I share Islamic and Historical books on this Blog Thanks for Supporting

صفحات

تازہ ترین

جمعرات، 20 اگست، 2020

سیرت رسولِ عربی ﷺ قسط 38

 
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ

الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ


سیرت رسول عربیﷺ

قسط 38


#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب


ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی


پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی



آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی افواہ اور مسلمانوں کی نظروں سے غائب ہونے کے بعد سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک انصاری نے حضور کو پہچانا سر مبارک پر مغفرتھا جس کے نیچے سے آپ کی

آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ حضرت کعب نے زور سے پکار کر کہا: ”مسلمانو! تم کو بشارت ہو۔ رسول الله یہ ہیں۔ یہ سن کر ایک جماعت حاضر خدمت ہوئی ۔ اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق، عمر فاروق، علی المرتضی طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن العوام اور حارث بن صمہ وغیرہ کے ساتھ شعب کی

طرف متوجہ ہوئے ۔ تا کہ اپنے باقی اصحاب کا حال دیکھیں۔ اب کفار نے بھی سب طرف سے ہٹ کر اس رخ پر زور دیا۔ وہ بار بار ہجوم کر کے حملہ آور ہوتے تھے۔ ایک دفعہ ہجوم ہوا تو حضور نے فرمایا: کون مجھ پر جان دیتا ہے؟‘حضرت زیاد بن سکن پانچ یا سات انصاری ساتھ لے کر حاضر ہوئے جنہوں نے یکے بعد دیگرے جانبازی سے لڑ کر جانیں فدا کر دیں۔ عقبہ بن ابی وقاص نے پتھر مار کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا دانت مبارک (رباعیہ یمنی سلفی) شہید کر دیا ۔ (ابن جوزی نے اور خطیب نے تاریخ میں محمد بن یوسف حفظ فریابی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جس نے رسول الله کا رباعی توڑا تھا اس کے گھر میں جو بچہ پیدا ہوتا اس کا رباعہ نہ ا گتا تھا: زرقانی علی المواہب جز اول صفحہ ۳۸)اور نیچے کا ہونٹ مبارک زخمی کردیا۔ ابن قیم لعین نے چہرہ مبارک ایسا زخمی کیا کہ خود کے دو حلقے رخسار مبارک میں گھس گئے۔ اور آپ ان گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں گر پڑے ۔ جو ابو عامر فاسق نے بدیں غرض کھودے تھے ۔ کہ مسلمان بے علمی میں ان میں گر پڑیں ۔ اس حالت میں حضور فرما رہے تھے۔

کیف یفلح قوم شجو نبیھم ( کیا وہ قوم فلاح پا سکتی ہے جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا ہو۔

اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبھم فانھم ظلمون (آل عمران:۱۲۸)

تیرا اختیار کچھ  نہیں یا ان کوتوبہ  دے یا ان کو عذاب کرے کہ وہ نا حق پر ہیں ۔‘‘

حضرت علی مرتضی نے حضور کا ہاتھ مبارک پکڑا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے آپ کو اٹھایا۔ یہاں تک کہ آپ سیدھے کھڑے ہو گئے ۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے اپنے دانتوں سے خود کا ایک حلقہ نکالا تو ان کا ایک سامنے کا دانت گر پڑا۔ دوسرا حلقہ نکالا تو دوسرا نکل گیا۔ حضرت ابوسعید خدری کے والد مالک بن سنان نے حضور کا خون چوس کر پی لیا ۔ حضور خود بھی کپڑے سے اپنے چہرے کا خون پونچھ رہے تھے۔ کہ مبادا زمین پر گر پڑے تو عذاب نازل ہو۔ اور یوں فرمارہے تھے:

اللهم اغفرلى لقوقی فانهم لا يعلمون۔

اے اللہ میری قوم کوبخش دے۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔“

اس موقع پر بعض اصحاب نے جانبازی کی خوب داد دی۔ چنانی حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے جوعشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ اس کثرت سے رسول اللہ پر  سے تیر روکے کہ ہاتھ بیکار ہو گیا۔ حضرت ابودجانہ حضور کے آگے ڈھال بنے کھڑے تھے۔ ان کی پشت پر تیر لگ رہے تھے۔ مگر

اپنے آقا رسول اللہ  پر جھکے ہوئے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص بھی حضور انور کی مدافعت میں تیر چلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے آپ پر میرے ماں باپ قربان حضور خود ان کو اپنے ترکش میں سے تیردیتے تھے اور فرماتے تھے پھینکتے جاؤ‘ - حضرت ابوطلحہ انصاری بڑے تیرانداز تھے۔انہوں نے اس قدر تیر برسائے ۔ کہ دو تین کمانیں ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے ہاتھ میں رہ گئیں۔ وہ حضور انور پر چمڑے کی ڈھال کی اوٹ بنائے کھڑے تھے۔ حضور کبھی گردن اٹھا کر دشمنوں کی طرف دیکھتے تو ابوطلحہ  عرض کرتے : آپ پر میرے ماں باپ قربان! گردن اٹھا کر نہ دیکھیئے ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی تیر لگ جائے یہ میرا سینہ آپ کے سینہ کےلیے ڈھال ہے۔حضرت شماس بن عامر قرشی مخزوی تلوار کے ساتھ رسول اللہ  سے مدافعت کر رہے تھے۔ دائیں بائیں جس طرف سے وار ہوتا تھا ۔ وہ ڈھال کی طرح آپ کو بچارہے تھے۔ یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ ابھی رمق حیات باقی تھا کہ ان کو اٹھا کر مدینہ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے گئے۔ وہاں ایک دن رات زندہ رہ  کر وفات پائی۔ رسول الله  نے فرمایا: کہ اس دن ڈھال کے سوا مجھے کوئی ایسی چیز نہ سوجھی کہ جس سے شماس کو تشبیہ دوں ۔ اسی طرح سیل بن حنیف انصاری اوسی تیروں کے ساتھ مدافعت کر رہے تھے۔ اور حضور فرمارہے تھے:سہل کو تیر دو“۔ حضرت قتادہ بن نعمان انصاری حضور اقدس

 کے چہرے مبارک کو بچانے کے لیے اپنا چہرہ سامنے کیے ہوئے تھے۔ آخر کار ایک تیر ان کی آنکھ میں ایسا لگا کہ ڈھیلا رخسار پر آ گرا۔ حضور نے اپنے دست مبارک سے اس کی جگہ پر رکھ دیا اور یوں دعا فرمائی: "خدایا تو قتادہ کو بچا۔ جیسا کہ اس نے تیرے نبی کے چہرے کو بچایا ہے۔ پس وہ  آنکھ دوسری آنکھ سے بھی تیز اور خوبصورت ہوگی۔

اثنائے جنگ میں مشرکین کی عورتیں شہدائے عظام کو مثلہ کرنے میں مشغول تھیں ۔ عتبہ کی بیٹی ہند نے اپنے پاؤں کے کڑے، بالیاں اور ہار حضرت امیر حمزہ کے قاتل وحشی کو دے دیئے۔ اور خود شہداء کے کانوں اور ناکوں سے اپنے واسطے کڑے بالیاں اور ہار بنائے اور حضرت حمزہ کے جگر کو پھاڑ کر چبایا نگل نہ سکی تو پھینک دیا۔ ( سیرت ابنِ ہشام)

حضرت مصعب بن عمیر علمبردار شکر اسلام نے بھی آقائے نامدار  پر جان فدا کر دی۔

جب ابن قمیہ لعین  حضور  کے قتل کے  ارادے سے حملہ آور ہوا تو حضرت مصعب نے مدافعت کی مگر شہید ہو گئے ۔ حضرت محمد بن شرجیل عبدری روایت کرتے ہیں ۔ کہ حضرت مصعب کا داہنا ہاتھ کٹ

گیا۔ تو انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا۔ اور وہ کہہ رہے تھے: وما محمد الا رسول

(الايہ) پھر بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا تو جھک کر جھنڈے کو دونوں بازوؤں کے ساتھ سینے سے لگا لیا۔ اور آیت مذکورہ زبان پر جاری تھی۔ راوی کا قول ہے کہ یہ آیت بعد میں نازل ہوئی مگر اس دن اللہ تعالیٰ نے بجواب قول قائل قتل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زبان پر جاری کر دی تھی۔ حضرت مصعب کے بعد

اسلامئ جھنڈا حضرت علی مرتضیٰ کو دیا گیا۔

جب رسول الله  شعب پر تھے۔ تو ابی بن خلف سامنے آ کر کہنے لگا

: اے محمد! اگرتم بچ  گئے ۔ تو میں نے نہ  بچوں گا“ صحابہ کرام نے عرض کیا۔ اگر اجازت ہو تو ہم میں سے ایک اس کا فیصلہ کر

دے ۔ حضور نے اجازت نہ دی۔ اور بذات شریف حضرت حارث بن صمہ سے نیزہ لے کر اس کی گردن پر مارا۔ جس سے فقط خراش آئی ۔ اور لہو نہ نکلا۔ ابی مذکور مکہ میں حضور سے کہا کرتا تھا۔ کہ میرے پاک ایک گھوڑا ہے۔ جسے میں ہر روز آٹھ یا دس سیر پختہ ذرہ (جوار ) کھلاتا ہوں ۔ اس پر سوار ہو کر آپ کو قتل کروں گا۔ آپ فرماتے: بلکہ میں ان شاء اللہ تجھ  کوقتل کروں گا۔ جب وہ قریش میں واپس گیا تو کہنے لگا۔ اللہ کی قسم محمد نے  مجھے قتل کر دیا۔ وہ کہنے لگے توں بے دل ہو گیا ہے۔ اس خراش کا کچھ ڈر نہیں۔ اس نے کہا کہ  مکہ میں مجھ سے محمد نے کہا تھا کہ میں تجھے قتل کروں گا ۔ سو اللہ کی قسم اگر وه

مجھ پرصرف تھوک دے تو میں مر جاؤں گا۔ چنانچہ قریش اس دشمن خدا کو مکہ کی طرف لے جارہے تھے کہ راستے میں مقام سرف میں مر گیا۔ 

جب رسول الله شعب کے دہانے پر پہنچے تو حضرت علی مرتضی مہراس (کنڈ) سے

اپنی ڈھال پانی سے بھر لائے۔ تا کہ حضور پئیں مگر آپ نے اس میں بو پائی اور نہ پیا۔ حضرت علی نے ان سے حضور کے چہرے سے خون دھویا۔ اور سر مبارک پرگرایا۔ اس وقت حضور نے فرمایا:

اشتد غضب الله على من دمی وجه نبيه ( اللہ کا غضب ہو اس پر جس نے اس کے نبی کا چہرہ خون آلودہ کردیا: سیرت ابنِ ہشام)

مشرکین اب تک تعاقب میں تھے۔ چنانچہ جب آپ اصحاب مذکورہ بالا کے ساتھ شعب میں تھے تو ان کے سواروں کا ایک دستہ بر سر کردگی خالد بن ولید پہاڑ پر چڑھا۔ آپ نے دعا فرمائی۔ کہ خدایا! ہم پر غالب نہ  آئیں۔ پس حضرت عمرفاروق اور مہاجرین کی ایک جماعت نے قتال کیا۔ یہاں

تک کہ ان کو پہاڑ سے اتار دیا۔ یہاں رسول اللہ  ایک چٹان پر چڑھنے لگے تو ناتوانی اور دہری زرہ  کے سبب سے نہ چڑھ سکے۔ یہ دیکھ کر حضرت طلحہ نے وہ کام کیا جس سے وہ جنت کے مستحق ہو گئے۔ اس روز زخموں کی وجہ سے حضور نے نماز ظہر بیٹھ کر ادا کی اور مقتدیوں نے بھی بیٹھ کر پڑھی۔

جب ابوسفیان نے میدان سے واپس ہونے کا ارادہ کیا۔ تو سامنے کی ایک پہاڑی پر چڑھ کر

پکارا کیا تم  میں محمد ہیں؟ حضور نے فرمایا: کہ اس کا جواب نہ دو۔ وہ پھر پکارا کیاتم میں ابن ابی قحافہ ہیں ( سیدنا صدیق اکبر) آپ نے فرمایا اس کا جواب نہ دو ۔ اس نے پھر پکار کر کہا تم میں ابنِ خطاب (عمر فاروق)ہیں؟ 

جب جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہ یہ سب مارے گئے ہیں۔ کیوں کہ اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔حضرت عمر سے رہا نہ گیا۔ بول اٹھے :" او دشمن خدا تو نے جھوٹ کہا۔ وہ سب زندہ ہیں۔ اللہ نے تیرے واسطے وہ باقی رکھا ہے جو تجھے غمگین کرے گا ( فتح کے دن) ابو سفیان بولا۔

اعلی ھبل( اے ہبل توں اونچا ره“


صحابہ کرام نے حسب ارشا حضور جواب دیا:

الله اعلى و أجل( اللہ اونچا اور بڑا ہے)

ابوسفیان نے کہا:

لینا العزی ولا عزی لکم (ہمارے پاس عزی ہے اور تمہارے پاس عزی نہیں ۔)

صحابہ کرام نے حسب ارشاد نبوی جواب دیا:

الله مولانا ولا مولى لكم. اللہ ہمارا ناصر ومددگار ہے اور تمہارا کوئی ناصر نہیں۔

ابوسفیان نے کہا۔ آج کا دن بدر کے دن کا جواب ہے۔ لڑائی میں بھی جیت کبھی ہار ہوتی ہے۔ تم اپنی قوم میں ناک کان کٹے پاؤگے۔ میں نے اپنی فوج کو حکم نہیں دیا مگر اس پر کچھ رنج بھی نہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان یہ کہ کر واپس ہوا کہ ہمارا اور تمہارا مقابلہ آئندہ سال مقام بدر میں ہوگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرما دیا کہ کہہ دیجئے ہاں بدر ہمارا اور تمہارا موعد ہے۔ اس طرح جب مشرکین مکہ کولوٹے تو صحابہ کرام کو خدشہ ہوا کہ مبادا وہ مدینہ  کا قصد کریں۔ اس لیے حضور انور نے علی مرتضی کو دریافت حال کے لیے بھیجا۔ اور فرمادیا کہ اگر وہ اونٹوں پر سوار ہوں اور گھوڑوں کو پہلو میں خالی لیے جارہے ہوں تو سمجھنا  کہ وہ مکہ کو  جاتے ہیں۔ اگر اس کا عکس کریں تو مدینہ کا  قصد رکھتے ہیں۔

حضرت علی مرتضیٰ خبر لائے کہ وہ اونٹوں پرسوار گھوڑوں کو خالی لے جارہے ہیں اور مکہ  کی طرف متوجہ ہیں۔


سَنُلۡقِىۡ فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ 

ترجمہ:

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے۔

مشرکین کے اسی فرار کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ پہلے آچکا ہے۔“

خواتین اسلام نے بھی اس غزوہ میں حصہ لیا۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ اور ام سلیم ( والدہ انس پائنچے چڑھائے ہوئے جس سے ان کے پاؤں کی جھانجھیریں نظر آتی تھیں۔ مشکیں بھربھر کر  لاتی تھیں اور مسلمانوں کو پانی پلاتی تھیں۔ جب مشکیں خالی ہو جائیں تو پھر بھر لاتیں اور پلاتیں۔حضرت ام سليط (والدہ حضرت ابوسعید خدری) بھی یہی  خدمت بجا لا رہی تھیں ۔ حضرت ام ایمن

رسول اللہ  کی دایہ) اور حمنہ بنت جحش (ام المومنین زینب کی بہن) پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ حضرت ام عماره ، نسیبہ بنت کعب انصار( زوجہ زید بن عاصم انصاری مازنی) اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کے ہاتھ مشک لے کر نکلیں ۔ جب رسول اللہ کے ساتھ صرف چند جانباز رہ گئے۔ تو یہ حضور کے پاس پہنچیں۔ اور تیر و تلوار سے کافروں کو روکتی رہیں ۔ جب ابن قمیہ لعین حضور کی طرف بڑھا۔ تو حضرت مصعب بن عمیر اور چند مسلمان مقابل ہوئے ان میں ام عمارہ بھی تھیں ۔ ابن قمیہ نے ان کے کندھے پر ایسی ضرب لگائی کہ غار پڑ گیا۔ ام عمارہ نے بھی کی وار کیے مگر وہ دشمن خدا دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا۔ اس لیے کارگر نہ ہوئے۔ حضرت صفیہ (حضرت امیر حمزہ کی بہن) مسلمانوں کی شکست پر احد میں نیزہ ہاتھ میں لے آئیں ۔ اور بھاگنے والوں کے منہ پر مار کر کہتی تھیں۔ کہ تم رسول اللہ   کو چھوڑ کر بھاگتے ہو پھر بھائی کی لاش دیکھ کر بڑے استقلال سے انا لله وانا الیہ راجعون پڑھا۔ اور دعائے مغفرت کی ۔

#جاری_ہے


صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹

درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

آپ کی نیک دعاؤں کا طلبگار فقیر #محمدحامدرضوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

مینیو