I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

پیر، 24 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 49






 الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط49


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


غزوہ_حنین


فتح مکہ کا اثر قبائل عرب پر نہایت اچھا پڑا۔ وہ اب تک منتظر تھے اور کہا کرتے تھے

کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی قوم کو آپس میں نمٹ لینے دو۔ اگر وہ قریش پر غالب آگئے تو سچے پیغمبر ہیں۔ اس لیے جب مکہ فتح ہوا تو ہر ایک قوم نے اسلام قبول کرنے میں پیش دستی کی مگر ہوازن کا زبردست قبیلہ جو مکہ و طائف کے درمیان سکونت پذیر تھا اس وقت پر بہت برافروختہ ہوا۔ وہ اس سے پہلے ہی جنگ کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس لیے فتح کی خبر سنتے ہی حملے کے لیے تیار ہو گئے۔ ہوازن (باستثناۓ کعب وكلاب) کے ساتھ ثقیف تمام اور نصر  و جشم تمام اور سعد بن ابی بکر اور کچھ بنو ہلال کے شامل ہوئے جشم کا رئیس درید بن صمہ تھا جس کی عمر سوسال سے متجاوز تھی۔ اسے محض مشورے کے لیے ہودج میں بٹھا کر ساتھ لے گئے۔ تمام فوج کا سپہ سالاراعظم مالک بن عوف نصری تھا جس کے حکم سے بچے اور عورتیں اور اموال بھی ساتھ تھے تا کہ لڑائی میں پیچھے نہ  ہٹیں ۔ دریدنے اس حکم کو پسند نہ کیا مگر اس کی کچھ پیش نہ گئی۔ رسول اللہ  کو خبر پہنچی تو آپ نے حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی کو بطور جاسوس در یافت حال کے لیے بھیجا۔ وہ دشمن کے لشکر میں آئے اور انہوں نے وہاں کے تمام حالات در بار رسالت میں عرض کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیاری شروع کر دی ۔ دس ہزار درہم سے زائد عبداللہ بن ابی ربیعہ سے جو ابوجہل کے بھائی تھے قرض لیے گئے۔ اور صفوان بن امیہ سے جو اب تک ایمان نہ لائے تھے سو  زرہیں مع لوازم مستعار لی گئیں ۔ غرض شوال ۸ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بارہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے جن میں سے دو ہزار طلقاء (اہل مکہ) تھے۔ لشکر کی کثرت کو دیکھ کر بعض کی زبان سے بے اختیار نکلا:” آج ہم پرکون غالب آسکتا ہے جب حنین(حنین ایک  وادی کا نام ہے جو مکہ سے طائف کی طرف قریباً بارہ میل کے فاصلہ پر ہے۔)میں پہنچے تو  صبح  کے  وقت کہ  ابھی اجالا بھی اچھی طرح نہ ہوا تھا حملہ کے لیے آگے بڑھے۔ دشمن نے ان کے پہنچنے سے پہلے ہی اس طرح صف آرائی کر رکھی تھی کہ سب سے آگے سوار سواروں کے پیچھے پیادہ۔ پیادوں کے پیچھے عورتیں اور عورتوں کے پیچھے بکریاں اور اونٹ تھے۔ اور کچھ فوج پہاڑ کی گھاٹیوں  اور دردوں کی کمین گاہوں میں مقرر کر دی تھی۔ اسلامی فوج نے پہلے ایسی شجاعت  سے دھاوا کیا کہ کفار بھاگ نکلے۔ مسلمان غنیمت لوٹنے میں مشغول ہوگئے کفار ایک دوسرے کو پکارا کہ یہ  کیا ذلت و فضیحت ہے اور مڑ کر حملہ کیا۔ اب کثرت پر نازش اپنا رنگ لائی۔ لشکر  اسلام کے مقدمہ میں بہت سے ایسے نوجوان تھے جو سلاح وزرہ سے خالی تھے۔ ہوازن و بنو نصر  کی جماعت نے جو تیراندازی میں مشہور تھے تیروں کا مینہ برسانا شروع کیا۔ ذرا سی دیر میں مقدمہ الجیش کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اس طرح پانی فوج بھی بھاگ نکلی ۔ رسول اللہ کے ساتھ صرف چند اصحاب ثابت قدم رہے۔ مگراکیلے آپ تھے کہ اس حالت میں بھی دشمن کی طرف بڑھنا چاہتے تھے اور وہ اصحابہ بمقتضائے شفقت آپ کو روک رہے تھے۔ چنانچہ حضرت عباس آپ کے خچر کی لگام اور حضرت ابوسفیان رکاب تھامے ہوئے تھے کہ آگے نہ بڑھ جائیں۔ اور آپ فرمارہے تھے۔

انا النبی لا کذب---- انا ابن عبد المطلب

میں پیغمبر ہوں ۔ اس میں جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔

حضرت عباس نہایت بلند آواز تھے۔ آپ نے حکم دیا کہ مہاجرین و انصار کو آواز دو چنانچہ وه  یوں پکارنے لگے۔

یا معشر الأنصار يا اصحاب السمرۃ یا اصحاب سورة البقرة

اے گروہ انصار! اے بیعت رضوان والو!اے سورہ بقر والو

اس آواز کا کان میں پڑنا تھا کہ لبیک لبیک کہتے ہوئے سب جمع ہو گئے۔ آپ نے صف آرائی کے بعد حملہ کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ نہایت بہادری سے لڑنے لگے شدت جنگ کو دیکھ کر آپ نے فرمایا

الان حمی الوطیس (اب تنور خوب گرم ہو گیا) لڑائی کا نقشہ بدل چکا تھا مسلمانوں پر طمانیت کا نزول ہوا۔ کفارکو ملاء اعلیٰ کا لشکر پچکلیاں گھوڑوں پر سواروں کی شکل میں نظر آ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے خچر سے اتر کر ایک مشت خاک لی ۔ اور شاهت الوجوہ پڑھتے ہوئے پڑھتے ہوئے کفار کی طرف پھینک دی ۔ دشمن میں سے کوئی ایسا نہ  تھا ۔ جس کی آنکھوں میں وہ خاک نہ پڑی ہو۔ لشکر کفر کو شکست ہوئی۔  اللہ تعالیٰ کلام پاک میں جنگ حنین کا ذکر اس طرح فرمایا ہے:


لَـقَدۡ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ‌ ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ‌ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡئًـا وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّـيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ‌ۚ ۞ 

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا‌ ۚ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَذٰ لِكَ جَزَآءُ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞ 

ثُمَّ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰ لِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ 


ترجمہ:

بیشک اللہ نے بہ کثرت مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور (غزوہ) حنین کے دن (بھی) جب تمہاری کثرت نے تمہیں گھمنڈ میں مبتلا کردیا تھا (حالانکہ) اس کثرت نے تم سے کسی چیز کو دور نہیں کیا اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیرتے ہوئے لوٹے.

پھر اللہ نے اپنے رسول پر طمانیت قلب نازل فرمائی اور ایمان والوں پر (بھی) اور اس نے ایسے لشکر اتارے جن کو تم نے نہیں دکھا اور کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے.

پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول فرمائے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد مہربان ہے(التوبہ :25،26،27)


جنگ_اوطاس:

شکست خوردہ فوج ٹوٹ پھوٹ کر کچھ تو اوطاس میں اور کچھ طائف میں جمع

ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فوج بسر کردگی حضرت ابو عامر اشعری

اوطاس بھیجی جو د یار ہوازن میں ایک وادی کا نام ہے۔ دریدہ بن صمہ یہاں مارا گیا قبیلہ جشم کے ایک شخص نے حضرت ابو عامر کی ران میں تیر مارا۔ حضرت ابوموسی اشعری نے اس جشمی کو قتل کر ڈالا  اور حضرت ابو عامر کو اطلاع دی ۔ حضرت ابو عامر کچھ دیر کے بعد واصل بحق ہوئے مگر شہادت سے پہلے انہوں نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا کہ سلام کے بعد میرا یہ پیغام رسول اللہ  کی خدمت میں پہنچا دینا کہ آپ میرے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں۔

حضرت ابو عامر کے بعد حضرت ابوموسی اشعری نے علم ہاتھ میں لے لیا۔ اور خوب  جنگ کی دشمن کو شکست ہوئی ۔ اسیران جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیماء سعدیہ بھی  تھیں۔ جب گرفتار ہو کر آئیں، تو آپ سے کہنے لگیں۔ کہ میں آپ کی بہن ہوں آپ نے فرمایا کہ اس کی علامت کیا ہے۔ اس پر انہوں نے اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی ۔ کہ ایک دفعہ بچہن میں آپ کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔ ۔ آپ نے دانت سے کاٹا تھا یہ اس کا نشان ہے۔ آپ نے وہ نشان پہچان لیا ۔ اور اپنی چادر مبارک بچھا کر ان کو اس پر بٹھایا اور مرحبا کہا۔ پھر فرمایا ۔ جی چاہے تو میرے ہاں عزت سے رہو اور اپنی قوم میں جانا چاہو تو وہاں پہنچا دیا جائے ۔ انہوں نے اپنی قوم میں رہنا پسند کیا۔ اور ایمان لائیں۔آپ نے ان کو غلام و کنیز اور ایک اونٹ دے کر بڑے احترام سے ان کی قوم میں پہنچادیا۔

جب حضرت ابو موسیٰ اشعری اوطاس سے واپس آئے تو آپ کو حضرت ابو عامر

کا پیغام پہنچا دیا۔ آپ نے یوں دعا فرمائی :


اللهم اغفر لعبدی أبي عامر اللھم اجعله يوم القيمۃ فوق کثیر من خلقك ومن الناس۔

اے خدا! ابو عامر کو بخش دے اے خدا اسے قیامت کے دن اپنی مخلوق اور اپنے

لوگوں میں سے بہتوں کے اوپر رکھنا »

یہ دیکھ کر حضرت ابو موسی اشعری نے اپنے واسطے دعا کی التجاء کی ۔ آپ نے یوں دعافرمائی۔

اللهم اغفر لعبد الله ابن قیس ذنبہ وأدخله يوم القيمة مدخلا کریما

اے خدا! عبدالله بن قیس کے گناہ بخش دے اور اسے قیامت کے دن عزت کے مقام میں داخل فرما


محاصرۂ_طائف

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنائم و اسیران جنگ کی نسبت حکم دیا کہ سب کو جمع کر کے جعرانہ میں بھیج دیا جائے ، بذات اقدس طائف  کی طرف روانہ ہوئے ۔روانگی کے وقت طفیل بن عمرو دوسی کو بہت ذوالکفین کے منہدم کرنے کے لیے بھیجا اور حکم دیا کہ اپنی قوم سے مدد لے کر ہم سے طائف میں آ ملو۔حضرت طفیل اپنی قوم کے رئیس تھے۔ انہوں نے بت کو جلا دیا اور قبیلہ دوس کے چارسوآ دمی اور دبابہ و منجنیق لے کر طائف میں حاضر خدمت اقدس ہوئے۔ ثقيف اوطاس سے بھاگ کر طائف میں چلے آئے تھے۔ یہاں ایک قلعہ تھا۔ اس کی مرمت۔ کرکے ایک سال کا سامان اسد لے کر پناہ گزین تھے۔ لشکرِ اسلام اس قلعہ کے قریب اترا۔ اسلام میں پہلا موقع تھا کہ قلعہ شکن آلات ساتھ لائے گئے۔ مسلمانوں نے منجنیق نصب کیا تو اہل قلعہ والوں نے تیروں جا مینہ برسانا شروع کیا۔ بارہ غازی شہید ہوگئے۔ دبابہ ( یہ ایک آلہ جنگ  تھا  جو چمڑے اور لکڑی  سے بنایا جاتا تھا۔ اس کی اوٹ میں دشمن قلعہ کی طرف جاتے تاکہ دیوار میں نقب لگائیں۔) استعمال کیا گیا تو  ثقیف نے لوہے کی گرم سلاخیں برسائیں جن سے دبابہ جل  گیا اور نقصان جان بھی ہوا۔ پھر سوال  کی طرف سے منادی کر دی گئی کہ کفار کا جو غلام قلعہ سے ہمارے پاس آئے گا۔ دو آزاد کردیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تئیس غلام قلعہ سے اتر کر حاضر خدمت ہوئے۔ وہ سب آزاد کر دیے گئے اور ایک ایک کر کے مسلمانوں کے حوالہ کر دیئے گئے کہ ان کی ضروریات کے متکفل ہوں اور ان کو  تعلیم اسلام دیں ۔ ان غلاموں میں حضرت شفیع بن حارث تھے جو چرخ چاه پر لٹک کر قلعہ  کی دیوار سے اترے تھے۔ اس لیے رسول اللہ نے  ان کی کنیت ابو بکر رکھ دی۔

دو ہفتہ  بلکہ اس سے زیادہ  محاصرہ قائم رہا مگر قلعہ فتح نہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نوفل بن معاویہ  دئلی سے مشورہ کیا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ لومڑی بھٹ میں ہے۔ اگر آپ کوشش جاری رکھیں گے۔ تو اسے پکڑ لیں گے اور اگر اسے چھوڑ جائیں تو آپ کو مضر نہیں ۔ غرض محاصرہ اٹھا لیا گیا۔

جب واپس آنے لگے۔ تو صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے  عرض کیا: یا رسول الله ثقیف کے تیروں نے ہم کو جلا دیا۔ آپ ان پر بد دعا فرمائیں۔ اس پر آپ نے یوں دعا فرمائی :


اللھم اھد ثقیفا و أنت بھم

یا اللہ! ثقیف کو ہدایت دے اور ان کو (مسلمان بنا کر )لا

اس دعائے رحمت اللعالمین کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۹ھ  میں ثقیف کے وفد نے حاضر خدمت اقدس ہو کر اظہار اسلام کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  طائف سے جعرانہ میں تشریف لائے۔ یہاں غنائم حنین و اوطاس جمع تھیں ۔ جن کی تفصیل یہ ہے

اسیران جنگ (زنان و اطفال): 600

اونٹ: 2400

بکریاں: 40000

چاندی 4000 اوقیہ

آپ نے دس دن سے کچھ زیادہ ہوازن کا انتظار کیا۔ وہ نہ آئے تو آپ نے مال غنیمت میں سے طلقاء، و مہاجرین کو دیا اور انصار کو کچھ نہ  دیا ۔ اس پر انصار کو رنج  ہوا ان میں سے بعض کہنے لگے۔خدا رسول اللہ کو معاف کر دے۔ وہ قریش کو عطا فرماتے ہیں اور ہم کو محروم رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے قریش کے خون کے قطرے ٹپکتے ہیں ۔ اور بعض بولے:"جب مشکل پیش آتی ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیت اوروں کو دی جاتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چرچا سنا ۔ تو انصار کو طلب فرمایا۔ ایک چرمی خیمہ نصب کیا گیا جس میں آپ نے انصار کے سوا کسی اور کو نہ رہنے دیا۔ جب انصار جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا کہ وہ  کیا بات ہے جو تمہاری نسبت میرے کان میں پہنچی ہے انصار جھوٹ نہ بولا کرتے تھے۔ کہنے لگے کہ سچ  ہے جو آپ نے سنا۔ مگر ہم میں سے کیا دانا نے ایسا نہیں کہا۔ نوخیز جوانوں نے ایسا کیا تھا۔ یہ سن کر آپ نے حمد و ثناء کے بعد یوں خطاب فرمایا:


اے گروہ انصار کیا یہ  سچ نہیں کہ تم گمراہ تھے۔ خدا نے میرے ذریعہ سے تم کو ہدایت دی۔ اورتم پراگندہ تھے خدا نے میرے ذریعہ سے تم کو جمع کردیا ۔ اور تم مفلس نے خدا نے میرے ذریعہ سے تم کو دولت مند کر دیا۔

آپ یہ  فرماتے جاتے تھے اور انصار ہر  فقرے پر کہتے جاتے تھے کہ خدا اور رسول کا احسان اس سے بڑھ کر ہے۔

آپ نے فرمایا: کہ تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہم  کیا جواب دیں۔ خدا اور رسول کا احسان اورفضل ہے۔ آپ نے فرمایا: بخدا اگر تم چاہوتو یہ جواب دو میں ساتھ ساتھ تمہاری تصدیق کرتا جاؤں گا۔

تو ہمارے پاس اس حال میں آیا کہ لوگوں نے تیری تکذیب کی تھی ہم نے تیری

تصدیق کی لوگوں نے تیرا ساتھ چھوڑ دیا تھا ہم نے تیری مدد کی لوگوں نے آپ کو نکال دیا تو ہم نے آپ کو  پناہ دی آپ  مفلس تھے ہم نے جان و مال سے آپ کی مدد کی " پھر فرمایا کہ میں نے تالیف قلوب کیلئے اہل مکہ کیساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ اے انصار کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ بکریاں لیکر جائیں۔  اور تم رسول الله کو لیکر گھر جاؤ اللہ کی قسم تم جو کچھ لے جارہے ہو۔ وہ  اس سے بہتر ہے جو وہ لے جارہے ہیں ۔ اگر لوگ کسی وادی یا درہ  میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا درہ میں چلوں گا(مزید تفصیلات کےلیے صحیح بخاری دیکھیں) "۔ یہ سن  کر انصار پکار اٹھے۔  یا رسول اللہ رضینا" (يا رسول اللہ ہم راضی ہیں) اور ان پر اس قدر رقت طاری ہوئی کہ روتے روتے داڑھیاں تر ہو گئیں۔

جب جعرانہ میں اسیرانِ جنگ کی تقسیم ہو چکی تو ہوازن کی سفارت ( وفد) حاضر خدمت اقدس ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ قبیلہ سعد  بن بکر  بن  ہوازاآان سے تھیں ۔ اس سفارت میں آپ کا رضاعی چچا ابوشروان ( يا ابو برقان) بن عبد العزی سعدبھی تھا۔ سفارت کا رئیس  زہیر بن صرو سعدی جشمی تھا۔ وفد نے پہلے اپنی طرف سے اور اپنی قوم کی طرف سے اظہار اسلام کیا اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کی پھر حضرت زہیر بن صرو نے یوں تقریر کی :

یا رسول اللہ! اسیران جنگ میں سے جو عورتیں چھپروں میں ہیں وہ آپ کی پھوپھیاں

اور خالائیں اور دایہ  ہیں ۔ جو آپ کی پرورش کی کفیل تھیں ۔ اگر ہم نے حارث بن ابی شمر(امیر شام) یا نعمان بن منذر (شاہ عراق) کو دودھ پلایا ہوتا۔ پھر اسی طرح کی

مصیبت ہم پر پڑتی تو میں اس سے مہربانی و فائدہ کی توقع ہوتی مگر آپ سے تو زیادہ

توقع ہے کیوں کہ آپ فضل و شرف میں ہر مکفول سے بڑھ کر ہیں"۔

اس کے بعد حضرت ابو ثروان نے یوں عرض کیا:

یارسول اللہ! ان چھپروں میں آپ کی پھوپھیاں خالائیں اور بہنیں ہیں۔ جوآپ کی

پرورش کی کفیل تھیں۔ انہوں نے آپ کو اپنی گودوں میں پالا ۔ اور اپنے پستان سے

دودھ پلایا۔ میں نے آپ کو دودھ پیتے دیکھا۔ کوئی دودھ پیتا بچہ آپ سے بہتر نہ دیکھا۔ میں نے آپ کو دودھ چھڑایا ہوا دیکھا کوئی دودھ چھڑایا ہوا بچہ میں نے آپ سے بہتر نہ دیکھا۔ پھر میں نے آپ کو نو جوان دیکھا۔ کوئی نوجوان آپ سے بہتر نہ دیکھا۔ںآپ میں خصال خیر کامل طور پر موجود ہیں۔ اور باوجود اس کے ہم آپ کے اہل و کنبہںہیں۔ آپ ہم پر احسان کریں ۔ اللہ تعالی آپ پر احسان کرے گا۔

تقریر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے انتظار کے بعد تقسیم کی ہے۔ اب تم اسیران جنگ وغنائم میں ایک اختیار کرلو۔ انہوں نے کہا ہم اسیران جنگ کی رہائی چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کہ مجھے اپنے خاندان کے حصے کا اختیار ہے۔ باقی کے لیے اوروں کی اجازت درکار ہے۔ تم نماز ظہر کے بعد اپنی درخواست پیش کرنا۔ چنانچہ نماز ظہر کے بعد انہوں نے اظہار مطلب کیا۔ پھر آپ نے حمد و ثناء کے بعد یوں خطاب  فر مایا:(صحیح بخاری: غزوہِ حنین)

تمہارے بھائی مسلمان ہو کر آئے ہیں میری رائے ہے کہ اسیران جنگ ان کو واپس کر دوں۔ تم میں سے جو بغیر عوض واپس کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کردیں۔ جو عوض لینا چاہتے ہیں۔ ہم پہلی غنیمت میں سے جو ہاتھ میں آئے گی ہم ادا کر دیں گے۔

قصہ مختصر تمام مہاجرین و انصار نے بغیر عوض واپس کر دینا طرح چھ ہزار اسیرانِ جنگ رہا کر دیے گئے۔


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو