I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

پیر، 24 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 47

 

اوالسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط47


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


میرے بال بچے مکہ میں قریش کے درمیان ہیں۔ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں قریش میں ان کے رشتے ہیں ۔ جن کے سبب سے وہ ان کے بال بچوں کی حفاظت کریں گے۔ مگرمیرا قریش میں کوئی رشتہ نہیں۔ اپنے اہل و عیال کے بچاؤ کے لیے میں نے یہ حیلہ کیا۔ کہ قریش پر یہ احسان کروں تا کہ اس کے صلے میں وہ میرے بال بچوں کی حمایت کردیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے ۔ حضرت عمر فاروق نے بے تاب ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافقت کا سر اڑا  دوں ۔ آپ نے فرمایا کہ حاطب اصحاب بدر میں سے ہے۔ عمر!  تجھےمعلوم ہے بے شک الله تعالی اہل بدر پرمطلع ہے کہ فرما یدا:اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم (تم جو چاہو کرو البتہ میں نے تم کو معاف کردیا۔ صحیح بخاری باب غزوہِ الفتح وما بعث حاطب بن ابی بلتعہ الی اہل مکہ) غرض با و جود ایسے سنگین جرم کے آپ نے حضرت حاطب کو معاف فرمادیا۔

قصہ کوتاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بتاریخ ۱۰ ماه رمضان 8ھ دس ہزار آراستہ فوج لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ حضرت عباس جواب تک مکہ میں مقیم تھے اپنے اہل وعیال سمیت ہجرت کر کے مدینہ کو آرہے تھے۔ وہ مقام جحفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حسب ارشاد نبوی انہوں نے اہل وعیال کوتومدینہ بھیج دیا اور خود شکر اسلام میں شامل ہو گئے۔ قدید میں قبائل کو جھنڈے دیے گئے ۔ اخیر پڑاؤ مرالظہران تھا۔ جہاں سے مکہ ایک منزل یا اس سے بھی کم تھا۔ یہاں رسول اللہ  کے حکم سے تمام فوج نے الگ الگ آگ روشن کی ۔ قریش کولشکر اسلام کی روانگی کی افواہ پہنچ  چکی تھی ۔ مزید تحقیق کے لیے انہوں نے ابوسفیان بن حرب اور علیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء کو بھیجا۔ اس تجسس میں ان کا گزر مرالظہران پر ہوا۔ ابوسفیان بولا یہ اس قدر جابجا آگ کیسی ہے؟  یہ تو شب عرفہ کی آگ کی مانند ہے۔ بد یل خزاعی نے کہا: خزاعہ کی آگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا: خزاعہ گنتی میں اتنے نہیں کہ ان کی اس قدر آگ ہو۔ خیمہ نبوی کی حفاظت پر جو دستہ متعین تھانہوں نے ابو سفيان وغیرہ کو دیکھ لیا۔ اور پکڑ کر رسول الله  کی خدمت میں لے گئے۔ ابوسفیان ایمان لائے ۔جب رسول اللہ  یہاں سے مکہ کی طرف روانہ ہونے لگے۔ تو حضرت عباس نے فرمایا کہ ابوسفیان کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر کھڑا کر دو۔ تا کہ افواج اسلام کا نظارہ آنکھوں سے دیکھ لیں۔ قبائل عرب کی فوجیں ابوسفیان کے سامنے سے ہو کر گزرنے لگیں۔ پہلے غفار پھر جہینہ ، سعد بن ہذیل، سلیم نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے گزرے ان کے بعد ایک فوج آئی جس کی مثل دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابو سفیان نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ حضرت عباس نے جواب دیا کہ انصار ہیں ۔ سردار انصارحضرت سعد بن عبادہ  علم ہاتھ میں لیے ہوئے برابر سے گزرے تو ابو سفیان سے کہا:


اليوم يوم الحملۃ اليوم تستحل الكعبة.

آج گھمسان کے معرکہ کا دن ہے۔ آج کعبہ کو حلال کر دیا جائے گا۔

بعد ازاں وہ مبارک دستہ آیا جس میں رسول اللہ  اور آپ کے اصحاب (مہاجرین) تھے۔ حضرت زبیر بن العوام  علمبردار تھے۔ حضور علیہ السلام  برابر سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا: حضور نے سنا سعد بن عبادہ کیا کہتے گزرے ہیں؟ آپ نے فرمایا سعد نے غلط کہا۔ آج کعبہ کی عزت کی جائے گی اور غلاف چڑھایا جائے گا۔ پگر  حکم دیا کہ علم سعد سے لے کر ان کے صاحب زادے قیس کو دے دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں حصہ بالائی کی طرف سے داخل ہوئے۔ اعلان کر دیا گیا ۔کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا یا ابوسفیان کے گھر پناہ لے گا۔ یا مسجد میں داخل ہوگا۔ یا دروازے بند کر لے گا۔ اس کو امن دیا جائے گا۔ حصہ بالائی میں (خيف بن کنانہ یعنی خصب میں)رسول اللہ  کے لیے.خیمہ نصب کیا گیا اور حضرت زبیر نے حسب الارشاد کی محصب کی حد یعنی حجون کی پہاڑی پر علم کھڑا کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ قبائل عرب کے ساتھ پائیں شہر کی طرف سے داخل ہوں اور صفا میں ہم سے آملیں۔ اور کسی سے جنگ نہ کریں۔ مگر صفوان بن امیہ عکر مہ بن  ابی جہل اور سہیل بن عمرو قریش کی ایک جماعت ساتھ لے کر جندمہ میں سد راہ ہوئے ۔ اور حضرت خالد کی فوج پر تیر برسانے لگے۔ چنانچہ حضرت عیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری نے شہادت پائی۔ حضرت خالد نے مجبور ہو کر ان پر حملہ کیا۔ وہ تیرہ یا زیادہ لاشیں چھوڑ کر گھروں کو بھاگ گئے اور بعض  پہاڑی پر چڑھ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تلواروں کی چمک دیکھی تو پوچھا کہ یہ جنگ کیسی ہے؟ عرض کیا گیا کہ شاید مشرکین نے پیش قدمی کی ہے۔ جس کی وجہ سے خالد کو لڑنا پڑا۔ بعدازاں رسول اللہ نے حضرت  خالد سے باز پرس کی تو انہوں نے عرض کیا کہ ابتدا مشرکین کی طرف سے تھی۔ فرمایا: ”قضائے الہی بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ میں ذرا آرام فرمایا۔ پھر  غسل  کیا اور ہتھیاروں سے سج کر ناقہ قصواء پر سوار ہوئے۔ اور اپنے غلام کے لڑکے  اسامہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا  کبہ نبوی بڑی شان وشوکت سے  کعبہ کی طرف روانہ ہوا۔ آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے مہاجرین و انصار تھے جو اس طرح سراپا آہن پوش  تھے کہ بجز سیاہہ چشم  ان کے بدن کا کوئی حصہ نظر نہ آتا تھا۔ بیت اللہ شریف میں داخل ہو کر  آپ  نے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا۔ پھر اپنی ناقہ پر طواف کیا۔ بیت اللہ کے گرد اور اوپر تین سو ساٹھ بت تھے۔ جن کے سبب سے وہ خانہ خدا بت خانہ بنا ہوا تھا۔ آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی ۔ اس سے آپ ایک ایک بت کو ٹھوکر دیے جاتے تھے اور یہ پڑھے جاتے تھے۔


جاء الحق و زھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا ( الاسراء:۸۱)

حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے والا ہے


جاء الحق ومایبدئ الباطل  وما یعید(السباء:۴۹) ۔

حق  آگیا اور باطل نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ  دوبارہ کرتا ہے۔


اور وہ منہ کے بل گرتے جاتے تھے۔ جب اس طرح بیت الله شریف بتوں سے پاک ہوگیا۔تو آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ سے کنجی لے کر دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوئے تو حضرت ابراہیم و اسمعیل علیہ السلام کے مجسمے پر  نظر پڑی۔ جن کے ہاتھوں میں جواء  کھیلنے کے تیر دیے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا ”خدا ان کو غارت کرے۔ اللہ کی قسم ان دونوں نے کبھی تیروں سے جواء نہیں کھیلا۔ 

کعبہ کے اندر ہی لکڑیوں کی ایک کبوتری بنی ہوئی تھی جسے آپ نے اپنے دست مبارک سے توڑ ڈالا۔ اور تصویریں جو تھیں وہ مٹا دی گئیں ۔ پھر دروازہ بند کر دیا گیا۔ اور حضرت اسامہ و بلال وعثمان بن طلحہ آپ کے ساتھ اندر رہے آپ نے نماز پڑھی اور ہر طرف تکبیر کہی پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ مسجد حرام قریش کی صفوں سے بھری ہوئی تھی۔ آپ نے دروازے کے بازوؤں کو پکڑ کر یہ  خطبہ پڑھا:( خطبے کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں)

ایک خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ خدا نے اپناوعدہ سچا

کیا اور اپنے بندے کی مدد کی ۔ اور کافروں کے گروہوں کو تنہا شکست دی۔ آگاہ ہو کہ تمام مفاخر یا خون یا مال ہرقسم کا سوائے کعبہ کی تولیت اور حاجیوں کی سقایت کے میرے ان دوقدموں کے نچے ہیں ۔ آگاہ ہو قتل خطا جوعمد کے مشابہ ہوتا زیانہ سے ہو یا عصا سے ( چاہے کوئی جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے کسی کا قتل کردے اس کا خون بہا دینے پڑے گا) اس کا خون بہا ایک سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس کے پیٹوں میں بچے  ہوں۔ اے گروہ قریش ! خدا نے تم سے جاہلیت کا غرور اور نسب کا  کا افتخار ختم کردیا ہے

تم لوگ آدم کی اولاد سے ہیں اور آدمی سے ہیں ۔

پھر یہ  آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:


پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا‌ ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞ 


ترجمہ:

اے لوگو ! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور ہم نے تم کو قومیں اور قبیلے بنادیا تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرو، بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا بےحد خبر رکھنے والا ہے( الحجرات:۱۳)


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو