I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

پیر، 24 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 48

 

الصلوۃالسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط48


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


خطبہ کے بعد آپ قریش کی طرف متوجہ ہوئے جن سے مسجد بھری ہوئی تھی۔ اعلان دعوت سے اب تک ساڑھے سترہ سال میں قریش نے آپ سے اور آپ کے اصحاب سے جو جو سلوک کیے تھے وہ سب ان کے پیش نظر تھے۔ اور خوف زدہ اس انتظار میں تھے کہ دیکھیے کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اب اس شہر میں ہیں جہاں سے نکلے تھے تو اندھیری رات اور فقط صدیق اکبر ساتھ تھے۔ آج آپ داخل ہوتے ہیں تو دس ہزار جاں نثار ساتھ ہیں اور بدلہ لینے پر پوری قدرت حاصل ہے۔ بایں ہمہ آپ نے یوں خطاب فرمایا :اے گروہ قریش تم اپنے گمان میں مجھ سے کیسے سلوک کی توقع رکھتے ہو؟

وہ بولے:

خیراً اخ کریم وابن اخ کریم

نیکی کی توقع رکھتے ہیں۔ آپ شریف بھائی اور شریف برادر زادہ ہیں ۔

یہ سن  کر حضور رحمت اللعالمین نے فرمایا:

لاتثریب علیکم الیوم اذھبو فانتم الطلقاء۔

آج تم پرکوئی الزام نہیں ۔ جاؤ تم آزاد ہو۔

اعلان عفو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں بیٹھ گئے۔ بیت اللہ شریف کی کنجی آپ دست مبارک میں تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم، اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے ایک نے عرض کیا کہ کنجی ہمیں عنایت فرمادیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کو عطاء فرمائی۔

حضرت عثمان بن طلحہ کا بیان ہے۔ کہ ہجرت سے پہلے مجھے رسول اللہ مکہ میں ملے آپ نے مجھے دعوت اسلام دی ۔ میں نے کہا: اے محمد!  تجھ سے تعجب ہے کہ تو چاہتا ہے کہ میں تیری پیروی کروں ۔ حالانکہ تو نے اپنی قوم کے دین کی مخالفت کی ہے اور ایک نیا دین لایا ہے۔ ہم جاہلیت میں کعبہ کو دوشنبہ اور پانچ شنبہ کے دن کھول کر تے تھے ایک دن رسول اللہ  لوگوں کے ساتھ کعبہ میں داخل ہونے کے ارادے سے آئے میں نے آپ سے درشت کلامی کی اور آپ کو برا بھلا کہا مگر آپ نے درگزر کیا اور فرمایا: عثمان تو یقیناً عنقریب ایک دن اس کنجی کو میرے ہاتھ میں دیکھے گا کہ جہاں چاہوں رکھ دوں ۔ میں نے کہا اس دن بے شک قریش ہلاک ہو جائیں گے اور ذلیل ہو جائیں گے۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ بلکہ زندہ رہیں گے اور عزت پائیں گے۔ اور آپ کعبہ میں داخل ہوئے۔ آپ کے اس ارشاد نے مجھ پر اثر کیا میں نے گمان کیا کہ جیسا آپ نے مجھ سے فرمایا عنقریب ویسا ہی ہو جائے گا۔ اور ارادہ کیا کہ مسلمان ہو جاؤں ۔ مگر میری قوم مجھ سے نہایت درشت کلامی کرنے لگی۔ جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: عثمان کنجی لا۔ آپ نے کنجی مجھ سے لے لی پھر وہی کنجی مجھے دے دی اور فرمایا: لو یہ پہلے سے تمہاری ہے اور تمہارے ہی پاس ہمیشہ رہے گی۔

ظالم کے سوا اسے کوئی بھی تم  سے نہ چھینے گا۔ عثان ! اللہ نے تم کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔ پس اس گھر کی خدمت کے سبب سے جو کچھ تمہیں ملے۔ اس دستورعرشی کے موافق کھاؤ۔ جب میں نے پیٹ پھیری۔ آپ نے مجھے پکارا میں پھر حاضر ہوا۔ فرمایا : کیا وہ بات نہ ہوئی جو میں نے تجھ سے کہی تھی۔ اس پر مجھے ہجرت سے پہلے مکہ میں  آپ کا وہ قول یاد آ گیا۔ میں نے عرض کیا: ہاں (وہ بات ہوگی) میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (حضرت عثمان نے یہ معجزہ دیکھ کر  تجدید شہادت کی ورنہ معلوم ہے کہ آپ سال فتح سے پہلے اسلام لا چکے تھے۔)

اس حدیث میں تین پیش گوئیاں ہیں وہ تینوں  پوری ہوگئیں۔

اس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دیر تک مسجد میں رونق افروز رہے نماز کا وقت آیا تو آپ کے حکم سے  حضرت بلال نے کعبہ کی چھت پر اذان کہی ۔ ابوسفیان بن حرب اور عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے اذان کی آواز سن کر عتاب بولا کہ خدا نے اسید کو  یہ عزت بخشی کہ اس نے یہ آواز( ازان) نہ سنی ورنہ باسے رنج پہنچتا۔ حارث بولا : خدا کی قسم! اگر یہ حق  ہوتا تو میں اس کی پیروی کرتا ۔ حضرت ابوسفیان نے کہا میں تو کچھ نہیں کہتا۔ اگر کہوں تو یہ کنکریاں ان کو میرے قول کی خبر دیں گی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ان لوگوں کے پاس ہوکر نکلے تو فرمایا کہ تمہاری باتیں  مجھے معلوم ہو گئیں تم نے ایسا ایسا کہا ہے۔ حارث و عتاب یہ  سنتے ہی کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں۔ ان باتوں کی اطلاع کسی اور کو نہ تھی ۔ ورنہ ہم کہ دیتے کہ اس نے آپ کو بتادیں۔(سیرت ابنِ ہشام) مسجد سے آپ کوہ صفا پر تشریف لے گئے۔ وہاں مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کر کے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی مردوں میں حضرت معاویہ اور مستورات میں ان کی والدہ ہندبھی تھی جو حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا کلیجہ چبا گئی تھی۔ عفو عام سے نو با دس  اشخاص مستثنیٰ تھے۔ جن کی نسبت حکم دیا گیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کردیےجائیں۔ اس  حکم کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی انتقام نہ تھا۔ بلکہ اور مختلف جرم تھے۔ ان میں سے صرف تین یعنی ابن خطل  مقیس بن ضبانہ  اور ابن خطل کی کنیز قریبہ  قتل ہوئے ۔ ابن خطل اور مقیس قصاص میں قتل کیے گئے قریبہ اسلام کی ہجو گایا کرتی تھی۔ باقی سب کو امن دیا گیا۔ اور ایمان لائے ۔ ایک دشمن اسلام عیسائی مصنف ان دس اشخاص کی تفصیل دے کر یوں لکھتا ہے:

اس طرح عفو کے مقابلے میں حکم  قتل کی صورتیں کالعدم  تھیں اور سزائے موت جہاں فی الواقع عمل میں آئی (شاید باستنشائے مغنیہ ) محض پولٹیکل  مخالفت کے سوا اور جرموں۔کی وجہ سے غالباً رواتھی جس عالی حوصلگی سے (حضرت) محمد  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوم سے سلوک کیا جس نے اتنی دیر آپ سے دشمنی رکھی اور آپ کا انکار کیا۔ وہ ہر طرح کی تحسین و آفرین کے قابل ہے حقیقت میں گذشتہ کی معافی اور اس کی گستاخیوں اور اذیتوں کی فراموشی آپ ہی کے

فائدے کےلیے تھی۔( اس فائدے میں بھی ذاتی فائدہ شامل نہ تھا۔ بلکہ دین اسلام کی سربلندی کےلیے تھا) مگرتاہم اس کے لیے ایک فراخ وفیاض دل کی بھی ضرورت تھی۔( لائف آف محمد: مؤلفہ سرولیم میور)

فتح مکہ کے دوسرے روز خزاعہ نے ہذیل کے ایک شخص کو جو مشرک تھا قتل کر ڈالا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمدوثنا کے بعد یوں خطاب  فر مایا:( خطاب کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں)


تحقیق مکہ کو اللہ نے حرام کر دیا اور لوگوں نے حرام نہیں کیا۔ جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور نہ اس کا درخت کاٹے اگر کوئی اس میں رسول اللہ  کے جنگ کے سبب سے قتال کو رخصت کہے تو اس سے کہہ دو کہ خدا نے اپنے رسول کو اجازت دی تم کو اجازت نہیں دی مجھے بھی دن کی ایک ساعت اجازت دی گئی ۔ اور آج پھر اس کی حرمت ایسی ہوگی جیسا  کہ کل (فتح سے پہلے)  تھی۔ چاہیے کہ جو یہاں حاضر ہے وہ غائب کو یہ پیغام پہنچادے۔“

جب مکہ بتوں سے پاک ہو چکا تو مکہ کے گرد جو بت ( منات،لات،عزی، سواع) تھے وہ سرایا کے ذریعہ سے منہدم کر دیئے گئے ۔


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو