الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط42
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
ہجرت_کا_ساتواں_سال
والیان_ملک_کودعوت_اسلام
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ ذی الحجہ ۶ھ میں حدیبیہ سے واپس سے واپس تشریف لائے۔ تو آپ نے شروع ۷ھ میں والیان ملک کو دعوت اسلام کے خطوط ارسال فرمائے جن کا ذکر کسی قدر تفصیل سے یہاں ذکر کیا جاتاہے (یاد رہے تمام خطوط کی اصل عبارت عربی میں ہے جس کا صرف اردو ترجمہ لکھا جائے گا : محمد حامد رضوی)
۱: اللہ عزوجل کے نام سے شروع سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا۔
اللہ کے بندے اور رسول محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہرقل امیر روم کے نام۔ سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اما بعد میں تجھ کو دعوت اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ توں اسلام لا۔ سلامت رہے گا۔ خدا تجھ کو دوہرا ثواب عطاء فرمائے گا۔ اگر توں نے رو گردانی کی تو تیری رعایا کا گناہ تجھ پر ہوگا۔ اہل کتاب کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی اور پوجا نہ کر یں۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ اور ہم میں سے کوئی اللہ عزوجل کو چھوڑ کر دوسرے کو خدانہ بنائے ۔ اگر وہ نہیں مانتے تو کہہ دو۔تم گواہ رہو کہ ہم ماننےوالے ہیں ۔( محمد رسول اللہ )
رومیوں اور ایرانیوں میں دیر سے لڑائی چلی آتی تھی ۔ ایرانیوں نے ملک شام فتح کر لیا تھا۔ ہرقل کی حالت یہ ہوئی تھی کہ اسے اپنے پایہ تخت قسطنطنیہ پر ایرانی حملے کا اندیشہ ہوگیا تھا۔ اس حالت میں الله تعالی نے اپنے کلام پاک میں خبر دی کہ رومی جوشام میں مغلوب ہو گئے ہیں چند سال میں وہ ایرانیوں پر غالب آئیں گے۔ یہ پیشین گوئی صلح حدیبیہ سے نو سال پیشتر ہوئی تھی اور حرف بحرف پوری ہوئی۔ چنانچہ حدیبیہ کے دن مسلمانوں کو رومیوں کی فتح کی خبر پہنچی ۔ ہرقل اس فتح کے شکرانہ کے لیے حمص سے بیت المقدس میں پیاده گیا۔ رسول اللہ نے اپنا نام مبارک حضرت وجیہ بن خلیفہ قلبی کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ حضرت وجیہ نے وہ خط ہرقل کے گورزشام حارث غسانی کو بصرہ
میں دے دیا۔ اس نے قیصر کے پاس بیت المقدس میں بھیج دیا۔ قیصر نے حکم دیا کہ اس مدعی نبوت کی قوم کا کوئی آدمی یہاں ملے تو لاؤ۔ اتفاق یہ کہ ابوسفیان جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے تا جران قریش کے ساتھ غزہ میں آئے ہوئے تھے قیصر کا قاصد ان سب کو بیت المقدس میں لے گیا۔ ابو
سفیان کا بیان ہے کہ جب ہم کو قیصر کے پاس لے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تاج پہنے ہوئے دربار میں تخت پر بیٹھا ہے۔ اور اس کے گرداگرد امرائے روم ہیں۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان (قریشیوں ) سے پوچھو کہ تم میں بلحاظ نسب اس مدعی نبوت سے کون اقرب ہے؟ ( قول ابوسفیان)
میں نے کہا کہ میں اقرب ہوں ۔ قیصر نے رشتہ دریافت کیا۔ میں نے کہا۔ وہ میرا چچیرا بھائی ہے۔ قافلہ میں اس وقت عبد مناف کی اولاد میں میرے سوا کوئی نہ تھا۔ قیصر کے حکم سے مجھے نزدیک بلایا گیا اور میرے ساتھیوں کو میری پیٹھ پیچھے بٹھایا گیا۔ پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس کے
ساتھیوں سے کہہ دو کہ میں اس (ابوسفیان) سے اس مدعی نبوت کا حال دریافت کرتا ہوں اگر یہ جھوٹ بولے۔ تو کہہ دینا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ابوسفیان کا قول ہے کہ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میرے ساتھی میرا جھوٹ اوروں سے نقل کیا کریں گے تو میں اس کا حال بیان کرنے میں جھوٹ بولتا ۔مگر اس ڈر سے میں سچ ہی بولا ۔ اس کے بعد قیصر و ابوسفیان میں بذریعہ تر جمان یہ گفتگو ہوئی :
قیصر: اس مدعی نبوت کا نسب تم میں کیسا ہے؟
ابو سفیان: وہ شریف النسب ہے۔
قیصر: کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟
ابو سفیان: نہیں
قیصر: کیا اس کے خاندان میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟
ابو سفیان: نہیں۔
قیصر: اس کے پیرو کار اکابر ہیں یا کمزور لوگ؟
ابو سفیان: کمزور لوگ۔
قیصر: اس کے پیروکار زیادہ ہو رہے ہیں یا کم تر؟
ابو سفیان: زیادہ ہورہے ہیں۔
قیصر: کیا اس کے پیروکاروں میں سے کوئی اس کے دین سے نا خوش ہو کر اس دین سے پھر بھی جاتا ہے؟
ابو سفیان: نہیں۔
قیصر: کیا دعوائے نبوت سے پہلے تمہیں اس پر جھوٹ اس پر جھوٹ بولنے کا گمان ہوا ہے؟
ابو سفیان: نہیں
قیصر: کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟
ابو سفیان: نہیں۔ لیکن جو اب ہمارا اس سے معاہدہ صلح ہوا ہے۔ دیکھیے اس میں کیا کرتاہے۔
قیصر: کیا تم نے کبھی اس سے جنگ بھی کی ہے؟
ابو سفیان: ہاں۔
قیصر: جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟
ابو سفیان: کبھی ہم غالب رہے کبھی وہ۔
قیصر: وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے؟
ابو سفیان: کہتا ہے ایک خدا کی عبادت کرو۔ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ تمہارے آباؤ اجداد جو کچھ کہتے ہیں۔ وہ چھوڑ دو۔ نماز پڑھو۔ سچ بولو۔ پاک دامن رہو۔ صلہ رحمی کرو۔اس گفتگو کے بعد قیصر نے ترجمان کی وساطت سے ابو سفیان سے کہا تم نے اس کو شریف النسب بتایا۔ پیغمبر اپنی قوم کے اشراف میں سے مبعوث ہوا کرتے ہیں۔ تم نے کہا کہ ہم میں سے کسی نے اس سے پہلے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔اگر ایسا ہوتا تو میں سمجھ لیتا کہ اس نے پہلے قول کا اقتداء کیا ہے۔تم نے کہا کہ اس کے خاندان میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں خیال کرتا کہ وہ اپنے آبائی ملک کا طالب ہے تم نے کہا کہ دعویٰ نبوت سے پہلے وہ کبھی مہتم بالکذب نہیں ہوا۔ اس سے میں نے پہچان لیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ باند ھے۔ اور خدا پر جھوٹ باندھے۔ تم نے بتایا کہ کمزور لوگ اس کے پیروکار ہیں پیغمبروں کے پیروکار (غالباً) کمزور لوگ ہی ہوا کرتے ہیں تم نے ذکر کیا کہ اس کے پیروکار زیادہ ہورہے ہیں ۔ دین و ایمان کا یہی حال ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمام و کامل ہو جا تا ہے تم نے بتایا کہ اس کے پیروکاروں میں سے کوئی مرتد نہیں ہوتا۔ ایمان کا یہی حال ہے کہ جب اس کی بشارت ولذت دل میں سرایت کر جاتی ہے تو وہ دل سے نہیں نکلتا۔ تم نے کہا کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا پیغمبر عہد نہیں توڑا کرتے۔ تم نے بیان کیا جنگ میں کبھی ہم غالب رہتے ہیں۔ اور کبھی وہ۔ پیغمبروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ اعدائے دین کے سبب ان کو ابتلاء ہوا کرتا ہے مگر آخرکار فتح پیغمبروں کو ہی ہوتی ہے۔ تم نے اس کی تعلیمات بیان کیں۔ اگرتم سچ کہتے ہوتو میرے قدم گاہ تک اس کا قبضہ ہو جائے گا میں جانتا تھا کہ وہ آنے والا ہے مگر مجھے یہ خیال نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔ اگر مجھے یقین ہوتا کہ اس تک پہنچ جاؤں گا تو میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے کی تکلیف گوارا کرتا۔ اور اگر میں اس کے
پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔ اس کے بعد رسول الله کا نام مبارک پڑھا گیا۔ اسے سن کر امرا روم نے بڑا شور و شغب برپا کیا۔ ابوسفیان اور اس کے ہمراہی رخصت کر دیئے گئے۔
قیصر (حمص ) میں چلا آیا۔ اور امرائے روم کوقصرشاہی میں جمع کر کے حکم دیا کہ دروازے بند کر دیئے جائیں ۔ پھر یوں خطاب کیا:”اے گروہ روم اگرتم فلاح ورشد کے طالب ہو۔ اور چاہتے ہو۔ کہ تمہارا ملک برقرار رہے تو اس نبی پر ایمان لاؤ ۔ یہ سن کر وہ خران وحشی کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے ۔ مگر ان کو بند پایا۔ جب ہرقل نے ان کی نفرت دیکھی اور ان کے ایمان سے مایوس ہوگیا تو کہا کہ ان کو میرے پاس لائے اور ان سے یوں خطاب کیا کہ میں تمہیں آزماتا تھا۔ کہ تم اپنے دین میں کیسے مستحکم ہو۔ سو میں نے تم کو مستحکم پایا ۔ یہ سن کر انہوں نے قیصر کو سجدہ کیا اور اس سے خوش ہو گئے۔
2- خسرو پرویز بن ہر مز بن نوشیرواں ایران کو یوں لکھا گیا۔
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا۔
رسول محمد کی طرف سے کسری امیر فارس کے نام
سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور الله اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور گواہی دی کہ کوئی معبود برحق نہیں ۔ مگر خدا ایک جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ میں تجھے دعوت خدائے عزوجل کی طرف بلاتا ہوں ۔ کیوں کہ میں تمام لوگوں کی طرف خدا کا رسول ہوں تا کہ ڈراؤں اس کو جوزنده ہو اور ثابت ہو جائے کلمہ۔ عذاب کافروں کےلیے ہے۔ اسلام سلامت رہے گا۔ پس اگر تو نے نہ مانا تو مجوسیوں کا گناہ تجھ پر ہے۔“ (محمد رسول اللہ)
علاقہ بحرین کسری کے زیرفرمان تھا۔ وہاں اس کی طرف سے منذر بن ساوی عبدی تمیمی نائب السلطنت تھا۔ رسول اللہ نے اپنا نامہ مبارک حضرت عبد الله بن حذاف قرشی سہمی کو دے کرحکم دیا کہ اسے حاکم بحرین کے پاس لے جاو۔ حا کم موصوف نے دو نامہ خسرو پرویز کے پاس بھیج دیا۔ جب وہ پڑھا گیا تو ۔پرویز نے اسے پھاڑ ڈالا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے پرویز اور اس کے معاونین پر بددعا فرمائی کہ وہ ہر طرح پاره پارہ کیے جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ ان کی سلطنت جاتی رہی۔ دولت و اقبال نے منہ پھیر لیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ اس بربادی کی کیفیت یوں ہے کہ پرویز نے نامہ مبارک کو چاک کرنے کے بعد اپنے گورنر یمن بازان کولکھا ہے کہ اپنے دو دلیر آدمیوں کو حجاز میں بھیجو تا کہ اس مدعی نبوت کو پکڑ کر میرے پاس لائیں ۔ باذان نے اپنے قہرمان بابویہ اور ایک شخص خرخسرہ نام کو اس غرض کے لیے مدینہ میں بھیجا۔ اور بابویہ سے یہ کہ دیا کہ اس مدعی نبوت سے کلام کرنا اور اس کے حال سے اطلاع دینا۔ یہ دونوں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے ۔ بابویہ نے حقیقت حال عرض کی ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ کل میرے پاس آؤ۔ جب وہ دوسرے دن حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ فلاں مہینے کی فلاں رات کو خدا نے کسری کو قتل کردیا اور اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا ۔ وہ بولے۔ آپ یہ کیا فرما رہے ہیں ۔ کیا ہم اپنے بادشاہ ( باذان) کو یہ اطلاع کر دیں ۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ہاں میری طرف سے اسے یہ خبر دے دو اور کہ دو میرا دین اور میری حکومت کسری کے ملک کی انتہا تک پہنچ جائے گی اور (باذان سے ) یہ بھی کہ دو کہ اگر تم اسلام لاؤ تو تمہارا ملک تم ہی کو دیا جائے گا۔ دونوں نے واپس آ کر باذان سے سارا ماجرا کہ سنایا۔ اس پر کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ شیرویہ کا خط باذان کے نام آیا۔ جس میں لکھاتھا کہ میں نے اپنے باپ پرویز کو قتل کر ڈالا۔ کیوں کہ وہ اشراف فارس کا قتل جائز سجھتا تھا۔ اس لیے تم لوگوں سے میری اطاعت کا عہد لو اور اس مدعی نبوت کوجس کے بارے میں کسری نے تم کو کچھ لکھا تھابرا بھلا مت کہو۔ یہ دیکھ کر بازان مسلمان ہو گیا۔ وہ ایرانی جو یمن میں تھے سب ایمان لے آئے۔ اس کے چھ ماہ بعد شیرویہ بھی مر گیا۔ فارس کا آخری بادشاہ یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ حضرت عثمان غنی کے عہد میں قتل ہوا۔
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں