الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط40
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
ہجرت کا چوتھا سال
غروہ بنی نضیر:
یہ غزوہ ماہ ربیع الاول میں ہوا۔ جس کی وجہ نقض عہد سابق تھا۔ بنو عامر کے دو شخص جن کے ساتھ رسول اللہ کا عہد تھا۔ مدینہ منورہ سے اپنے اہل کی طرف نکلے۔ راستے میں عمرو بن امیہ ضمری ان سے ملا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ رسول اللہ کے جوار میں ہیں۔ اس نے دونوں کو قتل کر دیا ۔ رسول اللہ نے مطالبہ دیت کے لیے بنو نضیر سے دو مانگی۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ تشریف رکھیے۔ ہم باہم مشورہ کرتے ہیں۔ پس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حضرات ابو بکر وعمر وعلی وغیرہم کے ساتھ ان کی ایک دیوار تلے بیٹھ گئے۔ یہود نے بجائے مدد دینے کے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ بے خبری میں دیوار پر سے آپ پرچکی کا پاٹ پھینک دیں ۔ حضرت جبرائیل نے آپ کو اطلاع کر دی ۔ آپ فوراً وہاں سے مدینہ منور تشریف لائے اور جنگ کے لیے تیار ہوکر ان پر حملہ آور ہوئے بنوقریظہ بھی برسر پیکار تھے۔ آخر کار آپ نے بنونضیر کو جلا وطن کر دیا۔ بدیں شرط کہ ان کو اجازت دی کہ جو مال وہ اونٹوں پر لے جا سکیں لے جا جائیں ۔ چنانچہ وہ اپنے اموال لے کر خیبر میں اور بعض اذرعات واقع شام میں چلے گئے مگر بنوقریظہ پر آپ نے احسان کیا کہ ان کو امن دے دیا ۔ جمادی الاولی میں غزوہِ ذات الرقاع ہوا۔ رسول الله بنو محارب اور بنو ثعلبہ کے قصد سے نجد کی طرف نکلے مگر قتال وقوع میں نہ آیا۔ امام بخاری نے اس غزوہ کو غزوہ خیبر کے بعد بتایا ہے ممکن ہے کہ یہ غزوہ دو دفعہ ہوا ہو صلواۃ الخوف سب سے پہلے اسی غزوہ میں پڑھی گئی۔ اس میں غورث بن حارث کا قصہ پیش آیا۔ہجرت کا پانچواں سال
غزوہِ دومتہ الجندل
ماہ ربیع الاول میں غزوہِ دومتہ الجندل پیش آیا مگر قتال وقوع میں نہ آ یا ۔ شعبان میں مریسیع یا غزوہِ بنی المصطلق جس میں بنو مصطلق مغلوب ہوئے قصہ افک یعنی حضرت عائشہ صد یقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر منافقوں نے جو تہمت لگائی تھی وہ اسی غزوہ سے واپسی پر پیش آیا۔
غزوہِ احزاب:
ماہ ذی قعدہ میں غزوہ احزاب یا غزوہ خندق واقع ہوا ۔ بنو نضیر جلا وطن ہو کر خیبر میں آرہے تھے۔ انہوں نے مکہ میں جا کر قریشں کو مسلمانوں سے لڑنے پرابھارا۔ اور دیگر قبائل عرب (غطفان ، بنو سلیم ، بنومرہ، بنواسد وغیر و) کو بھی اپنے ساتھ متفق کرلیا۔ بنوقریظہ پہلے شامل نہ تھے مگر حئ بن اخطب نے آخرکار ان کو بھی اپنے ساتھ ملا ہے۔ غرض قریش و یہود و قبائل عرب بارہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے۔ چونکہ اس غزوہ میں تمام قبائل عرب و یہود شامل تھے۔ اس واسطے اس غزوہ کوغزوہ احزاب (حزب بمعنی طائفہ) کہتے ہیں ۔کفار کی تیاری کی خبر سن کر رسول اللہ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسی نے عرض کیا۔ کہ کھلے میدان میں لڑنا مصلحت نہیں ۔ مدینہ اور دشمن کے درمیان ایک خندق کھود کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ سب نے اس رائے کو پسند کیا۔ رسول اللہ نے مستورات اور بچوں کوشہر کے محفوظ قلعوں میں بھیج دیا۔ اور بذات شریف تین ہزار کی جمعیت کے ساتھ شہر سے نکلے ۔ اور سامی طرف میں سلع کی پہاڑی کو پس پشت رکھ کر خندق کھودی۔ اس واسطے اس غزوہ کوغزوہ خندق بھی کہتے ہیں۔ خندق کھودنے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بغرض ترغیب شامل تھے۔ کفار نے ایک ماہ محاصرہ قائم رکھا۔وہ خندق کوعبور نہ کر سکتے تھے۔ اس لیے دور سے تیر اور پتھر برساتے تھے۔ ایک روز قریش کے کچھ سوار عمرو بن عبدو وغیرہ ایک جگہ سے جہاں سے اتفاقا عرض کم رہ گیا تھا۔ خندق کو عبور کر گئے ۔ عمرو مذکور نے مبارز طلب کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور تلوار سے اس کا فیصلہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر باقی ہمراہی بھاگ گئے ۔ آخرکار قریظہ وقریش میں پھوٹ پڑگئی۔ اور باوجود سردی کے موسم کے ایک رات باد صرصر کا ایسا طوفان آیا کہ خیموں کی طنابیں اکھڑ گئیں اور گھوڑے چھوٹ گئے ۔ کھانے کے دیگچے چولوں پر الٹ الٹ جاتے تھے۔ امتداد محاصرہ کے سبب سے سامان رسد بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس لیے قریش و دیگر قبائل محاصرہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے اور بنوقریظہ اپنے قلعوں میں چلے آئے ۔ اس غزوہ میں شدت قتال کے وقت عصر و مغرب اور بقول بعض ظہربھی قضا ہوئی تھی ۔ شہداء کی تعداد چھے تھی ۔ جن میں اوسں کے سردار حضرت سعد بن معاذ بھی تھے۔ ان کی رگ اکحل تیر لگنے سے کٹ گئی۔
مسجد میں رفیده انصاریہ کا خیمہ تھا جو زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں حضور علیہ السلام نے حضرت سعد کو علاج کے لیے اسی خیمہ میں بھیج دیا مگر وہ اس زخم سے جانبرنہ ہوئے۔ اور ایک ماہ کے بعد انتقال فرما گئے ۔
اس غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد معجزے ظہور میں آئے۔
غزوہ بنی قریظہ :
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس تشریف لائے تو نماز ظہر کے بعد
بنو قریظہ سے جنگ کا حکم آیا۔ بنوقریظ نقض عہد کر کے احزاب کے ساتھ مل گئے تھے۔ اس لیے حضور انور تین ہزار کی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اور پچیس دن ان کومحاصرہ میں رکھا۔ آخر کار انہوں نے حضرت سعد بن معاذ کوحکم منظور کرلیا۔ حضرت سعد نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردقتل کیے جائیں۔ عورتیں اور بچے گرفتار کر لیے جائیں اور ان کا مال و اسباب غنیمت سمجھا جائے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قضيت بحکم الله ”تونے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (استثناءباب۲۰آیت۱۰)
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ مردوں کی تعداد چھ یا سات سو تھی۔ اسی سال رسول اللہ کا نکاح حضرت زینب سے ہوا۔ جن کا قصہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔
ہجرت کا چھٹا سال
بیعت رضوان اور صلح حدیبیہ:
ماہ جمادی الاولی میں غزوہ بنی لحیان پیش آیا مگرمقابلہ نہ ہوا۔ ماہ ذیقعدہ میں رسول اللہ ایک ہزار چار سو صحابہ کرام کے ساتھ مدینہ منورہ سے عمرہ کے ارادہ سے نکلے حضرت ام سلمہ ساتھ تھیں۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے جو اہل مدینہ میقات ہے آپ نے عمرہ کا احرام باندھا اور قربانیوں کو تقلید و اشعار کیا۔ یہاں سے آپ نے حضرت بسر بن سفیان کو قریش کی طرف بطور جاسوس بھیجا۔ جب آپ عسفان کے قریب غدیر اشطاط میں پہنچے تو آپ کا جاسوس خبر لایا کہ قریش خلفاء سمیت مکہ سے باہر مقام بلدح میں جمع ہیں۔ اور آمادہ ہیں کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں۔ یہ سن کر آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ خلفاء کے اہل وعیال کوگرفتارکیا جائے تا کہ اگر وہ ان کی مدد کو آئیں تو ہمیں تنہا قریش سے لڑنا پڑے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ! آپ بیت اللہ کے قصد سے نکلے ہیں۔ آپ کا ارادہ کسی سے لڑائی کا نہیں آپ بیت اللہ کا رخ کریں۔ جو ہمیں اس سے روکے گا ہم اس سے لڑیں گے۔ آپ نے اس رائے کو پسند فرمایا اور آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ جب آپ حدیبیہ کے قریب ثنیتہ المرہ میں پہنچے جہاں سے اتر کر قریش کے پاس پہنچ جاتے ۔ تو آپ کی ناقہ قصواء بیٹھ گئی ۔ ہر چند اٹھانے کی کوشش کی گئی مگر نہ اٹھی ۔ آپ نے فرما یا قصواء نہیں رکی اور نہ ہی رکنا اس کی عادت ہے۔ بلکہ خدائے حابس الفیل نے اسے روک لیا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ قریش مجھ سے کسی ایسی حاجت کا سوال نہ کریں گے جس سے وہ حرمات اللہ کی تعظیم کریں۔ مگر میں وہ عطاء نہیں کروں گا۔ اس کے بعد آپ نے قصواء کو جھڑک دیا اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اور آپ مڑ کر حدیبیہ کی پرلی طرف ایک کنویں پراترے جس میں پانی کم تھی۔ موسم گرما تھا ۔پانی جلدی ختم ہو گیا ۔ اور آپ کی خدمت اقدس میں پیاس کی شکایت آئی۔آپ نے پانی کی ایک کلی کنویں میں ڈال دی جس سے پانی بکثرت ہو گیا۔ اور چھاگل میں اپنادست مبارک رکھ دیا تو آپ کی انگلیوں سے چشموں کی طرح پانی نکلے گا۔ ان دونوں معجزوں کا ذکر اس کتاب میں آگے آئے گا۔
اسی اثناء میں بدیل بن ورقاء خزائی اپنی قوم کے چند اشخاص کے ساتھ خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ کہنے لگا: کہ قبائل کعب بن لوی اور عامر بن لوی حدیبیہ کے آب کثیر پر اترے ہوئے ہیں۔ اور ان کے ساتھ دو رحیل اونٹیاں اور عورتیں بچوں سمیت ہیں۔ رسول اللہ نے جواب دیا۔ ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے بلکہ صرف عمرہ کے ارادہ سے آئے ہیں لڑائی نے قریش کوکمزورکر دیا ہے اور نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو ہم ایک مدت کے لیے ان سے جنگ کا التواء کر دیتے ہیں۔ باقی لوگوں سے ہم خود سمجھ لیں گے۔ اگر میں غالب آجاؤں اور بصورت غلبہ وہ میری اطاعت میں آنا چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر انہوں نے انکار کر دیا ۔ تو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان سے ضرور لڑتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ میں اکیلا رہ جائیں ۔ الله تعالی اپنے دین کی ضرور مدد کرے گا۔ بدیل نے عرض کیا کہ میں آپ کا یہ ارشاد ان تک پہنچا دوں گا۔ چنانچہ وہ قریش میں آ کر کہنے لگا۔ کہ میں اس مرد (رسول اللہ ) کا قول سن کر آیا ہوں اگر چاہو تو گزارش کر دوں۔ ان میں سے ایک نادان بولا کہ ہم اس کی کسی بات کے سننے کے لیے تیار ہیں ۔ ایک صائب الرائے نے کہا کہ بیان کیجئے۔ جو اس سے سن آئے ہو۔ اس پر بدیل نے بیان کر دیا۔ عروہ بن مسعود نے اٹھ کر کہا کہ اس نے ایک نیک امر پیش کیا ہے۔ وہ قبول کر لو اور مجھے اس کے پاس جانے دو۔
چنانچہ عروہ خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ اور بدیل کی طرح کلام کیا ۔ اور وہی جواب پایا۔ عروہ نےنیہ الفاظ ( میں ان سے ضرور لڑتا رہوں گا ) سن کر عرض کیا: اے محمد بتایئے اگر آپ نے اپنی قوم کو بالکل ہلاک کر دیا۔ کیا آپ نے عرب میں کسی کی بابت سنا ہے کہ اس نے آپ سے پہلے اپنے اہل کو ہلاک کر دیا ہو۔ اور اگر قریش غالب آگئے ۔ تو آپ ان سے امن میں نہ رہیں گے۔ کیوں کہ
اللہ کی قسم میں سردار ( مکہ) ہوں اور اخلاط کو دیکھتا ہوں۔ جو اس لائق ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں‘‘ حضرت ابوبکر صدیق نے یہ سن کر کہا:" امصص بظر اللات.)
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹
آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی
سابقہ تمام اقساط اس لنک سے پڑھیں🥰
https://www.facebook.com/108244310789857/posts/143000247314263/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں