I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

جمعہ، 21 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 41




 

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط41


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


کیا ہم آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ اس پر عروہ بولا ۔ کہ یہ کون ہے؟ جواب ملا۔ابوبکر۔پس وہ حضرت ابو بکر سے یوں مخاطب ہوا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر مجھ پر تیرا احسان نہ ہوتا ( ایک دفعہ عروہ کو دیت دینی پڑی تھی اس میں سیدنا ابوبکر صدیق نے عروہ کو مدد دی تھی یہ اس کی طرف اشارہ ہے)  جس کابدلہ میں نے نہیں دیا تو میں تجھے جواب دیتا‘‘۔ پھر عروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا۔ جب وہ آپ سے کلام کرتا تو (حسب عادت عرب) آپ کی ریش مبارک کو چھوتا۔ اس وقت مغیرہ بن شعبہ خودسر پر تلوار ہاتھ میں لیے آپ کے سر مبارک پر کھڑے تھے۔ جب عروہ اپنے ہاتھ ریش مبارک کی طرف بڑھاتا ۔ تو مغیرہ بغرض تعظیم نیام شمشیر اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ ریش مبارک سے ہاتھ ہٹا ۔ عروہ نے آنکھ اٹھا کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ (تیرا بھتیجا) مغیرہ بن شعبہ۔ عروہ نے یہ سن کر کہا: او بے وفا ! کیا میں تیری دیت ( مغیرہ اور ثقیف کے تیرہ آدمی تحائف لے کر مقوقس والی مصر کے ہاں گئے تھے۔ جو انعام ملا وہ ثقیف کے لوگوں نے لے لیا اور مغیرہ کو کچھ نہ دیا)  میں کوشش نہ کرتا تھا؟ پھر عروه اصحاب نبی  کی طرف دیکھتا رہا۔ اسں نے واپس جا کر اپنی قوم سے صحابہ کرام کے اوصاف بیان کیے اور کہا کہ ایک نیک امر جو پیش کیا جا رہا ہے اس کو قبول کرلو۔ پھر حلیس بن علقمہ خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اس نے بھی جا کر کہا میری رائے ہے کہ مسلمانوں کو بیت اللہ سے نہ روکا جائے ۔ حلیس کے بعد مکرز آیا۔ وہ حضور اقدس ﷺ  سے کلام کر ہی رہا تھا کہ خطیب قریش سہیل بن عمر قریشی  عامری حاضر ہوا۔ آپ نے بطریق تفاول۔ فرمایا کہ اب تمہارا کام کچھ  سہل ہو گیا۔ گفتگو کے بعد قرار پایا کہ دس سال تک لڑائی بند رہے۔

سہیل نے عرض کیا معاہدہ تحریر میں آ جائے 

 پس حضور اقدس ﷺ نے کاتب یعنی حضرت علی کو طلب فرمایا۔

رسول الله: ( علی سے) لکھ"بسم الله الرحمن الر حیم"۔

سہیل 

الرحمن‘ میں نہیں جانتا کیا ہے۔ بلکہ لکھ باسمك اللهم جیسا کہ  تو پہلے  لکھا کرتا تھا۔

صحابہ وحاضرين: اللہ کی قسم ! بسم الله الرحمن الرحیم کے سوا اور نہ لکھ۔

رسول اللہ: لکھ باسمك اللهم (بعر تعمیل) لکھ ہذا  ما  قاضی محمد  رسول اللہ۔

سہیل (بعد کتابت) اللہ کی قسم اگر ہم جانتے کہ تو الله کا رسول ہے۔ تو تھے بیت اللہ

سے منع نہ کرتے اور نہ تجھ سے لڑائی کرتے (علی سے کہا ) بلکہ لکھ محمد بن عبد اللہ۔

اور لفظ رسول اللہ کو مٹادے۔

رسول اللہ): (سہیل سے)  اللہ کی قسم! بے شک میں الله کا رسول ہوں۔ اگر تم میری تکذیب کررہے ہو تو اس سے میری رسالت میں فرق نہیں آتا۔ علی سے کہا  اسے مٹادو۔

حضرت على: میں اسے نہیں مٹاؤں گا۔

رسول اللہ: مجھے اس لفظ کی جگہ بتاؤ۔

(حضرت علی بتا دیتے ہیں اور حضورِ اقدس ﷺ  رسول اللہ کو مٹا کر علی سے اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھواتے ہیں) آگے لکھ۔ شرط یہ ہے کہ قریش ہمارے واسطے بیت اللہ کا راستہ چھوڑ دیں گے اور ہم اس کا طواف کریں گے۔

سہیل: اللہ کی قسم  ! ہم نہ چھوڑیں گے۔ عرب یہ کہیں گے کہ دباؤ ڈال کر ہمیں اس پر راضی کیا گیا ہے۔ ہاں آئندہ سال ایسا ہو جائے گا( چنانچہ ایسا ہیں لکھا گیا) دیگر شرائط یہ  ہیں کہ ہمں میں سے جو کوئی آپ کے پاس آئے  خواہ وہ آپ کے دین پر آپ اسے ہماری طرف واپس کردیں گے۔

صحابہ وحاضرين: (متعجب ہو کر) سبحان اللہ جومسلمان ہو کر آئے۔ وہ مشرکین کی طرف کس طرح واپس  کیا جائے گا؟

اسی اثنا میں سہیل کا بیٹا ابو جندل پابز بخیر  اسفل مکہ سے( قید خانہ میں سے نکل کر یہاں آ جاتا ہے اور اپنے تئیں مسلمانوں کے حوالہ کرتا ہے)۔

سہیل:  یا محمد میں اسی پر آپ سے محاکمہ کرتا ہوں کہ آپ اسے میرے حوالہ کر دیں ۔

رسول الله: ہم ابھی صلح نامہ کی کتابت سے فارغ نہیں ہوئے۔

سہیل: اللہ کی قسم! تب میں بھی آپ سے کبھی کسی بات پر مصالحت نہ کروں گا۔

رسول الله: اسے میرے پاس رہنے دو۔

سہیل : میں آپ کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔

رسول الله: ہاں اجازت دے دو۔

سہیل: میں ایسا نہیں کرنے کا۔

مکرز(سہیل سے) ہم نے تیرے واسطے اجازت دے دی۔

ابو جندل: اے معشر مسلمین میں مسلمان ہو کر مشرکین کے حوالہ کیا جا رہا ہوں ۔ کیا تم میری تکلیف نہیں دیکھتے ہو؟

رسول اللہ: ابوجندل! صبر کر اور ثواب کی امید رکھے۔ ہم عہد نہیں توڑتے اللہ تیرے واسطے خلاصی کی کوئی سبیل پیدا کر دے گا۔

(یہ سن کر حضرت عمر فاروق اٹھ کر ابو جندل کے ساتھ ہو لیے اور کہہ رہے تھے وہ تو مشرکین ہیں کسی مشرک کو قتل کرنا ایسا ہے جیسا کسی کتے کوقتل کر ڈالا )۔

ابن سعد اور بیہقی وغیرہ نے لکھا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  جب حدیبیہ میں پہنچے تو آپ نے قریش کو اپنے ارادے سے مطلع کرنے کے لیے حضرت فراش بن امیہ خزائی کو اپنے اونٹ پر سوار کر کے ان کی طرف بھیجا۔ عکرمہ بن ابوجہل نے اس اونٹ کی کونچیں کاٹ دیں۔ اور فراش کو قتل کرنے لگے   مگرانی احابیش اور احلاف نے روک دیا۔ فراش نے خدمت اقدس ﷺ میں واپس آ کر یہ ماجرا کہہ سنایا ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی کو ایک خط دے کر اشراف قریش کی طرف بھیجا۔ اور فرمایا کہ مکہ میں کمزور مسلمانوں کو عنقریب فتح کی بشارت دے دینا۔ حضرت عثمان غنی نے قریش کو مقام ہلدح میں دیکھا کہ مسلمانوں کو مکہ سے روکنے پر متفق ہیں ۔ ابان میں سعید اموی نے جو اب تک ایمان نہ  لائے تھے ۔ حضرت عثمان غنی کو پناہ دی اور اپنے گھوڑے پر سوار کر کے مکہ میں لے آئے۔ حضرت عثمان نے اشراف قریش کو رسول اللہ  کا پیغام پہنچایا۔ اور نام مبارک پڑھ کر ایک ایک کو سنایا مگر وه روبرو نہ ہوئے۔ جب صلح نامہ مکمل ہو گیا۔ اور وہ اس کے نفاذ کے منتظر تھے۔ تو فریقین کے ایک شخص نے دوسرے فریق کے ایک شخص پر پتھر یا تیر مارا۔ اس سے لڑائی چھڑ گئی ۔ اس لیے فریقین نے فریق مخالف کے آدمیوں کو بطور یرغمال اپنے پاس روک لیا۔ چنانچہ رسول اللہ نے اپنے سہیل بن عمرو کو اور مشرکین نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (مع دس اور کے) زیر حراست رکھا۔ اسی اثناء میں یہ غلط خبر اڑی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ میں قتل کر دیے گئے۔ اس لیے رسول الله نے بہول کے درخت کے  نیچے مسلمانوں سے موت پر بیعت کی جس کا ذکر کتاب اللہ میں ہے۔ اس کو بیعت الرضوان کہتے ہیں۔ حضرت عثمان چونکہ مکہ میں تھے۔ اس لیے حضور انور  نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر مار کر ان کو بیعت کے شرف میں شامل کیا۔ جیسا کہ اس کتاب میں دوسری جگہ بہ تفصیل مذکور ہے۔ جب قریش کو اس بیعت کی خبر پہنچی تو ڈر گئے اور معذرت کر کے صلح لی۔ اور طرفین کے اصحاب چھوڑ دیئے گئے ۔ جب صلح سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ  نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو قربانیاں دو۔اور سر منڈواؤ آپ نے تین بار ایسا فر مایا مگر  کوئی نہ اٹھا۔ آپ نے حضرت ام سلمہ سے یہ تذکرہ کیا۔ تو ان کی تدبیر سے   یہ مشکل حل ہوگئی ۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔جب رسول اللہ حدیبیہ سے مدینہ میں واپس تشریف لائے تو ابوجندل کی طرح ابوبصیر ثقفی حلیف بنی زہرہ مکہ سے بھاگ کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ قریش نے دو شخص اس کے تعاقب میں بھیجے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حسب معاہدہ  ابوبصیر کو ان دونوں کے حوالہ کر دیا۔ جب وہ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو ابوبصیر نے ان میں سے ایک سے دیکھنے کے بہانہ سے تلوار لی ۔ اور اس کا کام تمام کر دیا۔ دوسرا بھاگ کر خدمت اقدس میں آیا۔ ابوبصیر بھیی اس کے پیچھے آ پہنچا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کا وعدہ پورا ہو چکا۔ آپ نے فرمایا: پورا نہیں ہوا۔ تو جہاں چاہتا ہے چلا جا۔ اس لیے ابو بصیر ساحل بحر پر چلا گیا ۔ ابو جندل بھی بھاگ کر ذومرہ کے قریب ابو بصیر سے آ ملا۔ اور رفتہ رفتہ ایک جماعت ان کے ساتھ ہو گئی۔ ابو جندل نے قریش کا شامی راستہ روک لیا۔ قریش تنگ آ کر حضور اقدس ﷺ سے طالب رحم ہوئے اور واپسی کی بھی شرط ختم کردی۔ پس حضور اقدس ﷺ نے ابو جندل کے نام ایک خط بھیجا۔ ابو بصیر اس وقت قریب المرگ تھا ۔ وہ نامہ مبارک اس کے ہاتھ میں تھا کہ انتقال کر گیا۔ اور ابو جندل ساتھیوں کے سمیت مدینہ میں حاضر خدمت اقدس ہوا ۔ اور مدینہ ہی میں رہا ۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں ملک شام میں شہید ہوگیا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔( حالات مذکورہ کےلیے دیکھیں زرقانی علی المواہب)


#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹


آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو