I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

منگل، 25 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 51

 
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط51


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


باب_پنجم


#وفات_شریف_و_حلیہ_مبارک_کا_بیان


ماہ صفر کے اخیر عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بیمار ہو گئے اور ماہ ربیع الاول میں وصال فرما گئے۔ وصال شریف کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ وفات شریف ماه ربیع الاول میں دو شنبہ کے دن ہوئی ۔ جمہور کے نزدیک ربیع الاول کی بارہویں تاریخ تھی۔ ماہ صفر کی ایک یا دو راتیں باقی تھیں کہ مرض کا آغاز ہوا بعض تاریخ وصال یکم ربیع الاول بتاتے ہیں ۔ بنابر قول حضرت سلیمان تمیمی ابتدائے مرض یوم شنبہ ۲۲ ماہ صفر کو ہوئی اور وفات شریف یوم دوشنبہ ۲ربیع الاول کو ہوئی حافظ ابن حجر فرماتے ہیں ۔ کہ ابومحنف کا قول ہی معتمد ہے کہ وفات شریف ۲ ربیع الاول کو ہوئی ۔ دوسروں کی غلطی کی وجہ یہ ہوئی کہ تانی کو ثانی عشر خیال کر لیا گیا۔ پھر اسی وہم میں بعض نے بعض کی پیروی کی۔( وفاء الوفاء جز اول صفحہ ۲۲۶)

حضرت زید بن حار جنگ موتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے انتقام کے لیے آپ

نے ایام مرض ہی میں فوج تیار کی اور اپنے دست مبارک سے جھنڈا تیارکیا اور حضرت زید کے صاحب زادے حضرت اسامہ کو اس فوج کا سردار مقرر کر کے حکم دیا کہ مقام ابنی میں پہنچ کر رومیوں سے جہاد کرو حضور علیہ السلام کے ایام مرض ہی میں حضرت فیروز دیلمی نے اسوعنسی مدعی نبوت کو قتل کر ڈالا۔ حضور نے مدینہ میں اس حال کی خبر دی اور فرمایا فاز فیروز۔ (فیروز کامیاب ہو گیا) وتات شریف سے پہلے جو پنچ شنبہ تھا اس میں قصہ قرطاس وقوع میں آیا جس کو فقیر نے ”تحفہ شیعہ“ میں بالتفصیل لکھا ہے۔ اسی روز حضور اقدس ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تین چیزوں کی وصیت فرمائی۔

جو کہ درج ذیل ہیں


مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔

- ملوک وامرا کے ایلچی جوتمہارے پاس آیا کریں۔ ان کو جائزہ و انجام دیا کرنا جیسا کہ میں دیا کرتا تھا۔تیسری چیز کا ذکر حضور نے نہ فرمایا۔ یا راوی (سلیمان احول) بھول گیا۔ اسی روز حضورِ اقدس ﷺ نے روز حضرت صدیق اکبر کو اپنا  خلیفہ نماز مقرر فرمایا۔ اور صدیق اکبر  وفات شریف تک نماز پڑھاتے رہے۔چھ یا سات دینار جو حضرت عائشہ صدیقہ  کے پاس تھے ۔ وہ بھی حضور نے ایام مریض تقسیم فرما دیے۔ اور کچھ باقی نہ چھوڑا وفات شریف کا وقت عین قریب آیا تو آپ ا کثر یوں وصیت فرماتے تھے۔

الصلواۃ و ما ملکت ایمانکم۔     نماز اور غلام

جب روح پاک نے جسم اطہر سے اعلی علیین کی طرف پرواز کی تو الفاظ " اللهم فی الرفيق الاعلى" زبان مبارک پر تھے۔

واضح رہے کہ حضور اقدس ﷺ  کا وصال شریف دو شنبہ کے دن دوپہر ڈھلے ہوا۔ وصال شریف کے بعد زمین تاریک  ہوگئی۔ اس صدمہ سے صحابہ کرام کا جو حال ہوا وہ بیان نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی مرتضی نے آپ کوغسل دیا۔ حضرت عباس وفضل بن عباس حضور کے پہلو بدلنے میں حضرت علی المرتضی کی مدد کر رہے تھے۔ اور فتنہ بن عباس، اسامہ اور حضور کا غلام شقران پانی ڈال رہے تھے۔ سوائے حضرت علی کے باقی سب آنکھوں پر رومال باندھے ہوئے تھے تاکہ جسم  شریف پرنظر نہ  پڑے۔ حضور کے کفن میں تین سوتی کپڑے سحول کے بنے ہوئے تھے۔ جن میں قمیض و عمامہ نہ  تھا۔ شب چہارشنبہ میں حضور علیہ السلام کو دفن کیا گیا۔ تاخیر کی وجہ کئی امور تھے۔ چنانچہ مہاجرین و انصار میں بیت کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ اس اختلاف کا فیصلہ ہوتے ہی اس امر میں اختلاف آراء ہوا کہ حضور کو کہاں دفن کیا جائے؟ قبر شریف میں لحد چاہیے یا شق ۔ آخر کار حضرت ابو طلحہ انصاری نے لحد  کھودی۔ نماز جناز و حجرہ شریف کے اندر بغیر امامت الگ الگ پڑھی گئی۔ پہلے مردوں پھر عورتوں نے، پھر بچوں نے، پھر غلاموں نے نماز پڑھی ۔ بعد ازاں حضور کو بالاتفاق حجره شریف ہی میں جہاں وصال شریف ہوا تھا دفن کر دیا گیا۔ بنا بع قول اصح حضرت عباس و علی و فتم و فضل قبرشریف میں اترے۔ لحد کی اینٹیں کچی تو تھیں ہی حضرت فتم سب سے اخیر میں قبر مبارک سے نکلے۔ حضور نے بطور میراث کچھ نہیں چھوڑا جو کچھ آپ نے چھوڑا وہ صدقہ وقف تھا۔ اور اس کا مصرف وہی تھا ۔ جو آپ کی حیات شریف میں تھا۔ چنانچہ آپ کا ارشاد مبارک ہے:

" ہم (انبیاء) کسی کو وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ و وقف ہے۔

حضرت عمرو بن حارث سے جو ام المومنین جویریہ کے بھائی تھے یوں روایت ہے

ما ترك رسول الله عند موتہ دينارا ولا درھما ولا عبدا ولا امۃ و شیئا الا بغلتہ البيضاء وسلاحہ و ارضا جعلها صدقة.(بخاری: کتاب الوصايا )

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی دینار چھوڑا نہ درہم ، نہ غلام ، نہ لونڈی نہ کچھ اورمگر اپنا سفید خچر اور اپنا ہتھیار اور کچھ زمین جسے آپ نے صدقہ وقف بنادیا ۔“

ابوداؤد میں حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت اس طرح ہے:

ما ترک رسول الله  دينارا ولا درھما ولا بعیرا و لا شاۃ

رسول اللہ نے کوئی دینار چھوڑ نہ درہم نہ اونٹ نہ بکری ‘‘

روایات مذکورہ بالا سے پایا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی متروکات میں ایک سفید خچر (دلدل) کچھ ہتھیار اور زمین (اموال بنونضیر خیبر وفدک ) تھی حضور کے ارشاد مبارک کے مطابق ان میں سے کسی میں قاعدة ارث جاری نہیں ہوا۔ اسی واسطے دلدل اور ذوالفقار دونوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم  کے پاس تھے۔ ورنہ بجائے حضرت علی کے حضرت عباس و فاطمہ زہرا اور ازواج مطہرات حقدار تھیں۔ اموال بنونضیر وغیرہ پر رسول اللہ  کا قبضہ مالکانہ  نہ تھا بلکہ متولیانہ تھا ابوداؤد میں مالک

بن اوس کی روایت میں حضرت عمر بن خطاب کا قول ہے کہ رسول اللہ  کے ہاں تین صفایا  تھیں ایک اموال بنونضیر۔ دوسرے خیبر تیسرے فدک ۔ اموال بنونضیر آپ کے حوادث و حوائج کےلیے محبوس و موقوف تھے۔ فدک مسافروں کے لیے مخصوص تھا۔ خیبر کی آمدنی کے آپ نے تین حصے کیے تھے۔ دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک حصہ اپنی ازواج مطہرات کے لیے مقرر کر دیا تھا۔اپنے اہل نفقہ   میں سے جو کچھ بچ  رہتا ۔ وہ آپ فقراء و مہاجرین میں تقسیم فرمادیتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ جائیدادیں بحیثیت وقت حضرت صدیق اکبر کے زیر اہتمام رہیں انہوں نے رسولِ عربی ﷺ کی طرح تصرف فرمایا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق ان پر اسی حیثیت سے دو سال قابض رہے۔ پھر حضرت عباس و علی کے اصرار پر مال بنو نضیر ان دونوں کی تولیت میں کر دیا۔ اور خیبر وفدک کو اپنی تحویل میں رکھا کچھ دنوں کے بعد تولیت و تصرف میں شرکت حضرت عباس پر ناگوار گزری ۔ وہ چاہنے لگے کہ تولیت میں تقسیم ہو جائے۔ تاکہ  ہر  ایک اپنے حصہ کے تصرف میں مستقل بن جائے ۔ حضرت علی مرتضی مانع ہوئے۔ اس لیے فیصلہ فیصلہ کےلیے دونوں دربار فاروقی میں حاضر ہوئے۔ مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقسیم تولیت سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں حضرت علی نے حضرت عباس پر غلبہ پاکر مال بنونضیر کو اپنے تصرف میں کر لیا۔ حضرت علی کے بعد حسن بن علی اور پھر حسین بن علی کے ہاتھ میں رہا۔ امام حسین کے بعد علی بن حسین اور حسن بن حسن دونوں کے ہاتھ میں رہا۔ دونوں نوبت بہ نوبت اس میں تصرف کرتے تھے۔ پھر زید بن حسن کے ہاتھ میں آیا ۔ ( صحیح بخاری)

حضرت عمر فاروق کے بعد خیبر و فدک بحیثیت وقف عام حضرت عثمان غنی وعلی المرتضی کے تصرف میں رہے۔ جب ۴۰ ھ میں حضرت معاویہ کی امارت پر اجماع ہو گیا تو آپ نے فدک مروان حاکم مدینہ کو دے دیا ۔ شاید بدیں تاویل کے جو امر  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ مختص ہو۔ وہی  آپ کے خلیفہ کے لیے ہوتا ہے۔ چونکہ حضرت معاویہ کو خود تو ضرورت نہ تھی۔ لہذا اپنے بعض اقرباء کے ساتھ سلوک کیا ۔ والله اعلم بالصواب ۔ آخرالامر خلیفہ  عمر بن عبد العزیز نے اپنی خلافت میں فدک کو اسی حالت پر بحال کر دیا۔ جس پر وہ رسول الله  اور خلفائے راشدین کے عہد میں تھا۔(طبقات ابنِ سعد) مزید تفصیل کےلیے تحفہ شیعہ مؤلفہ خاکسار دیکھیں۔

متروکات مذکورہ بالا کے سوا اور اشیاء بھی تھیں ۔ جو بطور تبرک مختلف اشخاص کے پاس تھیں ۔ ان کا ذکر آثارشریفہ میں آئے گا۔ان شاءاللہ تعالی ۔

ارباب سیر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑوں اور خچروں ، دراز گوشوں، اونٹوں اور بکر یوں کی جو لمبی فہرست دی ہے۔ وہ آپ کے ہاں مختلف اوقات میں موجود تھے۔ مگر وفات شریف سے پہلے ہی آپ نے ان کو حسب عادت شریفہ ہبہ یا خیرات کر دیا تھا۔ وفات شریف کے وقت صرف ایک سفید خچر یعنی دلدل باقی تھا جیسا کہ روایات مذکورہ بالا سے ظاہر ہے۔


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو