الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ ﷺ
الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہ ﷺ
سیرت رسول عربیﷺ
#قسط31
#مصنف: علامہ پروفیسر نور بخش توکلی صاحب
ترتیب و تدوین: بندہ ناچیز: #محمدحامدرضوی
پیشکش: تحریری کتابیں/محمد حامد رضوی
جب ہر دو فریق صف آرائی کر چکے تو قریش نے عمیر بن وہب حمجی کو شکر اسلام کی تعداد معلوم کرنے بھیجا۔ وہ لشکر اسلام میں آیا اور دیکھ بھال کے بعد واپس جا کر کہنے کا مسلمان کم و بیش تین سو ہیں ۔ اور ان کے ساٹھ ستر اونٹ اور دو گھوڑے ہیں۔ اے گروہ قریش میں نے دیکھا کہ ان کے اونٹوں کے پالان موتیوں کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ یثرب کے آب کش اونٹ زہر قاتل سے لدے ہوئے ہیں ۔ ان کو اپنی تلواروں کے سوا اور کوئی پناہ نہیں وہ گو نگے ہیں۔ کلام نہیں کر سکتے اور سانپوں کی طرح زبانیں منہ سے نکالا تے ہیں ۔ اللہ کی قسم! میری رائے میں ان میں سے ایک شخص بھی قتل
نہیں ہوسکتا۔ تا وقتیکہ تم میں سے ایک کو قتل نہ کرلے۔ پس جب وہ تم میں سے اپنی تعداد کے برابر قتل کر دیں گے تو اس کے بعد تمہارا جینا کیسا ہوگا ۔ اس لیے تم آپس میں مشورہ کر لو۔ جب حکیم بن حزام نے یہ سنا تو عتبہ بن ربیعہ کے پاس گیا۔ اور اس سے کہا: اے ابوالولید ! تو قریش کا سردار ہے۔ کیا تو چاہتا ہے کہ آخر زمانے تک دنیا میں تیرا ذکر خیر رہے؟ وہ بولا۔ پھر میں کیا کروں؟ حکیم نے کہا لوگوں کو واپس لے جا اور اپنے حلیف عمرو بن حضرمی کا خون بہا ادا کردے عتبہ نے کہا: بے شک وہ میرا حلیف
تھا۔ اس کا خون بہا اور اس کا نقصان مال جو ہوا، وہ سب میرے ذمہ ہے۔ توں ابن الحنظلیہ (ابوجہل) کے پاس جا ۔ کیوں کہ وہی ہے جس کی طرف سے مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں میں لڑائی کرادے۔ پھر
عتبہ نے کھڑے ہو کر یوں تقریر کی :”اے گروہ قریش! محمد اور اس کے اصحاب کے ساتھ لڑنے سے کچھ فائدہ نہیں ۔ خدا کی قسم اگرتم نہ محمد کو قتل کرو گے تو تم میں سے ہر ایک کو ان میں اپنے چچیرے بھائی کے قاتل یا ماموں زاد بھائی کے قاتل یا اپنے خاندان کے کسی شخص کے قاتل کا منہ ہر وقت دیکھنا پڑے گا اس لیے لوٹ چلو ۔ اور محمد اور باقی عرب کو خود آپس میں سمجھ لینے دو، حکیم مذکور کا بیان ہے کہ میں ابو جہل کے پاس گیا
۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ابوجہل نے زرہ دان میں سے اپنی زرہ نکالی ہوئی ہے۔اسے زیتون کے تیل کی چیٹک مل رہا ہے۔ میں نے کہا اے ابو الحکم! عتبہ نے مجھے ایسا ایسا کہ کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ابوجہل نے کہا: ”خدا کی قسم ! محمد اور اس کے اصحاب کو دیکھ کر اس کا سینہ
پھول گیا ہے۔ (یعنی بزدل ہو گیا ہے) خدا کی قسم ہم ہرگز واپس نہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ کر دے۔ عتبہ بزدل تو نہیں ہے مگر اس نے دیکھا کہ محمد اور اس کے اصحاب چند اونٹوں کا گوشت کھانے والے ہیں ۔ اور ان میں ان کا بیٹا ابو خذیفہ ہے۔ اس کے بارے میں وہ تم سے ڈر گیا ہے۔ پھر ابوجہل نے عامر بن حضرمی کو کہلا بھیجا کہ تیرا حلیف عتبہ چاہتا
ہے کہ لوگوں کو ہٹا لے جائے ۔ اور توں قصاص چاہتا ہے۔ اس لیے اٹھ اور اپنے بھائی کا قصاص اور عہدو پیمان یاد دلا ۔ اس پر عامر مذکور اٹھا اور چلا یا واعمراہ واعمراہ یہ دیکھ کر لوگوں کی رائے بدل گئی۔ جب عتبہ کو معلوم ہوا کہ ابوجہل نے اس کی نسبت یہ الفاظ ( اللہ کی قسم اس کا سینہ پھول گیا ہے) کہے ہیں تو ہوا وہ حلقہ دبر زرد کیے ہوئے جلدی جان لے گا کہ کسی کا سینہ پھول گیا
ہے۔ میرا یا اس کا یہ کہ کر عتبہ نے اپنے سر کے لیے خود طلب کی ۔ مگر اس کی کھوپڑی اتنی بڑی تھی کہ تمام لشکر میں ایسی خود نہ ملی جو اس کے سر پر ٹھیک آ جائے۔ اس لیے اس نے چادر سے اپنا سر ڈھانپ لیا۔ اس طرح قریش آماده جنگ ہو گئے۔ عتبہ نے عمیر بن وہب سے کہا کہ جنگ کرو اس
لیے وہ سو سوار لے کر حملہ آور ہوا۔ مسلمان اپنی صف پر قائم رہے۔ حضور اقدس ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ میری اجازت کے بغیر لڑائی نہ کرنا۔ اس وقت حضور اقدس ﷺپر نیند طاری ہوگئی حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا: یا رسول اللہ قریش ہم پر آ پڑے ہیں۔ حضور بیدار ہو گئے ۔ الله تعالی نے آپ کو اس خواب میں قریش تھوڑے دکھائے ۔ (در منشور للسیوطی، بحوالہ بیہقی، جز ثالث صفحہ ۱۶۷) اگر بہت دکھاتا تو مسلمان تعداد کثیر کا نام سن کر ڈر جاتے ۔ اللہ تعالی کے اس انعام کو دیکھیے کہ میدان جنگ میں التحام حرب سے پہلے مسلمانوں کو کفار تھوڑے دکھائے تا کہ وہ جنگ پر اقدام کریں ۔ اور کفار کو مسلمان تھوڑے دکھائے جس سے انہوں نے لڑنے میں بہت کوشش نہ کی ۔
مسلمانوں میں سے جو سب سے پہلے لڑائی کے لیے نکلا۔ وہ حضرت عمر فاروق کا آزاد کرده
غلام مہجع نام تھا۔ جسے عامر بن خضرمی نے تیر سے شہید کیا۔ وہ مسلمانوں میں پہلا قتیل تھا پھر انصار میں سے حضرت حارث بن سراقہ شہید ہوئے۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ترغیب دی اور
فرمایا بہشت کی طرف اٹھو۔ ( صحیح مسلم، کتاب الجہاد، باب سقوط فرض الجہاد عن المذورین) اور جس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہے یہ سن کر حضرت عمیر بن حمام
انصاری بولے: یا رسول اللہ! بہشت جس کا عرض آسمان و زمین ہے؟ آپ فرمایا ”ہاں“۔
حضرت عمیر نے کہا واہ وا ۔ رسول اللہ نے پوچھا کہ توں نے واہ وا کیوں کیا؟ حضرت عمیر نے عرض کیا: یا رسول اللہ فقط اس توقع پر کہ میں اہل بہشت میں سے ہو جاؤں‘‘۔ آپ نے فرمایا: تب توں بے شک اہل بہشت میں سے ہے۔ اس پر حضرت عمیر نے اپنی ترکش سے چھوارے نکال کر کھانے شروع کیے۔ پھر کہنے لگے:”اگر میں زندہ رہوں یہاں تک کہ یہ چھوہارے کھالوں تو البتہ یہ
لمبی زندگی ہے۔ یہ کہہ کر حضرت عمیر نے چھوارے جو پاس تھے پھینک دیئے پھر جہاد کیا۔ یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔ دوسری جانب صف اعدا میں سے اسود بن عبدالاسد مخزومی جو بدخلق تھا۔ آگے بڑھا اور کہنے لگا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے حوض سے پانی پیوں گا ۔ یا اسے ویران
کر دوں گا یا اس سے پہلے مر جاؤں گا۔ ادھر سے حضرت حمزہ بن عبد المطلب نکلے ۔ اسودحوض تک پہنچنے نہ پایا کہ حضرت حمزہ نے اس کا پاؤں نصف ساق تک کاٹ دیا۔ اور وہ پیٹھ کے بل گر پڑا اور پھر وہ حوض کے قریب پہنچا۔ یہاں تک کہ اس میں گر پڑا تاکہ اس کی قسم پوری ہو جائے ۔ حضرت حمزه نے اس کا تعاقب کیا۔ اور حوض ہی میں اس کا کام تمام کر دیا۔ بعد ازاں شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن ربیعہ نکلے۔ مشرکین نے چلا کر کہا: اے محمد ! ہماری طرف اپنی قوم میں سے ہمارے جوڑ کے آدمی بھیج ‘‘۔ یہ سن کر حضور نے فرمایا
: اے بنی ہاشم ! اٹھو۔ اور اس حق کی حمایت
میں لڑو جس کے ساتھ اللہ تعالی نے تمہارے نبی کو بھیجا ہے۔ کیوں کہ وہ باطل لائے ہیں تا کہ اللہ کے نورکو بجھادیں ۔ پس حضرت حمزہ ( جس کے سینہ مبارک پر بطور نشان شتر مرغ کا پر تھا) اور حضرت علی ابن
طالب اور عبیدہ بن مطلب بن عبد مناف دشمن کی طرف بڑھے۔ اور ان کے سروں پر خود تھے۔ عتبہ نے کہا: تم بولو تا کہ ہم پہچان لیں ۔ حضرت حمزہ نے کہا: میں حمزہ بن عبد المطلب شیر خدا اور شیر رسول ہوں“۔ عتبہ بولا : یہ اچھا جوڑ ہے۔ میں حلیفوں کا شیر ہوں۔ پھر اس نے اپنے بیٹے سے کہا: ولید اٹھ پس حضرت علی کرم اللہ وجہ ولید کی طرف بڑھے۔ اور ایک نے دوسرے پر وار
کیا مگر حضرت علی نے اس کوقتل کردیا۔ پھر عتبہ اٹھا۔ حضرت حمزه اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر د یا پھر شیبہ اٹھا حضرت عبیدہ جو اصحاب میں سے عمر میں سب سے بڑے تھے۔ اس کی طرف بڑھے۔ شیبہ نے تلوار کی دھار حضرت عبیدہ کے پاؤں پر ماری۔ جو پنڈلی کے گوشت پر لگی اور اسے
کاٹ دیا۔ پھر حضرت حمزہ اور حضرت علی شیبہ پر حملہ آور ہوئے اور اسے قتل کر دیا۔ اور حضرت عبیدہ کو اٹھا کر حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں لائے ۔ حضرت عبیدہ نے کہا: اگر ابوطالب اس حالت میں مجھے دیکھتا تو مان جاتا کہ میں اس کی نسبت اس کے شعر ذیل کا زیادہ مستحق ہوں ۔
ونسلمہ حتیٰ نصرع حولہ___و نذهل عن ابنائنا والحلائل
ہم محمد کو حوالہ نہ کریں گے یہاں تک کہ ان کے گردلڑ کر مر جائیں اور اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں ‘‘
#جاری_ہے
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم🌹
درود شریف ضرور پڑھا کریں🌹

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں