومیوں کی فوجیں لاتا ہوں تا کہ محمد اور اس کے اصحاب کو ملک سے نکال دیں چنانچہ منافقوں نے مسجد قباء کے پاس ایک مسجد بنائی اور رسول اللہ کی خدمت میں آ کر درخواست کی کہ ہم نے بیماروں اور معذوروں کے لیے ایک مسجد بنائی ہے۔ آپ قدم رنجہ فرما کر اس میں نماز پڑھائیں اور دعائے برکت فرمائیں آپ نے فرمایا کہ میں اب غزوہ تبوک پر جارہا ہوں ۔ واپس آ کر ان شاء الله تعالی حاضر ہوں گا۔ چنانچہ جب آپ مہم تبوک سے واپس ہو کر موضع ذوادان میں پہنچے جو مدینہ طیبہ سے ایک

گھنٹہ کی راہ ہے۔ تو یہ آیتیں نازل ہوئی:


وَالَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَّكُفۡرًا وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّا الۡحُسۡنٰى‌ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ ۞ 

لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا ‌ؕ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ‌ؕ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ‏ ۞ 

ترجمہ:

اور وہ لوگ جنہوں نے ضرر پہنچانے کے لیے مسجد بنائی اور کفر کے لیے اور مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے اور اس شخص کی کمین گاہ بنانے کے لیے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر رہا ہے اور وہ ضرور یہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے صرف بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔


ترجمہ:

آپ اس مسجد میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے روز سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو خوب پاکیزہ ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ زیادہ پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(التوبہ:۱۰۷،۱۰۸! ترجمہ کنزالایمان)

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن وخشم او معن بن عدی عجلانی کو حکم دیا : کہ جاکر اس مسجد کو گرادو اور اس کو آگ لگا دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ( تفسیر در منثور،اور وفاء الوفاء)

اس سال مختلف قبائل کے وفود اس کثرت سے دربار رسالت میں حاضر ہوئے کہ اسے سال وفود کہا جاتا ہے۔ یہ وفود بالعموم نعمت ایمان سے مالا ہو کر واپس گئے۔ اس مختصر میں ان کی تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔


#ہجرت_کا_دسواں_سال

اس سال بھی وفود عرب پے در پے حاضر خدمت اقدس ﷺ ہوتے رہے اہل یمن و ملوک حمیر ایمان لائے۔ اسی سال حضور اقدس ﷺ نے آخری حج کیا۔ جسے حجتہ الوداع کہتے ہیں۔

درج ذیل آیہ شریفہ عرفہ میں نازل ہوئی


 ؕ اَ لۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕ فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ 


ترجمہ:

   آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین پسند کرلیا ‘ پس جو شخص بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر (کوئی حرام کھالے) دراں حالیکہ وہ اس کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے۔


#ہجرت_کا_گیارہواں_سال

اسی سال کے ماہ ربیع الاول میں حضورِ اقدس ﷺ نے اس دنیا فانی سے ظاہری پردہ فرمایا۔ جس کا ذکر آئندہ باب میں  آتا ہے


باب چہارم ختم شد 

بحمد اللہ تعالیٰ


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو