I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

جمعرات، 20 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 39

 
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

#قسط39


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی


جب مشرکین میدان کارزار سے چلے گئے تو مدینہ کی عورتیں صحابہ  کی مدد کونکلیں۔ ان میں حضرت فاطمتہ الزہرا بھی تھیں۔ جب حضرت فاطمہ نے حضور اقدس ﷺ کو دیکھا تو خوشی کے مارے حضور کے گلے لپٹ گئیں ۔ اور آپ کے زخموں کو دھونے لگیں ۔ حضرت علی المرتضی ڈھال سے پانی گرارہے تھے۔ جب فاطمہ نے دیکھا کہ پانی سے خون زیادہ نکل رہا ہے۔ تو چٹائی کا ایک ٹکڑا جلا کر لگا دیا۔ جس سے خون بند ہو گیا۔ پھر حضور نے فرمایا: اشتد غضب الله على قوم دمی وجه رسوله پر تھوڑی دیر بعد فرمایا: اللهم اغفر لقومي فانهم لا يعلمون اس کے بعد

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے محمد بن مسلمہ کو حضرت سعد بن ربیع کا حال معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے حضرت سعد کو مقتولین میں زخمی پایا۔ (ان پر تیرتلوار اور نیزے کے ستر زخم تھے)

ان میں فقط رمق حیات باقی تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا: کہ مجھے رسول اللہ  نے حکم دیا ہے کہ میں دیکھوں کہ تم زندوں میں ہو یا مردوں میں ۔ حضرت سعد نے دھیمی آواز سے جواب دیا: میں مردوں میں ہوں ۔ رسول اللہ کی خدمت میں میرا سلام پہنچانا اور عرض کرنا کہ سعد بن ربیع آپ سے گزارش کرتا ہے۔ کہ الله تعالی آپ کو ہماری طرف سے اچھی سے اچھی جزادے جواس نے کسی نبی  کوان کی امت کی طرف سے دی ہے اور اپنی قوم کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ اگر  کوئی (دشمن) تمہارے پیغمبر تک ( باراددۂ قتل) پہنچ جائے۔ اور تم میں سے ایک بھی زندہ ہوتو خدا کی بارگاہ میں تمہارا کوئی عذر نہ ہوگا۔ حضرت سعد یہ کہ کر واصل حق ہو گئے ۔ حضرت محمد بن مسلمہ نےحضور کی خدمت میں صورت حال عرض کر دی۔ حضور نے یہ سن کر فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے اس نے حیات و موت میں خدا اور رسول کی خیر خواہی کی‘‘ (استیعاب و مواہب)

اس غزوہ میں مسلمانوں میں سے ستر یا کچھ کم و بیش شہید ہوئے۔ ابن نجار نے ان سب کے  نام دیے  ہیں۔ جن میں چار مہا جر ین میں سے اور باقی چھیاسٹھ انصار میں سے ہیں۔ اختتام جنگ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  شہدائے کرام کی لاشوں پر تشریف لے گئے۔ حضرت امیر حمزه رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی لاش مبارک دیکھ کر فرمایا کہ ایسا دردناک منظر میری نظر سے کبھی نہیں گزرا۔ حضرت حمزہ ساتوں آسمانوں میں شیر خدا اور شیر رسول لکھے گئے ۔ پھر تمام لاشوں پر نظر ڈالتے ہوئے فرمایا۔ 

انا شهید علی ھؤلاء يوم القيمة: میں قیامت کے دن ان کا شفیع ہوں ۔

بعدازاں حکم دیا کہ ان کو دفن کر دیا جائے ۔ کپڑے کی قلت کا یہ عالم تھا۔ کے عموما دو دو تین تین ملا کر ایک ہی کپڑے میں ایک ہی قبر میں دفن کر دیئے گئے۔ جس کوقرآن زیادہ یاد ہوتا اس کو مقدم کیا جاتا ۔ اور ان شہداء پر اس وقت نماز جنازہ نہ پڑھی گئی۔ بلکہ بے غسل اسی طرح خون میں لتھڑے ہوئے دفن کر دیئے گئے ۔ 

سید الشہداء امیر حمزہ کو ایک چادر میں دفن کیا گیا مگر چادر کوتاہ تھی۔ اگر منہ ڈھانپتے  تو قدم ننگے رہتے۔ قدموں کو چھپاتے تو منہ نگا رہتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ منہ کو ڈھانپ دو اور قدموں پر حرمل ڈال  دو چنا نچہ ایسا ہی کیا گیا۔ ( طبقات ابنِ سعد)

حضرت مصعب بن عمیر جب شہید ہوئے تو ان کے پاس صرف ایک کملی تھی۔ اس سے سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے رہتے اور پاؤں چهپاتے تو سرنگا رہتا۔ آپ کے  ارشاد سے سرکملی سے ڈھانپ دیا گیا اور پاؤں اذخر گھاس  سے چھپادیئے گئے ۔

حضرت وہب بن قابوس مزنی اور ان کا بھتیجا حارث بن عتبہ بن قابوس بکریاں چراتے مدینہ میں آئے۔ جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ  غزوہ احد پرتشریف لے گئے ہیں تو اسلام لا کر حاضر خدمت اقدس ہوئے۔ خالد وعکرمہ کے حملہ کے وقت حضرت وہب بڑی بہادری سے لڑے۔ مشرکین کا ایک دستہ آگے بڑھا۔ تو آپ نے تیروں سے ہٹا دیا دوسرا آیا تو اسے تلوار سے بھگا دیا۔

تیسرا آیا تو تلوار سے لڑتے لڑتے  شہید ہو گئے ۔ ان کا بھتیجا بھی اسی طرح لڑ کر شہید ہوا مشرکین نے حضرت وہب کو بری طرح سے مثلہ کر دیا تھا رسول اللہ  اگر چہ زخموں سے نڈھال تھے مگر دونوں لاشوں پر کھڑے رہے اور حضرت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

رضي الله عنك فانی عنك راض. ” اللہ تجھ سے راضی ہو۔ میں تو تجھ سے راضی ہوں۔‘‘ حضرت وہب کولحد میں رکھا گیا تو حضور اقدس ﷺ نے ان کا سران ہی کی چادر سے چھپا  دیا۔ مگر وہ چادر  ان کی نصف ساق تک ہی پہنچی ۔ اس لیے حضور کے ارشاد سے پاؤں  پر حرمل  ڈال دی گئی ۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت سعد بن ابی وقاص تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہم خدا تعالی سے

مزنی کے حال میں ملیں ۔

حضرت عبد الله بن عمرو بن حزام کا جنازہ اٹھایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رونے والی عورت کی آواز سنی اور دریافت فرمایا کہ کون ہے؟ عرض کیا گیا کہ مقتولین کی بہن یا پھوپھی ہے۔

فرمایا کہ یہ کیوں روتی ہے؟ یافرمایا کہ نہ روئے ۔ کیوں کہ جنازہ اٹھنے تک  فرشتے اسے اپنے بازؤں سے سایہ کرتے رہتے ہیں ۔ ترمذی (ابواب تفسیر القرآن) میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مجھ سے ملے ۔ فرمایا کہ توں غمگین کیوں ہے؟ میں نے عرض کیا یارسول

اللہ! میرا باپ احد کے دن شہید ہوگیا اور قرض وعیال چھوڑ گیا۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے بشارت نہ دوں کہ خدا تیرے باپ سے کس طرح ملا ہے؟ الله تعالی نے کبھی شہدائے احد میں سے کسی سے بے پردہ کلام نہیں کیا۔ مگر تیرے باپ سے رو برو کلام کیا ۔ اور کہا مجھ سے مانگ کہ میں  تجھے عطا کرو۔

تیرے باپ نے کہا: اے پروردگار تو مجھے حیات دنیوی عطا کرتا کہ میں دوبارہ تیری راہ میں شہید ہو جاؤں۔ رب عزوجل نے کہا کہ میری طرف سے وعدہ ہو چکا ہے کہ وہ (مر کر) دنیا کی طرف نہ  لوٹیں گے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی:ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا 

حضرت عبد الله بن عمرو بن حزام بھی ایک کملی میں دفن ہوئے تھے پاؤں حرمل سے چھپادیئے گئے تھے۔

حضرت عبدالله بن جبیر تیر اندازوں کے امیر تھے۔ جب ان کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے تو مشرکین نے ان پر حملہ کیا۔ وہ سب شہید ہو گئے۔ مگر اپنی جگہ کونہ چھوڑا۔ حضرت عبدالله پہلے دشمنوں پر تیر پھینکتے رہے۔ جب تیر  ختم ہو گئے ۔ تو نیزہ سے کام لینے گئے۔ جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا۔ تو تلوار سے لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ کفار نے آپ کو بری طرح سے مثلہ کر دیا تھا۔

آپ کے بھائی حضرت خوات بن جبیر نے کمانوں سے گڑھا کھود کر آپ کو دفن کر دیا۔ 

حضرت عمرو بن جموح لنگڑے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آپ معذور ہیں ۔ آپ پر جہاد فرض نہیں مگروہ مسلح ہو کر نکلے۔ اور کہنے لگے کہ مجھے امید ہے کہ میں اسی طرح بہشت میں ٹہلا کروں  گا۔

پر قبلہ رو ہوکر یوں دعا کی: خدایا مجھے شہادت نصیب کر اور اپنے اہل کی  طرف محروم واپس نہ لا۔ چنانچہ احد میں شہید ہو گئے ۔

اثنائے جنگ میں ایک مسلمان کھڑا ہوا کھجوریں کھا رہا تھا۔ اس نے رسول اللہ  سے

پوچھا کہ اگر میں مارا گیا تو کہاں ہوں گا؟ آپ نے فرمایا: ”بہشت میں یہ سن  کر اس نے کھجوریں ہاتھ سے پھینک دیں اور لڑتا ہوا شہید ہو گیا ۔ 

شہدائے کرام کی تدفین کے بعد رسول الله مدینہ کو واپس آئے۔ راستے میں جوعورتیں

اپنے اہل و اقارب کا حال دریافت کرتی تھیں ۔ حضور بتاتے جاتے تھے۔ آپ تو بنو دینار کی ایک عورت کے برابر سے گزرے۔ جس کا شوہر اور بھائی اور باپ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ لوگوں نے اسے تنیوں کی شہادت کی خبر دی تو اس نے کچھ پرواہ نہ  کی اور پوچھا کہ رسول الله  کیسے ہیں؟

انہوں نے جواب دیا کہ بخیر ہیں۔ کہنے لگی کہ مجھے دکھا دو تا کہ میں آنکھوں سے دیکھ لوں ۔ چنانچہ اس وقت حضور اقدس ﷺ کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ اس نے جب حضور انور بابی ہوامی کو دیکھا تو پکار اٹھی:

کل مصيبۃ بعدك جلل۔ آپ کے ہوتے ہوئے ہر ایک مصیبت ہیچ ہے۔“

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم   انصار کے محلہ بنی عبدالاشہل میں پہنچے تو ان کی عورتوں کو دیکھا۔ کہ اپنے مقتولین پررو  رہی  ہیں۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور زبان مبارک سے نکلا:

حمزة فلا بواكی لہ "لیکن حمزہ کیلئے کوئی رونے والیاں نہیں “

یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ ان عورتوں کے پاس گئے اور کہا کہ رسول اللہ  کے در دولت پر جا کر ماتم کرو۔ چنانچہ انہوں نے بیان کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ ہم بھی شامل گریہ ہو گئیں حضور علیہ السلام سو گئے اور ہم رورہی تھی آپ نے جاگ کر نماز عشا پڑھی اور سو گئے۔ پھر جوآنکھ

کھلی اور رونے کی آواز سنی تو فرمایا کہ تم اب تک رورہی ہو۔ یہ فرما کر آپ نے رونے والیوں کو رخصت کیا۔ اور ان کے لیے اور ان کے ازواج و اولاد کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ جب صبح ہوئی تو

آپ نے نوحہ سے منع فرما دیا۔ 

اس واقعہ سے آٹھ برس کے بعد ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس طرف کو نکلے اور شہدائے احد پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے منبر پر رونق افروز ہو کر یہ خطبہ دیا۔

انی فرط لکم وانی واللہ لانظر الی حوضی لان وانی اعطیت مفتاح

خزائن الأرض أو مفاتح الأرض و اني والله ما أخاف علیکم ان تشرکو ولكن أخاف عليکم أن تنافسو فیھا۔

بے شک میں تمہارے واسطے فرط ( پیش رو ) ہوں اللہ کی قسم میں اس وقت اپنے

حوض کو دیکھ رہا ہوں۔ بے شک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں یا زمین کی کنجیاں عطا

کی گئی ہیں خدا کی قسم مجھے یہ ڈر  نہیں کہ تم میرے بعد مشرک بن جاؤ گے لیکن  یہ ڈر  ہے کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔


غزوہِ احد و ہجرت کا تیسرا سال ختم شد


اگلی قسط ہجرت کے چوتھے سال سے شروع کریں گے

#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹



آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو