I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

پیر، 24 اگست، 2020

سیرتِ رسولِ عربی ﷺ قسط 46

 

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط46


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


#ہجرت_کا_آٹھواں_سال


غزوہ_موتہ

ماه محرم میں غزوہ موتہ  وقوع میں  آیا ۔ در حقیقت یہ ایک سریا تھا ۔ مگر لشکر کی کثرت کے سبب اسے غزوہ سے تعبیر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارث بن عمیر ازدی کے ہاتھ امیر بصری یا قیصر روم کی طرف اپنا نامہ مبارک بھیجا۔ جب قاصد موتہ میں پہنچا تو شرجیل بن عمرو غسانی نے جو قیصر روم کی طرف سے گورنر تھا۔ اس کو شہید کر دیا۔ جب  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نہایت غمگین ہوئے۔ اور تین ہزار فوج بسرکردگی زید بن حارث( جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے) بھیجی اور حکم دیا اگر زید شہید ہو جائیں۔  تو جعفر بن ابی طالب اور وہ بھی شہید ہوں تو عبد الله بن رواح فوج کے سردار ہوں اور ارشاد ہوا کہ اس مقام پر جانا جہاں حارث بن عمیر شہید ہوئے ہیں ۔ اور یہ بھی ہدایت کر دی گئی کہ پہلے ان کو دعوت اسلام دینا۔ اگر وہ قبول کر لیں تو جنگ کی ضرورت نہیں۔ خود جناب رسالت مآب نے ثنیتہ الوداع تک فوج کی مشایعت فرمائی ۔شرجیل کو خبر پہنچی تو اس نے ایک لاکھ فوج تیار کی ۔ ادھر قیصر روم عرب کی ایک لاکھ فوج لے کر زمین  بلقاء میں خیمہ زن ہوا۔ جب لشکر اسلام شہر معان میں پہنچا تو ان کو دشمن کی تعداد کثیر کی اطلاع ملی۔ انہوں نے چاہا کہ دربار رسالت کو حالات کی اطلاع دی جائے اورحکم کا انتظارکیا جائے ۔مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا کہ فتح و شہادت میں سے ایک ہمیں ضرور حاصل ہوجائے گی اس لیے آگے بڑھے۔ جب بلقاء کی حد پر پہنچے تو مشارف میں قیصر کا لشکر نظر۔ آیا مسلمان بچ کر موتہ کی طرف چلے گئے ۔ اور یہاں جنگ ہوئی حضرات زید  و جعفر و عبداللہ بن رواحہ یکے بعد دیگرے بڑی بہادری سے پیدل ہو کر لڑے اور شہید ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور بیان فرمارہے تھے حضرت جعفر نے پہلے اپنے گھوڑے کی کونچیں  کاٹ دیں۔ پھر حملہ کیا۔ ان کا دایاں بازو کٹ گیا توعلم میں بائیں  ہاتھ میں لے لیا۔ بایاں بھی  کٹ  گیا توبغل میں لے لیا یہاں تک کہ شہید ہو گئے حضرت عبد الله بن عمرکا بیان ہے کہ میں نے ان کی لاش دیکھی تو اس پرنوے سے کچھ اوپر تلواروں اور برچھیوں کے  زخم تھے۔ اور سب کے سب سامنے کی طرف تھے۔ پشت پر ایک بھی نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر کو شہادت کے بعد بہشت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ بشكل فرشتہ دو خون آلود بازؤں کے ساتھ دیکھا۔ اسی واسطے ان کو جعفر طیار یا جعفرذوالجناحین کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ کے بعد بالاتفاق حضرت خالد بن ولید امیر لشکر ہوئے۔ وہ بھی نہایت شجاعت سے لڑے۔ خود  ان کا بیان ہے کہ اس دن نو تلواریں میرے ہاتھ سے ٹوٹ کر گر پڑیں لشکر کفار میں تزلزل پڑ گا۔

آخر کار لشکر کفار پسپا ہو گیا۔ اسے مسلمانوں کی فتح  کہنا چاہیے۔ کہ دو لاکھ کے مقابل میں صرف بارہ شہید  ہوئے۔ باقی سب صحیح و سالم مدینہ منورہ میں واپس آگئے۔


فتح_مکہ


ماه رمضان میں غزوہِ فتح مکہ  وقوع میں آیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قریش نے معاہده حدیبیہ توڑ دیا۔ بغرض توضیح  ہم یہاں کسی قدر تفصیل سے کام لیتے ہیں ۔ عبد المطلب بن ہاشم کو ان کے چچا مطلب سات یا آٹھ سال کی عمر میں مدینہ سے مکہ میں لائے تھے جیسا کہ اس کتاب میں پہلے مذکور ہوا ۔ اور ہاشم کے مکانات پر ان کو قابض کر دیا تھا جب مطلب نے وفات پائی تو عبدالمطلب کے چچا نوفل نے وہ مکانات چھین لیے عبدالمطلب نے قریش سے مدد مانگی قریش نے کہا کہ ہم تو تم دونوں میں دخل نہیں دیتے۔ عبد المطلب نے اپنے ننہال یعنی بنونجارکو مدینہ میں لکھا۔ اس لیے ابوسعید بن عدس نجاری اسی  سوار لے کر مدینہ کو آیا۔ جب وہ مکہ میں پہنچا  تو نوفل حطیم میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔ ابوسعید نے وہاں پہنچ کرنوفل کے سر پر تلوار کھینچ لی اور کہنے لگا کہ ہمارے بھانجے کے مکانات واپس کر دو ورنہ اس تلوار سے فیصلہ کر دیتا ہوں۔ یہ دیکھ کر نوفل نے قریش کے سامنے مکانات تو واپس کر دے مگر اپنی کمزوری کو محسوس کر کے آئندہ کے لیے عبد شمس  کے بیٹوں کو بنو ہاشم کے خلاف اپنا حلیف بنا لیا۔ اس پر عبداالمطلب نے خزاعہ سے کہا کہ تم بن نوفل اور بنو عبد شمس کے خلاف میرے حلیف بن جاؤ۔ عبدمناف کی ماں خزاعہ کے سردار حلیل کی بیٹی تھی۔ اس لیے وہ کہنے لگے کہ تمہاری مدد کرنا ہم پر واجب ہے۔ چنانچہ دارالندوہ میں یہ  معاہدہ لکھا گیا۔ حدیبیہ  کے دن از روئے معاہدہ ہر ایک قبیلہ فریقین میں سے جس کا چاہا حلیف بن گیا۔ چنانچہ خزاعہ اپنا پرانا معاہدہ دکھا کر رسول اللہ تعالی کے حلیف بن گئے ۔ اور بنوبکر قریش کے معاہدے میں شامل ہوئے ۔ یہ دونوں قبیلے (خزاعہ و بنوبکر) ایک دوسرے کے حریف تھے۔ اور ان میں مدت سے لڑائی چلی آتی تھی۔ جس کا سبب یہ  تھا کہ زمانہ جاہلیت میں بنوالحضرمی میں سے ایک شخص جو اسود بن رزن دئلی بکری کا حلیف تھا۔ بغرض تجارت گھر سے نکلا۔ جب وہ خزاعہ کے علاقہ میں پہنچا تو انہوں نے اسے قتل کر ڈالا اور مال لے لیا۔ اس پر بنو بکر نے خزاعہ کا ایک آدمی قتل کر ڈالا ۔ پھر  خزاعہ نے بنو الاسود یعنی سلمی و کلثوم و  ذویب کو عرفات میں قتل کر ڈالا۔ اسی حالت میں اسلام کے ظہور نے عرب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور برائیاں رک گئیں ۔ جب  صلح حدیبیہ کے سبب سے اسلام و کفر میں لڑائی کا سلسلہ بند ہو گیا۔ تو بنوبکر ( کی ایک شاخ بنو نفاثہ) سمجھے کہ اب انتقام کا وقت ہے اس لیے نوفل بن معاویہ دئلی بکری بنونفاثہ کو ساتھ لے کر آب و تیر میں جواسفل مکہ میں خزاعہ کے علاقہ میں ہے رات کو حملہ آور ہوا۔ قریش نے حسب معاہدہ بنو بکر کی مدد کی ۔ چنانچہ صفوان بن امیہ۔ حویطب بن عبدالعزی ۔ عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو وغیرہ صورتیں بدل بدل کر خزاعہ سے لڑے۔ یہاں تک کہ خزاعہ نے مجبور ہو کر حرم مکہ میں پناہ لی۔ بنوبکر حرم کا احترام ملحوظ رکھ کر رک گئے۔ مگر نوفل نے کہا: کہ یہ  موقع پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ چنانچہ  حرام میں خزاعہ کا خون بہایا گیا۔

جب بنوبکر وقریش نے وہ عہد توڑ دیا۔ جو ان کے اور رسول اللہ   کے درمیان تھا۔ تو عمرو بن سالم خزاعی چالیس سوار لے کر مدینہ پہنچا۔ اس وقت رسول الله مسجد میں اپنے اصحاب میں تشریف رکھتے تھے۔ عمرو مذکور حاضر خدمت ہو کر یوں گویا ہوا:

اے خدا میں محمد کو یاد دلاتا ہوں۔ وہ پرانا معاہدہ جو ہمارے باپ اور اس کے باپ 

(عبدالمطلب ) کے درمیان ہوا تھا۔ یا رسول اللہ! ہماری پوری مدد کیجئے اور خدا کے

بندوں کو بلائیے جو ہماری مدد  کو آئیں۔ قریش نے آپ سے وعدہ کے خلاف کیا۔ اور

آپ کا  محکم معاہدہ توڑ ڈالا ۔ انہوں نے وتیر میں ہم پر بحالت خواب حملہ کیا۔ اور ہمیں رکوع و سجدہ کی حالت میں قتل کر ڈالا۔ یہ سن کر رسول اللہ نے  فرمایا:عمرو! تجھے مدد مل جائے گی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں قریش سے دریافت کرتا ہوں ۔ پس آپ نے حضرت ضمرہ کو بھیجا اور یہ تین  شرطیں پیش کیں کہ قریش ان میں سے ایک اختیار کرلیں:

۱۔ خزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیں۔

۲- بنونفاثہ کی حمایت سے دست بردار ہوجائیں۔

۳- اعلان کر دیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔

قرطہ بن عمرو نے کہا کہ ہمیں صرف تیسری شرط منظور ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ پر حملہ کی پوشیدہ تیاری شروع کر دی۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ لحمی نے جو بنو اسد بن عبد العزی کے حلیف تھے بنو ہاشم کی کنیز سارہ کے ہاتھ قریش کو ایک خط لکھ بھیجا۔ جس میں اس جنگی تیاریوں کا حال درج تھا۔ سارہ نے وہ خط اپنے سر کے بالوں میں چھپا لیا۔ اور روانہ ہوئی۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ  کو اس معاملہ کی خبر دے دی۔ آپ نے علی و زبیر  و مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھیجا اور ان سے فرمایا کہ روضہ خاخ میں تم کو ایک سانڈنی سوار عورت ملے گی۔ اس کے پاس قریش مکہ کے نام ایک خط ہے۔ وہ لے آؤ وہ سوار ہو کر چل پڑے اور سارہ سے روضہ خاخ میں جا ملے۔ اس کو نیچے اتار لیا۔ اور کہا کہ تیرے پاس ایک خط ہے اس نے انکار کیا اس کے کجاوے کی تلاشی لی گئی مگر کچھ برآمد نہ ہوا۔ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم  نے اس سے کہا: میں الله کی قسم کھاتا ہوں کہ رسول اللہ نے جھوٹ نہیں فرمایا۔ توں خط نکال ۔ ورنہ ہم تیرے کپڑوں کی تلاشی لیں گے۔ یہ سن کر اس نے اپنے سر کے بالوں سے وہ خط  نکال کر حوالہ کیا۔ جب یہ خط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔۔ تو آپ نے حضرت حاطب کو طلب فرمایا اور پوچھا: ”حاطب! تو نے یہ کیا حرکت کی ؟“ حاطب نے یوں عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے ۔ میں دین سے نہیں پھرا۔


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو